بہ حیثیت متعلم فلسفہ چند مشاہدات و تجربات ( 2 )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مضمون کے پہلے حصہ میں مستقبل کے خوف سے گھبرا کر سائنسز ( بائیو، ہیلتھ، نیچرل سائنسز) کا جبراً انتخاب کرنے والوں کے احوال پڑھ کر سوشل سائنسز میں پناہ لینے والوں کو گماں ہوا کہ دوسرا حصہ ان کی حمایت اور طرف داری میں ہو گا، اس لیے وہ شدت سے انتظار میں تھے۔ مجھے یقین ہے کہ میں انہیں مایوس کروں گا۔

عمومی طور پہ سوشل سائنسز، آرٹس اینڈ ہیومینیٹیز سے وابستہ ڈیپارٹمنٹس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت میں وہ امیدواران شامل ہیں جو اچھے، قابل اور بہترین ذہن کی حالیہ تسلیم شدہ تعریف کے معیار پہ پورا نہیں اترتے۔ شعبہ فلسفہ کے طالب علموں کے علاوہ زیادہ تر واسطہ سوشیالوجی، جینڈر اسٹڈیز، پولیٹیکل سائنس، سوشل ورک، آئی۔ ای۔ آر اور لاء کالج میں زیر تعلیم افراد سے رہا ہے۔ فلسفے کی نگری میں آئے راہ بھٹکوں کا تذکرہ بعد میں ہو گا۔

باقی مذکورہ مضامین میں داخل ہونے والوں کے پاس اس سوال کہ ’اس مضمون کا انتخاب کیوں کیا؟‘ ، کے تیار شدہ جوابات موجود ہوتے ہیں۔ اپنے مضمون کی مرہون منت مستقبل میں دستیاب روزگار کے مواقع وہ انگلیوں پہ گنواتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں پی۔ پی۔ ایس۔ سی کے سابقہ امتحانات کے کثیر الانتخابی سوالات پہ مشتمل ایک کتاب ضرور نظر آئے گی۔ ان میں سے سادہ لوح سچے لوگ بغیر کسی غیر ضروری وضاحت کے بے باک جواب دیتے ہیں کہ ان کا اور کسی ڈیپارٹمنٹ داخلہ ہی نہیں ہوا تو یہاں آ گئے۔

اکا دکا طالب علم جو واقعتاً پڑھنے لکھنے میں بلا کا شوق رکھتے ہیں، اردگرد کی فضا اور باہمی مشاورت (دباؤ) کی بدولت ان کی انتہائی منزل بھی بالآخر سی۔ ایس۔ ایس کی تیاری ہی ٹھہرتی ہے۔ ادب سے دلچسپی رکھنے والے بھی ٹکر جاتے ہیں، جن کے پسندیدہ ناولوں میں کافی ضخیم، دھڑا دھڑ بکنے والے، قوم کے مشترکہ من پسند، کافی معروف ناولوں کی مختصر فہرست شامل ہے۔ شاعری سے شغف رکھنے والے جدید عشاق کی صفوں میں حافی اور زریعون کا کافی چرچا ہے۔

ایم۔ اے سوشل ورک کا ایک اسٹوڈنٹ دو سال سوشل ورکر ہونے کے فضائل بیان کرتا رہا۔ انسانیت کی بے لوث خدمت کے جذبے کی ترویج کرتے کرتے وہ 17 ویں گریڈ کا سرکاری ملازم بھرتی ہو گیا۔ سوشل میڈیا کے احباب کو خبر دیتے ہوئے بتایا کہ میرا بچپن کا ایک ہی خواب تھا کہ میں 17 ویں گریڈ کا ملازم بنوں، آج یہ خواب پورا ہوا۔

خود کو ترقی پسند اور کامریڈز کہلوانے والے سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے خواص، اپنے دل میں عوام کا درد لیے، آتے جاتے لال سلام کی بھرمار کرنے والے، ہر شام چائے کی پیالی میں انقلاب کی نوید گھول کر ایک دوجے کو پلاتے پلاتے اور ظالم سماج کو سگریٹ کے دھوئیں سے بے ہوش کرتے ہوئے بالآخر سرکار کے ملازم لگ گئے۔ ان سے توقعات لگانے والوں کے مطابق ان کا یہ عمل تعطیل انقلاب کا سبب بن رہا ہے۔ کامریڈز میں سے سرکاری ملازمت کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والا استحصال زدہ طبقہ جہاں ان سے حسد کرنے لگتا ہے وہیں ’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘ کے سہارے پرعزم اور پر امید بھی رہتا ہے۔

لاء کالج متنوع اقسام کے طلباء کی آماجگاہ ہے۔ ایک قسم ان کی ہے جو ابتدائی دن سے سے خود کو ایڈووکیٹ صاحب کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ ایک دلچسپ گروہ ان کا ہے جو ہنگامہ و فساد میں اس سوچ کے ساتھ پیش پیش ہوتے ہیں کہ انہیں کوئی بھی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ لاء کالج سے منسلک افراد ڈگری کی افادیت بیان کرتے ہوئے یہ فخریہ بتاتے ہیں کہ انہیں ٹریفک وارڈن چالان کرنے سے گھبراتا ہے۔ کچھ کے مطابق وہ اس لیے وکالت پڑھنا اور سیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے خاندانی جھگڑے اور چپقلشں چلتی رہتی ہیں، لہٰذا ان کے والدین کی دیرینہ خواہش ہے کہ اپنے گھر کا کوئی وکیل ہو، جو بعد ازاں ان کو سنبھال سکے۔

شعبہ فلسفہ میں داخلہ لینے والوں کی اگر تقسیم بندی کی جائے تو سر فہرست وہ جماعت ہے جو ہاسٹل میں رہائش کی غرض سے آتی ہے۔ عموماً وہ کسی تگڑے ڈیپارٹمنٹ میں ایوننگ کے سٹوڈینٹس ہوتے ہیں، ایوننگ والوں کو ہاسٹل ملتا نہیں تو وہ مارننگ میں پارٹ ٹائم فلسفے کی ڈگری میں داخل ہو جاتے ہیں ( تاہم، گزشتہ سال سے اس پہ نوٹس لیتے ہوئے کئی ناہنجاروں کو ڈیپارٹمنٹ سے نکال دیا گیا۔ یونیورسٹی کی نئی پالیسی کی وجہ سے اب ایسی ہستیاں ناپید ہوتی جا رہی ہیں ) ۔

ایک صف ایسی بھی ہے جو مکمل فارغ التحصیل ہوتے ہیں اور سی۔ ایس۔ ایس کی تیاری واسطے پنجاب یونیورسٹی (جو کہ ایک نہایت شاندار رہائش گاہ ہے ) میں ڈیرہ ڈالنا چاہتے ہیں سو وہ ایم۔ اے میں داخلہ لے لیتے ہیں۔ پھر آتے ہیں چار سالہ ڈگری کی سند (خواہ وہ کسی بھی مضمون کی ہو) لینے والے۔ پھر وہ آتے ہیں جن کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کہاں آ گئے اور ایک سیمسٹر تک جب پتہ چل جاتا ہے تو اس خدشے کے پیش نظر خود پرامن طور پہ نکل جاتے ہیں کہ ’خود نہ نکلتے تو نکالے جاتے‘ ۔

آخر جماعت اقلیتی ہے جو واقعتاً فلسفہ آرائی کے نشے میں لت پت کئی سہانے خواب دیکھ کر داخلہ لیتے ہیں اور عموماً نشہ ٹوٹتے دیر بھی نہیں لگتی۔ باقی ماندہ دورانیہ کچھ فلسفے کو برتتے ہیں اور کچھ بھگتتے رہتے ہیں۔

پی۔ پی۔ ایس۔ سی کے ساتھ ویسے تو ہر ایک کی وابستگی رہتی ہے لیکن نئے نویلے یونیورسٹی میں داخل ہونے والوں کی جذباتی وابستگی دیدنی ہوتی ہے۔ اوائل کے دو ماہ تو متعلقہ سینیئرز سے رہنمائی لیتے گزر جاتے کہ کیا پڑھیں، کیا نہ پڑھیں۔ جب پتہ چل جاتا ہے کہ کیا پڑھنا ہے تو پیپر۔ ون کی کتاب ہاتھ میں آجاتی ہے۔ ہاسٹل کمرے میں اس کتاب کی موجودگی معماران ملت کی جفاکش محنت کا ثبوت ہوتی ہے۔ پچھلے سال ایک جونئیر نے درخواست کی کہ اسے کچھ راہ دکھائی جائیں کیونکہ وہ فلسفے کا متوالا ہے اور مطالعہ کتب کا شیدائی ہے وغیرہ وغیرہ۔

متعلم فلسفہ نے دو گھنٹے لگا کر اس کو فلسفے کی اہمیت، ملک میں اس کی زبوں حالی اور پھر فلسفے کے وقار کی سربلندی کے لئے اجتماعی اور انفرادی کوششوں پہ بھاشن جھاڑا۔ وہ کافی متاثر ہوا۔ مجھے کافی خوشی ہوئی۔ میں نے کہا یہ شیلف ہے جو کتاب دل کرے لے جاؤ۔ کہنے لگا یار ان میں وہ کتاب نظر نہیں آ رہی۔ مجھے حیرانی ہوئی کہ نجانے فلسفے کی ایسی کون سی بنیادی کتاب تھی جو میں خرید نہ پایا ہوں۔ خیر، اس نے میری حیرانی میں غصے کی آمیزش کرتے ہوئے کہا؛

” یار میں نا اصل میں پی۔ پی۔ سی کی تیاری کرنا چاہتا ہوں“

جب زوالوجی میں تھا تو آبائی علاقہ تھل میں عادتاً ’آج کل کیا کورس کر رہے ہو‘ پوچھنے والوں کی درستگی کرنا پڑتی کہ یہ ڈنگروں والی ڈاکٹری نہیں۔ دوسرا، جن کو بنیادی تعریف سمجھ آ چکی تھی کہ زوالوجی جانوروں، حیوانوں کا سائنسی علم ہے ؛ ان کو یہ قائل کرنے میں مشکل رہتی کہ انسان بھی سائنسی رو سے جانور، حیوان ہی ہے۔ بہ ہر حال سب کو یہ معلوم تھا کہ یہ سائنس کی ڈگری ہے۔ اس کے بعد میں بی۔ ایس فلاسفی میں چلا گیا۔ ابھی تک اہل علاقہ کو اس بات پہ قائل کرنے میں برسرپیکار ہوں کہ یہ ہرگز کافروں والا کورس نہیں ہے۔

”اس سماج میں ہماری داہنی طرف بھی جھوٹ ہے اور بائیں طرف بھی، سامنے بھی اور پیچھے بھی جھوٹ ہی جھوٹ ہے جس کے سبب یہ جھلاہٹیں ہیں اور کھوٹ ہی کھوٹ ہے جس کے باعث یہ جھنجھلاہٹیں ہیں۔ جھوٹ کے اس چو طرفہ ہجوم میں اگر تم اپنے سچ کو بچا سکو تو یہ بہت غنیمت ہے۔ پر اس سچ کے ساتھ بڑی اذیتیں ہیں، ہجوم میں احساس تنہائی کی اذیتیں اور اذیتوں میں تنہائی کا احساس۔“ (جون ایلیا، فرنود)


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شجاعت علی، شعبہ فلسفہ، پنجاب یونیورسٹی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments