تماشا (2015): قلم برداشتہ تاثرات
راقم دو معیارات کی بنیاد پر موویز کا ناظر ہے ؛ ایک ڈائریکٹر، دوسرا کریکٹر۔ ایکٹر اور آئی ایم ڈی بی ریٹنگ کو معیار بنا کر مووی دیکھنے پہ میری وہی تنقید ہے جو یار لوگوں کی جمہوریت پہ ہے۔ اب جب کہ کنزیومرزم کا دور دورہ ہے وہاں فلم، مووی، سینما دیکھنے کا تجربہ بھی اس سے بچا ہوا نہیں۔ آپ کو مووی کنزیومرز تو بہت ملیں گے، مووی لوَّر شاید ہی کوئی ڈھونڈنے سے ملے۔ امتیاز علی کی
Read more
