تماشا (2015): قلم برداشتہ تاثرات

راقم دو معیارات کی بنیاد پر موویز کا ناظر ہے ؛ ایک ڈائریکٹر، دوسرا کریکٹر۔ ایکٹر اور آئی ایم ڈی بی ریٹنگ کو معیار بنا کر مووی دیکھنے پہ میری وہی تنقید ہے جو یار لوگوں کی جمہوریت پہ ہے۔ اب جب کہ کنزیومرزم کا دور دورہ ہے وہاں فلم، مووی، سینما دیکھنے کا تجربہ بھی اس سے بچا ہوا نہیں۔ آپ کو مووی کنزیومرز تو بہت ملیں گے، مووی لوَّر شاید ہی کوئی ڈھونڈنے سے ملے۔ امتیاز علی کی

Read more

ادراکِ عصرِ حاضر، مشرقی و مغربی فکر و فلسفہ اور بیونگ چُل ہان (2)

سوال: آپ کے اس مقدمہ کی رُو سے یہ اخذ کرنا درست ہے کہ مشرقی فلاسفہ میں زندگی سے رغبت اور قربت زیادہ پائی جاتی ہے؟ جی ہاں۔ ایسا ہی ہے۔ ایک جاپانی فلسفی کیتارو نیشیدہ اپنی کتاب ’این انکوائری اِن ٹُو دا گُڈ‘ میں سوال اٹھاتا ہے کہ خیر کہاں ہے؟ اُس کے مطابق خیر روزمرہ زندگی میں ہی موجود ہے۔ ایک مقام پر اس نے لکھا کہ میں چالیس برس تک ڈائس کے اس جانب بیٹھ کر اساتذہ

Read more

ادراکِ عصرِ حاضر، مشرقی و مغربی فکر و فلسفہ اور بیونگ چُل ہان (حصہ اوّل)

پروفیسر ڈاکٹر محمد اصغری صاحب یونیورسٹی آف تبریز، ایران میں فلسفے کے استاد اور جرنل آف فلوسوفیکل انویسٹی گیشن کے مدیر ہیں۔ مابعد جدید فلسفہ اور معاصر فلسفہ کی مباحث ان کی تحقیق کے موضوعات ہیں۔ علاوہ ازیں، فلسفۂ فن جیسے مضامین ان کی دلچسپی کے میدان ہیں۔ ناچیز کی محترم پروفیسر صاحب سے رسمی خط و کتابت رہتی ہے۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے ایک برقی جریدے کے متعلقہ شخص سے معاصر فلسفی بیونگ چُل ہان کی کتب، تحاریر

Read more

روشن خیالی کا المیہ

مغربی تاریخ فکر میں Enlightenment ایک فکری تحریک ہے، جس کا ہمارے ہاں ترجمہ روشن خیالی، آزاد خیالی یا خرد افروزی کیا گیا۔ بالخصوص سترہویں صدی میں انگلستان کے مفکرین کے ہاتھوں اس کی داغ بیل ڈالی گئی اور اٹھارہویں صدی کے فرانسیسی و جرمنی مفکرین کے افکار میں اس کی نشوونما ہوئی، بالعموم تمام یورپی ممالک روزمرہ زندگی کے تمام پہلوؤں اور افکار میں اس سے متاثر ہوئے۔ وہ زمانہ جس میں اس تحریک کا غلبہ رہا، اسے Age

Read more

بہ حیثیت متعلم فلسفہ چند مشاہدات و تجربات ( 2 )

مضمون کے پہلے حصہ میں مستقبل کے خوف سے گھبرا کر سائنسز ( بائیو، ہیلتھ، نیچرل سائنسز) کا جبراً انتخاب کرنے والوں کے احوال پڑھ کر سوشل سائنسز میں پناہ لینے والوں کو گماں ہوا کہ دوسرا حصہ ان کی حمایت اور طرف داری میں ہو گا، اس لیے وہ شدت سے انتظار میں تھے۔ مجھے یقین ہے کہ میں انہیں مایوس کروں گا۔ عمومی طور پہ سوشل سائنسز، آرٹس اینڈ ہیومینیٹیز سے وابستہ ڈیپارٹمنٹس میں داخل ہونے والوں کی

Read more

بہ حیثیت متعلم فلسفہ چند مشاہدات و تجربات

اگرچہ راقم السطور کو مضمون نگاری کے فن میں کسی درجے کی مہارت نہیں، تاہم حال دل کو قارئین تک یکسوئی اور ربط سے پہنچانے کی ایک کوشش ضرور کر سکتا ہوں، کیونکہ ان لکھے الفاظ اور ان کہے جذبات و احساسات اندرون وجود ہلچل مچائے رکھتے ہیں۔ یونیورسٹی آف دی پنجاب، لاہور (رہائش گاہ اور درس گاہ) میں رہتے اور پڑھتے ہوئے پورے چھ سال بیت چکے ہیں۔ اس دورانیے میں کئی ایک مشاہدات کو یاداشت میں محفوظ رکھ

Read more