یہ المہند علی المفند کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ وہ مشہور میجک ورڈز ہیں جن کا آج کل بہت چرچا ہے دنیا کی غالب اکثریت کو ان الفاظ کی کانوں کان خبر نہ تھی، بھلا ہو انجینئر علی مرزا اور مفتی مسعود کا جن کی بدولت ان الفاظ کی حقیقت کھلی۔ جان کر حیرت ہوئی کہ یہ کسی کتاب کا نام ہے جو بہت عرصہ پہلے برصغیر میں چھپی جس کے مصنف کا نام (مولانا خلیل احمد سہارن پوری) ہے جو سلسلہ دیوبند مسلک کی ایک معتبر شخصیت جانے جاتے ہیں اور یہ عقائد دیوبند کی ایک مستند کتاب جانی جاتی ہے۔

یہ کتاب سلسلہ بریلویہ کے امام احمد رضا خان بریلوی کی ایک کتاب حسام الحرمین کے رد میں لکھی گئی۔ ان دونوں فرقوں کی تنازعاتی تاریخ بہت طویل ہے برصغیر میں یہ لوگ مناظرہ بازی بھی کرتے رہے فتوی بازی بھی چلتی رہی اور ایک دوسرے کو کافر کافر کہنے کی رسم بھی قائم رہی اور ڈھکے چھپے لفظوں میں یہ موسیقی آج بھی چل رہی ہے۔ چونکہ حسام الحرمین کے مصنف احمد رضا نے دیوبند کے کے جید علماء کے خلاف حرمین کے علماء سے کچھ فتوے لیے جس کی بنیاد پر انہیں کافر کہا گیا ان دستخط شدہ فتاوی کو انہوں نے اپنی کتاب میں بھی شامل کر دیا اس کے رد میں خلیل سہارن پوری نے المہند المفند لکھی جسے عقیدت کا انسائیکلوپیڈیا کہا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے اپنے مسلک کے بزرگوں کا دفاع کرتے ہوئے روحانی خواب اور کشف و کرامات کے حوالے سے وہ کچھ لکھ دیا جسے پڑھ کر آج کا نوجوان حیرت میں پڑ جاتا ہے، انہی عقائد کی بنیاد پر دونوں فرقوں میں الزامات کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

اب یہ سلسلے، جھگڑے اور عقیدہ بیانیہ پہلے وقتوں میں زیادہ نظروں میں نہیں آتی تھیں اور مناظرہ بازی بھی چند حصوں تک محدود رہتی تھی، ایک طرح کا بھرم بنا ہوا تھا انٹرنیٹ جیسی سہولت بھی سامنے نہیں آئی تھی مگر آج کی دنیا جو کہ گلوبل ولیج ہے اس نے پرانے وقتوں کے تمام بھرم توڑ ڈالے اور جو کچھ بھی دین و دنیا کے نام پر چلتا رہا وہ آج ہم گوگل پر سرچ کر سکتے ہیں۔ اور اسی شعوری اڑان کا نتیجہ ہے کہ آج مسلکی غدار سامنے آنے لگے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مسلک میں رہتے ہوئے اپنے ہی مسلکی باتوں پر تنقید کر رہے ہیں اگرچہ یہ لوگ گنتی میں بہت کم ہے مگر یہ تعداد دن بدن بڑھتی چلی جائے گی کیونکہ اس آگہی نے جہاں بہت سے لوگوں کو باشعور بنایا وہیں بہت ساری مسلکی دشمنیوں کو بھی بڑھاوا دیا ہے اسی وجہ سے بہت سے ہم مسلک لوگوں نے ایک دوسرے پر الزام درازیاں شروع کر دی ہیں جس کی وجہ سے پروفیشنل جیلسی عروج پر جا رہی ہے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ہم مسلک علماء اور ان کے پیروکار یوٹیوب پر کلپ بازیاں کر رہے ہیں اور آپس میں ہی دست و گریباں ہیں۔

جگ ہنسائی کا یہ پرنور منظر ساری دنیا دلچسپی سے دیکھ رہی ہے اور یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ان میں مسلمان فرقہ کون سا ہے؟ یہ کیسے لوگ ہیں جو کافر کافر آپس میں ہی کھیلنے میں مصروف ہیں؟ یہ کون لوگ ہیں جو عجیب و غریب قسم کے دعوے کر کے بھی پشیمان نہیں ہوتے بلکہ ڈھٹائی سے اس پر قائم رہتے ہیں؟ مولانا منظور مینگل جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سندھ میں ایک مولوی نے اپنا چاند اور سورج بنایا ہوا تھا۔

مولانا کوکب نورانی نے تو یہ کہہ کر سائنس کی لٹیا ہی ڈبو دی تھی کہ زمین ساکن ہے اور سورج حرکت کرتا ہے، ایک اور مولانا ہے جو کہتے ہیں کہ وہ جنوں کی شادی میں شرکت کرتے رہتے ہیں اور وہ کئی جنوں کو مسلمان بھی کرچکے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے دعوت اسلامی کے ایک مولوی کا کلپ بہت وائرل ہوا تھا جس میں وہ بچوں کے سوالوں کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے تھے کہ زمین ٹھہری ہوئی ہے جس پر ایک بچے نے پوچھا کہ ہمارے ایک سائنس ٹیچر  نے تو یہ بتایا تھا کہ زمین حرکت کرتی ہے تو مولانا نے جواب دیا کہ سائنس غلط کہتی ہے۔

یوٹیوبیائی فوجدار بننے کے چکروں میں یہ بھول گئے کہ ان کلپس کو وہ لوگ بھی دیکھتے ہیں جو ہمارے ہم مذہب نہیں ہے اور آج کے دور میں بندہ چند سیکنڈ میں ہی ایکسپوز ہو جاتا ہے۔ اپنے اپنے ہجوم کے سامنے رنگ بازیاں کرنے کے چکروں میں آپ کی ذہنی سطح سامنے آنے لگی ہے جو لوگ آپس میں تنقید برداشت نہیں کر سکتے تو انہوں نے مذہب دشمنوں کو کیا خاک تبلیغ کرنی ہے، جب ہم اپنے مذہب کے دائرے سے اپنے ہی ہم مذہبوں کو نکالیں گے تو پیچھے کیا بچے گا؟

یہ جو دفاعی پوزیشن پر جانے کی رسم ہے وہ ہمیں اپنوں پر نہیں آزمانی چاہیے۔ نفرت کے گڑھے مردے اکھاڑنے سے آج کی نئی نسل ایجوکیٹ ہونے لگی ہے اور انہیں یہ پتہ چلنے لگتا ہے کہ ہمارے ہم مذہب ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف کیا کیا گل کھلاتے رہے ہیں اور وہی ریہرسل آج بھی جاری ہے اور افسوس کی بات ہے کہ ہم ابھی تک عقیدوں کے جھگڑوں سے باہر نہیں نکل پائے، اگر ہم مسالک کی کتابوں کی چھان بین کریں گے تو بہت کچھ ایسا نکلے گا جس سے ہمیں سوائے شرمندگی کے کچھ نہیں ملے گا۔

پہلے وقتوں میں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے بہت کچھ عوام کی نظروں سے اوجھل رہتا تھا مگر آج تو سب کچھ کلک بٹن پر ہے۔ بزرگوں کی مدح سرائی میں ایسا کچھ لکھا جا چکا ہے جسے پڑھ کر آج کا ذہن تذبذب کا شکار ہو جاتا ہے اور ان کے ذہنوں میں طرح طرح کے سوالات جنم لینے لگتے ہیں، المیہ یہ ہے کہ ہمارے علماء کرام میں ان سوالوں کو سننے کا حوصلہ نہیں ہے ان کے عقائد نے ان کو اتنا حساس بنا دیا ہے کہ یہ ذرا سی تنقید بھی برداشت نہیں کر سکتے اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے تمہارے اندر تنقید سننے کا حوصلہ بھی زیادہ ہونا چاہیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
7 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments