عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں اور پاکستان
سب سے زیادہ حیرت اس وقت ہوتی ہے جب کوئی بھی شخص پٹرول کی قیمت بڑھانے پر مقامی حکومت کے خلاف واویلا کرتا ہے خواہ یہ واویلا کل عمران خان نواز شریف حکومت پر ہی کیوں نہ کر رہا تھا۔
ایک سادہ سی بات یہ ہے کہ ہم پٹرول درآمد کرتے ہیں۔ پٹرول کی قیمتیں عالمی منڈی میں طے ہوتی ہیں۔ اس پر آپ کی کسی بھی حکومت یا ملک (خصوصاً ہمارے جیسے ملک) کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ پھر جو بھی چیز آپ ڈالر میں خریدیں گے تو یاد رکھنا چاہیے کہ ڈالر فی ذاتہ روپے کے مقابل پر مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ (کیوں ہو رہا ہے یہ علیحدہ مضمون بلکہ بحث ہے ) ۔
پچھلے کچھ عرصے سے خام تیل (کروڈ آئل) کی قیمتیں عالمی منڈی میں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ پچھلے ایک سال میں یہ قیمتیں 37 ڈالر بیرل سے کوئی 80 ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اور اس قیمت سے ہر ملک متاثر ہو رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک (اوپیک) کووڈ کے دوران کم کھپت کی وجہ سے تیل کی پیداوار کم کرچکے تھے، جسے اب معیشت کی بحالی کے بعد بڑھایا نہیں جا رہا ۔ اور دنیا بھر میں سپلائی اور ڈیمانڈ کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے۔
دوسرے قدرتی گیس کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور بعض ممالک میں ایک بحران کی سی کیفیت ہے۔ چنانچہ کچھ ممالک اپنی گیس کی ضروریات بھی پٹرول سے پوری کرنے پہ مجبور ہیں۔ اس طرح سے کرونا کے بعد معاشی سرگرمیوں کی بحالی کو ایک کاری ضرب لگنے کا خطرہ ہے۔ اوپیک ممالک نے اس صورتحال پر غور کرنے کے لئے 4 نومبر کو اجلاس بلایا ہے۔ امید ہے کہ تیل کی پیداوار میں اضافہ کر کے قیمتوں کو کچھ کنٹرول کیا جائے گا۔
ایک اور بات یہ کہی جاتی ہے کہ تیل پر اتنے فیصد ٹیکس حکومت لیتی ہے ( یہ موجودہ وزیراعظم بڑے تواتر سے کہا کرتے تھے ) ۔ یہ بات درست ہے کہ دنیا بھر میں تمباکو اور پٹرول پر بھاری ٹیکس لگایا جاتا ہے اور حکومتیں اس سے اپنے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرتی ہیں، اس سے بھاری ریونیو کمایا جاتا ہے۔ کافی سال پہلے جرمنی کے پٹرول پمپس پر دیکھا تھا کہ انہوں نے سٹکر لگائے ہوتے تھے کہ ہم صرف چند سینٹ منافع کماتے ہیں باقی حکومت کا ٹیکس ہے۔ اس کی معین رقم تو مجھے اب یاد نہیں لیکن پچاس فیصد سے اوپر ہی ٹیکس بنتا تھا جو کہ اس سال 76 فیصد تک جا پہنچا ہے۔
تیل کی بچت کا ایک ہی طریقہ تھا اور ہے کہ اس کی کھپت کم سے کم کی جائے۔ انڈسٹری کی بحث میں نہیں جاتے عام شہری کے لئے گاڑی/ ٹرانسپورٹ کی بات کرتے ہیں۔ دنیا ہائی برڈ کاروں سے آگے الیکٹرک گاڑیوں پہ منتقل ہو رہی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں لوکل کمپنیوں نے ابھی تک ہائی برڈ کا بھی رخ نہیں کیا۔ زیادہ بکنے والے تینوں برانڈز میں ایک بھی ہائی برڈ ماڈل کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ٹیوٹا نے کراس کے نام سے چھوٹی ایس یو وی نما گاڑی متعارف کرائی ہے جس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ باہر سے نئی آنے والی کمپنیوں نے بھی دنیا کی متروک گاڑیوں کو پاکستان بھجوانا شروع کر دیا ہے۔ آپ "کیا” اور ہنڈائی کے دنیا کے باقی ممالک کے ماڈل اور اپنے ہاں ماڈل کا موازنہ کر لیں۔
چین جس کی دوستی ہمالیہ سے بلند ہے اور جہاں کا نظام کاپی کرنے کا ہم ارادہ رکھتے ہیں وہ اپنے ملک میں سولر پینلز کے بڑے بڑے ٹرمینلز قائم کرچکا ہے اور بڑی تیزی سے الیکٹرک گاڑیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کچھ ممالک پلان دے چکے ہیں کہ وہ آئندہ دس سال یا پندرہ سال کے اندر سو فیصد یا پچاس فیصد سے زائد الیکٹرک کاروں کی طرف منتقل ہوچکے ہوں گے۔ لیکن ہم کہاں کھڑے ہیں؟ متبادل انرجی کیا ہوئی؟ پن چکیاں، ہوائی چکیاں، توانائی کے متبادل ذرائع سن سن کر کان پک گئے لیکن نتیجہ اب تک کیا ہے؟
بد قسمتی سے ہمارے ہاں ابھی تک اعلانات سے بڑھ کر کچھ نہیں ہو رہا کیونکہ ہمیں اگلی تقرری، اگلے مہینے، اگلے بجٹ یا زیادہ سے زیادہ اگلے انتخابات تک کا فکر ہوتا ہے۔ دس سالہ پالیسی، لانگ ٹرم پالیسی جیسی اصلاحات سنتے تو رہتے ہیں لیکن یہ کیا ہوتی ہیں کیوں ہوتی ہیں یہ کیسے قائم رکھی جاتی ہیں یہ ہمارے فیصلہ سازوں شاید اوپر کی باتیں ہیں۔ پھر ہماری ترجیحات مختلف سیاسی، اندرونی اور بیرونی وجوہات کی بنا پر جس طرح مسلسل رنگ بدلتی ہیں گرگٹ بھی کیا بدلتا ہو گا۔
پس ایک عام شہری یا لکھنے والے کے طور پر ہمیں دیکھنا ہے کہ ہماری تنقید غیر ضروری طور پر بغض معاویہ کی وجہ سے نہ ہو بلکہ حقیقی مسائل کی طرف توجہ دلانے والی ہو۔ اسی طرح حکومت کے لئے ضروری ہے کہ حقیقی معنوں میں طویل مدتی لائحہ عمل اختیار کرے اور جو جو مناسب اقدامات اٹھا سکتی ہے اٹھائے۔




