دنیائے طب کی معجزاتی ایجاد انیستھیسیا کا عالمی دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

16 اکتوبر 1846 ء کی صبح کو میسا چوسٹس جنرل اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں سرکس کا سا ماحول ہے۔ مرکزی اسٹیج جس پہ بچھی آرام کرسی پر مریض کے ہاتھ پیر باندھ کر جراحت کی جاتی ہے کے گرد دائرے میں نصب تمام نشستیں ڈاکٹروں، میڈیکل اسٹوڈنٹ اور اخباری نمائندوں سے پر ہو چکی ہیں۔ بہت سے تماش بین کھڑے ہوئے ہیں۔ آج یہاں وہ ہونے جا رہا پے جو تاریخ انسانی میں پہلے سوچا بھی نہیں گیا۔ 21 سالہ گلبرٹ ایبٹ کو بیہوش کر کے اس کی گردن میں موجود رسولی کو نکالا جائے گا۔

ولیم مورٹن جو پیشے کے لحاظ سے دنداں ساز ہیں نے شفاف شیشے سے بنا قارورہ گلبرٹ کے منہ سے لگادیا جس میں موجود سیال مادہ سانس کے ذریعے اس کے پھیپھڑوں میں اترتا گیا اور وہ بے سدھ ہو گیا۔ سرجری کے پروفیسر جان وارن نے نشتر اٹھایا اور گلبرٹ کی گردن میں اتار دیا۔ گلبرٹ کے جسم میں ہلکی سی جنبش ضرور ہوئی لیکن نہ وہ درد سے چلایا اور نہ تڑپا۔ وارن نے اطمینان سے آپریشن ختم کر کے ٹانکے لگائے اور حاضرین کی جانب منہ پھیر کر کہا۔ ”حضرات یہ کوئی فریب نہیں“ ہال میں زور دار تالیاں بجنی شروع ہو گئیں۔

جراحت کی مختصر تاریخ

سرجری عہد عتیق سے ہی ایک ناپسندیدہ اور ناکام پیشہ سمجھا جاتا رہا۔ انسان اپنے جسم کی ساخت اور اعضاء کے افعال سے قطعی طور پر نابلد تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے زمانے کی ترقی یافتہ تہذیبوں نے جسم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی حوصلہ شکنی کی۔ مثلاً پونے چار ہزار سال پرانے حمورابی کے کوڈ میں سرجن کی غلطی کی سزا ہاتھ کاٹ کر دینا تجویز کیا گیا اسی طرح مشہور عالم بقراطی حلف جو زمانۂ حال تک ڈاکٹر اٹھاتے آ رہے ہیں میں اطباء عہد کرتے ہیں کہ وہ مریض کے جسم پر نشتر نہیں چلائیں گے یعنی جراحت نہیں کریں گے۔

حکیم جالینوس اور ابن سینا

اناٹومی سے ناواقفیت کی وجہ سے جالینوس کا چار مزاجی نظریہ ایک طویل عرصے تک طب پر حاوی رہا خود بو علی سینا بھی اسی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھتے تھے اس نظریہ کے مطابق ہر طرح کی بیماری دراصل جسم میں کسی ایک مزاج کی کمی یا زیادتی کا نتیجہ ہوتی ہے اس نظام اور انسانی اعضاء پر سائنسی تحقیق پر پابندی نے صدیوں جراحت کا راستہ بند کر کے رکھا۔

یورپی ریناساں اور طب کی عظیم دریافتیں

کلیسا نے مردوں کی قطع و برید کرنے کی اجازت دے دی تو یورپی محققین نے سولہویں اور سترہویں صدی میں سزا یافتہ مجرموں اور قبرستانوں سے چرائی گئی نعشوں کی کاٹ پیٹ کر کے وہ عقدے وا کرلئے جو اس سے پہلے نا صرف مقفل تھے بلکہ ان پر تقدیس کے سخت پہرے بھی موجود تھے۔ سب سے اہم دریافت انسان کے علم الابدان اور اعضائے رئیسہ سے متعلق تھیں۔ اٹھارہویں صدی میں طبعیات اور کیمیاء سے متعلق اہم معلومات حاصل ہونے سے ادویات کی تیاری سہل ہوتی گئی۔

اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی جراحت

آج سے چند سو سال قبل تک مریض صرف اسی وقت آپریشن کرانے کے لئے تیار ہوتا جب موت اور آپریشن میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا۔ ان آپریشن کی فہرست بہت مختصر تھی مثلاً پھوڑے کو چیرا لگا کر پیپ نکالنا، ٹوٹی ہوئی ہڈی کو دوبارہ اپنی اصل جگہ بٹھانا، گلے سڑے اور دردناک دانتوں کو زنبور سے اکھاڑ پھینکنا، زخم لگنے یا جسمانی عارضہ سے گل جانے والی ٹانگ یا بازو کو کاٹنا، پیشاب کا راستہ مسدود کرنے والی مثانہ کی پتھری کو اخراجی راستے میں پلاس نما آلے سے توڑ کر باہر نکالنا، فسچولہ بالخصوص تشریف گاہ کے انتہائی ناقابل برداشت مسائل اور چھاتیوں سمیت جسم کے مختلف حصوں میں نمودار ہونے والی رسولیوں کو کاٹ کر نکالنا۔ درد دفع کرنے کی ادویات کی غیر موجودگی میں ان عملیات کی تکمیل کے لئے ضروری ہوتا کہ نشتر کی دھار اور سرجن کی رفتار بہت تیز ہو اور ہٹے کٹے معاون مریض کو پکڑ کر ایسا جکڑ لیں کہ وہ ہل نہ سکے۔ سرجری کے بعد زندہ بچ جانے والوں کی شرح پچاس فیصد سے کم تھی۔

ان جراحوں کی تعلیم اور رتبہ اطباء یعنی فزیشن سے کم تر ہوتا تھا۔ برطانیہ میں پارلیمان کے ایکٹ مجریہ 1540 ء کے تحت حجاموں کی کمپنی اور سرجنز کی فیلوشپ کو مدغم کر دیا گیا اور طے کیا گیا کہ سوائے دانت نکالنے کے یہ دونوں پیشے اپنی حدود کا تعین کریں گے۔ یہ وہ وقت تھا جب حجام کا معاوضہ اور معاشرے میں وقعت سرجن سے کہیں ارفع تھے اسی سال اس کمپنی کو اجازت ملی کہ وہ عوامی طور پر تھیٹر سجا کر لاشوں کی چیر پھاڑ کریں تاکہ نئے بننے والے سرجن مہارت حاصل کرسکیں۔ یہ کمپنی 1740 ء کو اختتام پذیر ہو گئی اور کچھ سال بعد اس کے بطن سے رائل کالج آف سرجنز کی نمود ہوئی۔

مغلیہ شاہی پھوڑا اور انگریز سرجن

اورنگزیب عالمگیر کے پڑپوتے فرخ سیر کو ہندوستان کی بادشاہت حاصل کرنے کے لئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑے تھے۔ اس کے لئے انہیں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ یعنی سید برادران سے اتحاد کر کے اپنے سگے چچا جہاندار شاہ کو راستے سے ہٹانا پڑا جو خود کئی مغل شہزادوں کے قاتل تھے۔ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے فرخ سیر نے راجپوت راجہ اجیت سنگھ کی بیٹی اندرا کنور کا ہاتھ مانگا یہ رشتہ منظور ہو چکا تھا لیکن ایک ناگزیر بنا پر یہ شادی کئی ماہ سے ٹلتی جا رہی تھی۔

بادشاہ سلامت کو ران اور پیٹ کے جوڑ یعنی چڑھ جیسے نازک اور حساس مقام پر ایک پھنسی نکل آئی تھی جو باوجود تمام علاج کروانے کے بڑھ کر ایک تکلیف دہ پھوڑا بن چکا تھا۔ وہ ہندوستان کے تمام نامور حکیموں اور ویدوں سے علاج کر اچکے تھے لیکن یہ تکلیف کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی تھی۔ بادشاہ کے کانوں تک ایسٹ انڈیا کمپنی سے وابستہ سرجن ہملٹن کی شہرت پہنچی جس نے بادشاہ کے اس پھوڑے کو کامیابی سے چیرا لگا کر اندر بھری تمام پیپ خارج کردی۔ بلند اقبال بادشاہ نے اس طبیب کو متعدد قیمتی انعامات سے نوازا اور اس کی خواہش پر ایسٹ انڈیا کمپنی پر تمام محاصل بھی معاف کر دیے۔ اس تاریخی واقعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مغل سلطنت میں طب و جراحت کا کیا معیار تھا۔ ہم 1717 ء میں فرخ سیر پر لبرل ہونے اور انگریز سے مرعوب ہونے کی تہمت بھی نہیں لگا سکتے۔

حقیقت میں ہندوستان جراحت کے میدان میں یورپ سے بہت پیچھے تھا البتہ یہاں جنگ یا گھریلو لڑائیوں میں کاٹی جانے والی ناک کی پلاسٹک سرجری کا کام ڈھائی ہزار سال سے کیا جا رہا تھا اس تکنیک سے یورپی سرجنز نے بھی خوب استفادہ کیا۔ یاد رہے کہ ناک بنائی کے ماہرین کا تعلق نچلی ذات کے ہندوؤں سے ہوتا تھا۔

آخری مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفر کے معتمد خاص اور وزیر اعظم حکیم احسن اللہ خان تھے جو دن میں تین دفعہ بادشاہ کی نبض دیکھنے محل پر حاضری لگاتے۔ کیونکہ یہ طب کبھی کام کرتی اور کبھی نہیں بھی کرتی تھی اس لئے سید حسن عسکری نام کے ایک روحانی پیر بھی بادشاہ کے حلقۂ ارادت میں شامل تھے جو تعویذ گنڈوں، عملیات و وظائف اور خوابوں کی تعبیر سے رہی سہی کسر پوری کیا کرتے۔ لگتا ہے کہ پونے دو سو سال بعد بھی ہمارے سرکار دربار کی ذہنی سطح وہیں کی وہیں ہے۔

انیستھیسیا کے ساتھ آنے والے عظیم طبی انقلابات

ایک آرام دہ اور بلا تکلیف نیند کے دوران آپریشن کرنے کی آسانی نے سرجری کے لئے ہزاروں نئے امکانات کھول دیے۔ 1853 ء میں برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ نے اپنے آٹھویں بچے کی پیدائش پر کلوروفارم سونگھ کر بلا درد زچگی کا فیصلہ کیا۔ اس سے قبل انجیلی تعلیمات کے تحت یہ سمجھا جاتا تھا کہ زچگی میں درد ہونا فطری اور حکم الہی ہے جس سے رو گردانی کی اجازت نہیں لیکن ملکہ وکٹوریہ نے اس فرسودہ نظریہ کو پاش پاش کر دیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ جب ایپی ڈیورل انیستھیسیا ایجاد ہوا تو خواتین بلا تردد اسے استعمال کرنے لگیں۔ اس وقت ترقی یافتہ ممالک میں کم از کم ایک چوتھائی مائیں بلا درد زچگی سے مستفید ہوتی ہیں۔

دوران سرجری مریض کی نگہداشت

انیستھیسیا کے لئے استعمال ہونے والی ادویات بالخصوص ابتدائی ادویات بہت زہریلی تھیں کافی مریض بحالت تنویم خالق حقیقی سے جا ملتے۔ پھر دو جونیئر انیستھیسئسٹ نے چارٹ پر مریض کی نبض، درجۂ حرارت اور سانس کی رفتار کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا۔ انہی کی تحریک پر بلڈ پریشر ناپنے والے آلات اسپتال آنے لگے۔ اسپتالوں میں آج کل مریضوں کے وائٹل سائن دیکھنے اور ان کا ریکارڈ رکھنے کی بنیاد انیستھیسیا سے پڑی۔

نوزائیدہ بچوں کی جانچ پڑتال کا سادہ سا ایپگار اسکور بھی ایک امریکی انیستھیسیالوجسٹ ورجینیا ایپگار کا وضع کردہ ہے جو گزشتہ ستر اسی سال سے استعمال کیا جاتا ہے۔

کچھ سال قبل عظیم گلوکار مائیکل جیکسن کی موت بھی دوران بیہوشی نگہداشت نہ ہونے کے سبب ہوئی۔
انیستھیسیا سے نکلی شاخیں

دوران جراحت مریض کی جان، صحت، آرام اور حقوق کی ذمہ داری لینے والے اس نئے شعبے سے آگے جا کر طب کی دو اہم شاخیں برآمد ہوئیں : انتہائی نگہداشت کی طب اور درد کی طب۔ اس کے علاوہ لائف سپورٹ اور ٹرانسفر میڈیسن میں بھی انیستھیسیا کا بہت زیادہ عمل دخل ہے۔

انیستھیسیا اور جدید جراحت

انیستھیسیا کی ایجاد سے قبل جو آپریشن سال میں اکا دکا کیے جاتے تھے اور جن میں مریض کی جان بچنے کے امکانات بھی نہ ہوتے تھے وہ معمول بن گئے مثال کے طور پر اپنڈکس، پتہ اور سیزیرین کے آپریشن جو اب لاکھوں کی تعداد میں بلا خطر کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اعضاء کی پیوند کاری، دل کا بائی پاس، لیپرو اسکوپی، روبوٹک سرجری، دماغ کے پیچیدہ آپریشن سمیت کتنی ہی ایسے جراحتیں ہیں جو نومولود بچوں سے لے کر عمر رسیدہ بزرگوں تک پر آج صرف اس لئے کی جا سکتی ہیں کیونکہ ان سہولیات کا ایک پورا علم اور نظام موجود ہے۔

انیستھیسیا دور جدید میں

دنیائے انیستھیسیا مورٹن کے زمانے سے بہت آگے نکل آئی ہے۔ پچھلے دس برس سے الٹراساونڈ کی مدد سے جسم کے ایک حصے کو سن کر کے اس پر جراحت کرنے کا رجحان بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔ نت نئی، پہلے سے زیادہ محفوظ اور جسم پر منفی اثرات نہ چھوڑنے والی ادویات، جدید انیستھیسیا مشین اور ہلکی پھلکی مانیٹرنگ کی ایجاد نے اس شعبہ کو جدت و اختراع کا سرخیل بنا دیا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments