اٹھارہ اکتوبر 1931 کی شام ڈھل رہی ہے۔ 84 سال کی مصروف اور کامیاب زندگی گزارنے کے بعد لائٹ بلب سمیت درجنوں انقلابی ایجادات کے موجد تھامس ایڈیسن اپنے آرام دہ بستر پر دراز آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ ان پر گہری غنودگی طاری ہے۔ نبض ڈوبتی جاتی ہے اور ہر سانس پچھلے سے زیادہ اکھڑا ہوا آتا ہے۔ قریب بیٹھا ان کا بیٹا چارلس یکایک اٹھتا ہے اور شیشے کی ایک ٹیسٹ ٹیوب جاں بہ لب والد کی ناک کے قریب لے آتا ہے، ایڈیسن کے سانس کا اخراج ٹیوب میں ہوتا ہے جس کا منہ چارلس فوراً ایک کارک لگا کر بند کر دیتا ہے۔
ایک ملازم پیرافن سے ٹیوب کو اچھی طرح سربمہر کر دیتا ہے۔ ایڈیسن کو مزید سانسیں لیتے دیکھ کر یکے بعد دیگرے اسی طرح کی آٹھ ٹیسٹ ٹیوب میں نکلتی سانسوں کو محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ یہ عمل ایڈیسن کے خاص دوست، شاگرد، موجد اور صنعت کار ہنری فورڈ کی شدید خواہش پر کیا گیا ہے جو روحانیت پر بھی یقین رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنے غیر معمولی دوست کے بدن سے نکلتی روح کو آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ کر لیا جائے تاکہ مستقبل میں جب سائنس ترقی کر لے تو ایڈیسن کی روح سے انہی جیسا جیتا جاگتا انسان بنایا جا سکے۔
تھامس ایڈیسن کی ’روح‘ کی زیارت کے لئے آپ کو مشی گن میں واقع ہنری فورڈ میوزیم جانا پڑے گا جہاں ایک سربمہر ٹیوب نمائش کے لئے رکھی گئی ہے۔
Read more