سوات کوہستان کے ”یتیم صحافی“
جس طرح سوات کوہستان کے علاقے خوبصورت ہونے کے باوجود پس ماندہ ہیں، ٹھیک اسی طرح یہاں کے صحافی جس محنت سے قلم کی مزدوری کر رہے ہیں، اتنے ہی پسماندہ ہیں۔ حکومت کی طرف سے تو ان کو بالکل یتیم قرار دیا جا چکا ہے۔
یہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ ان علاقوں کے صحافی یہاں کے پسے ہوئے عوام کا حال دیکھتے ہیں، ان کی آواز سنتے ہیں اور ان کی آواز کو ایوانوں تک پہنچانے کی بھی کوشش کرتے ہیں، مگر ان کا دکھ درد سمجھنے، ان کو سننے اور ان کے حق میں بولنے والا کوئی نہیں۔
یہ تو آپ بخوبی جانتے ہیں کہ اپنے حسن و جمال کے باعث وادی کالام کو ایشیا کا سب سے بڑا سیاحتی زون قرار دیا گیا ہے اور حکومت کا یہ دعوی بھی ہے کہ ملکی معیشت کو سیاحت کے سہارے پروان چڑھایا جاسکتا ہے، لیکن یہ بڑی عجیب اور مضحکہ خیز بات ہے کہ ملک کے سب سے بڑے سیاحتی مقام وادی کالام میں ”تحصیل پریس کلب“ کے لئے سرکاری عمارت تک موجود نہیں، جب کہ لوکل پولیس عملے سے لے کر وزیراعلی تک کے لئے یہاں پر سرکاری شاہانہ مزاج کی رہائش گاہیں بڑی تزئین و آرائش کے ساتھ ان کے نوکروں تک آرام و آسائش پہنچا رہی ہیں۔
سرکاری افسران اور حکومتی نمائندوں کے لئے سوات کوہستان میں ذاتی سیر سپاٹوں کے لئے بھی مفت کی سہولیات موجود ہیں۔
لیکن جب کوئی وزیر یا مشیر یہاں کے صحافیوں کے ہاتھ لگ جاتا ہے تو پریس کلب عمارت جیسے اہم ترین مسئلے پر بلند بانگ دعوے کر کے چلے جاتے ہیں۔ سابق وزیراعلی پرویز خٹک، سابق صوبائی وزیر سیاحت عاطف خان اور وزیر خزانہ مظفر سید کے وہ بیانات ہمارے پاس تراشوں کی شکل میں موجود ہیں، جن میں وہ کئی بار یہ وعدہ کرچکے ہیں کہ ایک ”عالمی سیاحتی زون“ ہونے کے ناتے وادی کالام میں ایک ”عالمی معیار کا پریس کلب“ بنائیں گے، جس سے عالمی سطح پر بلاگرز اور جرنلسٹ استفادہ کریں گے، مگر ”وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے“ کے مصداق یہ اپنے وعدوں سے مکر جاتے ہیں۔
شاید ہمارے شہروں کے بڑی صحافی برادری اور صحافیوں کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں کو بھی یہ علم ہی نہیں ہو گا کہ ”سوات کوہستان“ میں صحافت کرنا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے اور وہ بھی بغیر معاوضوں اور حکومتی مراعات کے۔ یہاں پی ٹی سی ایل انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں۔ نجی موبائل کمپنیوں کی انتہائی کمزور سروس کے سہارے صحافی اپنا کام چلاتے ہیں۔
کبھی کبھار ان کو خود مینگورہ شہر تک سفر کر کے فوٹیجز اپنے اداروں تک پہنچانا پڑتا ہے اور ستم بالائے ستم یہ کہ اتنی محنت اور اداروں کی ترقی کے لئے ہر قسم جتن کے باوجود بھی میڈیا ادارے ان کو معقول معاوضہ نہیں دے رہے ہیں، وجہ یہی ہے کہ یہ پس ماندہ علاقوں میں کام کرتے ہیں۔
اب تو صوبے کا وزیراعلی محمود خان کا تعلق بھی خیر سے اپر سوات سے ہے۔ وہ یہاں کے دیگر مسائل کی طرح صحافیوں کے مسائل سے بھی آگاہ ہیں اور انہوں نے سوات کے پس ماندہ علاقوں کو ترقی دینا اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ امید ہے یہاں کے تعلیمی مسائل، صحت کے مسائل کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے مسائل پر بھی نظر کرم کریں گے۔
اگر وہ کالام میں سرکاری پارک بنا سکتے ہیں، کھلی کچہری کے لئے سرکاری عمارت بنا سکتے ہیں، تو ان سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ پریس کلب کے لئے ایک عمارت بھی بنا سکتے ہیں اور یہاں کے صحافیوں کی فلاح و بہبود کا کام بھی کر سکتے ہیں۔


