بلوچستان کا المیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واحد بلوچ نے اپنے بھائی کے قتل کے بعد آبائی علاقے کو چھوڑ کر ہوشاب کو اپنا مسکین بنایا تاکہ ان کا خاندان امن کی فضا میں زندگی گزرا سکے۔ ان کے بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں۔ جب بلوچستان میں شورش عروج پر تھی۔ مکران کے مختلف علاقے اس کی لپٹ میں تھے۔ لیکن ہوشاب دیگر علاقوں کے نسبت پرامن تھا۔ اس کا اہم سبب یہاں کے باشندوں کی امن سے محبت تھی۔ اسی سوچ نے واحد کو قائل کیا وہ ہوشاب کو اپنا مسکین بنا لے۔

واحد نے اپنا گھر تو ہوشاب منتقل کر دیا لیکن خود بچوں کا مستقبل بہتر بنانے اور گھر کا نظام چلانے کے لئے مزدوری کرنے دبئی کا رخ کیا۔ لیکن انہوں یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن ہوشاب کا امن اس کی امانت میں خیانت کر کے اس کے بچے چھین کر اسے تربت کی سخت گرمی اور وادی کوئٹہ کی سخت سردی میں اپنے بچوں کے میتوں کے سرہانے بیٹھ کر وقت کے بے حس حکمرانوں کے آ گئے حصول انصاف کے لئے ہاتھ پھیلا نا پڑے گا۔

یاد رہے گزشتہ ہفتے تربت سے 102 کلومیٹر شمال کی طرف واقع ہوشاپ میں لواحقین کے مطابق گھر کے قریب مارٹر گولہ لگنے کی وجہ سے واحد کے دو بچے جاں بحق اور ایک بچہ زخمی ہوا۔ زخمی بچے کو علاج کی خاطر کراچی منتقل کیا گیا۔ جبکہ جان بحق دو بچوں کی لاشیں لواحقین نے احتجاج ریکارڈ کروانے کی خاطر تربت منتقل کیے ۔ جہاں وہ سخت گرمی میں تربت کے شہید فدا چوک میں دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔

تربت میں شنوائی نہ ہونے کے باعث واحد بلوچ اور ان کے اہلخانہ جس میں بچے، بوڑھے اور خواتین بھی شامل ہیں کوئٹہ کا رخ کیا۔ کوئٹہ میں گورنر ہاؤس کے سامنے گزشتہ کئی دن سے دھرنا دیے ہوئیں ہیں۔ تاحال حکومت کی جانب سے ان کے ساتھ باضابطہ مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔ ویسے حکومت مذاکرات تب کرتی ہے جب اسے اپنے معاملات سے فرصت ملے حکومتی اراکین اسمبلی تو حکومت توڑنے اور جوڑنے میں مصروف ہیں۔ ویسے بھی عوامی مسائل ان کی کبھی ترجیح نہیں رہے ہیں۔

یاد رہے گزشتہ دو مہینے سے بلوچستان میں لاشوں کے ساتھ یہ تیسرا دھرنا ہے۔ حکومت اتنی بے حس ہے کہ انہیں لاشوں کی تعظیم کا بھی خیال نہیں ہے۔ ان کی حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ دھرنے کو جتنا طول دیا جا سکتا ہے دیا جائے کیونکہ حکومت کو تو کچھ فرق پڑتا نہیں لیکن وہ اس حربے سے لواحقین کے ساتھ معمولی سے کھوکھلے وعدہ کر کے ان کو لاشیں دفنانے پر آمادہ کرلیتے ہیں۔

بلوچستان میں لاشوں کے ساتھ طویل دھرنوں کی روایت رہی ہے۔ یہاں کے ہر طبقے نے اپنے پیاروں کے جسد خاکی کے سرہانے بیٹھ کر دھرنے دیے ہیں لیکن اس کا نتیجہ ندارد۔ ویسے نہ وفاقی حکومت نے اور نہ صوبائی حکومت نے بے گناہ لوگوں کے قتل عام کا نوٹس لیا اور نہ ملک کے اعلیٰ عدلیہ نے۔ یہاں کے لوگوں کی زندگیاں غیر محفوظ ہیں۔ ان کی زندگیوں کی تحفظ کے لئے تاحال کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے اور نہ قتل و غارت کرنے والے ذمہ داران کا سراغ لگایا گیا ہے۔

بلوچستان میں جتنے بھی دھرنے ہوئے ہیں۔ ان کا ایک اہم مطالبہ یہی رہا ہے کہ ان کی زندگی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ لیکن اس بات کی ذمہ داری لینے والا کوئی نہیں ہے۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ گورنر ہاؤس کے سامنے جاری دھرنا دینے والے افراد سے کسی حکومتی شخص نے رابطہ نہیں کیا۔ حالانکہ جہاں پر دھرنا دیا جا رہا ہے اس کے قریب وزیراعلیٰ ہاؤس اور سیکرٹریٹ بھی ہے جہاں تمام وزرا بیٹھتے ہیں۔

یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے بلوچستان کا عام آدمی یہ بات سوچنے پر مجبور ہو چکا ہے کہ وہ لاوارث ہے۔ ان کے دکھوں کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ حکومت کو اس بابت سنجیدگی سے سوچنا چاہیے اسے عوام کو دیوار سے لگانے کا عمل مہنگا پڑ سکتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments