خدمت اور طاقت


تاریخ انسانی شاہد ہے کہ ابتدائے آفرینش سے ہی زمانہ سماجی و معاشی رویوں میں دو طبقات میں منقسم رہا ہے۔ have and have nots، یہ الگ بات ہے کہ مذکور دونوں کی ماہیت و حیثیت وقت اور زمانہ کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ قوموں کے معاشی حالات بدلتے ہیں تو سماجی رویوں میں بھی تبدیلی دکھنا شروع ہو جاتی ہے۔ سماجی رویوں میں تبدیلی آتی ہے تو سیاسی و معاشرتی اخلاق بھی بدلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو سماجی رویوں میں طاقت اور خدمت دو متضاد ایسے رویے ہیں جو ضد کے باوجود بھی ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔

اور دونوں سے معاشرتی و معاشی ذوق کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ کتب الاکتاب کے عمیق مطالعہ کر لیں ہر ہر قراطیس اس بات کا شاہد ہو گا کہ جذبہ خدمت سے آخرت اور طاقت کے استعمال سے دنیا ہی مطلوب ہوتی ہے۔ دونوں صورتوں میں ایک بڑی طاقت کو راضی کرنا مقصود ہوتا ہے، جیسے کہ خدمت سے خدا اور طاقت سے زمینی خدا کی خوشنودی درکار ہوتی ہے۔ اگرچہ خدمت میں مسائل زیادہ ہیں لیکن مطلق طاقت اسی میں مضمر ہوتی ہے، کیونکہ اللہ واحد ہستی ہے جس کے پاس مطلق طاقت کے اختیارات ہیں بندہ تو محض مجبور و بے کس ہے مگر افسوس وہ سمجھتا نہیں۔

ٰٓیاد رکھیں کہ جب خدمت پر مامور شخص مطلق طاقت کی خوشنودی کو پا لیتا ہے تو پھر اسے کسی ڈر یا خوف نہیں رہ جاتا، اور اسے اس کی خدمت کا صلہ اشرف، معتبر اور فرشتوں سے بہتر سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ کیونکہ خدمت پر اللہ ایسے انسانوں کو مامور کرتا ہے جن کے دل میں انسانیت کی قدر و منزلت ہو، ان کے سینے میں درد کی لو ہر اس تخلیق کے لئے ہو جسے اللہ نے پیدا کیا، خواہ وہ انسان ہوں کہ جانور۔ خواجہ میر درد نے ایسے ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کم نہ تھے کرو بیاں

یہ خدمت ہی ہے کہ جس کے اعلی و ارفع مقام کا حصول صرف ان انسانوں کو اللہ عطا فرماتا ہے جنہیں صحیح معنوں میں انسانی خدمت میں اللہ کی خوشنودی اور آقاﷺ کی سنت کی تقلید نظر آتی ہو۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ فرماتا ہے کہ میں اس کا ہاتھ، زبان اور کان بن جاتا ہوں۔ گویا، خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے والا معاملہ ہو جاتا ہے۔ اب ذرا سوچئے کہ جس خدمت کے عوض ایک عام انسان کو مقام ارفع پر فائز کر دیا جائے اور اس کی خواہش دراصل اللہ کی مرضی بن جائے تو اسے اور کیا چاہیے۔ لیکن یاد رکھیں یہ فیض، کرم اور عطا لوگوں پر ہوتی ہے جنہیں جستجو، طلب اور تلاش ہوتی ہے۔ گویا اس شاہراہ پر خیر ہی خیر، فلاح ہی فلاح اور انسانیت کی بقا کے سوا کچھ بھی نہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ خدمت سے بڑا کوئی انسانی رویہ نہیں جو سماج کو تبدیل کرنے کا باعث بنتا ہو۔

دوسرا سماجی رویہ طاقت ہے، یہ ایک ایسا رویہ ہے جہاں بھی ہو وہاں خوف، ڈر، لالچ، خودغرضی اور حکمرانی کی ہی حکمرانی ہوتی ہے۔ کیونکہ طاقت کے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے ہی انسان اپنی حکمرانی کو قائم و دائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس ضمن میں دو کتابیں ایسی ہیں جنہوں نے دنیائے ادب میں حکمرانی کی اور حکمرانی کے نہ صرف اصولوں کو وضع کیا بلکہ انہیں قائم رکھنے کے ہتھکنڈے بھی سکھائے۔ ایک مشہور زمانہ میکاولی کی ”دی پرنس“ اور دوسری کتاب کا نام کو تلیہ چانکیہ کی ”ارتھ شاستر“ ہے۔

ان دو نوں کتب میں طاقت کے استعمال اور عوام پر حکمرانی کے ایسے ایسے طریقے اختیار کرنے کے بارے میں معلومات درج ہے کہ بھٹو اور جارج ششم جیسے شاطر حکمران ان کتابوں کو اپنے تکیہ کے نیچے رکھ کر سویا کرتے تھے۔ اور پھر برٹرینڈ رسل کی معروف زمانہ کتاب ”پاور“ کا تذکرہ نہ کرنا بھی ان کے ساتھ زیادتی ہو گا۔ کیونکہ یہ بھی ایک ایسی کتاب ہے جس میں طاقت کی اقسام اور اس کے حصول کے بعد انسانوں میں جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ان کے بارے میں سیر حاصل معلومات درج ہے۔

برٹرینڈ رسل تو یہ بھی لکھتا ہے کہ ”طاقت“ ایک ایسا عمل ہے کہ یہ اگر ایک چرچ کے بشپ کے پاس بھی ہو تو وہ بھی اس کا استعمال اپنی من مانی اور مرضی کے مطابق ہی کرتا ہے۔ اس لئے دنیا پر جب بھی ظلم و بربریت کا بازار گرم ہوا ہے طاقت کی وجہ یا طاقت کے حصول کی وجہ سے ہوا ہے۔ کیونکہ معاشی و جسمانی طور پر طاقتور انسان سمجھتا ہے کہ قدرت کی اس پر نظر خاص ہے جس کے لئے انہیں معاشی و جسمانی طاقت کے لئے چنا گیا ہے۔ یہی سوچ اس میں تکبر و غرور پیدا کرتی ہے جس کا اختتام طاقت کے حصول پر جا کر ہوتا ہے۔

اور پھر یہ حضرت انسان یہ بھول جاتا ہے کہ جس طاقت کے حصول کے لئے وہ کوشاں ہیں وہ دراصل ظلم انسانی ہے۔ وہ اپنے آپ کو طاقت کل یا مطلق العنان خیال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ بس یہی حضرت انسان کے زوال کا آغاز ہوتا ہے لیکن طاقت کے نشے میں دھت لوگ کب سمجھتے ہیں۔ وہ اللہ کی رسی کے ڈھیل پن کو اپنے اوپر رحمت سمجھ لیتے ہیں۔ اور انسانوں پر ظلم روا رکھنے کو اپنا حق خیال کرنے لگ جاتے ہیں۔ سماجی رویوں میں جہاں بھی طاقت کا استعمال ہوا ہے اس کے پیچھے کسی اور کی طاقت ضرور مضمر ہوتی ہے جس کے لئے ایک طاقت دوسری طاقت کے لئے بطور مہرہ کام کر رہا ہوتا ہے۔ تاکہ اس کی وجہ سے دونوں کی حکمرانی قائم رہے۔

حکمرانی قائم رکھنے کے لئے ایک حکمران دو طبقات کو غلط استعمال کر کے اپنی حکومت کو قائم رکھتا ہے۔ ایک سرکاری عہدیداران، اور دوسرا طبقہ جو سرکاری نہیں ہوتا لیکن ان کی کہی ہوئی بات عوام کے ذہنوں میں ایسے منقش ہو جاتی ہے کہ وہ اس کے لئے کسی حد تک جانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ دوسرا طبقہ میں مذہبی سکالرز، صحافی، وکلا، زمیندار اور امرا شامل ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہی وہ طبقات ہیں جو سماج کو تبدیل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

عالم دین اپنے پیروکاروں کو ایک پیر اپنے مریدین سے، وڈیرہ جاگیردار مضارع سے جو بھی چاہے منو سکتا ہے۔ یعنی یہ وہ طبقات ہیں جو رائے عامہ ہموار کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن افسوس یہ ان شخصیات کے لئے کام کرتے ہیں جن سے ان کے اپنے مفادات تو جڑے ہوتے ہیں لیکن عوام الناس کا استعمال غلط طریقے سے کرتے ہیں۔ وہ بھی اس لئے کہ جن لوگوں سے ان کے مفادات جڑے ہوئے ہیں ان کی طاقت قائم رہ سکے۔ گویا ایک لحاظ سے یہ سن آلہ کار ہوتے ہیں جو عوام کو بلیک میل کرنے کے لئے حکومت وقت اپنے ساتھ رکھے ہوتی ہے۔

یہ سب مختلف اوچھے ہتھکنڈوں کو قانونی شکل دے کر صاحب حیثیت کی حکمرانی و طاقت کو جائز قرار دینے میں اپنا ناپاک کردار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہیں کہیں جوابدہ نہیں ہونا۔ یہ ایک سماجی رویہ ہے جو فی زمانہ قانونی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے بلکہ اخلاقی لحاظ سے بھی اسے جائز سمجھا جا رہا ہے۔ مگر یاد رکھیں کہ جو صلہ خدمت کا اللہ کے ہاں ہیں وہ طاقت کا کبھی نہیں ہو سکتا۔ وہ اس لئے کہ بزرگ کہتے ہیں کہ اللہ کو ملنے کا صرف ایک ہی شارٹ کٹ ہے اور وہ ہے انسانیت کی بے لوث خدمت۔ خدمت کا معاوضہ یا صلہ اگرچہ فوری نظر آنے سے قاصر ہی کیوں نہ ہو مگر حقیقت یہی ہے کہ خدمت میں عظمت ہے اور طاقت میں تکبر، جو کسی طور انسان کو زیبا نہیں۔ کیونکہ تکبر صرف اللہ کی ذات کو زیبا ہے۔ انسان جو سمجھتا ہے کہ طاقت اور اس کا استعمال اللہ کی طرف سے ان کے لئے بطور انعام ہے تو سن لیجیے کہ۔

لوگ خوش ہیں اسے دے دے کے عبادے کے فریب
وہ مگر خوب سمجھتا ہے، خدا ہے وہ بھی

Facebook Comments HS