لاہور مر رہا ہے


پنجاب اس وقت بدترین فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہے۔ پاکستان کے 10 آلودہ ترین شہروں میں سے 9 کا تعلق پنجاب سے ہے جبکہ 10 ویں نمبر پر کراچی آتا ہے۔ اسی طرح سے دنیا کی ریٹنگ پر نظر دوڑائی جائے تو بدقسمتی سے لاہور سرفہرست ہے جہاں کی فضا انتہائی مضر صحت ہوتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں فضائی آلودگی کی وجہ سے 70 لاکھ لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ جبکہ 91 فیصد آبادی ایسی ہے کہ جن کو کسی نہ کسی صورت میں مضر صحت فضا میں جینا پڑ رہا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد سالانہ آلودہ فضاء کی وجہ سے لگنے والی بیماریوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ ایک وقت میں باغوں کا شہر قرار دیا جانے والا شہر لاہور اس وقت سموگ کی صورت میں پانچویں اور خطرناک موسم کو بھگت رہا ہے۔ ورلڈ ائر کوالٹی انڈیکس کی ایک رپورٹ کے مطابق ستمبر سے لے کر دسمبر تک لاہور کا ائر کوالٹی انڈیکس اوسطا 200 سے زائد پوائنٹس سکور کرتا رہا ہے جو کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مقرر کردہ لیول سے بارہ گنا زیادہ ہے۔

سموگ نے لاہور کو خاموشی سے جکڑا اور اس کی وجہ ماہرین کے مطابق لاہور میں جاری بے ہنگم تعمیرات، شہر کی مصروف ترین شاہراہ فیروز پور روڈ پر میٹرو بس ٹریک کی تعمیر، اور اس کے دوران ہونے والی ٹریفک جام سے پھیلنے والی آلودگی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اوور ہیڈ بریجز، نئی سڑکوں اور دیگر تعمیرات کی مد میں درختوں کی بے رحمی سے کٹائی نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ ماہرین کے مطابق اس دوران شہر میں ائر کوالٹی مانیٹرز اور سینسرز کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں گیا۔ ان تعمیرات کی صورت میں فضاء کو پہنچنے والے نقصان اور آلودہ ذرات کی مانیٹرنگ کا میکنزم نہ ہونے سے بھی یہ خاموش آفت کا سب کو اس وقت اندازہ ہوا جب 2017 میں لاہور کی فضاء نے علی الصبح اور شام گئے دھندلانا شروع کیا۔

یوں سموگ سیزن کا آغاز ہوا، اس نئی آفت سے نہ صرف حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے بلکہ ہزاروں شہری سانس کی مختلف بیماریوں کا شکار ہوئے۔ یہی حال کراچی میں بھی دیکھنے میں آیا، ہاؤسنگ سوسائٹیز کے ہاتھوں جکڑے شہر کو کنکریٹ کا جنگل بنا دیا گیا۔ کراچی میں تو ساحلی پٹی پر بھی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور پلازے کھڑے کر دیے گئے۔ یوں نہ صرف ماحولیاتی توازن بگڑا بلکہ ملک کا سب سے بڑا صنعتی اور تجارتی شہر بھی آلودہ ترین فضا والے شہروں میں لاہور کے بعد دوسرا بڑا آلودہ شہر بن گیا ہے۔ چار سال ہو گئے اور اس کے باوجود بھی ابھی تک اس پر قابو نہ پانے کے سوال پر فضائی آلودگی کے خلاف کام کرنے والی این جی اوز، طبی ماہرین کی جانب سے چند تجاویز کی صورت میں جواب دیا گیا۔

ان میں سے پہلی تجویز فوری طور پر لاہور سمیت پاکستان کے بڑے شہروں میں فضائی مانیٹرز اور ائر کوالٹی انڈیکس سینسرز کی تنصیب اور ان سے ملنے والے ڈیٹا کو عوام تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ دیکھا جائے تو 2017 سے پہلے صرف لاہور میں امریکی قونصلیٹ کی عمارت، محکمہ موسمیات اور پنجاب یونیورسٹی میں ائر سینسرز نصب تھے جس میں سے محکمہ موسمیات والا سینسرز پوری طرح فعال نہیں تھا۔ فی الوقت لاہور کے 10 مقامات پر ائر کوالٹی سینسرز /ریڈارز کام کر رہے ہیں۔ جہاں سے ملنے والا ڈیٹا حکومت کی جانب سے تو نہیں شائع کیا جا رہا ہے۔ البتہ ائر کوالٹی انڈیکس مانیٹر کرنے والی انٹرنیشنل ویب سائٹس کی جانب سے لائیو ٹریکنگ کے ذریعے ڈیٹا آن لائن مہیا کیا جا رہا ہے۔

حکومت پاکستان کی جا نب سے صرف 2019 کے پہلے کوارٹر میں ایک نامکمل رپورٹ شائع کی گئی جس کو ماہرین کی جانب سے ناکافی قرار دیا گیا۔ دوسری تجویز صنعتوں کے لئے قوانین بنانے اور زہریلی گیسوں کے اخراج کو روکنے کے لئے آلات نصب کرنے سمیت بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اس سیزن میں چاول کی فصل کے بعد بھوسے کو آگ لگانے سے روکنے کے لئے آگاہی فراہم کرنے جیسے اقدامات ہیں۔ پنجاب حکومت کی طرف سے ہدایات کے بعد بھٹوں کو تو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جا چکا ہے، لیکن زہریلی گیس اور دھواں پھیلانے والی فیکٹریوں کی چمنیوں میں زہریلے ذرات کے لئے آلات کی تنصیب کا عمل تاحال شروع نہیں کیا جا سکا ہے۔

ابھی بھی لاہور کی دونوں انڈسٹریل سٹیٹس میں کوئلے سے بجلی بنانے والے پلانٹس چل رہے ہوتے ہیں۔ تیسری تجویز بڑے شہروں میں مربوط ٹریفک نظام اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف فوری کارروائی تھا۔ مگر حکومت پنجاب کی جانب سے تاحال فٹنس سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کے لئے نہ ہی کوئی اقدامات کیے گئے نہ ہی شہر میں ٹریفک منیجمنٹ کا مربوط نظام لایا گیا، یہی صورتحال کراچی اور حیدرآباد اور پشاور جیسے شہروں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔

ہاں لاہور میں ٹریفک پولیس کی جانب سے جگہ جگہ ناکے لگا کر دھڑا دھڑ چالان کاٹنے کا عمل جاری ہے جس سے اہلکاروں کی تو ماہانہ چالان کی شرح پوری ہو رہی ہے، کوئی فائدہ تو تاحال دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔ نقصان یہ ہوتا ہے کہ جگہ جگہ لگے ناکوں سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے جو فضائی آلودگی کو بڑھاوا ہی دے رہی ہے۔

چوتھی تجویز کلین گرین پراجیکٹ کے ذریعے زیادہ سے شجرکاری کا فروغ ہے، اکتوبر سے لے کر فروری تک میگا پراجیکٹس کی تعمیر پر پابندی کا اطلاق ہے۔ حکومت کی جانب سے لاہور کے نواح میں شجرکاری تو کی جا رہی ہے البتہ تعمیرات پر پابندی کیا لگنی تھی، لاہور کی مرکزی شاہراہ فیروز پور روڈ کے سب سے مصروف حصے کلمہ چوک تا ارفع کریم ٹاور تک ٹریفک صرف اس وجہ متاثر رہتی ہے کیونکہ گلاب دیوی ہسپتال انڈر پاس کی تعمیر کا عمل جاری ہے۔ جس سے اس سنگین مسئلے کے حل کے لئے حکومت پنجاب کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان جیسی کمزور معیشت کے ناقص ہیلتھ سسٹم پر بھی بوجھ پڑے گا اور آنے والی نسلیں آلودہ فضا میں سانس لینے پر مجبور ہوں گی۔

Facebook Comments HS