تصوف روحانیت اور مرشد کی بیعت
بدھا نے دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنے پیرو کاروں کو آخری وصیت کرتے ہوئے کہا کہ ( اپنا راستہ خود تلاش کرنا اور میری پیروی مت کرنا ) کرشنا مورتی کا کہنا تھا کہ (سچ تلاش کرنے کا کوئی متعین راستہ نہیں ہوتا) کنفیوشس کا کہنا تھا (انسان کا اپنا تجربہ اس کا حقیقی رہنما ہوتا ہے ) سچ کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے اس کا حقیقی مزہ چکھنے کی تمنا میں لاکھوں لوگوں نے اپنی زندگیاں تیاگ دیں، ان سچ کے متلاشیوں کے ہاتھ جو لگا وہ انہوں نے مختلف طریقوں سے اپنے پیروکاروں کو بتایا، انہوں نے جو کچھ حاصل کیا وہ ان کی سوچ کی طویل ریاضت کا ماحصل تھا اور انہی لوگوں کے تخیل پرواز کی بدولت ہم آج کے پریکٹیکل دور میں سائنس کے کرشمے انجوائے کر رہے ہیں۔
قدیم وزڈم سے جدید وزڈم کا یہ جو انسان سفر ہے بہت ہی دلچسپ ہے، قدیم انسان جو سوچتا تھا اسے جانچنے کا کوئی معیاری پیمانہ نہ تھا اس لئے آج کے دور میں بہت ساری باتیں اٹکل پچو ثابت ہوئی ہیں مگر اسی قدیم وزڈم کی بدولت آج ہم پریکٹیکل راستوں کو کھوجنے میں کامیاب ہوئے ہیں، اور پراسراریت کے جالے ہٹنے کے بعد انسانی سوچ کو وہ معراج حاصل ہوئی جس کا ہم ماضی میں تصور بھی نہیں کر سکتے تھے، جیسا کہ پہلے وقتوں میں تصوف، روحانیت اور مرشد کی بیعت کا جو تصور تھا وہ آج بالکل ہی بدل چکا ہے، پہلے یہ سب کچھ سیکھنے اور جاننے کے لیے گیانی لوگوں کے آستانوں، خانقاہوں اور جھگیوں میں حاضری دینا پڑتی تھی جہاں پر بیعت ہونے کے بعد مرشد کی نگرانی میں سلوک و معرفت کی منزلیں طے کرنے کا ایک باقاعدہ نظام تھا اور ایسا مختلف ناموں سے آج بھی یہ تسلسل چل رہا ہے۔
درگاہیں، میلے، دھمال اور قوالی اسی کلچر کی پرچھائیاں ہیں، ان سلسلوں کے بانیان کے ذہنوں میں پتا نہیں کیا تھا مگر آج انہی سلسلوں کے نام پر دھندا بازی ہو رہی ہے پہلے وقتوں میں سائنس نے آنکھ نہیں کھولی تھی اور ذرائع علم بہت محدود تھے چند علوم سیکھنے والے بندے کو عالم فاضل اور حتمی اتھارٹی سمجھا جاتا تھا اور وہ اکیلا اتھارٹی ہونے کی وجہ سے ایک ایسا استحصالی نظام تشکیل دے دیتا تھا کہ جس کے زیر اثر اس کی اچھی خاصی روزی روٹی چل پڑتی تھی پھر وہ کرشماتی بندہ اپنی یہ روحانی چالیں اپنی اولادوں کو ٹرانسفر کر کے دنیا کو الوداع کہہ جاتا تھا، آج کے دور میں ایسا ممکن نہیں رہا چونکہ ذرائع علم اتنے زیادہ دریافت ہو چکے ہیں کے اب ایک انسان کے لیے ممکن نہیں رہا کے وہ ہر علوم میں دسترس حاصل کرے، دسترس تو درکنار وہ کسی ایک علوم میں بھی اکملیت کا دعوی نہیں کر سکتا کیونکہ اب وہ ایک علوم بھی اپنے اندر ہزاروں شاخیں سموئے ہوئے ہے اور انسان کی ساٹھ یا ستر سالہ زندگی ان علوم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
اسی لیے پہلے وقتوں میں لوگ بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے اور لوگ بڑے آرام سے تسلیم بھی کر لیا کرتے تھے مگر آج کے دور میں دعویٰ کرنے والے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا کیونکہ اب اس وسیع جہان عالم میں ایسا ممکن نہیں رہا۔ اسی لئے آج جو کوئی بھی دعوی کی زبان میں بات کرتا ہے تو اس پر ہزاروں انگلیاں اٹھ جاتی ہیں۔ قدیم وزڈم کی آج ہمارے دل میں جو عزت و احترام ہے وہ اسی وجہ سے ہے کہ وہ اس وقت کے لیے موزوں تھا اور محدود ذرائع علم کے باوجود انسانی سوچ کا ایک تسلسل تھا مگر سائنس کی بدولت آج بہت کچھ رد ہو چکا ہے۔
ارسطو، سقراط اور افلاطون حتیٰ کہ قدیم سائنسدانوں کے بہت سے مفروضے اور باتیں بھی آج مسترد ہو چکی ہیں مگر ان کی عظمت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے دور میں سوچ کی رسم ڈالی اور انسانی سوچ کے تسلسل کو آگے بڑھنے میں مدد فراہم کی۔ آج کے دور کی سب سے بڑی انسانی فتح لیبارٹری ہے جہاں پر آج کے دور کے حقیقی ولی اپنے مفروضوں کو پریکٹیکلی پرکھتے ہیں ہزاروں تجربات کے بعد انسانوں کو پریکٹیکل وزڈم سے نوازتے ہیں، پہلے وقتوں میں گیانی لوگ خیال یا تصور کی ٹو میں جب کھو جاتے تھے تو ان پر حال طاری ہو جاتا اور بعض اوقات وہ اس خیال کو دھمال کی صورت میں سیلیبریٹ کرتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہے آج کے حقیقی گیانی یعنی سائنسدان اپنے تصوراتی تخیل کو عملی طور پر لیبارٹری میں پرکھتے ہیں اور حقائق کا ننگی آنکھ سے مشاہدہ کرتے ہیں اور ہزاروں تجرباتی مراحل میں سے گزارنے کے بعد رنگ، نسل، قوم اور مذہب سے بالاتر ہو کر اسے انسانی حیات کا حصہ بنا دیتے ہیں۔
آج کے دور کا مرشد گوگل ہے جو آپ کے ہاتھ کو بیعت کے لیے قبول نہیں کرتا بلکہ جہان دانش میں عملی طور پر داخل ہونے کے لیے ایک گیٹ وے دیتا ہے تاکہ آپ حقیقی تصوف و روحانیت سے عملی طور پر مستفید ہو سکیں اور جب چاہیں اپنے اوپر جاننے، سیکھنے اور پرکھنے کا حال طاری کر سکتے ہیں اب مخفیت و پراسراریت کی کوئی جگہ نہیں ہے جس کے نام پر صدیوں سے ہمیں بیوقوف بنایا جاتا رہا، اب خانقاہی روحانیت کی جگہ سائنس نے لے لی ہے۔
میں ایسے بہت سے گدی نشینوں کو جانتا ہوں جنہیں علم کی ( ع ) کا بھی پتہ نہیں ہے مگر مریدین کے فیضان نظر سے کروڑوں کے بزنس امپائر کے مالک ہیں یہ روحانیت کا کون سا رنگ ہے جو صرف پیر کو رنگتا ہے مگر مریدین بے فیض رہ جاتے ہیں اور بنیادی ضرورتوں کو پورا کرتے کرتے قبر میں اتر جاتے ہیں، یہ کیسی نگاہ مرشد ہے جو پیر کی تجوری تو بھرے رکھتی ہے مگر مرید کی خالی کی خالی رہتی ہے۔ اگر فنا فی شیخ کے بعد بھی سسک سسک کر جینا ہے تو پیروی کس کام کی۔
آپ عرس وغیرہ میں مشاہدہ کر سکتے ہیں جب پیر صاحب جلوہ افروز ہوتے ہیں تو غریب و امیر مریدین ہاتھ بوسی کرتے وقت رنگدار نوٹ ہاتھ میں تھما جاتے ہیں اور سالانہ پروگرامز سے عقیدت کے نام پر کروڑوں کی آمدن سے فیض یاب ہو کر سال کا راشن اکٹھا کر کے لوٹ جاتے ہیں، ہمیں اس عقیدت کی گیم کو سمجھنا چاہیے اور اپنے ذہن کی بتی کو جلانا چاہیے۔ اب ہم سبجیکٹیو سچائیوں کے دور سے نکل کر آبجیکٹیو سچائیوں کے دور میں داخل ہو چکے ہیں، اب سچائیوں کو گوگل کیا جا سکتا ہے اور انٹرنیٹ کی دنیا میں اب جھوٹ کوئی پہناوا نہیں لے سکتا

