سرکاری محکمے جوں کے توں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں اتنے مصروف ہیں کہ سرکاری دفاتر میں اپنے کام کرانے کے لئے محکموں میں خود جانے کی بجائے تھرڈ پارٹی کو شامل کر لیتے ہیں۔ زیادہ تر نوکری پیشہ افراد اضافی پیسے خرچ کر اپنا کام گھر بیٹھے کرا لیتے ہیں۔ محکمہ ایکسائز میں تھرڈ پارٹی سے مراد وہ ایجنٹ مافیا ہیں جن کو محکمے کے اندر بڑی عزت حاصل ہے۔ یہ بات میں یوں ہی نہیں بلکہ ایک تجربے کی بنیاد پر کر رہا ہوں جو مجھے ایک ڈپلیکیٹ نمبر پلیٹ کے لئے اپلائی کرتے وقت محسوس ہوا۔

ایک روز صبح سویرے میرے خالہ زاد بھائی کی اسلام آباد سے کال موصول ہوئی، ان کی گاڑی جو لاہور نمبر پلیٹ کی تھی کو اسلام آباد میں اصل نمبر پلیٹ کے بغیر چلانا بہت مشکل ہو چکا تھا۔ مجھے بطور لاہور کے باسی ہونے کے باعث تعجب ہوا۔ کیا واقعی ایکسائز کی اصل نمبر پلیٹ نہ ہونے پر اسلام آباد میں گاڑی چلانا مشکل ہے۔ خیر کزن نے مجھے نئی نمبر پلیٹ کے لئے اپلائی کرنے کا کام سونپ دیا۔ یوں تو سرکاری محکموں میں جانا کسی عذاب سے کم نہیں لیکن ایک احترام اور محبت کے رشتہ کے باعث میں منع نہ کر سکا۔

اگلے ہی روز میں تمام دستاویزات لے کر ایکسائز کے دفتر جا پہنچا۔ جب مین گیٹ سے اندر داخل ہونے لگا تو ایجنٹ کی بھرمار نے مجھے روکنے کی کوشش کی اور ایکسائز میں کام سے متعلق پوچھتے رہے۔ ایک ایجنٹ کے پرزور اسرار پر مجھے رکنا پڑا۔ میں نے اپنا کام بتایا تو اس نے فورا سے کہا 7 ہزار روپے لگیں گے اور اس کے لئے کوئی دستاویزات درکار نہیں بس اپنی گاڑی کا نمبر دے دیں، باقی کام ہمارا ہے۔ تاہم میں نے ایجنٹ کو بغیر وجہ بتائے کام کرانے سے صاف انکار کر دیا اور سوچا اگر اتنا ہی آسان ہے تو میں خود جا کر نمبر پلیٹ کے لئے اپلائی کیوں نہیں کر سکتا۔

فرید کورٹ ایکسائز دفتر میں داخل ہوا تو سب سے پہلے استقبالیہ پر ایک خوش شکل افسر نرم لہجہ کے حامل افسر سے سامنا ہوا اور معلومات لینے کی کوشش کی تو افسر نے پوچھا کیا آپ نے پولیس سٹیشن میں نمبر پلیٹ گمشدگی کی رپورٹ درج کرا رکھی ہے؟ خیر اب مجھے پولیس سٹیشن جا کر رپورٹ درج کرانا تھی۔ میں نے قریب ہی تھانہ مزنگ میں جانا بہتر سمجھا۔ تھانے پہنچا تو خدمت سنٹر میں جا کر عملے کو مسئلے سے آگاہ کیا ایک تھانے میں ملازم نے پوچھا کیا یہ گاڑی آپ کے نام پر ہے؟

میں نے بتایا نہیں کزن کے نام پر ہے۔ ملازم نے کہا کہ پھر کزن کے آنے پر ہی رپورٹ درج ہوگی۔ مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آ رہا تھا۔ اسی دوران میں نے اپنے کزن سے رابطہ کرتے ہوئے اتھارٹی لیٹر منگوایا اور پولیس سٹیشن میں جمع کرایا جس کے بعد رپورٹ درج کی گئی اور مجھے آن لائن رسید دے دی گئی۔ اب میں واپس ایکسائز آفس کی جانب رواں دواں تھا۔ ایک دکان پر رک کر میں نے ایک فائل خریدی اور اس میں تمام دستاویزات جس میں اتھارٹی لیٹر، گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ، گاڑی کے مالک اور میری آئی ڈی کارڈ کی کاپی، ایک درخواست، سٹیکر جس پر میل ایڈریس لکھا جاتا ہے فائل میں لگا دیں۔

اب میں بہت خوش تھا کہ میرا کام ہو جائے گا۔ استقبالیہ سے مجھے کاؤنٹر پر بھیج دیا گیا۔ باری آنے پر میں نے فائل پیش کی اور کام سے متعلق بتایا۔ ایکسائز کے نوجوان ملازم نے کہا کہ ”گاڑی آپ کے نام نہیں۔ آپ اپلائی نہیں کر سکتے“ اور فائل کو اٹھا کر مجھے واپس دے مارا۔ میں نے اتھارٹی لیٹر کی نشاندہی کی تو ملازم نے خاموشی اختیار کی اب اس کے پاس کوئی جواز نہیں تھا کہ میری فائل میں کوئی نقص نکال سکے۔ اس نے ایک نئی منطق پیش کی اور کہا آپ اپلائی نہیں کر سکتے کیوں کہ پولیس نے رسید تو دی ہے مگر رپورٹ نہیں دی۔

جس پر میں نے جواب دیا کہ رسید سے آن لائن سب کچھ معلوم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ملازم نے کہا کہ ”میرا وقت ضائع نہ کریں“ اسی دوران میرے ارد گرد کھڑے ایجنٹ ایک چٹ پر 5، 5 نمبر لکھ کر گاڑی کے نمبر پلیٹ کے لئے اپلائی کر رہے تھے اور ایک سے زائد نمبروں کی ڈیڈ بھی نکلوا رہے تھے جس کے ساتھ ایکسائز کے ملازم کا رویہ انتہائی نرم تھا۔ اس سارے معاملے پر مجھے بہت تعجب ہوا۔ آخر کار میں نے ان میں سے ایک ایجنٹ سے پوچھا ”کیا وجہ ہے میرے تمام دستاویزات پورے ہونے پر بھی میرا کام نہیں ہو سکتا جبکہ آپ ایک چٹ پر کام کرا لیتے ہیں“ ایجنٹ نے جواب میں کہا کہ ”ہماری کچھ چٹوں پر قائداعظم کی تصویر بھی چسپاں ہوتی ہے“ پھر مجھے معلوم ہوا کہ میرے دستاویزات بالکل مکمل ہیں ملازم محض اس لئے تنگ کر رہے ہیں کہ میں ایجنٹ کے ذریعے سے کام کراؤں تاکہ اسے بھی کچھ مل سکے۔

میں نے فیصلہ کیا کہ میں کسی افسر سے بات کروں گا تاکہ معاملہ حل ہو سکے۔ اسی دوران میں ایک افسر کے پاس گیا اور معاملے سے متعلق آگاہ کیا۔ جس کے بعد ملازم نے اسی دستاویزات پر گاڑی کی نمبر پلیٹ کے لئے اپلائی کر دیا۔ شہریوں کو چاہیے کہ ایکسائز میں کسی بھی کام کے لئے خود جائیں اور کسی بھی ایجنٹ کے ہتھے چڑھنے کے بجائے ریسپشن یا کاؤنٹر پر جانے کو ترجیح دیں۔ ایجنٹس راستے میں روک کر آپ کا کام کرانے کی کوشش ضرور کریں گے۔

ایکسائز میں گاڑی، موٹرسائیکل و دیگر موٹر وہیکلز کے کسی بھی کام کے لئے سب سے پہلے ایکسائز کی ویب سائٹ کو وزٹ کریں اور جس تاریخ اور وقت پر آپ ایکسائز آفس جانے کے خواہشمند ہیں اس کی اپوائنٹمنٹ فکس کر لیں۔ بعد ازاں مطلوبہ کام سے متعلق معلومات ویب سائٹ سے ہی حاصل کر لیں اور تمام تر دستاویزات لے کر ایکسائز کے دفتر میں حاضر ہوں۔ کاؤنٹر پر جا کر اپنا مسئلہ بیان کریں اور معلومات لے کر اپنے دستاویزات کو ایک فائل میں لگا دیں۔

فائل مکمل ہونے پر آپ کو کاؤنٹر پر بھیج دیا جائے گا جس کے بعد آپ آفیشل چالان کی ادائیگی کر کے رسید حاصل کر سکتے ہیں۔ عمران خان کی حکومت آنے کے بعد سے عوام نے سرکاری محکموں میں تبدیلی کا خواب سجا لیا تھا، تاہم اس سارے تجربہ سے میں نے یہ سیکھا کہ سسٹم سرکار نے نہیں ہمیں خود تبدیل کرنا ہو گا۔ اس لئے عوام کو چاہیے کہ سرکاری دفاتر میں کام کے لئے ایجنٹ کا سہارا لینے کے بجائے خود دفتر جائیں اور ایجنٹس مافیا کو مات دیں تاکہ سرکاری ملازم کچھ روپے کے فائدے کے لئے شہریوں کے بجائے ایجنٹس کو ترجیح نہ دیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلمان جاوید بھٹی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments