آئی ایم ایف کی تمام شرائط پر عملدرآمد کی مجبوری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بارہا اس کالم میں آپ کو یاد دلاتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتا ہوں کہ سرمایہ دارانہ نظام پر مبنی جو عالمی معیشت ہے اس کا نگہبان ادارہ آئی ایم ایف ہے۔ اس کے دھندے کو رواں رکھنے کے لئے کلیدی سرمایہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ نام کا ایک ملک فراہم کرتا ہے۔ اسی باعث تقریباً 90 ممالک پر مشتمل آئی ایم ایف میں یہ واحد ملک ہے جسے ویٹو جیسا اختیار بھی میسر ہے۔

عمران خان صاحب جن دنوں اپوزیشن میں تھے تو امریکہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ افغانستان پر برپا ہوئی جنگ کی انہوں نے سخت ترین الفاظ میں محض مذمت ہی نہیں کی۔ پاکستان کے زمینی راستوں سے اس ملک میں موجود امریکی اور نیٹو ممالک کی افواج کے لئے فراہم ہوئی رسد کو روکنے کے لئے دھرنے بھی دیتے رہے۔ ڈرون طیاروں کی مخالفت بھی جاری رکھی۔ شہزاد اکبر صاحب جو ان دنوں عمران حکومت کے مبینہ طور پر سیاست دانوں کا روپ دھارے چور اور لٹیروں کے کڑے احتساب کے مدارالمہام بھی ہیں ڈرون طیاروں کے استعمال کے خلاف تھانوں میں ایف آئی آر بھی لکھواتے رہے۔ ان کے خوف سے اسلام آباد میں تعین سی آئی اے کے ایک سٹیشن چیف کو نہایت راز داری سے اپنے ملک لوٹنا پڑا۔

میری جوانی ”امریکا کا جو یار ہے۔“ والے نعرے لگاتے ہوئے خرچ ہو گئی۔ میں ان دنوں بھی اس ملک کا مدح سرا نہ ہوا جب امریکی ڈالروں اور جدید ترین ہتھیاروں کی مدد سے افغانستان میں کمیونزم کو شکست دینے کے لئے جنرل ضیاء الحق جیسے مرد مومن کی قیادت میں جہادی جذبے کو پروان چڑھایا گیا۔ نائن الیون کے بعد مگر یہ ”مجاہدین“ دہشت گرد ٹھہرادیے گئے۔ ان کی سرکوبی کے لئے ایک اور جنگ کا آغاز ہوا۔ وہ جنگ پاکستان کی مدد کے بغیرلڑی ہی نہیں جا سکتی تھی۔ میں اگرچہ اس کی بابت بھی لاتعلق رہا۔

اپنے ماضی کے ساتھ عمران خان صاحب کی گفتگو میرے کانوں کو بہت بھلی لگی۔ ملکی سیاست کا طالب علم ہوتے ہوئے بالآخر مگر یہ سوچنے کو مجبور ہوا کہ دیگر سیاست دانوں کی طرح حتمی ہدف ان کا بھی اقتدار کا حصول ہے اور پاکستان میں کوئی ایک حکومت بھی 1950 کی دہائی سے امریکہ کی معاونت کے بغیر چین وسکون سے حکومت نہیں کرپائی ہے۔ اسی باعث اپوزیشن میں رہتے ہوئے جب عمران خان صاحب یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ ملکی معیشت کے استحکام کے لئے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے بجائے خودکشی کو ترجیح دیں گے تو میرا جھکی ذہن پھکڑپن کو مجبور ہوجاتا۔ اس پھکڑپن کی وجہ سے میں ”لفافہ“ مشہور ہوا۔ سوشل میڈیا پر چھائے تحریک انصاف کے سپاہ ٹرول نے میری ذاتی زندگی کو غیر اخلاقی دکھا کر لوگوں کے روبرو پیش کیا۔ ڈھیٹ ہڈی ہوں لہٰذا ٹس سے مس نہ ہوا۔

اگست 2018 میں بالآخر پاکستان کی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد عمران خان صاحب نے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے میں بہت دیر لگائی۔ انہیں گماں رہا کہ ماضی کے حکمرانوں کو احتساب بیورو کے ذریعے الٹکا لٹکانے کے بعد وہ قوم کی نام نہاد لوٹی ہوئی رقم وصول کر لیں گے۔ وزیر خزانہ ان کے اسد عمر تھے۔ وہ سیاست میں آنے سے قبل ایک کامیاب ترین کاروباری ادارے کے سربراہ تھے۔ امید باندھی گئی کہ وہ اپنے تجربے کو ملکی معیشت سنوارنے کے لئے بروئے کار لائیں گے۔ دریں اثناء ماحول یہ بھی بنا کہ چین کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے برادر ممالک بھی عمران خان صاحب جیسے صاف ستھرے سیاست دان کی قیادت میں قائم ہوئی حکومت کی بھرپور مالی معاونت کو تیار ہیں۔ معاشیات کے علم سے قطعاً نابلد ہوتے ہوئے بھی میں فریاد کرتا رہا کہ بالآخر آئی ایم ایف ہی سے رجوع کرنا پڑے گا۔ بالآخر وہی ہوا جس کا مجھے برسوں سے خدشہ تھا۔ اسد عمر کو واٹس ایپ کے ذریعے پیغام بھیج کر وزارت خزانہ سے فارغ کر دیا گیا۔ ان کی جگہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کسی بھی ایوان کا رکن منتخب ہوئے بغیر ہماری معیشت کے حتمی نگہبان بنادیے گئے۔

اپنا عہدہ سنبھالتے ہی شیخ صاحب نے آئی ایم ایف سے رجوع کیا۔ طویل مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ ہوا۔ اس کے مطابق پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لئے عالمی معیشت کے نگہبان ادارے نے ہمیں مختلف اقساط میں 6 ارب ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ اس رقم کے بلاتعطل حصول کے لئے مگر چند شرائط پر عمل درآمد بھی ضروری تھا۔ پاکستانی روپے کی قدر کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں کم کرنا معاہدے کی کلیدی شرط تھی۔ اس کے علاوہ اصرار یہ بھی ہوا کہ ہمارے گھروں کو میسر بجلی اور گیس کی قیمتوں کو طلب اورر سد کی منطق کے مطابق بڑھایا جائے۔ مذکورہ شرائط پر عملدرآمد شروع ہوا تو بازار میں کسادبازاری پھیل گئی۔ لاکھوں افراد اس کی وجہ سے بے روزگار ہوئے۔ محدود اور کم آمدنی والے افراد کے لئے روزمرہ اخراجات سے نبردآزما ہونا ناممکن ہو گیا۔ یہ مسائل اپنی جگہ موجود تھے تو کرونا نامی وبا بھی نازل ہو گئی۔ کئی مہینوں تک اس نے ہمیں گھروں تک محدود کر دیا۔ معمولات زندگی جامد ہوئے نظر آئے۔ اپنی مصیبتوں کی تمام تر ذمہ داری مگر ہم نے محض ایک فرد یعنی ڈاکٹر حفیظ شیخ کے کاندھوں پر ڈال دی۔ انہیں برا بھلاکہتے ہوئے یاد رکھنا ہی گوارا نہ کیا کہ وہ خلائی مخلوق کی طرح کسی اور سیارے سے نازل نہیں ہوئے تھے۔ انہیں ہمارے حکمرانوں نے بہت چاؤ سے قومی خزانہ کا نگہبان بنایا تھا۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ اپنے سرنازل ہوئی بلاؤں کی وجہ سے اسلام آباد سے سینٹ کے رکن منتخب نہ ہوپائے۔ یہ انتخاب ہارنے کے باوجود انہوں نے بطور وزیر خزانہ آئی ایم ایف سے طے ہوئی شرائط پر کامل عملدرآمد کے لئے ایک اور تحریری معاہدہ پر دستخط کیے ۔ یہ دستخط ہو گئے تو انہیں بھی اسد عمر کی طرح وزارت سے فارغ کر دیا گیا۔ ان کی جگہ شوکت ترین صاحب کو بہلا پھسلا کر وزیر خزانہ بنایا گیا۔ شوکت ترین صاحب بنیادی طور پر ایک بینکار ہیں۔ اس حیثیت میں وہ کتنے کامیاب رہے اس کے بارے میں کوئی رائے دینے کو مجھ جیسے کم علم صحافی کی اوقات نہیں۔

ترین صاحب بہت رعونت سے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر اپنے والد مرحوم کا نام لیتے ہوئے اپنی خاندانی شرافت اور اصول پسندی پر زور دیتے رہے۔ رواں مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کمال اعتماد سے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آئی ایم ایف کو واضح الفاظ میں بتادیا گیا ہے کہ ملکی معیشت کی کماحقہ نمو کے لئے لازمی ہے کہ فی الوقت بجلی کی قیمتیں نہ بڑھائی جائیں۔ اس ضمن میں ان کی جانب سے ہوئے دعویٰ پر مجھے جیسے سادہ لوح پاکستانیوں نے اعتبار کیا۔ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران مگر بجلی کی فی یونٹ قیمت میں بتدریج پانچ روپے کا اضافہ ہو چکا ہے اور معاملہ وہاں ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

دریں اثناء ترین صاحب آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لئے واشنگٹن روانہ ہو گئے۔ وہاں سے انہیں فی الفور ایک ارب ڈالر کا سہارا درکار ہے۔ فی الوقت عالمی معیشت کا نگہبان ادارہ یہ سہارا دینے کو آمادہ نظر نہیں آ رہا۔ شوکت ترین صاحب سینٹ کے رکن بھی منتخب نہیں ہو پائے ہیں۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ اسد عمر اور حفیظ شیخ والے انجام سے دو چار ہونے والے ہیں۔

قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھاری بھر کم تعداد میں موجود اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں نے ایک دن کے لئے بھی حکومت کو مجبور نہیں کیا کہ شوکت ترین ایوان میں کھڑے ہو کر بتائیں کہ آئی ایم ایف ہم سے درحقیقت کیا چاہ رہا ہے۔ پی ڈی ایم نامی اتحاد میں شامل جماعتیں مگر ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی اجتماعات کا ارادہ باندھے ہوئے ہیں۔ اس ارادے کے پیچھے شہباز شریف جیسے افراد کی یہ خواہش بھی شامل ہے جو ”شاید مجھے نکال کے پچھتا رہے ہوں آپ“ والی خودپرستی کا اظہار ہے۔ یہ حقیقت یادددلاتے ہوئے کالم کو ختم کرتا ہوں کہ وزیر اعظم کے منصب پر جو بھی بیٹھا ہو ریاست پاکستان نے عالمی معیشت کے نگہبان ادارے سے ایک تحریری معاہدہ کر رکھا ہے۔ اس معاہدے کی تکمیل ستمبر 2022 میں ہونا ہے اور اس تاریخ تک ان تمام شرائط پر عملدرآمد لازمی ہے جو حفیظ شیخ نے طے کی تھیں۔
بشکریہ نوائے وقت۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments