صحافی ان کے نشانے پر ہیں، آواز نہ اٹھائی تو کوئی نہیں بچے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اتوار کے روز 35 سالہ پاکستانی صحافی شاہد زہری بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئے۔ ان کے قاتلوں نے ان کی گاڑی کے نیچے ایک بم لگا دیا تھا اور ریموٹ کنٹرول سے اسے تباہ کیا۔ کالعدم علیحدگی پسند گروپ بلوچ لبریشن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

زہری کے قتل سے صرف تین دن پہلے ناروے کی نوبیل کمیٹی نے آزاد صحافت کی حمایت کا ایوارڈ فلپائن کی صحافی ماریا ریسا اور روس کے دمتری مرادوف کو دیا۔

نوبیل کے اس اعلان کے چند ہی دنوں بعد پاکستانی صحافی کا قتل پوری دنیا میں میڈیا کی آزادی کے لئے بڑھتے ہوئے خطرات کو واضح کرتا ہے۔ ہم روس جیسی مطلق العنان حکومتوں کے پریس پر کریک ڈاؤن کے بارے میں سننے کے عادی ہیں۔ لیکن فلپائن کم از کم ظاہری طور پر ایک جمہوریت ہے، پاکستان ہی کی طرح۔

پچھلے سال انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے ایک وائٹ پیپر شائع کیا جس میں دنیا کے صحافیوں کے لئے پانچ خطرناک ترین ممالک کی نشاندہی کی گئی۔ اس فہرست میں پاکستان اور بھارت کے ساتھ عراق، میکسیکو اور فلپائن شامل تھے۔ یاد رہے یہ پانچوں ممالک جمہوریتیں ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان سب میں باقاعدہ انتخابات ہوتے ہیں، ان کے منتخب رہنما ہیں، اور یہ سب جمہوری ادارے رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن صحافیوں کے ساتھ ان کا سلوک ایک بالکل مختلف داستان بیان کر رہا ہے۔

یونیسکو کے مطابق 1993 سے اب تک دنیا بھر میں تقریباً 1500 صحافی مارے گئے ہیں۔ پچھلی ایک دہائی میں 50 سے زائد پاکستان میں اور قریب 40 بھارت میں قتل ہوئے ہیں۔ صحافیوں کے 10 میں سے 9 قتل کے مقدمات منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتے۔

میں پاکستانی صحافی حیات اللہ خان کے ساتھ اپنی آخری گفتگو نہیں بھول سکتا جو 2006 میں شمالی وزیرستان میں مارے گئے تھے۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ مقامی انتظامیہ ان کی رپورٹنگ سے خوش نہیں تھی۔ انہوں نے اسے خبردار کیا تھا کہ وہ اپنا کام چھوڑ دے یا علاقہ چھوڑ دے۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ اسے کیا کرنا چاہیے؟ میں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ وہیں رہے اور اپنا کام جاری رکھے۔ کچھ دن بعد اسے قتل کر دیا گیا۔

اقوام متحدہ اور اس سے وابستہ اداروں نے اس مسئلے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان قاتلوں کو محاسبے کا خوف ہی نہیں، اور یہ حقیقت نہ صرف میڈیا کی آزادی کے لئے خطرہ ہے بلکہ جمہوریت کی آئینی بنیادوں کو بھی کمزور کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے 2012 میں صحافیوں کی حفاظت کے لئے لائحہ عمل کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اس سے کچھ خاص برآمد نہیں ہوا۔

میں بذات خود میڈیا کے بہت سے شہیدوں کو ذاتی طور پر جانتا اور ان کے ساتھ کام کرتا رہا ہوں۔ میں پاکستانی صحافی حیات اللہ خان کے ساتھ اپنی آخری گفتگو نہیں بھول سکتا جو 2006 میں شمالی وزیرستان میں مارے گئے تھے۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ مقامی انتظامیہ ان کی رپورٹنگ سے خوش نہیں تھی۔ انہوں نے اسے خبردار کیا تھا کہ وہ اپنا کام چھوڑ دے یا علاقہ چھوڑ دے۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ اسے کیا کرنا چاہیے؟ میں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ وہیں رہے اور اپنا کام جاری رکھے۔ کچھ دن بعد اسے قتل کر دیا گیا۔

میں نے اور دیگر پاکستانی صحافیوں نے مطالبہ کیا کہ جوڈیشل کمیشن ان کے قتل کی تحقیقات کرے۔ ایک کمیشن قائم کیا گیا، اور اس کی بہادر بیوی نے اپنے شوہر کے قاتلوں کو بے نقاب کرنے کے لئے اپنی گواہی دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد وہ بھی بم دھماکے میں قتل کر دی گئی۔ آخر میں احساس جرم کے ساتھ مجھے حیات اللہ خان کے چھوٹے بھائی کو باقی خاندان کے ساتھ علاقہ چھوڑنے کا مشورہ دینا پڑا۔ اس خاندان کو کبھی انصاف نہیں ملا۔

2018 میں کشمیری صحافی شجاعت بخاری نے مجھے بتایا کہ اسے بھارت میں دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔ کچھ دن بعد اسے سری نگر میں قتل کر دیا گیا۔ میں نے 2017 میں ایک بھارتی صحافی گوری لنکیش کے قتل پر ایک تحریر لکھی تھی، جس سے میں ذاتی طور پر کبھی نہیں ملا، گو ہم سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں رہتے تھے۔ پاکستان میں بہت سے قارئین نے پوچھا کہ میں ایک بھارتی صحافی کی موت پر اتنا اداس کیوں ہوں؟ میں نے ان سے کہا کہ شاید میں یہ چاہتا تھا کہ اس کے دوست اور گھر والوں کو بھی علم ہو کہ میں گولیوں کے زخموں کا درد سمجھتا ہوں کیونکہ 2014 میں اپنی زندگی پر ہونے والی ایک قاتلانہ حملے کے نتیجے میں اب بھی اپنے جسم میں دو گولیاں لیے پھرتا ہوں۔

ہمیں ایک دوسرے کے لئے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ میڈیا کی آزادی کے لئے خطرات پوری دنیا میں پھیل رہے ہیں۔ سب سے پریشان کن پہلو انصاف سے انکار ہے۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان اور بھارت جیسی جمہوریتیں میڈیا کی آزادی کے لئے بہت خطرناک ہو چکی ہیں کیونکہ قانون کی حکمرانی ہر پہلو زندگی سے عنقا ہے۔ جنوبی ایشیا میں خاص طور پر، اختلافی آوازوں کو کئی سالوں سے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے منظم جنگ کا سامنا ہے۔

کچھ سال پہلے، ایک بہادر سری لنکن صحافی لسانتھا وکرمٹنگے نے اپنے آخری اداریے میں اپنے قتل کی پیش گوئی کی تھی۔ وہ اس وقت کے سری لنکا کے صدر مہندا راجاپکسا (جو اب وزیر اعظم ہیں) کے ناقد تھے۔ ایک دن وکرمٹنگے کو صدر کی جانب سے بلایا گیا اور دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے لکھنا نہ چھوڑا تو قتل کر دیا جائے گا۔ اس بہادر صحافی نے ماننے سے انکار کر دیا۔

وکرمٹنگے کے آخری اداریے میں چند سطریں تھیں جو ہم سب کے لئے آج بھی اہم ہیں۔ اس نے جرمن پادری اور نازی حراستی کیمپ کے شکار مارٹن نیمولر کے مشہور الفاظ کا حوالہ دیا: “پہلے وہ یہودیوں کے پیچھے آئے۔ میں خاموش رہا کیونکہ میں یہودی نہیں تھا۔ پھر وہ کمیونسٹس کے پیچھے آئے۔ میں خاموش رہا کیونکہ میں کمیونسٹ نہیں تھا۔ پھر وہ ٹریڈ یونینسٹوں کے پیچھے آئے۔ میں خاموش رہا کیونکہ میں ٹریڈ یونینسٹ نہیں تھا۔ پھر وہ میرے پیچھے آئے اور میرے لئے بولنے کو کوئی بچا ہی نہیں تھا”۔

وکرمٹنگے اپنے لئے نہیں لڑ رہا تھا۔ وہ تمام صحافیوں کے لئے لڑ رہا تھا۔ وہ جمہوری اقدار کے لئے لڑ رہا تھا۔ اس کا خاندان اب بھی انصاف مانگ رہا ہے۔ میں بہت سی دوسری مثالوں کا ذکر کر سکتا ہوں۔ جمال خاشقجی کا ذکر کیسے نہ کیا جائے؟ فرض کی راہ میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی اکثریت کو خاموش کر دیا گیا اور ان کے قاتلوں کی کوئی جوابدہی نہیں ہوئی۔

ہمیں وکرمٹنگے کے الفاظ کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ صحافی پہلے ہی ان کے نشانے پر ہیں۔ اگر ابھی کسی نے کچھ نہ کیا تو ہم میں سے باقیوں کے لئے آواز اٹھانے کو کوئی باقی نہیں بچے گا۔

بشکریہ: واشنگٹن پوسٹ / اردو ترجمہ: رضا ہاشمی


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments