پنڈی سازش کیس کے حقائق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ کا تحقیقی مطالعہ ہی ھمیں سازش اور حقائق جاننے کا وہ موقع فراہم کرتا ہے، جو آگے چل کر ہماری خامیوں اور کوتاہیوں کو درست کرنے کا سبب بنتا ہے، تاریخ کے مطالعے کے دوران خامیوں اور کوتاہیوں کے علت و اسباب کے ساتھ اس وقت کے معروضی حالات کو نظر میں رکھنا اتنا ہی ضروری اور ایماندارانہ فعل ہوتا ہے جتنی ایمانداری سے آپ اس کے بارے میں رائے دیتے ہیں، تاریخ حالات اور وقت کے جبر کی وہ نشانی ہوتی ہے جس پر مسلسل غور و فکر ہی آپ کو منجدھار یا مشکل سے نکالنے کا پر سکون عمل ہوتا ہے، جو آگے جا کر آپ کے خیالات کو شعور کی آفرینی عطا کرکے آپ کو غور و فکر کی جانب لے جاتا ہے۔

ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال آج بھی ستر برس پہلے کے کرنل / جنرل ایوب کے عوام دشمن اور وطن دشمن سازشی طریقے پر چلائی جا رہی ہے جس میں وہی سیاسی جماعتیں اپنی اپنی اشرافیائی بھاشا بول رہی ہیں جو انہیں ان کے پیدائش کے عمل میں اسٹبلشمنٹ کی چاپلوس اور اقتداری ہوس زدہ گھٹی ذریعے پلا دی گئی تھی۔۔۔ آپ اندازہ کیجئے کہ عوام خط افلاس سے نیچے کی زندگی گزار رہی ہے اور ہمارے حکمران اور اسٹبلشمنٹ زدہ سیاستدان دنیا میں مہنگائی کا عفریت دکھا کر یا وزرا یہ کہہ کر خوشحالی کا ڈھول پیٹ رہے ہیں کہ ملک میں گاڑیوں کی خرید و فروخت بہت زیادہ ہورہی ہے تو اس کا مطلب کہ عوام خوشحال ہی تو ہے؟

اسٹبلشمنٹ زدہ حکمرانوں کی بے حسی اور ڈھٹائی کی ایسی اعلی مثالیں قائم کی جا رہی ہیں کہ جن سے سلیکٹیڈ اور سلیکٹرز کے عطا کردہ غلامانہ مزاج کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے، ھمارے ملک کے عوام ایک ایسے ملک کے بےوطن شہری بنا دیئے گئے ہیں جہاں طاقت اور بندوق کو خدا مان کر اسٹبلشمنٹ کے مطیع ہونے کا بزدلانہ انجکشن لگوانےکی صدا ہر بشر ببانگ دہل لگاتا پھر رہا ہے جبکہ شعوری تبدیلی دینے کا درس گھروں سے غائب کر کے نسل کو شاہ دولہ کا چوہا بنا کر پوری نسل کو سلیکٹیڈ بننے کی تلقین کی جا رہی ہے۔

مذکورہ عوام دشمن صورتحال جاننی ہے تو موجودہ سلیکٹیڈ کے آئین شکن آرڈیننسز اور عوام سے ٹیکس وصولی کا وہ جبریہ نظام دیکھ لیں جو ہر ماہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور بجلی و گیس کے بلوں میں مسلسل بڑھتے ہوئے وہ ٹیکس ہیں جو آئی ایم ایف کی خوشنودی خاطر اشرفیائی سرمایہ داروں کو این آر او دے کر عوام پر بے رحمانہ طریقے سے ٹھونسے جا رہے ہیں، جس پر اپوزیشن صرف مگرمچھ کے آنسو بہا کر اپنا فرض پورا کر رہی ہے، جبکہ عوام کو اس مہنگائی بیروزگاری اور اسٹبلشمنٹ کے قبضے شدہ نظام سے چھٹکارے کا کوئی عملی حل نہیں دے پا رہی، اس کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک وجہ اسٹبلشمنٹ کے تھوپے جانے والے جمہوریت دشمن "ہائبرڈ نظام” کے آمرانہ شکنجے کو مضبوط کرنے اور سلیکٹرز کے گلے سڑے اقتداری نظام میں اپنا سیاسی حصہ لینے کی عوام دشمن امنگ پوشیدہ ہے۔

پنڈورا پیپرز کے ذریعے سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ کے اقتداری طبقے، اسٹبلشمنٹ کی لوٹ مار اور سرمایہ داروں کے پالتو افراد کی ہوشربا کرپشن کے انکشافات کے منظر عام پر آنے کے بعد موجودہ حکمرانوں کی جانب سے بدعنوانی سے صرف نظر کرنا اور عوام کو "سلیکٹرز” کی ایک غیر ضروری ٹرانسفر پوسٹنگ میں الجھا دینا دراصل عوام کے خلاف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے اقدامات کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

عوام کی جمہوری آزادی اور تحریر و تقریر کی آزاد کو چھیننے کی سازشیں ملک کے وجود میں آنے کے بعد ہی شروع ہو چکی تھی، جس کی ابتدا جنرل اکبر نے 1948 میں طارق بن زیاد کے جعلی نام سے اپنی فوجی ہائی کمانڈ کو اطلاع دیئے بغیر کشمیر میں شروع کر دیں تھی، تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ اس مہم جوئی کی اطلاع گورنر جنرل قائد اعظم تک کو نہیں دی گئی تھی، اس سازشی مہم جوئی کے خلاف گورنر جنرل اور فوج کے سپہ سالار جنرل گریسی نے جنرل اکبر کے خلاف ضابطے کی کارروائی کے احکامات تک جاری کر دیئے تھے، مگر کرنل ایوب اور جنرل اکبر کی ملک دشمن سازشوں پر کوئی کارروائی نہ کی گئی اورر آخر کار یہ دونوں مذکورہ افراد اس ملک کی جمہوری اور سیاسی قدروں کو مٹی میں ملانے کا سبب بنے، جس کا تسلسل آج بھی اسی شدو مد کے ساتھ جاری ہے۔

پچھلے دنوں راولپنڈی سازش کیس کے ایک کردار ظفر اللہ پوشنی انتقال کر گئے، جس پر ھمارے اکثر ترقی پسند سوچ کے دوستوں نے پوشنی صاحب کا تعلق کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے جوڑ دیا جبکہ اکثر تو کیا بلکہ ایک معروف انگریزی روزنامے کے رپورٹر نے اپنی رپورٹ میں پوشنی صاحب کو کمیونسٹ پارٹی کا ممبر تک لکھ دیا، جس کی اندھی تقلید کرتے ہوئے اکثر افراد نے ظفر پوشنی کو کمیونسٹ پارٹی کا ممبر لکھا، جو سراسر حقائق کے بر عکس بات تھی۔

معروف راولپنڈی سازش کیس دراصل پاکستان میں عوام سے جڑنے والے کمیونسٹوں کی وہ عوامی قربت و مقبولیت تھی جس کے خلاف اس وقت کی عسکری اسٹبلشمنٹ نے جنرل اکبر کو ٹاسک دیا تاکہ کمیونسٹوں کے عوام میں بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کو روکا جا سکے، جس میں فوج میں رہنے کے سبب فیض احمد فیض کی جنرل اکبر سے دوستی کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی اور چند فوجی افسروں جن میں کیپٹن ظفر اللہ پوشنی شامل تھے کو اس سازش کا حصہ بنایا۔

پارٹی کے اہم ذمہ دار کی حیثیت سے کامریڈ امام علی نازش کا وہ بیان یہاں رقم کیا جا رہا ہے جو میں نہایت ذمہ داری سے دوستوں کی تاریخی حقیقت کو درست کرنے کی غرض سے لکھنا اپنا تاریخی فرض سمجھتا ہوں، یہ ان دنوں کی بات ہے جب کامریڈ امام علی نازش اوجھا سینوٹیریم میں بغرض علاج داخل تھے، اور ھم سب دوستوں کی مختلف اوقات میں ان کی تیمارداری کے واسطے ڈیوٹیاں لگائی گئی تھیں، ڈیوٹی کے دوران رات کے درمیانے سمے کامریڈ امام علی نازش سے پنڈی سازش کیس پر بابت جب بات شروع ہوئی تو وہ گویا ہوئے کہ”پنڈی سازش کیس عوام میں کمیونسٹ نظریے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے خلاف ریاستی طاقتور عناصر کی سوچی سمجھی سازش تھی، جس کے لئے جنرل اکبر ظفر پوشنی اور دیگر فوجی افسران کو استعمال کیا گیا، واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کامریڈ امام علی نازش نے انکشاف کیا کہ "فیض احمد فیض سے دوستی بنا بنے بھائی سجاد ظہیر جنرل اکبر کے بلانے پر ان کی مطلوبہ جگہ جب پہنچے تو گپ شپ کے بعد جنرل اکبر نے ملک کی سیاسی صورتحال پر خیال آرائی کرتے ہوئے سیاسی محاذ آرائی کا تصور پیش کرتے ہوئے اقتدار پر مہم جوئی کرنے کا فارمولا پیش کیا، جس پر اس فارمولے کو فوری طور سے اس وقت کے پارٹی سیکریٹری سجاد ظہیر اور فیض احمد فیض نے رد کر دیا اور دونوں اٹھ کر یہ کہتے ہوئے اس گھر سے نکل آئے کہ پارٹی قطعی طور سے کسی مہم جوئی کا نہ حصہ بنے گی اور نہ ہی پارٹی کو ایسی مہم جوئی کی ضرورت ہے، بلکہ پارٹی عوام کے سیاسی شعور پر یقین رکھتی ہے اور جو بھی تبدیلی آئے گی وہ عوام کی جمہوری رائے سے ہی آئے گی جبکہ پارٹی کسی بھی عوام دشمن سازس کا حصہ نہیں بنے گی”۔

اس بات کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے کی ظفر پوشنی جنرل اکبر و دیگر کو اس اسٹبلشمنٹ نواز حکمرانوں نے وہ تمام مراعات دیں جو کسی بھی سویلین سیاستدان اور سیاسی پارٹی کو نہ دی گئیں، بلکہ جنرل ایوب نے جنرل اکبر کا نہ کورٹ مارشل ہونے دیا اور نہ ظفر پوشنی کے ایڈورٹائیز کے کاروبار میں کوئی رکاوٹ پیدا کی۔ دراصل پنڈی سازش کیس عوام کی مقبول نظریاتی و سیاسی کمیونسٹ پارٹی کے نظریات کو عوام میں نہ پھیلنے دینے کی وہ سازش تھی جو عوام دشمن اسٹبلشمنٹ کے چہیتے مذہبیوں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے اور ملک کو انتہا پسندی و غیر جمہوری نظام کی جانب دھکیلنے کی سازش تھی تاکہ عوام اور نسلوں کو طاقت کا غلام بنایا جائے، عوام کو سیاسی غلام بنانے کی کوششوں میں ہنوز اسٹبلشمنٹ زدہ سیاسی قوتیں جتی ہوئی ہیں اور عوام بھوک و افلاس و بیروزگاری سے تلملا رہی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وارث رضا

وارث رضا سینیئر صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ گزشتہ چار عشروں سے قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں لکھ رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے کہنہ مشق استاد سمجھے جاتے ہیں۔۔۔

waris-raza has 6 posts and counting.See all posts by waris-raza

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments