سینٹ ایز ریسیوڈ
کسی کے مطابق زندگی کے کوئی معنی نہ ہونا ہی زندگی کے مقصد اور معنی سے روشناسی کا ذریعہ ہیں بے معنی زندگی کا احساس ہوجانا ہی انسان کو مظفر کرتا ہے۔ وہ سوچتا رہتا کہ اس کی زندگی کا کوئی حاصل نہیں کوئی حقیقت نہیں۔ وہ اپنے وجود کو اس حوالے سے ثمر امید پاتا کیونکہ وہ جسم میں موجود سانسوں کے متحرک رہنے میں کوئی منطق کوئی دلیل ڈھونڈھنے سے قاصر تھا۔ وہ فلسفے میں محو رہتا کہ شاید یہ تبدیلی کا باعث بنے۔ ہر قدیم گفتگو میں محو رہ کر وہ قدیم نظریات سے اپنے ہونے کا مقصد کھوجتا رہتا۔ وہ زعاف کے انتظار میں اپنے آپ کو کھوتا چلا جا رہا تھا۔ وہ یقین کے ساتھ زندگی کے معنی اور سچ کو سمجھنے میں مگن تھا۔ اس کو خیال آتا کہ شاید اس کی زندگی فقط زندگی کے مقصد کو ڈھونڈتے رہنے کا نام ہے۔ اس کے سوا ہر دیا گیا معنی فقط اضطراب کو کم کرنے کا ہمیشہ سے طرق ہے۔
اب اس کا مضطرب الحال رہنا اس کے اختیار میں بھی نہ تھا۔ کسی کا زندہ رہنا یا مر جانا اس کو مختلف احساس فراہم کرتا۔ یہ کیفیات کا مستقل کروٹیں بدلنا اس کو خود سے دور کرتا چلا جا رہا تھا۔ وہ خود کو زمین پر بے وجہ حرکات و سکنات کی مثال سمجھتا۔ زندگی کو خود ساختہ معنی عطا کر دینا اس کے لیے قابل تشفی نہ تھا۔
انسان اپنے اندر پوری ایک دنیا رکھنے کے باعث باہر کی دنیا کو اپنے لیے غیر معمولی پاتا ہے۔ وہ اپنے باطن میں موجود غیر مادی وجود کو مادے پر حاوی کرنا چاہ رہا تھا۔ کیفیات کا اس پر شدت سے حاوی ہونا اس کے وجود کو جھنجھوڑتا رہتا۔ ہر کوئی اپنی جان کو محسوس کیے بے جان تھا۔ اس کے مطابق زندگی لوگوں سے کوفت کا شکار ہے سب فقط جاندار ہیں اور مردار ہیں۔ اپنے آپ پر جھوٹ اور معاشرتی لیپ کے بعد اب ان کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہ خود کو ہر نظریاتی قید سے آ زاد کرچکا تھا مگر اس طرح سے بے لگام گھومنا اس کے لیے شدید خطرے کا باعث تھا۔ آزار کی قبولیت کے بعد اس نے زندگی کو اپنے میزان پر رکھا۔ اس کا میزان اس کا افتخار اور کلفت کو بڑھانے کا سبب تھا۔
وہ اپنے میزان پر ہر بات کو تولتا مگر وہ اتنی وسیع دنیا کو اپنے میزان پر لاتے ہی بے وزن پاتا۔ اس نے انسانی دلائل سے بھاگ کر اپنے میزان کو صرف نظریات تولنے کے لائق رکھا تھا۔ اب وہ زندگی کو بے معنی اور بے مقصد کرنے کے بعد خود کو مکمل طور پر بے کار کر دینا چاہتا تھا۔ یہ سب کرنے کی واحد وجہ دوسروں کی وہ معنی خیز دنیا تھی جس کو وہ قبول ہی نہیں کر پایا تھا۔ وہ خود کے ہونے کو شکست دے کر زندگی کے مختلف معنی اخذ کرنا چاہتا تھا۔ لا معنویت سے بڑا لفظ اس کے نزدیک کوئی نہ تھا جو سب سے زیادہ معنی رکھتا تھا۔ وہ لوگوں کو بے معنی ہونے کا مستقل درس دینے لگا اور ایک جماعت کی شکل اپنانے کی خواہش میں خود کو صرف کر رہا تھا۔ تسکین اس کو کسی مرحلے میں حاصل نہیں ہو پا رہی تھی۔
اس نے معاشرے کا انداز دیکھ کر ہی اضطراب میں رہنا موزوں سمجھا۔ وہ زندگی کے معنی حاصل کر کے اختتام پذیرا نہیں ہونا چاہتا تھا۔ بے ابتداء رہنا اس انجام سے بہتر تھا جس کی افتاد معاشرتی عقائد سے شجر پیوستہ ہو۔ وہ مرے ہوئے جانداروں کی بیعت کے بجائے بے معنی رہنے کو کافی سمجھتا تھا۔ وہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ دوسروں کی تفہیم پر کاربند زندگی سے متلاشی حالت لیے مر جانا ہی صحیح ہو گا۔ اب ان نظریات کے بطن سے حاصل کیا میزان ہر یقین اور عقیدے کا وزن بے وزن کر دیتا سوائے اس کی فکر جس کا وزن میزان بتانے میں ناکام تھا۔
وہ روایات کو مسترد کر کے زمین کو اور زمین پر موجود ہر مادے کو لا معنویت کا رنگ کر دینا چاہتا تھا۔ ایک احساس اس کے باطن میں اس کے میزان کو بھی مسترد کر رہا تھا۔ وہ احساس یہ تھا کہ کہیں وہ معاشرتی ناچاقیوں کو دیکھ کر زندگی کے اصلی معنوں سے فرار تو نہیں۔ وہ احساس ایک وجود کی طرح تھا جو اس کے میزان کو بھی بے معنی بتاتا اور اس کی لا معنویت کو بھی لا معنی۔
ایک بات اس کو احساس دلاتی رہتی کہ اس کا میزان بھی تو اپنی اختراع ہے اور شاید وہ مستعمل ہی نہیں۔ اس خیال کی کثرت سے اس کا میزان بھی یقین کے بجائے شک میں تبدیل ہو گیا۔ اب اس کا میزان پر افتخار بھی کھوتا چلا گیا اور تفہیم کا یہ ذریعہ بھی بے اہم ہو گیا۔ اس وقت اب لا معنی میزان کے ساتھ وہ اپنے وجود کو بھی مشتبہ پاتا۔
اب اس کا اضطراب اور شدید تھا کیونکہ وہ اپنے ہونے کو بھی اپنا اور اپنی زندگی کو بھی ذاتی نہیں سمجھ پا رہا تھا۔ وہ تو ایک آلہ ہے یا کوئی بے جان لوگوں کی مشیت پر متحرک مادہ جو جذبات اور احساسات کے ساتھ کوشاں ہے۔ ایسی زندگی سے پیار نہ ممکن تھا جہاں اس کا میزان بھی بے معنی اور اس کا ہونا بھی بے کار مگر وہ مستقل کاربند۔ مگر کب تک وہ احساسات کو اجرت پر خریدتا رہے گا اور اس جسم کو ایک دن چھوڑنے کے بعد پھر کیا۔
اس کا میزان مدرس تھا کہ وہ پھر اور بعد کو اپنی زندگی سے بے دخل کر کے صرف بدیں حال کو ترجیح دے۔ میزان کی ترجیحات خواہشات اور حصول کے بجائے صرف گزر جانے اور بہل جانے کے حق میں آواز گو تھیں۔ وہ اپنے جذبات کو تیزی سے محسوس کرتا چلا جا رہا تھا جو بھی شاید اس کی ذاتیات کا حصہ نہ تھے۔ وہ اپنے جسم میں موجود ہونے کے باوجود خود کو اجنبی پاتا۔ جسم میں موجود وہ اور وہ بھی کس حد تک۔
اس کا میزان اب وزن کا اعتراف کرنے لگا اور یہ وزن صرف خیال کا تھا۔ اب اس کے جذبات اور احساسات میزان کے مد مقابل تھے جو اس کے سوالات کو طرح طرح سے وزن کے لیے پیش کرتے۔
اسکے اندر پھر مختلف سوچ نت نئے انداز میں داخل ہوئی۔ اس کا میزان بھی اب اس کے لیے بے معنی ہوتا چلا گیا۔ احساس اور جذبات اس کو صرف اپنے اندر تحریک کی صورت میں ملتے۔ دنیاوی عقائد اور معاشرتی اصولوں کو وہ صرف لوگوں کا یقین سمجھنے لگا۔ امبر اس کے لیے امبر اور زمین اس کے لیے زمین نہیں رہی۔ لوگوں کا امتزاج اس کو اقبال دعویٰ پر نہ لا پایا۔ وہ صداقت کا اقبال چاہتا۔ وہ نتیجوں کو ڈھونڈھنے کے لیے اپنے ذہن کو امتناع سے گزارتا ہے۔
وہ امتنان کا منتظر رہنے لگا جو اس کو اس کے ہونے کا مقصد بتا سکے۔ یہ کام مخلوق کا تھا ہی نہیں۔ شدید ردعمل کے بعد وہ سمجھنے لگا کہ اس کا پیدا ہونا کسی وجہ سے تو ہو گا۔ میزان، عقائد، نظریات، رویے سے وہ تعلق ختم کر کے امروز اپنی ابتداء پانے کی جدوجہد میں لگ گیا۔ خود کو بے معنی سمجھنا اور قید کا اقرار اب اس کے سوچنے کے انداز میں افتراق پیدا کر ہی دیتا ہے۔ اقامت گزیں ہونے کا اس رخ سے مشاہدہ اس کو سکون میسر کرنے لگا۔
وہ فیصلہ کرتا ہے وہ اپنی راہ خود نہیں متعین کر سکتا اس لیے اس کو اپنے اوپر سے بھروسے کو بالکل ختم کر دینا ہے۔ وہ سمجھنے لگا زندگی گزارنے کے اصول انسان مباحثے سے حاصل نہیں ہوسکتے۔ خود کو ترک کرنے کے بعد مکمل ضوابط اور تسکین کا عمل پوشیدگی کے ساتھ بہت واضح ہے۔ وہ ضوابط انسان کے اختیار میں ہی نہیں بلکہ انسان وہ جاندار ہے جو خود کے تعارف سے ناآشنا ہے۔ خود ساختہ تعریفیں متخیلہ تو جنم دے سکتی ہیں مگر اطمینان نہیں وہ اپنی نظر سے لا معنی مگر حقیقت میں مقصد کے ساتھ اس زمین پر اتارا گیا ہے۔
وہ جان لیا تھا کہ زندگی میں خوشی کی تلاش ہی غم کی دنیا میں پہلا قدم ہوتا ہے۔ خوشی، غم، طمانیت، اداسی حقیقت ہیں مگر یہ سب کہیں صدیوں سے رائج انسانی پیداوار تو نہیں۔ روش اور تحریک بھی کہیں مفروضہ تو نہیں جس کو جسمانی کالبد کو استعمال میں لاکر سچ بتایا جا رہا ہے۔ یعنی کوئی کچھ بھی نہیں، نظر آنے والا ہر معاملہ صرف انسانی اختراع تو نہیں۔ اس نے ان زاویوں میں گہرائی کے بجائے اب اپنی پہچان کو ضروری سمجھا۔ وہ اپنے تعارف سے بالکل خالی تھا۔ انسانی سوچ اس کی تعریف نہیں بتا سکے گی۔ وہ ان پر ایمان لانے سے انکار کر دیتا ہے جو خود کی شناخت سے محروم ہیں۔ ایمان لانے کے مرحلے کی بنیاد تو تشکیک کے ساتھ ہوگی۔ ہر نظریے کو قبول کرنا اس کو ودیعت سے حاصل ہو گا۔ ودیعت بھی وہ جو انسانوں سے ورثے میں نہ ملی ہو۔
وجود اور زندگی کے قوانین زمینی نہیں بلکہ سچ زمین پر زمین سے الگ تھلگ اپنے آپ کو ثابت کر رہا ہے۔ اس سچ کو دیکھنے کے لیے نئی عینک نئے آئنے درکار ہیں جن کا استقبال اس زمین پر مثبت تبدیلی لائے گا۔ یہ بالکل صحیح وقت تھا کہ اس نے اپنے احساسات، جذبات اور اپنی فکر کے ساتھ جنم کو مدنظر رکھتے ہوئے فل الحال خودکشی کی۔ اب اس موت کے بعد عیاں مناظر اس کو رنگ بھرے محسوس ہوئے۔ وہ سب کو روشنی کے روپ میں انتہائی تیز رفتار نظر آنے لگا۔
ایک آئینہ اس نے ہاتھ میں تھام کر سب کو ان کا خوب صورت چہرہ دکھانا شروع کیا اور وہ ایک سورج کے روپ میں روز صادق رہنے لگا۔ ایک حقیقت اس پر صادق رہنے پر واضح ہوئی کہ لوگ صرف فسوں پر مبنی عقائد پر منجمد ہیں۔ ہر کوئی اپنا نظریہ اور علم آگے نسل در نسل پیش کر رہا ہے جبکہ ان کو اپنے عقائد کا خود علم نہیں۔ یہ ممکن ہے کہ وجود اب صرف خود پر جھوٹا ایمان لے آئے ہیں۔ سب کا مذہب ان کو معاشرے سے ملا علم اور ورثے میں ملا نابینا سچ ہے۔
دراصل سب کا مذہب کھوکھلی دیواروں کی مانند تھا جس کو انھوں نے اپنے جبری فہم کے تسلط سے مضبوط عمارت بنا لیا تھا۔ اب معاشرہ اور اس سے نسبت رکھتے لوگ اپنے حاصل کردہ اخبار کو سچ سمجھتے ہیں۔ ان اخبار کی تصدیق کرنا ان کے نزدیک سنگین جرم ہے اور وہ انہی خبروں کو بلا جھجک موجودہ اور آنے والی نسلوں میں سینٹ ایز ریسیوڈ کرنے میں بہت یقین کے ساتھ محو ہیں۔

