آپ کے سیاسی کردار میں مطلوبہ سہولت میسر نہیں ہے
چار سال قبل جب پانامہ کا ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ پانامہ سکینڈل میں ساڑھے چار سو نامی گرامی پاکستانیوں کے نام شامل تھے۔ مگر سزا صرف ایک آدمی نواز شریف کو ملی، جن کا نام بھی اس فہرست میں شامل نہیں تھا۔ پانامہ کے بعد جس طرح ہماری حکومت، عدالتیں، ادارے، نیب اور ایف آئی اے حرکت میں آئے۔ جس طرح وٹس اپ پر جے آئی ٹی بنا کر اس کے ”ہیرے“ تلاشے اور خود ساختہ اصول تراشے گئے۔ جس طرح لوئر کورٹ کو بے پناہ اختیارات دے کر اس کے فیصلے کو ناقابل چیلنج قرار دیا گیا۔ جس طرح نواز شریف اور ان کی فیملی کے خلاف کیسز کی مدت متعین کر کے اوپر ”نگران“ بٹھائے گئے اور جس طرح سماعتوں کے دوران میں کچھ ”پردہ نشینوں“ کی نقاب کشائی ہوئی، ان سب چیزوں نے نواز شریف اور ان کی حکومت کے خلاف بنائے گئے کیسز کو شدید متنازعہ بنا دیا۔
بعد ازاں جب حسب توقع نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے ”جرم“ میں وزارت عظمٰی کے منصب سے معزول کر کے تا حیات نا اہل کر دیا گیا تو نواز شریف زخمی شیر کی طرح اپنے مخالفین و حاسدین پر حملہ آور ہو گیا۔ چند روز کی مشاورت کے بعد معزول و نا اہل نواز شریف نے براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد سے لاہور جانے کا فیصلہ کیا۔ سب جانتے ہیں کہ اس وقت جن ”خیر خواہوں“ نے جی ٹی روڈ کے بجائے موٹر وے کے راستے لاہور روانگی کا مشورہ دیا تھا وہ آج اپنی سیاسی منزل کھوٹی کر کے دیوار سے لگے بیٹھے ہیں۔
نواز شریف کو متنازع ترین عدالتی فیصلے کے ذریعے نا اہل کروانے والے پالشیوں اور بالشیوں کو پختہ یقین تھا کہ انہوں نے نواز شریف کی سیاست ختم کر دی ہے۔ اس گمان میں بالشیے ہی نہیں بلکہ کچھ ”مفاہمتی“ بونے بھی مبتلا تھے۔ مگر شاید وہ تاریخی سیاسی حرکیات اور وقت و حالات کی نبض سے ناآشنا تھے کیونکہ سیاستدان کی سیاست کو کبھی متنازع فیصلوں کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا ممکن ہوتا تو بھٹو متنازع عدالتی فیصلے کے نتیجے میں پھانسی پانے کے تقریباً نصف صدی بعد بھی قبر کے اندر سے سیاست نہ کر رہا ہوتا۔ جن لوگوں کو سیاسی عصبیت حاصل ہو جائے پھر وہ نیلسن مینڈیلا ہو، آیت اللہ خمینی ہو، گاندھی خاندان ہو، بھٹو ہو یا نواز شریف، کسی کی سیاست عدالتی اور قانونی فیصلوں کے ذریعے ختم نہیں کی جا سکتی۔
نواز شریف متنازع عدالتی فیصلوں کے بعد طوفان کی طرح اسلام آباد سے اٹھا اور آندھی کی طرح شہروں، قصبوں اور قریوں سے گزرتا ہوا چار دن کے بعد جب لاہور پہنچا تو وہ پاکستانی سیاست کا بے تاج بادشاہ بن چکا تھا۔ نواز شریف نے اپنی بے مثال کارکردگی کے علاوہ ووٹ کی عزت اور آئین کی بالا دستی اور قانون کی پاسداری کا جو نعرۂ مستانہ لگایا اسے عوام نے شاندار پذیرائی بخشی۔ بالخصوص ووٹ کی عزت کی بحالی کا انقلابی نعرہ اس قدر مقبول ہوا کہ بچوں اور بڑوں نے اسے حرز جاں بنا لیا۔
یہ نعرہ ووٹ کے مقابلے میں نوٹ، جھوٹ، لوٹ اور بوٹ کے ذریعے اپنی سیاست چمکانے والوں کی چھیڑ بن گیا۔ اس نعرے نے سال ہا سال سے ملک پر قابض آمریت کے مضبوط قلعے میں نہ صرف ارتعاش پیدا کیا بلکہ اس کی آہنی فصیلوں میں بھی شگاف پیدا کر دیے۔ نواز شریف کے ولولہ انگیز اور جنوں خیز خطابات نے جمہوریت پسندوں کے دلوں کو نئی امنگوں، جذبوں کو تازہ ترنگوں، حوصلوں کو برقی آہنگ اور ولولوں کو تابندہ رنگوں سے مزین کر دیا۔
بدترین حریفوں نے بھی نواز شریف کی اس جرات رندانہ اور ہمت مستانہ پر انہیں سالار جمہوریت اور اسیر حریت جیسے القابات سے نوازا۔ نواز شریف کی شعلہ بیانی کی تان اس سوال پر ٹوٹتی تھی کہ انہیں بتایا جائے کہ انہیں کس جرم کی پاداش میں ایوان اقتدار سے بے دخل کیا گیا؟ ”مجھے کیوں نکالا“ ؟ ان کا یہ سوال اس قدر مشہور ہوا کہ اس کی بازگشت عالمی سیاست کے بڑے بڑے مراکز میں بھی سنی گئی۔ متنازع عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں معزول ہونے کے بعد نواز شریف نہ مقتدرہ کے سامنے جھکے، سہمے، ڈرے نہ ہچکچائے۔
انہوں نے جس جواں مردی، جگر کاوی اور جفاکشی سے اپنا مقدمہ سیاسی و عوامی عدالت میں لڑا اس نے انتقامی سیاست کا نشانہ بننے والے نون لیگ کے قائدین و کارکنان کے دلوں میں ولولۂ تازہ پیدا کر دیا۔ نواز شریف کی اس بے مثال استقامت، ثابت قدمی اور پامردی کا یہ نتیجہ نکلا کہ ریاستی و حکومتی مشینری کے بر ملا استعمال کے باوجود ہائبرڈ حکومت درجن بھر ضمنی سیاسی معرکوں میں صرف ایک مقابلہ ہی جیت سکی اور کنٹونمنٹ کے الیکشن میں جو درگت حکومتی پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی بنی، وہ آنے والے عام الیکشن میں حکومت کے لیے نوشتۂ دیوار بن کر اسے ترساں و لرزاں کر رہی ہے۔
نواز شریف کی دلدوز مگر جگر افروز و دماغ سوز پرانی کہانی آج ہمیں یوں یاد آ گئی کہ آج کل اقتدار کے ایوانوں میں بٹھایا جانے والا ایک انوکھا لاڈلا اور راج دلارا پندرہ صدیاں قبل معرض وجود میں آنے والی ریاست مدینہ کے سیاسی انتظام و انصرام کے نام پر نہایت بونگے اور عجیب و غریب بیانات داغ کر عوامی توجہ حاصل کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ اللہ اللہ! جب ایک پیج والی حکومت کا صفحہ الٹتا ہے تو نوشتۂ دیوار دیکھ کر بڑ بولے کس طرح دولے شاہ کے چوہے بن جاتے ہیں۔
جب آقاوٴں کی سیر چشمی طوطا چشمی میں بدلتی ہے تو لے پالکوں اور بالکوں کے الفاظ کے ساتھ لہجہ بھی کیسے بدل جاتا ہے۔ وقت انگڑائی لیتا ہے تو کیسی کیسی رسوائی کی رونمائی ہوتی ہے۔ پہلے فرمایا کہ ریاست مدینہ میں امیر المومنین سپہ سالار کو عین حالت جنگ میں تبدیل کر دیتا تھا۔ جواب آیا کہ اگر امیر المومنین منتخب اور جمہوری ہو سلیکٹ نہ ہو۔ پھر فرمایا کہ ریاست مدینہ میں جو جنرل پیشہ ورانہ مہارت سے لیس ہوتا تھا، اوپر آ جاتا تھا۔
جواب آیا کہ اگر مذکورہ جنرل کی وردی سیاسی آلودگی سے پاک ہو تو۔ آئی ایس آئی کے سربراہ کا نوٹیفیکشن ایک سلگتا تنازع بن چکا ہے۔ لانے والے اپنے لاڈلے سے بیزار اور یہ ان سے تنگ ہے۔ آج کل لاڈلے کے بیانات صاف بتا رہے ہیں کہ وہ سیاسی شہید بننا چاہتا ہے۔ ہم نیک و بد حضور کو سمجھاتے ہوئے عرض کریں گے کہ آپ کے دامن میں بجز داغ ندامت اور نشان خجالت کچھ بھی نہیں۔ آپ اگر امپائر کی انگلی پکڑ کر ایوان اقتدار میں نہ آئے ہوتے، بار بار ایک پیج کی دھمکی نہ دی ہوتی، دھرنوں کا ایندھن نہ بنے ہوتے، متنازع صادق و امین نہ بنے ہوتے، معیشت کا بیڑہ غرق نہ کیا ہوتا، سیاسی کلچر کو سنگ دشنام اور تیر الزام سے آلودہ نہ کیا ہوتا، سیاسی مخالفین کو اندھے سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنایا ہوتا، سقوط کشمیر میں مودی کے دست راست نہ بنے ہوتے، پاکستان کو تنہائی کی رسوائی سے دوچار نہ کیا ہوتا، مافیاز کی سر پرستی نہ کی ہوتی، وعدوں اور دعووں کا ناس نہ کیا ہوتا، اداروں کی مٹی پلید نہ کی ہوتی، چھوٹے دماغوں، لمبی زبانوں اور کم ظرف والے ترجمانوں کے پٹے نہ کھولے ہوتے اور گردن میں سریا فٹ نہ کیا ہوتا تو شاید آپ سیاسی شہید بننے کے بارے میں سوچ سکتے تھے مگر افسوس کہ آپ اب نواز شریف کی طرح ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا کر جی ٹی روڈ پر آنے جوگے نہیں رہے۔ بہتر ہے کہ یونہی امپائر کی انگلی پکڑے، منہ میں لولی پاپ ڈالے، ریاست مدینہ کو بدنام کرتے اور سر نہیوڑائے باقی کے دو سال بھی پورے کر لیں کیونکہ آپ کے سیاسی کردار اور بائیس سالا جدوجہد کی تاریخ میں سیاسی شہید بننے کی مطلوبہ سہولت موجود نہیں ہے۔


