مجسٹریسی نظام اور عام آدمی کی تذلیل و تحقیر


بہاول پور میں ایک صاحب جنہوں نے میٹرک کیا ہوا تھا۔ بلدیاتی ادارے میں چونگی محرر قسم کی درجہ چہارم کی پوسٹ پہ بھرتی ہوئے۔ بلدیاتی ادارے کا عملہ بتاتا ہے کہ وہ بوسیدہ اور پھٹے پرانے کپڑوں میں ایک ٹوٹی پھوٹی بائی سائیکل پہ آتے تھے۔ تھے بلا کے ”ذہین“ ۔ انھوں نے ایک ”اصول بنا لیا کہ بلدیاتی ادارے میں“ اوپر کی آمدنی ”سے قیمتی تحائف خرید کر انتظامیہ کے بڑے افسران اور چند مخصوص سیاستدانوں کے گھر دے آتے۔ پھر کسی بڑے افسر کی مہربانی سے وہ ترقی کر کے کلرک بن گئے۔

پھر انھوں نے مڑ کے پیچھے نہیں دیکھا۔ ترقی کرتے کرتے افسر کی پوسٹ پہ پہنچ گئے۔ مجسٹریسی اختیارات مل گئے۔ نیلی بتی والے ہوٹر والی سرکاری گاڑی استعمال کرتے۔ بہاول پور میں اربوں روپے کی سرکاری زمینوں اور جائیدادوں پہ مافیاز نے جو قبضے کیے اور ان کے مالکانہ حقوق تک حاصل کر لیے، اس کے لیے انھیں ان صاحب کا بھی تعاون حاصل تھا۔ موصوف نے خود بھی کروڑوں کی جائیداد بنائی۔ چند سال قبل وفات پا گئے۔

پرانی بات ہے میں چندی پور بس سٹاپ پہ اللہ ڈیوایا کی چائے اور مٹھائی کی دکان پہ کھڑا تھا۔ مجھے اس کے ہاتھ کی بنی چائے بہت پسند تھی۔ برابر میں بھی ایک اور ٹی اسٹال تھا۔ ایک سرکاری کار گزری اور ٹی اسٹال کے پاس رک گئی۔ اس میں ایک تحصیلدار صاحب بیٹھے تھے، ان کے پاس مجسٹریٹ کے اختیارات بھی تھے۔ ٹی اسٹال والا میوزک سننے کا شوقین تھا۔ شاید آتے جاتے ہوئے تحصیلدار صاحب کی نظر ساؤنڈ ڈیوائس پہ پڑتی ہو گی۔ ڈرائیور نے ٹی اسٹال والے کو بلایا اور کہا، ”صاحب کا حکم ہے ساؤنڈ ڈیوائس ان کی گاڑی میں رکھا جائے ورنہ ابھی تمہاری گرفتاری کا آرڈر کر دیں گے اور پھر وہ ڈیوائس لے کے چلے گئے۔

چند ماہ پرانی بات ہے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پہ وائرل ہوئی جس میں دیکھا گیا کہ ایک پرائس کنٹرول مجسٹریٹ احمد پور شرقیہ کے بازار میں دکانوں پہ چھاپے مار رہا ہے اور ایک دکاندار پہ تھپڑوں کی بارش کر رہا ہے۔ ایک ویڈیو بہاول پور شہر کے ایک بازار کی ٹی وی چینلز پہ آئی جس میں اسپیشل مجسٹریٹ کا اختیار رکھنے والے ایک صاحب ٹھیلہ پہ پھل بیچنے والے ایک دیہاڑی دار کو تھپڑ رسید کر رہے ہیں۔

رواں سال 2021 میں حکومت کی طرف سے حکم آیا کہ مہنگائی کو فوری طور پہ کنٹرول کیا جائے تو بہاول پور میں مختلف محکموں کے عملہ کو بھی پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کے اختیارات مل گئے۔ ایک صاحب دکانداروں کو پکڑ کے اپنے محکمہ کے دفتر کے ایک کمرے میں بند کر دیتے تھے۔ پھر ان کا عملہ کچھ رقم لے لیتا۔ میرے ایک جاننے والے غریب دکاندار نے فون کیا کہ ”صاحب“ انھیں پکڑ کے لائے ہیں۔ میں میڈیا کے کچھ دوستوں کے ساتھ گیا تو انھوں نے اس غریب دکاندار کو چھوڑ دیا۔ موصوف کے بارے میں پتہ چلا کہ کلیریکل پوسٹ پہ بھرتی ہوئے تھے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کر کے اگلے گریڈوں میں پہنچ گئے۔ انھیں پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کے اختیارات ملے تو انھوں نے اپنی کار پہ نیلی بتی والا ہوٹر بھی لگا لیا۔

بہت سارے ایسے محکمے ہیں جو براہ راست عوام سے متعلق نہیں ہوتے۔ کوئی جانوروں کی افزائش سے متعلق ہوتا ہے کوئی ماحول میں کاربن کی موجودگی کا لیول چیک کرنے کے لیے لیکن ان کے عملہ نے محکمے کو ملنے والی سبز نمبر پلیٹ والی گاڑی پہ نیلی بتی والا ہوٹر لگایا ہوتا ہے اور عوام میں اپنا تعارف اسپیشل مجسٹریٹ کے طور پہ کرا رہے ہوتے ہیں۔

ملک کا یہ حال ہے کہ یہاں مالی کرپشن کو گناہ، جرم یا عیب ہی نہیں سمجھا جاتا بلکہ جو شخص کرپشن کر کے جائیدادیں نہ بنائے، اسے معاشرے میں بیوقوف سمجھا جاتا ہے۔ شام کی واک کرتے ہوئے ایک کمرشل علاقے سے گزرا جہاں حال ہی میں انٹرنیشنل چین کے ایک بڑے بنک کی نئی عمارت بنی ہے۔ بنک کی عمارت کے سامنے سیڑھیاں اس طرح سے بنائی گئی ہیں کہ وہ نہ صرف سڑک کے ساتھ فٹ پاتھ پہ آ گئیں بلکہ سرکاری سڑک کا ایک حصہ بھی کھا گئیں۔

اس بنک کی اصل انتظامیہ تو گوروں پہ مشتمل ہے جو امریکہ یا یورپ میں بیٹھی ہو گی البتہ پاکستان میں بنک چلانے کے لیے انھوں نے ”اعلٰی تعلیم یافتہ“ پاکستانیوں کو ہی بطور انتظامیہ بھرتی کیا جنہوں نے اپنے مخصوص پاکستانی مزاج کا ثبوت دیتے ہوئے بنک کی عمارت ایسی بنوائی کہ سرکاری سڑک کا ایک حصہ بھی اس میں شامل کر دیا۔ اسی لائن میں آگے جا کر سپر اسٹور نما ایک بیکری اینڈ سویٹس شاپ ہے جس کے مالکان کٹر تبلیغی اور مولانا طارق جمیل صاحب کے دیوانے ہیں۔

انھوں نے بھی اپنی دکان اس طرح سے بنوائی کہ ان کی دکان کے سامنے کی اونچی سیڑھیاں سڑک کے فٹ پاتھ کو کھاتے ہوئے سرکاری سڑک پہ آ گئیں۔ اگر کوئی کہے کہ بنک والے اپنے مخصوص کاروبار کی وجہ سے لبرل سائیڈ والے ہیں تو بیکری اینڈ سویٹس شاپ والے سخت قسم کے مذہبی ہیں۔ تھوڑا عرصہ قبل دفتر کے لیے جگہ کی تلاش تھی۔ ایک نیا پلازہ بنا تھا جس کے نیچے سپر اسٹورز اور اوپر دفاتر بنے ہوئے تھے۔ پلازہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس کا اونچا ریمپ سامنے گزرتی سرکاری سڑک کا ایک حصہ کھا گیا ہے۔ ہم گئے تو پتہ چلا پلازے کے مالک بہا ول پور کے ایک بڑے سرکاری تعلیمی ادارے میں پروفیسر ہیں۔ لبرل ہوں، مذہبی ہوں، اعلٰی تعلیم یافتہ ہوں یا ان پڑھ ہوں اگر ہیں پاکستانی تو اس طرح کے کاموں کو وہ گناہ سمجھتے ہی نہیں حالانکہ ان کی ان حرکتوں سے عام آدمی تکلیف میں آ جاتا ہے۔

خیر۔ حکومت سے ایک گزارش ہے کہ ایک تو قانون بنا دیں کہ ہر محکمے کی سرکاری گاڑی پہ نیلی بتی والا ہوٹر نہ ہو کیونکہ اس ہوٹر کی آڑ میں عوام کو مرعوب کر کے اور دھوکہ دے کے نہ صرف ذاتی مفادات حاصل کیے جاتے ہیں بلکہ کرپشن کی راہ بھی ہموار کی جاتی ہے۔ صرف اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر، کمشنر، جج، پولیس اور فورسز کی گاڑیوں پہ نیلی بتی والا ہوٹر ہو۔

دوسرا یہ کہ ہر ایرے غیرے محکمے کے عملہ کو بوقت ضرورت پرائس کنٹرول مجسٹریٹ یا اسپیشل مجسٹریٹ کے اختیارات دینے کا جو رواج ہے یہ بھی ختم کیا جائے۔ ایسے لوگ جو کسی چھوٹی موٹی پوسٹ پہ بھرتی ہوتے ہیں پھر ترقی کرتے کرتے اگلے گریڈوں میں پہنچ جاتے ہیں اور کسی طرح وہ مجسٹریسی اختیارات کو بھی استعمال کرنے لگ جاتے ہیں تو دیکھنے میں آیا ہے کہ اس طرح کے لوگ عام آدمی کی تذلیل اور تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔

بہتر ہے آپ ہر تحصیل، تعلقہ اور سب ڈویژن کے لیے پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کا مستقل عہدہ بنا دیں جس کی بھرتی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہو۔ مشاہدہ میں آیا ہے کہ بہا ول پور میں ڈیزرٹ رینجرز کی جو ڈبل ڈور گاڑیاں نظر آتی ہیں، ان کی باڈی پہ موٹے حروف میں نمایاں کر کے رینجرز لکھا ہوتا ہے۔ میری ایک تجویز یہ بھی ہے کہ حکومت قانون بنا دے کہ ہر سرکاری محکمہ اپنے پاس موجود سرکاری گاڑیوں کی باڈی پہ نمایاں کر کے اپنے محکمہ کا نام لکھوائے تاکہ عوام کو پتہ ہو کہ یہ گاڑی کس محکمہ کی ہے اور جو صاحب اپنا تعارف اسپیشل مجسٹریٹ کے طور پہ کروا رہے ہیں اصل میں وہ کس محکمہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

برسوں سے میرا بسیرا ہے ایسے دیس میں اکبر میاں
بالشتیوں کا مشغلہ ہے جہاں برسانا پتھر غریب پہ

Facebook Comments HS