محبت جگنو کی مانند


اندھیرا، گہرا سناٹا، اس کے اندر کی تنہائی اور ویران بیابان سڑک۔ زندگی سے نا امید، اپنوں سے مایوس اس گھپ اندھیرے میں کبھی وہ اپنی بے بسی پہ ماتم کرتی، تو کبھی اس وحشت بھرے ماحول سے تنگ آ کر کونے سے جا لگتی۔ کبھی نشے میں دھت سڑک پر مردوں کی طرح پڑے ناکارہ اور فالتو انسانی شکل میں بھیڑیوں کی آوازیں اس کے کانوں سے ٹکراتیں تو بجلی سی اس پہ آ گرتی۔ اس کی پھولی ہوئی سانس کی کراہت اس کے اندر کے درد کو کھینچ کھینچ کے باہر لا رہی تھی۔

اس اندھیری سڑک پر اس کی کیفیت کسی ایسے شخص سے کم نہ تھی جس سے دنیا کی تمام تر رنگینیاں چھن چکی ہوں بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ اس سے یہ سب چھین لیا گیا ہو اور اسے آنکھیں جیسی نعمت ہوتے ہوئے بھی بینائی سے محروم کر دیا گیا ہو۔

اپنے پھولے ہوئے سانس کو بحال کرنے کے لیے وہ زمین پر بیٹھنے کی کوشش کرتی ہے مگر کیڑے مکوڑوں نے اس کی یہ کوشش بھی ناکام کر دی گویا زمین پہ اس کا کوئی حق نہ رہا ہو جیسے۔ اس کے ذہن میں بے شمار سوال گردش کر رہے تھے۔ وہ کون ہے؟ کیا خود کے لیے جینا جرم ہے؟ کیا یہ کائنات ایک عورت کے لیے نہیں ہے؟ آخر کب تک اسے یوں ہی گھٹ گھٹ کے جینا پڑے گا؟

درد سے تڑپتی، کراہتی اور لڑتی وہ نڈھال ہو کر زمین پر گرنے ہی والی تھی کہ اسے دور سے روشنی کی ایک جھلک دکھائی دی ہو۔ جوں جوں روشنی قریب آ رہی تھی وہ اپنے خوابوں کو اپنی امیدوں کو پورا ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ یہاں تک کہ جب روشنی اس کے بے جان جسم کے اوپر آ گری تو وہ ایک لمحے کے لیے سہم گئی مگر کیا دیکھتی ہے ایک خوبصورت سا جگنو اس کا ہاتھ تھامنے کی کوشش میں ہے۔ اور اس وحشت بھرے لمحات میں اپنے روشنی سے اس کی زندگی میں اجالا لانے کی کوشش میں ہے۔ جگنو کے پیچھے چلتے چلتے اسے یوں لگنے لگا جیسے وہ بھی ہواؤں میں اڑ رہی ہے۔ جیسے اب اسے کسی شے سے کوئی ڈر نہیں وہ چاہے تو اس دنیا میں لوگوں کی زنجیروں اور بیڑیوں کا ڈر ہو یا پھر سنسان سڑک کا۔ اب اسے سارے ڈر عبور کرنے ہیں۔

محبت بھی جگنو کی مانند ہے۔ اس قدر خوبصورت احساس ہے کہ انسان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ معاشرہ آپ کو قیدی بنا سکتا ہے مگر محبت قید نہیں بلکہ آزادی کا نام ہے۔ محبت راہ بھٹکانے نہیں بلکہ راہ دکھانے کا نام ہے۔ محبت نام ہے روشنی کا، خوبصورتی کا، رنگوں کا، اکٹھے ساتھ اڑنے کا اور سب سے بڑھ کر جگنو ہو جانے کا۔

Latest posts by طیبہ رفیق (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

طیبہ رفیق کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments