ملک کے نئے سیاسی طوفان کی نوعیت بلوچستان میں طے ہوگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان اسمبلی میں وزیر اعلیٰ جام میر کمال خان آلیانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی ہے۔ تحریک پر بحث مکمل ہونے کے بعد اسپیکر نے اس پر 25 اکتوبر کو ووٹنگ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔  وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا ہے  اور  کہا ہے کہ اگر ان کے خلاف ارکان اسمبلی نے عدم اعتماد کا اظہار کردیا  تو وہ عہدے سے علیحدہ ہوجائیں گے  لیکن استعفیٰ نہیں دیں گے۔ اس دوران  ’ناراض ارکان‘ کو منانے اور عدم اعتماد کو ناکام بنانے کی  کوشش کی جارہی ہے۔

وزیر اعلیٰ آلیانی کے خلاف  تحریک عدم اعتماد سے ملکی سیاست کے درجہ حرارت کا تعین ہوگا اور معلوم ہوسکے گا کہ  قومی سطح پر تصادم کی  موجودہ صورت حال کا  اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔  یہ اونٹ اس وقت  خیمے کی اوٹ میں ہے، اس لئے یہ اندازہ نہیں ہوپارہا کہ   وہ خیمے  پر قابض ہے یا باہر بیٹھا جگالی کررہا ہے۔  البتہ 25 اکتوبر کو بلوچستان اسمبلی میں سامنے آنے والا فیصلہ یہ تعین کردے گا کہ وزیر اعظم عمران خان اور  چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے پاس ناکارہ  لوہے کو سونا بنانے کا جو پارس موجود تھا ، کیا وہ اب بھی کارآمد ہے یا بوجوہ اپنی صلاحیت کھو چکا ہے۔ اگر جمہوری عمل اور سیاسی  اصول کی بنیاد پر دیکھا جائے تو  65 رکنی  صوبائی اسمبلی کے  33 ارکان  نے   وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کئے ہیں۔ یہ  تحریک منظور ہونے کے   آئینی تقاضے جو بھی ہوں،   ارکان اسمبلی کے اعتماد  کی بنیاد پر وزارت اعلیٰ کے عہدے پر فائز شخص کو اس تحریک کے پیش ہوتے ہی   اخلاقی طور سے اپنے عہدے  سے استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا۔

  اور  اگر وہ بدستور خود کو اکثریت کا منتخب کردہ   لیڈر سمجھتے  ہیں  تو انہیں ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کی کوشش کرنی چاہئے تھی۔ تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان اور مرکز میں ان کے سیاسی پشت پناہ  اس مرحلہ پر ایسا کوئی خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔  اس کی بجائے آئیندہ چند روز کے دوران سرکاری وسائل کی بندربانٹ اور عہدوں  کا لالچ دے کر ان لوگوں کا منہ بند کرنے کی کوشش کی جائے گی جو وزیر اعلیٰ کو فارغ کرکے کسی دوسرے راستے سے اپنے لئے زیادہ  ’سہولتیں اور مواقع‘ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔   تاہم اخلاقیات اور سیاسی اصول پسندی کے یہ بھاشن صرف سیاسی دشمنوں کو نیچا دکھانے اور اسٹبلشمنٹ کے عتاب میں آئے ہوئے سیاست دانوں کو مطعون کرنے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح بدعنوانی اور چوری کے الزامات بھی سیاسی  دعوؤں تک محدود رہتے ہیں۔ سیاسی ضرورت کے تحت  البتہ  کسی بھی اصول و قانون کے بغیر  سرکاری خزانوں کے منہ کھول دینے کو  بدعنوانی کی بجائے سیاسی حکمت عملی کا نام دیا جاتا ہے۔ اب اسی ’حکمت‘ کا مظاہرہ آئیندہ چند روز میں کوئٹہ  کے ڈرائینگ رومز میں دیکھنے میں آئے گا۔ البتہ اس میں کامیابی کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ ملک  کے  سیاسی نقش  میں کیسا رنگ بھرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بلوچستان کی سیاست کے حوالے سے دو پہلو بہت واضح ہیں۔ ایک وہاں پر بااثر خاندانوں اور وڈیروں کو  ترقیاتی منصوبوں کے نام پر اربوں روپے فراہم کئے  جاتے ہیں ۔ یہ وسائل کبھی عوامی بہبود کے منصوبوں پر صرف نہیں ہوتے لیکن سیاسی وفاداری کو یقینی بنانے  کے لئے اہم ہوتے ہیں۔ اسی لئے نہ بلوچستان کے عوام کی شکائیتیں ختم ہوتی ہیں اور نہ ہی قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود وہاں بنیادی سہولتیں فراہم ہوسکی  ہیں۔ گوادر  ، پاک چین اقتصادی راہداری   منصوبہ میں  شہ رگ کی حیثیت رکھتا  ہے لیکن وہاں  آباد لوگ  اسکول، ہسپتال اور  دیگر بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کے حوالے سے شدید  محرومی کا شکار ہیں۔   اسی لئے وہاں سے گزشتہ چند ہفتے کے دوران شدید ناراضی اور  احتجاج کی اطلاعات بھی آتی رہی     ہیں  جو بوجوہ پاکستانی مین اسٹریم میڈیا تک نہیں پہنچ پاتیں   اور نہ ہی   ملک کے دیگر حصوں میں آباد لوگوں تک ان کی رسائی ہوتی ہے ۔ اس لئے وہ اس حقیقت سے بے خبر رہتے ہیں  کہ  بلوچستان  کے عوام کس طرح اپنی محرومیوں کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں۔  ان آوازوں کو دبا کر  سرکاری کارپرداز ملک میں اطمینان اور سکون کا ایسا جعلی ماحول  برقرار رکھنا چاہتے ہیں  جس سے گھٹن اور حبس  میں اضافہ ہورہا ہے اور عوامی  غم و غصہ  شدید طوفان کی صورت اختیار رکررہا ہے۔ اس کی بجائے عوام کو رجھانے کے لئے ایک طرف ایک انتظامی  اصول کے لئے فوج کے سامنے ڈٹ جانے کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے  یا پھر وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک  عدم اعتماد کو  عوامی جذبات کی ترجمانی کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔

جغرافیہ  اور وسائل کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے اور آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹے صوبے   کی سیاست کا دوسرا اہم پہلو وہاں کے معاملات  پر  اسٹبلشمنٹ کا مکمل کنٹرول ہے۔ بلوچستان کے عوام کی نمائیندگی صرف ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو کسی نہ کسی طرح سے سرکاری پالیسیوں اور  جمہوریت کے مقابلے  میں ’قومی مفاد‘   کے ترجمان بننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ پھر اس وفاداری کا  عوضانہ اربوں روپوں کی سیاسی رشوت کی صورت میں وصول کرکے اس وقت تک  حکومت کا حصہ بنے رہتے ہیں جب تک تبدیلی کی کسی نئی ہوا کی ضرورت محسوس نہ ہو۔ صوبائی سیاست دانوں اور وڈیروں کو علم ہے کہ یہ ہوا کس رخ سے چلتی ہے اور کس طرف جاتی ہے، اس لئے وہ ہمیشہ   سیاسی  ہوا کی درست سمت میں کھڑے ہوتے ہیں۔   آئیندہ سوموار کو اسی رخ کا تعین ہوگا۔

جام کمال خان آلیانی اگر تحریک عدم اعتماد کی صورت میں   ارکان اسمبلی کی اکثریت کے تحریری اعلان ناراضی کے  باوجود 25 اکتوبر کو اس تحریک کو ناکام بنوانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو جان لیا جائے گا کہ ابھی ملک میں وسیع تر سیاسی تبدیلی کے منصوبہ  پر عمل درآمد شروع کرنے کا اشارہ موصول نہیں ہؤا۔ یہ پیغام اسلام آباد کے مکین کو  بھی مل جائے گا اور اس کے خلاف احتجاج کے لئے سڑکوں پر آنے والی  اپوزیشن جماعتیں بھی اس اشارے کو سمجھ کر اس کے مطابق حکمت عملی تریب دینا شروع کردیں گی۔ البتہ تحریک  کامیاب ہونے کی صورت میں پنجاب سے لے کر اسلام آباد تک خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں گی اور  کسی نادیدہ طوفان  کا انتظار شروع ہوجائے گا۔ عام طور سے یہ طوفان اقتدار پر فائز کسی سیاست دان کی قربانی کا سبب بنتا ہے۔  آلیانی کی  روانگی کے ساتھ ہی سیاسی قربانیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔

 البتہ  سیاسی  موسم کا حال احوال بتانے اور پیش گوئیوں کے ٹھیک ٹھیک نشانے لگانے کے ماہر شیخ رشید چونکہ خود اس وقت وزیر  داخلہ کی کرسی پر براجمان ہیں ، اسی لئے وہ  کل کی خبر لانے کی بجائے اپوزیشن کو دھمکا رہے ہیں کہ ’الیکشن سے پہلے اپوزیشن کوئی دنگا فساد کرے گی تو اپنے لئے  سیاسی گڑھا کھودے گی‘۔   البتہ  اپنے عہدے کی مجبوری کی وجہ سے  شیخ رشید یہ نہیں بتا سکتے کہ  یہ گڑھا کس  کے لئے تیا ر ہورہا ہے کیوں کہ کچھ  عہدے کا   ’احترام‘ مقصود ہے اور کچھ یہ یقین قائم ہے کہ وہ  خود بہر صورت گڑھے میں گرنے سے محفوظ رہیں گے‘۔     انہیں آخری لمحے میں   راستہ تبدیل کرنے میں ید طولیٰ حاصل ہے۔

امید کی جارہی ہے کہ کوئٹہ  کی  صوبائی اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے مستقبل کا فیصلہ ہونے تک آئی ایس آئی کے سربراہ کی  تقرری کا معاملہ بھی طے ہوچکا ہوگا۔ شیخ رشید نے ہی اس حوالے سے  جمعہ 22 اکتوبر تک کا وقت دے رکھا ہے۔ البتہ  پیشین گوئیوں کے ماہر وزیر کے دعوؤں کی سو فیصد ضمانت فراہم نہیں ہوسکتی۔   یہ اعلان درست ثابت ہونے  کے بعد ہی یہ اندازہ ہوگا کہ  ملک میں نیا  سیاسی طوفان   فوری  طور سے شدت اختیار کرے گا یا  سست روی سے  اپنی رفتار میں اضافہ کرے گا۔  آلیانی  کی روانگی خطرے کی گھنٹی ہوگی۔  اس کے بعد فوری طور سے پنجاب اسمبلی یا قومی اسمبلی میں کوئی ہلچل نہ بھی دیکھی گئی تو اس کا انتظار شروع ہوجائے گا۔ عمران خان کو اندازہ  ہوجائے گا کہ   ان کے سر پر ہما  کا سایہ نہیں ہے اور  سیاست میں انہیں خود اپنے برتے پر دانت  تیز کئے    اپوزیشن لیڈروں کا   مقابلہ کرنا پڑے گا۔  کسی ممکنہ عدم اعتماد  یا پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ سے بچنے کے لئے  مڈ ٹرم  انتخابات کا اعلان ایک متبادل ہوسکتا ہے۔   تاہم ملک کو درپیش معاشی و سلامتی اندیشوں کی وجہ سے کسی غیر متوقع متبادل کو  نظرانداز کرنا  بھی ممکن نہیں ہوگا۔

پاکستانی سیاست کے کھلاڑیوں   اور ان کے ہتھکنڈوں کے علاوہ ، ان کے اہداف سے بھی سب باخبر ہیں۔ اس کے باوجود کچھ خوش گمان عسکری قیادت سے ہی یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ملکی سیاست میں  مہروں کی اکھاڑ پچھاڑ میں شدید ناکامی کے بعد اب اس کھیل کو بند کرے اور آئینی طریقہ کے مطابق سیاست دانوں   کومعاملات طے کرنے دے۔  یہ انہونی تو نہیں ہے لیکن  پاکستان کی 70 برس کی تاریخ   یہ بتاتی ہے کہ ایسی توقع باندھنا دانشمندی  نہیں ہوگی۔ یوں بھی کسی   آئینی انتظام میں   جمہوری روایت کو راسخ کرنے کی ذمہ داری سیاست دانوں اور عدالتوں پر عائد ہوتی ہے۔

بدقسمتی سے  ملکی سیاست دان وہاں سے ہی   طاقت کشید کرنا چاہتے ہیں جہاں عوامی بالادستی   کی بجائے ’قومی مفاد‘ کو اہم سمجھا جاتا ہے۔   اور ملک میں کون  سی ایسی عدالت ہوگی کو قومی مفاد کی ایک اعلان شدہ توجیہ کو  تسلیم نہ کرے۔  ملک کی اعلیٰ عدالت کو ویسے بھی آئینی تشریح    اور وزرائے اعظم کو نااہل قرار دینے سے ہی فرصت نہیں ملتی۔  اس کے علاوہ  قوم کی بہتری اور ملکی مفاد کے لئے ادارہ جاتی اختیار  کو محفوظ رکھنا بھی پیش نظر رہتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2024 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments