سر سید احمد خاں: نہ اٹھا پھر کوئی رومیؔ عجم کے لالہ‌زاروں سے


سرسید احمد خاں کی 204 ویں سالگرہ ہے۔ وہ ہمہ جہت شخصیت تھے۔ وہ بیک وقت معلم، مقرر، ، مصنف، مصلح قوم، ماہر تعلیم، ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار اور جدید ہندوستان کے عظیم معماروں میں سے ایک تھے۔ جدید ہندوستان کی تعمیر و ترقی، فلاح اور مسلمانوں کے احیاء ملی کے لیے سر سید نے جو عظیم الشان خدمات سرانجام دی ہیں وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ حالی نے کہا تھا

تیرے احسان رہ رہ کر سدا یاد آئیں گے ان کو
کریں گے ذکر ہر مجلس میں اود دہرائیں گے ان کو

سرسید احمد خاں نے ہندوستان کے لوگوں کو جہالت، انارکی، فساد اور انتشار سے نکال کر جدید تعلیم کی طرف دعوت دی اور تقلید سے جان چھڑا کر اجتہاد کر طرف بلایا۔ دقیانوسی اور ماضی پرستوں کو حال میں جینا سکھایا اور مستقبل کی نوید فکر بخشی۔ انھوں نے ہمیں اس ذہنی غلامی سے نجات دلائی جس نے مدتوں ہمارے ذہنوں اور قدموں کو مفلوج و بوسیدہ اور قید کر رکھا تھا اور ہمارے وقار و افکار کو شل کر رکھا تھا۔ انھوں نے حریت فکر و ضمیر کا وہ سبق پڑھایا۔

جس کے بغیر کوئی بھی انسانی معاشرہ اصلاح و ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا ۔ مسلمانوں کی زبوں حالی پر رونے کی بجائے اس نے جدید حل تلاش کیے۔ پوری قوم کو ایک جسم مان کر اس کے مرض کی تشخیص کی اور اس کا علاج جدید طرز تعلیم بتلایا۔ انہوں نے قومی خدمات کا ایک نیا اور انقلاب آفریں اور تصور دے کر ایسی نسل تیار کر دی جو برسوں قومی خدمات کے جذبہ سے سرشار ان کی تعلیمی تحریک کو آ گئے بڑھانے کے لیے سرگرم رہی۔

ایسی نسل تیار کی جو سیاسی سماجی، تعلیمی، تحقیقی اور سائنسی لحاظ سے لوگوں کے ذہنوں کی آبیاری کرنے لگی۔ ایک طرف وہ اسباب بغاوت ہند لکھ کر انگریزوں کی غلطی فہمیوں کا ازالہ کیا تو دوسری طرف سائنٹیفک سوسائٹی قائم کر کے لوگوں سیاسی رجحان بڑھایا، تیسری طرف تہذیب اخلاق نکال کر غافل اور منتشر قوم کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔ غرض یہ کہ اس شخص نے خود کے لیے کچھ نہ کیا، قوم کی خاطر کیا کچھ نہیں کیا، چندے کے لیے وہ کہاں کہاں نہ گیا یہاں تک کہ اس شخص نے قوم کی خاطر گھنگرو باندھے۔ بنگال رام پور سے چندہ لینے کے لیے بھکاریوں کی صف میں جا کھڑا ہوا یہاں تک کے طواف سے چندہ مانگنے کے لیے ان کو کوئی عار محسوس نہ ہوئی۔ بقول شاعر

میں بعد مرگ بھی بزم وفا میں زندہ ہوں
تلاش کر مری محفل، مرا مزار نہ پوچھو

اس قوم کے لیے اس نے کیا کیا کچھ نہ کیا، کتنے پاپڑ بیلنے پڑے۔ مگر اس قوم نے اس کی قربانیوں کا بدلا ستر ( 70 ) کفر کے فتوے لگا کر دیا۔ یہ سچ ہے کہ وہ مذہب کو سائنسی اور عقلی نقطہ نظر سے دیکھتے تھے اور یہ بھی سچ ہے کہ وہ کرامات و معجزات، واقعہ معراج قصہ آدم، قصہ عیسیٰ، روح کا وجود، وحی و الہام اور فرشتوں کے بارے میں الگ خیالات رکھتے تھے۔ اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ وہ دہریہ، ملحد، نیچری، کافر اور کرسٹان ہیں یہاں تک کہ ملک کا سنجیدہ طبقہ بھی شکوک و شبہات میں مبتلا رہا اور کافرانہ لیبل لگاتے رہے۔

حالاں کہ سر سید کی تقریریں، تحریریں اور کارنامے اس چیز کے شاہد ہیں کہ وہ ایک سچے اور پرجوش راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔ یہ ازل سے چلتا آ رہا ہے کہ حق پرستوں کو مشکلات کا سامنا رہا وہ ایک دریا عبور کر کے دوسرے دریا کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ ارے نگینے آسمان سے نہیں اترتے اس خاک سے جنم لیتے ہیں سر سید بھی اسی خاک کے نگینے تھے۔ علوم فنون کے علی بابا کا خزانہ ان کے پاس تھا۔ کاش دوبارہ پھر کوئی سر سید جیسی ہستی پیدا ہو جائے جو اس غافل قوم کو جگا دے۔

بقول شاعر
سینچا ہے اسے خون سے ہم تشنہ لبوں نے
تب جا کے اس انداز کا میخانہ بنا ہے

Facebook Comments HS