ایپی کرو۔۔۔بچہ آ رہا ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”گھبراؤ نہیں، ایپی تھوڑی بڑھ گئی ہے۔ ہوتا ہے ایسا اکثر۔ تم ایسا کرو کہ اس کو ایسے ہی سی ڈالو جیسے عام طور پہ ایپی کی سلائی کرتے ہیں“

ہماری بوکھلائی ہوئی شکل جس پہ بارہ بھی بج رہے تھے دیکھ کے ہماری سینئر نے ہمیں تسلی دی،
”لیکن۔ لیکن۔ ایپی تو مقعد تک جا پہنچی ہے“ ہم ہکلاتے ہوئے بولے،
”ارے کچھ نہیں ہوتا، بس سب مسلز کو سی ڈالو، سب ٹھیک ہو جائے گا“

ہم دل ہی دل میں بہت کنفیوزڈ تھے کہ اتنی لمبی ایپی کبھی دیکھی نہیں تھی۔ مقعد ( anus) تک سب کچھ کھلا پڑا تھا اور ہم سوچ رہے تھے کہ اف قصائیوں سے کیا ہی کم ہو گا ہمارا کام؟ کیسے کاٹ دیا پلک جھپکتے میں ویجائنا کو!

اوہ آپ کو ہماری بات سمجھ میں نہیں آ رہی نا! دیکھیے ہم یہ تو بھول ہی جاتے ہیں کہ آپ ڈاکٹری قصوں کو نہیں جانتے۔ چلیے آپ کو قصہ ابتدا سے سناتے ہیں۔

جب ہم ڈاکٹر بن گئے تو ہاؤس جاب کے لئے گائنی کے شعبے کا رخ کیا۔ وہ جو کہتے ہیں نا کہ گیدڑ کی شامت جب آتی ہے تو شہر کا رخ کرتا ہے، ایسا ہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا۔

اب سمجھ لیجیے کہ جونئیر ہاؤس افسر ڈیپارٹمنٹ کا ایسا چھوٹا ہوتا ہے ہے جس سے سب وہ کام کروائے جاتے ہیں جو اور کوئی کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ بلڈ بینک سے بھاگ کے خون لانا ہو تو یہ بالکل ایسے ہی ہو گا، چل چھوٹے، دو کپ چائے تو لے آ۔

سو کبھی ہم مریضوں کے پیٹ پہ ہاتھ رکھ کے ان کی درد زہ کا اندازہ لگاتے، کبھی ان کی ڈرپ آہستہ یا تیز کرتے، کبھی بھاگ کر بلڈ بینک چلے جاتے۔ اور ہاں کبھی لیبر روم کی عمر رسیدہ خرانٹ آیا حکم دیتی تو زچہ خواتین کو انیما بھی دے ڈالتے۔ اکثر ڈلیور ہوتے بچے کو پکڑنے کی ذمہ داری بھی ہماری ہوتی۔

ہماری جانفشانی سے جب کبھی ہماری سینئیر ہاؤس افسر خوش ہو جاتیں تو کہتیں چلو آج تمہیں ایپی کرواؤں۔ اور ہمیں ایسے لگتا کہ قارون کا خزانہ ملنے والا ہو یا نوبل پرائز کے لئے نام لے لیا گیا ہو۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر یہ ایپی کیا ہے آخر
؟

ایپی مخفف ہے لفظ ایپیزیوٹومی ( episiotomy ) کا۔ ہم معذرت خواہ ہیں کہ اس کا متبادل اردو میں موجود نہیں۔ لیکن اردو کا دامن تو اس قدر وسیع ہے کہ پہلے سے انجیکشن، ڈاکٹر، ائرپورٹ، آپریشن اور بے شمار اور لفظ اردو سے مستقل جڑ چکے ہیں سو کچھ اہم الفاظ اور سہی۔

سو بات ہو رہی تھی ایپی کی، یہ ویجائنا میں دیا جانے والا وہ کٹ ہے جو بچے کو باہر نکلنے میں مدد دیتا ہے۔ بچے کا سر جب ویجائنا میں رینگتا ہوا باہر نظر آنا شروع ہوتا ہے، اس وقت ویجائنا میں خطرناک شگاف پڑنے کے امکان کو کم کرنے کے لئے قینچی سے ویجائنا کی ایک دیوار کو کاٹ دیا جاتا ہے۔ اسے عرف عام میں ”چھوٹا آپریشن“ کہا جاتا ہے۔

اس کٹ میں ویجائنا کے باہر والی جلد، جلد کے نیچے مسلز اور ویجائنا کے اندر والی دیوار شامل ہوتی ہے۔ یہ کٹ لوکل اینیستھیزیا دے کر لگایا جاتا ہے لیکن پھر بھی اس میں بے انتہا درد ہوتا ہے۔ اس کٹ سے خون کے فوارے پھوٹ پڑتے ہیں لیکن انہیں کسی طرح بھی بچے کی پیدائش سے پہلے روکا نہیں جا سکتا۔ اگر بچے کا سر باہر نکلنے میں دیر لگے تو خون زیادہ ضائع ہو سکتا ہے۔

کبھی کبھار یوں ہوتا ہے کہ بچے کے صحت مند ہونے کی صورت میں یہ کٹ یا ایپی خود بخود مزید بڑھتے ہوئے اردگرد کے مسلز کو پھاڑ دیتی ہے۔ اہم ترین چیز مقعد کے پیچ ہیں جن کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ اگر ایپی نہ دی جائے، تو بھی یہ پیچ متاثر ہوتے ہیں اور اگر ایپی کا سائز بڑا ہو جائے تب بھی یہ پیچ پھٹ جاتے ہیں۔

ہم اکثر سوچا کرتے ہیں کہ جب زچگی کے طور طریق جدید راہوں سے نا آشنا تھے تو کیا کرتی ہوں گی پچھلے زمانوں کی عورتیں؟

یقیناً ان مسائل سے نبرد آزما ہوتے، گھٹ گھٹ کر زندگی کا سفر تمام کرتی ہوں گی۔ لیکن سوچا جائے تو ابھی بھی عورت کی زندگی کہاں بدلی ہے؟ اب بھی کرہ زمین پر وہ سب بستیاں جہاں طبی سہولیات میسر نہیں، وہاں کی عورتوں کے لئے تو اکیسویں صدی بھی قرون اولیٰ ہی ہے۔ کبھی بچ گئیں تو کبھی چل بسیں، اور اگر کبھی بچ تو گئیں لیکن زندگی نے معذوری کا روگ لگا کر اپنے ہونے کا خراج لے لیا۔

ایپی کو سوئی اور ایک خاص قسم کی دھاگے سے سیا جاتا ہے۔ ایسا دھاگہ جو کچھ عرصے بعد خود ہی جھڑ جاتا ہے، ٹانکے نکالنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

ایپی کی ہر تہہ مختلف طریقے سے سی جاتی ہے اور سلائی کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر تہہ کے ہر ٹشو کو نہ صرف پہچانے بلکہ انہیں سینے کے طریقے بھی جانتا ہو۔

مختلف لوگوں کی گئی ایپی کی سلائی میں اتنا ہی فرق ہوتا ہے جتنا مختلف قسم کے درزیوں کے سلے ہوئے ملبوسات میں۔ اپنے فن میں ماہر درزی کے ہاتھ کا سلا ہوا لباس خود منہ کھول کر اس کے ہنر کی گواہی دے گا اور اناڑی درزی بھی لباس سی تو لے گا لیکن وہ کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا کی عملی مثال ہو گا۔

اسی طرح ایپی کی سلائی سب ڈاکٹر کر لیں گے بلکہ بعض نرسیں بھی طبع آزمائی کریں گی مگر ویجائنا کی ہیئت گواہی دے گی کہ سلائی کرنے والا کھلاڑی تھا یا اناڑی۔

بدقسمتی سے ایپی سینے والا یا تو سب سے جونئیر ڈاکٹر ہوتا ہے جو سیکھنے کے مراحل طے کر رہا ہوتا ہے یا مڈوائف/ نرس اور یا ایک ایسا ڈاکٹر جو ڈاکٹر تو ہوتا ہے لیکن جسے ڈلیوری اور ایپی سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ جو نتیجہ برآمد ہوتا ہے اس کی بازگشت ہم بہت سی خواتین کی کہانیوں میں سن سکتے ہیں۔

جس طرح ہمارے معاشرے میں ہر پروفیشن اپنے شوق اور عزم کے مطابق چننے کی بجائے پیسے کی ریل پیل کا اندازہ لگا کر اختیار کیا جاتا ہے، وہی حال میڈیکل کا بھی ہے۔ سٹیٹس، پیسہ اور نمود و نمائش سے ہر کوئی میڈیکل کی طرف کھنچا چلا آتا ہے لیکن کیا اس کے دل و دماغ اس پیشے سے محبت بھی کرتے ہیں؟ کیا مریض کا لمس انہیں بیزار تو نہیں کرتا؟ کیا طبعیت لوگوں کی تکلیف سن کر ناگواری محسوس تو نہیں کرتی؟ یہ وہ سوال ہیں جن کے جواب میں وہ نکتہ پوشیدہ ہے جو ہم کہنا چاہ رہے ہیں۔

لیکن آپ کے پاس ڈاکٹروں سے گلہ کرنے کا حق نہیں۔ اس لئے کہ کون سا ایسا شعبہ ہے جہاں ایسا نہیں کیا گیا؟ معاشرے کا چلن ہی یہی بنا ہے کہ فرد کے رجحان اور پسند ناپسند کو نظرانداز کرتے ہوئے مادیت کی چاہ میں سیکھے گئے کام معاشرے کو ایک ایسا کھوکھلا ڈھانچہ بنا دیتے ہیں جس میں ذوق و شوق کی روح پھونکی ہی نہ گئی ہو۔

چلتے چلتے اتنا سن لیجیے کہ ایپی کی ابتدا سترہ سو چالیس میں ہوئی تھی۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایپی مقعد کو پہنچنے والے نقصان کو کم نہیں کرتی سو روٹین میں ویجائنا نہیں کاٹنی چاہیے۔ مخالف گروہ کا کہنا ہے کہ ایپی نہ کرنے کی صورت میں ویجائنا کے اندر بھی زخم آئیں گے اور باہر بھی اور ہو سکتا ہے کہ مقعد کے پیچ کچھ زیادہ پھٹ جائیں۔

ہمارا تجربہ یہ کہتا ہے کہ ایپی تجربہ کار ہاتھوں میں ایک نعمت ہے اور اناڑیوں کے ہاتھ میں ساری عمر کی زحمت۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments