ایف اے ٹی ایف ، پاکستان کی افغان پالیسی: خطرات کا اندازہ کیا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے صدر ڈاکٹر مارکوس پلئیر نے اس فیصلہ کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کی طرف سے بہتری دکھانے اور تعاون کا ذکر کیا لیکن واضح کیا کہ پاکستان کو اس لسٹ سے نکلنے کے لئے مزید اقدمات کی ضرورت ہے۔ وزارت خزانہ کے علاوہ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی نمائیندگی کرنے والے وفاقی وزیر حماد اظہر نے اس ناکامی کے باوجود تازہ ترین صورت حال پر اطمیان کا اظہار کیاہے۔

وفاقی وزیر حماد اظہر نے اس اعلان کو پاکستان کے لئے ’اچھی خبر‘ قرار دیا اور کہا ہے کہ اس ادارے نے پاکستان کے کامیاب اقدامات کا اعتراف کیا ہے۔ البتہ بعض ممالک کے اعتراض کی وجہ سے پاکستان ابھی تک گرے لسٹ پر ہے۔ پاکستان کو جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈالا گیا تھا۔ تاہم حکومت تین سال کی مسلسل کوشش کے باوجود اس عالمی ادارے کو پاکستان میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے مکمل طور سے مطمئن کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ گزشتہ جون میں جب ڈاکٹر پلئیر نے آج والے اعلان سے ملتا جلتا اعلان کیا تھا تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ ادارہ اگرچہ تکنیکی امور کی نگرانی کا کام کرتا ہے لیکن پاکستان کی نمایاں کارکردگی کے باوجود اسے بدستور گرے لسٹ پر رکھنے کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں معاملات سیاسی بنیادوں پر طے ہوتے ہیں‘۔ ایف اے ٹی ایف نے اس تبصرے پر کوئی وضاحت نہیں کی تھی لیکن تین ماہ بعد بھی پاکستان اس ادارے کا مکمل اعتبار حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔

جون میں پاکستانی حکومت کو پورا یقین تھا کہ اس نے قانون سازی کے علاوہ کالعدم تنظیموں کے لیڈروں کے خلاف مقدمے قائم کرکے اور انہیں سزائیں دلوا کر دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خلاف مؤثر اور قابل ذکر اقدامت کئے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کا اعلان سامنے آنے سے پہلے یہ امید باندھ لی گئی تھی کہ اس بار پاکستان کو اس فہرست سے نکال دیا جائے گا تاہم پاکستانی حکومت کی یہ امید پوری نہیں ہوئی۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس جی۔7 ملکوں نے دہشت گردی کی مالی معاونت کی نگرانی کے لئے 1989 میں قائم کی تھی اور 39 ممالک اس کے رکن ہیں۔ اس ادارے میں کسی ملک کے خلاف کارروائی کے حوالے سے فیصلہ اتفاق رائے سے ہوتا ہے۔ اس لئے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے تمام ممالک کی حمایت حاصل ہونا ضروری ہے۔ جس نکتہ کی طرف وفاقی وزیر حماد اظہر نے بھی اشارہ کیا ہے کہ چند ممالک بدستور پاکستان کو اس فہرست میں رکھنا چاہتے ہیں ۔ تاہم تکنیکی لحاظ سے یہ ممالک بعض کمزوریوں یا پالیسی معاملات میں کسی نقص کی بنیاد پر ہی یہ مؤقف اختیار کرسکتے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے صدر نے اس بار بھی پاکستان کے بارے میں تقریباً وہی باتیں کہی ہیں جو جون میں کی گئی تھیں۔ یہ کہ پاکستان نے متعدد نکات پربہتری دکھائی ہے لیکن کالعدام تنظیموں کے لیڈروں کو مناسب سزائیں دینا اور منی لانڈرنگ کے سب چور دروازے بند کرناباقی ہے۔

تین ماہ پہلے جب ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا تو بھارت کے وزیر خارجہ نے ایس جے شنکر نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک تربیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھاکہ ’ہماری وجہ سے پاکستان ابھی تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ پر ہے‘۔ ڈاکٹر پلئیر سے آج کی پریس کانفرنس میں اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ فیصلہ 39 ممالک مل کر کرتے ہیں۔ کوئی ایک ملک تن تنہا کسی ملک کو گرے لسٹ میں شامل رکھنے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ تاہم جب ایک بڑے ملک کا وزیر خارجہ علی الاعلان پاکستان کے خلاف سفارتی سرگرمی دکھانے اور ایف اے ٹی ایف کی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہونے کا اعلان کرتا ہے تو اس سے عالمی تنظیم کی شہرت اور ساکھ کے بارے میں شبہات پیدا ہونا لازم ہے۔

 ڈاکٹر پلئیر نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کرکے دراصل ان شبہات کو تقویت دی ہے کہ ایف اے ٹی ایف ضرور ایک تکنیکی ادارہ ہے لیکن دنیا کے طاقت ور ممالک اس پلیٹ فارم کو اپنے سیاسی فیصلے تھوپنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس وقت بھارت کو سفارتی اور اسٹریٹیجک حوالے سے امریکہ کے لاڈلے کی حیثیت حاصل ہے۔ صدر جو بائیڈن جی ۔7 پلیٹ فارم کو چین کی اقتصادی ناکہ بندی کے لئے استعمال کرنے کے منصوبہ کا اعلان بھی کرچکے ہیں۔ اس پس منظر میں جب ایف اے ٹی ایف کا صدر بھارتی وزیر خارجہ کے پاکستان مخالفت پر مبنی بیان اور اس دشمنی میں ایف اے ٹی ایف کو استعمال کرنے کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے سے انکار کرتے ہیں تو وہ اس ادارے کی خود مختاری کو یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ نئے فیصلہ کے تحت ایف اے ٹی ایف نے مالی ، اردن کے علاوہ ترکی کو بھی گرے لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی اور ہندو شدت پسندی کے رجحانات کی مالی معاونت کے معاملات پر کوئی رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ یہ طریقہ آنے والے برسوں میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی حیثیت اور دوسرے ملکوں کے معاملات میں مداخلت کی صلاحیت کے بارے میں نئے سوالات کو جنم دے گا۔ ایف اے ٹی ایف کو اپنے طریقہ کار سے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ یہ پلیٹ فارم امریکہ اور چند بڑے مغربی ممالک کے معاشی، سفارتی اور سیاسی ضرورتوں کی تکمیل کا مرکز دکھائی نہ دے۔ اس کے علاوہ یہ صرف مسلمان ملکوں یا اسلامی شدت پسندی سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ہی سرگرم نہ ہو۔ بلکہ دوسرے خطوں میں کسی دوسرے نام سے کی جانے والی دہشت گردی کو بھی اس دائرہ کار میں لایا جائے۔

بھارت میں مودی حکومت کی انتہاپسندانہ پالیسیوں سے جو ہندو شدت پسندی پیدا ہوئی ہے، اس کے اثرات اب ہمسایہ ممالک میں بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ بنگلہ دیش میں ہندو اجتماعات پر ہونے والے حملوں کے بعد وزیر اعظم حسینہ واجد نے بھارت کو اپنے ملک میں مسلمان اقلیت کے خلاف حملوں اور متعصبانہ کارروائیوں کو بند کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ دلیل دی جاسکتی ہے کہ بھارت میں پیدا ہونے والی ہندو شدت پسندی اس ملک کا اندرونی معاملہ ہے اس لئے ایف اے ٹی ایف اس سے تعرض نہیں کرسکتا۔ تاہم حسینہ شیخ کے بیان کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ملک میں عقیدہ کی بنیاد پر پیدا ہونے والے جنگجویانہ اقدامات کیسے دوسرے ملکوں کے حالات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ کوئی بھی گروہ سیاسی سرپرستی اور ٹھوس مالی معاونت کے بغیر مسلح جتھے بناکرمتحرک و طاقت ور نہیں ہوسکتے۔ بھارت میں یہ سارے عوامل دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت کی سرکاری سیکورٹی فورسز مقبوضہ کشمیر میں منظم قتل و غارتگری میں ملوث ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کو خواہ بھارت اپنا اٹوٹ انگ ہی قرار دیتا رہے لیکن اقوام متحدہ کے فیصلہ کے مطابق یہ ایک متنازعہ علاقہ ہے، جس کے بارے میں اس کے عوام کی رائے کے مطابق فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ اس لحاظ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی ہر عالمی فورم کے ایجنڈے پر زیر بحث آنی چاہئے۔

پاکستان کو بدستور گرے لسٹ پر رکھنے کا فیصلہ امریکہ کی پاکستان سے ناراضی کا براہ راست نتیجہ بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ تازہ فیصلہ سے پاکستانی حکومت کی سفارتی نااہلی تو عیاں ہوئی ہے لیکن اس سے یہ حقیقت مزید کھل کر سامنے آئی ہے کہ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کس طرح عالمی فورمز کو اپنے سیاسی و سفارتی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے ذریعے پاکستان کو بدستور دباؤ میں رکھ کر افغانستان میں خاص اہداف کا حصول بھی ایک امکان ہوسکتا ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمن حالیہ دورہ پاکستان و بھارت کے دوران یہ واضح کرچکی ہیں کہ امریکہ کے پاکستان سے وابستہ مفادات افغانستان تک محدود ہیں اور وہ اسی حوالے سے پاکستان کی سفارتی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ موجودہ امریکی حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون کا دائرہ وسیع کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ اس بیان کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا بھی تھا کہ امریکہ اب بھارت کو ہی اس ریجن میں اپنے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹیجک مفادات کے حصول کے لئے استعمال کرے گا۔ اس پس منظر میں ایف اے ٹی ایف، آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے اداروں میں پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کرکے دراصل ان اداروں کی غیر جانبداری اور افادیت مشکوک ہوگی اور دنیا کی گروہ بندی میں اضافہ ہوگا۔ امریکہ کی یہ پالیسی ، ماحولیات کی بہتری، انسداد دہشت گردی، بھوک کے خاتمے ، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور دیگر اہم مقاصد کے لئے عالمی تعاون کے منصوبہ کو نقصان پہنچائے گی۔

پاکستان البتہ صرف امریکہ یا بھارت پر حرف زنی کرکے اپنی موجودہ مشکلات سے نجات حاصل نہیں کرسکتا۔ افغانستان میں طالبان کی کامیابی کے بعد پاکستان نے حکمت عملی کے نام پر نعرے بازی کا جو طریقہ اختیار کیا ہے، اس کی وجہ سے ہر عالمی فورم اور دارالحکومت میں پاکستان کی نیک نیتی اور ارادوں کے بارے میں نت نئے سوالات سامنے آئے ہیں۔ اس تناظر میں شاید پاکستان بھی ایف اے ٹی ایف سے کسی مختلف فیصلہ کی توقع نہیں کررہا تھا۔ وزارت خزانہ اور حماد اظہر کی جانب سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے منفی اور افسوسناک فیصلہ کو ’اچھی خبر‘ قرار دینے سے اس خود فریبی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ عالمی اداروں کو بڑی طاقتوں کے اثر و رسوخ سے پاک کرنے کے لئے ضرور آواز بلند ہونی چاہئے لیکن ایک تو یہ کام پاکستان تن تنہا نہیں کرسکتا ، دوسرے اس مقصد کے لئے اسے اپنے ملکی معاملات اور پالیسی کو درست خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔

افغان طالبان کی حمایت کے جوش میں پاکستان اگر دنیا کو اپنی مخالفت میں اکٹھا ہونے کی دعوت دے رہا ہے، تو پھر اسے عالمی اداروں سے کسی بہتری کی امید نہیں کرنی چاہئے۔ یہ حکمت عملی پاکستان کو سفارتی طور سے تنہا کرنے کے علاوہ معاشی لحاظ سے تباہی کی طرف دھکیلنے کا سبب بنے گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2024 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments