حقیقی جمہوری نظام بھی آزما لیا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے چند سال سے ملک میں جاری طرز عمل کے باعث اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو ریاستی اداروں کے کردار پر تحفظات تھے ہی تشویشناک بات یہ ہے کہ اب حکومت کی جانب سے بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ اداروں کے کردار پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ اب خواہ کچھ بھی کہا جائے سچ مگر یہی ہے کہ حکومت اور مقتدر قوتوں کے درمیان بداعتمادی کی خلیج پیدا ہو چکی ہے اور اس بداعتمادی میں وقت گزرنے کے ساتھ مزید اضافہ ہو گا۔ اس بات کو تقویت اس وجہ سے ملتی ہے کہ آج سے کچھ عرصہ قبل تک وزیراعظم ہر تقریر میں اپنے اور ریاستی اداروں کے مابین مثالی ہم آہنگی کا ذکر کرنا نہیں بھولتے تھے۔

اب لیکن اٹھتے بیٹھتے وہ یہ حوالہ مسلسل دے رہے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو اچانک برطرف کر دیا تھا اور کسی کو ان کے فیصلے سے اختلاف کی جرات نہیں ہوئی تھی۔ سب جانتے ہیں کہ وزیراعظم صاحب کے دل میں کیا رنجش ہے جس کی وجہ سے بار بار وہ اس قسم کی باتیں سنا رہے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ آخر وہ کیا مجبوری ہے کہ جس کے باعث وزیراعظم اسی شاخ پر کلہاڑا چلانے پر تلے بیٹھے ہیں جس پر ان کی حکومت قائم ہے۔

اسی طرح یہ سوال بھی برحق ہے کہ تین سال تک جو ادارے ہر قسم کی تنقید سہنے کے باوجود حکومت کی پشت پر تھے آخر اب وہ کیوں اپنی سپورٹ واپس لے رہے ہیں؟ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کی سب سے بڑی وجہ حکومت کی ناقص معاشی کارکردگی ہے۔ یہ بات بڑی حد تک درست بھی کیونکہ ریاستی اداروں کے خلاف عوامی سطح پر تیزی سے جو منفی رائے قائم ہوئی ہے فوج یا کوئی بھی اور ادارہ اس سے آنکھیں بند نہیں نہیں کر سکتا۔ آج ملکی معیشت جس نہج پر پہنچ چکی ہے ریاستی اداروں کو احساس ہو گیا ہے کہ اب بھی حکومت کی سپورٹ جاری رکھی گئی تو یہ عمل نہ صرف خود ان کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہو گا بلکہ ملک کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو گا۔

اسی لیے حکومت سے مناسب فاصلہ اختیار کر کے سیاسی میدان میں تمام کھلاڑیوں کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ دوسری طرف حکمراں جماعت یہ سمجھتی ہے کہ ریاستی اداروں نے اس کی پشت پناہی سے ہاتھ اٹھا لیا اور تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ میسر آ گئی تو اس کے لیے سیاسی بقا ممکن نہیں رہے گی۔ لہذا حکمراں جماعت کی کوشش ہے کہ اسے ہر حال میں یہ سپورٹ حاصل رہے۔ اسی لیے آئی ایس آئی، نیب اور الیکشن کمیشن جیسے اداروں کو اپنے تابع فرمان رکھنے اور ان میں اپنی من پسند تقرریوں پر اصرار کیا جا رہا ہے۔

وجہ بہرحال جو بھی ہو وسیع تر تناظر میں یہ صورتحال ریاست کے دائمی اداروں کے لیے لمحہ فکر ہونی چاہیے۔ وزیراعظم صاحب جب مسلسل تین سال سے یہ کہہ رہے تھے کہ انہیں اداروں کی اتنی سپورٹ حاصل ہے جو ماضی کے کسی حکمران کو نہیں ملی تو اس وقت ہم ایسے اسی لیے دہائی دے رہے تھے کہ نہ صرف یہ بات اپوزیشن کے موقف کی تصدیق ہے بلکہ خود اداروں کے خلاف چارج شیٹ ہے۔ اس کے ساتھ ہماری تحریریں گواہ ہیں ہم نے ایک سے زائد بار خبردار کیا تھا کہ محض چند مخصوص مقاصد کی تکمیل کی خاطر تمام انڈے ایک ٹوکری میں رکھنے کا عمل دانشمندانہ ہرگز نہیں اور آج نہیں تو کل یہ ضرور گلے پڑے گا۔

بہرحال ہمارے کہنے سے پہلے تبدیلی آئی نہ اب آئے گی اس ملک کا نظام انہی کی مرضی سے چلے گا آج تک جن کی مرضی سے چلتا آیا ہے۔ اس ہائبرڈ نظام کی ابتدا میں کچھ لوگوں کو امید تھی کہ شاید سیاسی استحکام سے ملکی معیشت بہتر ہو جائے گی اور غریب آدمی کے دکھ درد کا مداوا ہو جائے گا۔ لیکن حکومت نے اس نظام کے تحت ملنے والی اداروں کی سپورٹ کو سیاسی مخالفت کچلنے کے لیے استعمال کیا۔ جس سے نہ صرف سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہوا بلکہ غریب آدمی کا معیار زندگی بہتر ہونے کے بجائے پہلے سے بھی بدتر ہو گیا ہے۔

یہ سچ ہے کہ ملک میں دودھ شہد کی نہریں آج سے پہلے بھی نہیں بہہ رہی تھیں۔ لیکن مہنگائی و بیروزگاری سے عوام کی حالت آج جتنی اجیرن تھی اور نہ کاروباری سرگرمیاں اس قدر ماند اور بازار اتنے سنسان پہلے کبھی تھے۔ آج غریب آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول نا ممکنات میں شامل ہو چکا ہے۔ ملک کی بڑی آبادی دیہاڑی دار افراد پر مشتمل ہے۔ اس وقت اس دیہاڑی دار طبقے کی حالت نہایت قابل رحم ہے۔ کیونکہ ان کے پاس کچھ پس انداز نہیں ہوتا اور ملک میں روزگار کے مواقع بہت محدود ہو چکے ہیں۔

کئی کئی دن گزر جاتے ہیں ان کی دیہاڑی نہیں لگتی۔ یہ لوگ روز کمانے اور روز کھانے والے ہیں۔ جس دن ان کی دیہاڑی نہ لگے ان کے لیے بچوں کا پیٹ بھرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ دن بھر کی محنت مشقت کے عوض جو معمولی رقم ملتی ہے اسی سے گھر لوٹتے وقت اپنے گھرانے کی ضرورت کے لیے انہیں راشن لے کر جانا ہوتا ہے۔ اس ہائبرڈ نظام کے آغاز کے ساتھ ہی ملک میں پیدا ہونے والے معاشی بحران سے نہ صرف بیروزگاری میں اضافہ ہوا بلکہ مہنگائی بھی آسمان چھونے لگی ہے۔

اس عرصے کے دوران پٹرول، گیس اور بجلی کے نرخ میں اضافہ ہوا ہی ہے جس سے عوام کی زندگی اجیرن ہے ہی مگر اشیائے خور و نوش کی گرانی سب سے بڑا سوہان روح ہے۔ آٹا جو پیٹ کا دوزخ بجھانے کے لیے لازم ہے اس کی پیداوار میں ہم خود کفیل تھے لیکن اسی دور میں اس کی کمیابی اور گرانی غریب آدمی کے لیے کتنا بڑا مسئلہ بن چکی ہے یہ الفاظ میں بیان کرنا بھی مشکل ہے۔ آئے روز چند کلو آٹے کے حصول کے لیے قطار میں لگ کر پسینہ اور آنسو بہاتے لوگ دیکھ کر سینہ کٹ کر رہ جاتا ہے۔

حکومتی وزیروں مشیروں کے بیانات بے حسی و سنگدلی کا ساتھ عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔ کوئی وزیر کہہ رہا ہے کہ غریب آدمی روٹی کے نوالے بھی گن کر کھانا شروع کردے کوئی چینی کے دانے چائے میں کم ڈالنے کا مشورہ دے رہا ہے اور کئی وزیروں کی سوئی اب تک گزشتہ حکومتوں پر اڑی ہوئی ہے۔ ان کے خیال میں حالیہ مہنگائی کا ذمہ بھی پچھلی حکومتوں کے سر ہے۔ لغو بیان بازی اور بیہودہ یاوہ گوئی کے علاوہ حکومتی ذمہ داران کے پاس نا اہلی کو جسٹیفائی کرنے کا کوئی جواز ہے اور نہ ہی ملک کو گرداب سے نکالنے کی پالیسی۔

ہر سوال کا جواب وہی رٹا رٹایا ملتا ہے کہ ”شکر ادا کیا جائے کہ ورنہ حالات اس سے بھی بدتر ہو سکتے تھے۔ معلوم نہیں اس سے زیادہ بدتر حالات کیا ہو سکتے ہیں؟ نہایت دکھی دل کے ساتھ دیکھنا پڑ رہا ہے کہ عام آدمی اس وقت کیا سوچ رہا ہے اور اپنے مصائب کا ذمہ دار کسے ٹھہرا رہا ہے۔ اس ملک میں آمریت کا تجربہ بھی ہو چکا، نام نہاد جمہوری ادوار بھی دیکھ لیے اور اب ہائبرڈ نظام بھی انجام کی طرف گامزن ہے۔ دس سال کے لیے حقیقی جمہوریت کو بھی آزما کر دیکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments