رواں برس کا ادبی گرو: عبدالرزاق گرناہ
ناول نگار عبدالرزاق گرناہ کا تعلق بحر ہند میں تنزانیہ کے جزیرے زینجبار (Zanzibar) سے ہے جہاں اس نے 02 دسمبر 1948 ء کو جنم لیا۔ جب زینجبار میں 1964 ء میں انقلاب وقوع پذیر ہوا تو اس کے بعد ، وہ انگلستان نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوا کیوں کہ اب وہاں کے حالات ناساز گار تھے۔ ہجرت کے وقت گرنا نے عمر رواں کی صرف اٹھارہ بہاریں دیکھی تھیں۔ اگرچہ اس کی مادری زبان سواہلی تھی لیکن اس نے انگریزی کو ذریعہ اظہار بنایا اور 1968 ء کے لگ بھگ یونیورسٹی آف کینٹ (Kent) سے وابستہ ہو گیا۔
یہیں سے انھوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری 1982 ء میں حاصل کی۔ ان کے مقالے کا عنوان ”Criteria in the Criticism of West African Fiction“ تھا۔ مذکورہ یونیورسٹی میں انھوں نے سالہا سال مابعد نو آبادیاتی ادب کی تدریس کی اور انگریزی ادب کے پروفیسر کے طور پر 7102ء میں ریٹائر ہوئے۔ آج کل اسی یونیورسٹی میں پروفیسر آف ایمریطس کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
تنزانیہ سے تعلق رکھنے والے وہ پہلے ادیب ہیں جنھیں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا ہے۔ اب تک ان کے دس ناول شائع ہو چکے ہیں۔ 1994 ء میں ان کے ناول ”جنت“ (Paradise) کو بکر انعام (Booker Prize) کے لیے منتخب (Short list) کیا گیا جس سے انھیں بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی اور وہ پوری دنیا میں متعارف ہوئے۔ یہی ناول Whitebreadانعام کے لیے بھی منتخب ہوا۔ ”جنت“ اور اس کے دیگر ناولوں کے بیشتر موضوعات جوزف کانریڈ کے ناول ”قلب ظلمات“ (Heart of Darkness) کی توسیع معلوم ہوتے ہیں کیوں کہ عبدالرزاق گرناہ اس مروجہ تصور کو بدلنا چاہتا ہے جو مغربی دنیا نے افریقہ کے بارے میں قائم کر رکھا ہے اسی لیے وہ نوآبادیاتی نظام کو اپنے ناولوں میں ہدف تنقید بناتا ہے۔
اس کے ناولوں میں ہجرت، جلاوطنی، ریاستی وعدہ خلافیاں، نو آبادیاتی جبر اور سیاسی و سماجی مسائل اور غریب ممالک میں جنگی صورت حال کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال جیسے موضوعات نمایاں ہوئے ہیں۔ اس کے ناولوں کی لوکیل مشرقی افریقہ کے ساحل ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اٹھارہ سال کی عمر میں تنزانیہ سے نکل کر انگلستان تو چلا گیا مگر اس کے اندر سے نہ افریقی دنیا نکلی اور نہ یہاں کی زرخیز روایات اور رسم و رواج۔
اس نے جسمانی سطح پر تو اپنا وقت انگلستان میں گزارا لیکن ذہنی اور روحانی سطح پر وہ اپنے آبائی خطے میں ہی زندہ رہا جس کا ثبوت اس کی افسانوی کائنات میں واضح طور پر ملتا ہے۔ اس کے بیشتر ناقدین کے خیال میں، افریقی، عربی، فارسی اور جرمنی ادب کے اثرات اس کی تحریروں میں آسانی سے تلاشے جا سکتے ہیں۔ اس کی کئی کہانیوں کی بنیاد ”الف لیلیٰ“ پر استوار ہوئی ہے اور قرآنی تلمیحات کو بھی، وہ ماہرانہ انداز میں اپنے تخلیقی متن کا حصہ بناتے ہیں۔
مزید براں افریقی خطے کی ثقافتی اور مذہبی روایات بھی ان کے متن کے لاشعور کا جزو خاص ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے فکشن میں شکستہ اور منقسم شناخت کی بازگشت واضح طور پر سنائی دیتی ہے۔ ہجرت کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بے گھری کا احساس، اجنبیت اور تنہائی، وہ موضوعات ہیں جو اس کے تقریباً ہر ناول میں موجود ہیں۔
عبدالرزاق گرناہ کا پہلا ناول 1988 ء میں ”رخصتی کی یادداشت“ (Memory of Departure) کے عنوان سے منظر عام پر آیا جو مشرقی افریقہ کے ساحلوں کی کہانی ہے۔ اس ناول میں ایک نوجوان ہمہ گیر ریاست (Totalitarian Regime) کی چیرہ دستیوں کے خلاف کاربند ہے جسے کینیا میں اپنے مال دار چچا کے پاس رہنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے جہاں وہ وطن سے دوری اور ہجرت کے کرب سے گزر رہا ہے۔ دراصل یہ فرد کی ایک ایسے معاشرے کے خلاف جد و جہد ہے جو برق رفتار تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی غربت کے بوجھ کو برداشت کرنے سے قاصر ہے۔ فرد، محنت، لگن اور جانفشانی سے زندگی کے مقاصد کو پانے کی جستجو میں مصروف کار ہے لیکن حالات اس کے لیے ساز گار نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ”جادہئی زائرین“ (Pilgrims Way) اور ”ڈوٹی“ (Dottie) بھی انگلستان میں مہاجرین کے تجربے کے احساس کو موضوع بناتے ہیں۔
”جنت“ (Paradise) اس کاوہ ناول ہے جسے بکر انعام کے لیے منتخب کیا گیا تھا، یہ ناول 1994 ء میں اشاعت پذیر ہوا۔ اس میں یوسف نامی کردار کے ذریعے فرد کی اور پورے خطے کی معصومیت کی گم شدگی پر تفکر و تعمق کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ناول کا آغاز پہلی عالمی جنگ سے قبل کے زمانے سے ہوتا ہے جہاں یوسف کا کردار سامنے آتا ہے۔ یوسف کو ایک معاہدے کے تحت ایک تاجر کے ہاتھ اپنا ہی باپ فروخت کر دیتا ہے، جس کی بنیادی وجہ مفلوک الحالی اور قرض کی ادائی کی سکت نہ ہونا ہے۔
یوں یوسف مشرقی افریقہ میں انگلستان کے نو آبادیاتی نظام کی پیچیدگیوں کا شکار ہو تا ہے جس کے ذریعے ناول نگار جنگی صورت حال، تجارتی گروہوں کی شکستگی اور مقامی سطح پر موجود گروہوں میں عدم استحکام کو سامنے لاتا ہے۔ ”قابل تحسین سکوت“ (Admiring Silence) اس کا 1996 ء میں شایع ہونے والا ناول ہے۔ اس ناول میں ایک ایسے نوجوان کی کہانی پیش کی گئی ہے جو ”زین زی بار“ سے نقل مکانی کر کے انگلستان پہنچتا ہے۔ وہاں وہ تدریسی ذمہ داریاں سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ ازدواجی بندھن میں بھی بندھ جاتا ہے۔
چوں کہ وہ نسل پرستی کے خلاف مصروف عمل ہے اس لیے اسے انگریز معاشرے میں کئی مشکلات درپیش ہیں جن کا وہ سامنا کر رہا ہے۔ وہ دو ثقافتوں کے درمیان منقسم ہے اور دونوں ثقافتیں اسے جذب کرنے سے انکاری ہیں۔ 2001 ء میں شایع ہونے والا ”سمندر کنارے“ (By the Sea) گرنا کا ایک اور اہم ناول ہے جس کا مرکزی کردار صالح عمر پینسٹھ سال کی عمر میں اپنے ملک کی بد عنوانی اور لاقانونیت سے تنگ آ کر انگلستان میں پناہ حاصل کرتا ہے۔
صالح عمر اور لطیف محمد جیسے نمایاں کرداروں کے توسط سے ناول نگار نے انگلینڈ کے نقل مکانی کے قوانین میں موجود رخنوں کو بے نقاب کیا ہے۔ ناول مہاجرین کی آباد کاری اور انگلستان کی تنزل پذیر (Dystopian) افسر شاہی کو طنز کا نشانہ بناتا ہے۔ محبت، دھوکا دہی، جنسی کشش اور انسانی جذبوں کی شدت کو موضوع بناتی یہ کہانی افریقی اور یورپی معاشرے کی خوب صورت عکاس ہے۔ ”ویرانی“ (Desertion) ان کا ایک اور معروف ناول ہے جو 2005 ء میں شایع ہوا۔
یہ ناول مشرقی افریقہ کے ساحلوں کی سیاست، تاریخ اور تہذیب کا آئینہ دار ہے۔ اس میں محبت کی کہانیوں کی مدد سے دو مختلف ثقافتوں میں قربت دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ 1899 ء کے سال میں مارٹن پئیر مشرقی افریقہ کے ریگستان میں راستہ بھول کر افریقہ کے ساحلی قصبے میں داخل ہوتا ہے۔ حسن علی اس قصبے میں دکاندار ہے جو اس کی جان بچا تا ہے۔ حسن علی کی بہن ریحانہ اس کی تیمار داری کرتی ہے۔ یہ تیمارداری آگے چل کر محبت میں بدل جاتی ہے۔
پچاس سال بعد کہانی کے راوی کا بھائی ریحانہ کی پوتی کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے۔ دونوں محبتیں ثقافتی بعد کے باعث ناکام ہیں جس سے ان کے خاندان والے متاثر ہوتے ہیں۔ ناول نگار محبت کی گردش اور سیاسی گردش میں آہنگ تلاش کر کے ناول کو دلچسپ بنانے میں کامیاب ہوا ہے۔ ”سنگ دل“ (Gravel Heart) 2017 ء میں اشاعت پذیر ہوا جس میں تنہائی، شناخت، ہجرت، جلاوطنی اور غداری ایسے موضوعات کو کہانی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ناول تین حصوں میں منقسم ہے۔
پہلا حصہ زینجبار میں سلیم کی زندگی کو محیط ہے جہاں وہ ایک متمول گھرانے میں پرورش پا رہا ہے۔ اسے ماں کے بارے میں حقائق جان کر افسوس ہوتا ہے اور وہ اپنے غصے کے باعث تنہائی اور تذبذب کا شکار ہو جاتا ہے، اس کا انکل عامر بطور طالب علم اسے انگلینڈ چلے جانے کا مشورہ ہے جس پر وہ تیار ہو جاتا ہے۔ ناول کا دوسرا حصہ انگلستان میں سلیم کی زندگی کو موضوع بناتا ہے۔ وہ اجنبی سر زمین پر خود کو تنہا محسوس کرتا ہے اور تذبذب کا شکار ہے کہ وہ خود کو انگریزی ماحول کے، کیسے موافق بنائے۔ تیسرے حصے میں وہ وطن لوٹتا ہے جس سے قاری میں یہ احساس جنم لیتا ہے کہ وطن سے دوری انسان کی شناخت کی گم شدگی اور شکستگی کا باعث بنتی ہے۔
عبدالرزاق گرناہ کا فکشن نوآبادیاتی تسلط کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال، ثقافتی شکست و ریخت، قومی شناخت اور جلاوطنی جیسے موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔ اسی لیے نوبل انعام برائے ادب کی سویڈش کمیٹی نے ان کو 2021 ء کا انعام ”نوآبادیاتی اثرات اور پناہ گزینوں کو درپیش ثقافتی خلیج سے متعلق ان کی بے لوث اور گہری بصیرت کی وجہ سے دیا“ ہے۔ اینڈرس اولسن نے انھیں مابعد نوآبادیاتی موضوعات پر لکھنے والا بہترین ادیب قرار دیا۔ 1993 ء میں ٹونی مورسن کو نوبل انعام دیا گیا تھا، اس کے بعد اب 2021 ء میں عبدالرزاق گرناہ وہ سیاہ فام ادیب ہیں جنھیں اس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔


