یوسف خالد کی قطعہ نگاری

قطعہ نگاری کا سلسلہ تو اردو شاعری کے آغاز سے ہی ہو گیا تھا لیکن اس صنف نے بیسویں صدی کے نصف میں تیزی سے ترقی کی منازل طے کیں اور ادب کی مسلمہ اصناف کے مدِ مقابل اپنا مقام بنا لیا۔ اس دور میں شعرا کے باقاعدہ مجموعے اشاعت پذیر ہونے لگے جن کا سلسلہ معاصر عہد تک جاری و ساری ہے۔ اس صنف کو مولانا حالی، اکبر الہ آبادی، علامہ اقبال، مجید لاہوری، ظفر علی خان، اختر شیرانی

Read more

عبداللہ حسین کا ناولٹ ”رات“

ناولٹ نگاری کا فن قصہ تحریر کرنے کا جدید فن ہے جسے انسانی زندگی سے مربوط کیے بغیر، تخلیق کرنا ناممکن ہے۔ جس شد و مد سے ناول اور افسانہ زندگی سے انسلاک رکھتا ہے بالکل اسی طرح ناولٹ بھی زندگی سے جڑا ہوتا ہے۔ ناول اور افسانہ کے مانند یہ بھی جدید دور کی نمایندہ صنف ہے۔ اس صنف کی بنیاد تقسیم ِ ہندوستان سے پہلے پڑ چکی تھی لیکن اس کو فروغ تقسیم کے بعد ہوا۔ علامہ نیاز

Read more

رقص نامہ: پر ایک نظر

  اکیسویں صدی کے لکھاریوں میں کئی ایسے نام ہیں جنھوں نے ناول کی صنف میں طبع آزمائی کی۔ ان میں مرزا اطہر بیگ، حسن منظر، سید محمد اشرف، رحمان عباس، محسن خان، صدیق عالم، زیف سید، اختر رضا سلیمی، سید کاشف رضا اور رفاقت حیات جیسے اہم لکھاری شامل ہیں۔ ان ناموں میں سے ایک نام جیم عباسی کا بھی ہے۔ جن کے اب تک دو ناول ”رقص نامہ“ اور ”سندھو“ اور ایک افسانوی مجموعہ ”زرد ہتھیلی اور دوسری

Read more

جیمز جوائس بحیثیت فکشن نگار

بیسویں صدی کے معروف ناول نگار، شاعر، افسانہ نگار اور نقاد، جیمز جوائس دو فروری 1882 ء کو آئر لینڈ کے شہر ڈبلن میں، ایک متمول خاندان میں پیدا ہوئے۔ اس کی زندگی کے ابتدائی ایام آسودگی میں گزرے لیکن آگے چل کر دو شادیوں اور بیٹی (Lucia) کی علالت نے اسے ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا رکھا۔ اس مشکل اور اذیت ناک صورت ِ حال کے باوجود، اس کی تخلیقی قوت اور ذہانت میں کمی نہیں آئی اور

Read more

تحقیق و دریافت: ایک مطالعہ

تحقیق کسی بھی شعبے میں ترقی اور جدت کی بنیاد ہے۔ یہ نیا علم دریافت کرنے، موجودہ نظریات کو چیلنج کرنے اور مسائل کے حل تلاش کرنے کا ایک منظم عمل ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم اپنی دنیا کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں، چاہے وہ سائنس ہو، ادب ہو، تاریخ ہو یا کوئی اور مضمون۔ یہ ہمیں تنقیدی طور پر سوچنے، معلومات کا تجزیہ کرنے اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے۔ تعلیمی لحاظ سے،

Read more

ڈاکٹر محمد صادق کا علمی و ادبی سفر

بیسویں صدی برِصغیر میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہلچل اور تغیرات کی صدی ہے۔ اس میں جس تیزی اور برق رفتاری سے تبدیلیاں رونما ہوئیں وہ حیرت انگیز ہیں۔ اسی صدی کے دوران میں جہاں سائنس، فلسفے اور سیاست کی دنیا میں کئی نابغہ روزگار شخصیات نے جنم لیا وہیں علم و ادب کی دنیا میں بھی زرخیز دماغ پیدا ہوئے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں مولانا حسرت موہانی، ابوالکلام آزاد، علامہ محمد اقبال، علامہ عنایت اللہ مشرقی،

Read more

معنی کی تلاش۔ بدعت اور انحراف کی مثال

اُردو افسانے کی روایت کو سوا صدی گزر چکی ہے۔ اس دورانیے میں اِس صنف نے کئی رجحانات سے استفادہ کیا اور خود کو بدلتے تقاضوں سے ہمیشہ ہم آہنگ رکھا۔ ترقی پسند افسانہ نگاروں نے اس فن کو صحیح معنوں میں برتا اور ایسے افسانے تخلیق کیے جن کو عالمی ادب کے رو برو رکھا جا سکتا ہے۔ اردو افسانے کے ترقی پسند دور کو افسانے کے زریں دور سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا،

Read more

چالیس چراغ عشق کے : چند تاثرات

ایلف شفق کا تعلق جمہوریہ ترکیہ کی سر زمین سے ہے جس نے اورحان پاموک، احمت حمدی طانپنار، صباح الدین علی، عدالت اعولو اور یشار کمال جیسے نابغہ روزگار پیدا کیے۔ وہ ترکی اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھتی ہیں اور مشرق و مغرب میں یکساں مقبول ہیں۔ گزشتہ کچھ دہائیوں میں متصوفانہ ادب کے حوالے سے انھوں نے اپنی ایک خاص پہچان بنائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ناول ”Pinhan پر انھیں رومی پرائز سے بھی نوازا

Read more

جدید معاشرہ اور صنفی امتیازات

دینِ اسلام میں کوئی عورت حکمران یا کسی ملک کی سربراہ نہیں بن سکتی۔ علمائے اسلام کا خیال ہے کہ امورِ سلطنت کی نظامت مرد کے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتا اس لیے کہ عورت میں کچھ طبعی کمزوریاں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ شرعی حدود ہیں جس کے باعث وہ مردوں کے شانہ بہ شانہ مجالس و تقریبات میں شامل نہیں ہو سکتی۔ کچھ علما نے تو پیغمبرِ اسلام کی حدیث بھی پیش کی ہے کہ وہ

Read more

دسواں لائل پور پنجابی سلیکھ میلہ 2025

پنجابی ادب ک تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو اس کا آغاز فرید الدین گنج شکر کی شاعری سے ہوتا ہے۔ بعد ازاں بلھے شاہ، شاہ حسین، سلطان باہو، ہاشم شاہ، خواجہ فرید، وارث شاہ، میاں محمد بخش اور پیر مہر علی جیسے بزرگان نے اس کو ادبی معراج عطا کی۔ دمودر، پیلو، گرو نانک، موہن سنگھ، امرتا پریتم، شریف کنجاہی، شو کمار، استاد دامن، منیر نیازی، منو بھائی اور احمد راہی جیسے شعرا نے اس کی آبیاری کر کے،

Read more

”آنکھ اور اندھیرا“ کا کرداری مطالعہ

سیدہ عفرا بخاری نے افسانے تخلیق کرنے کا آغاز ساٹھ کی دہائی میں ”لیل و نہار“ سے کیا اور پھر اُردو افسانے کے سنجیدہ قارئین کے قلب و ذہن کو طویل عرصے تک متاثر کرتی رہیں۔ اپنے عہد کے مؤقر جرائد، جیسے سویرا، سیپ، نقوش، ادب لطیف، ماہِ نو اور فُنون نے ان کے افسانوں کو اپنے صفحات کی زینت بنایا۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ”فاصلے“ کے عنوان سے 1964 ءمیں میری لائبریری، لاہور سے شائع ہوا تھا اور

Read more

اکیلے لوگوں کا ہجوم : تعارف و تجزیہ

اردو افسانے کے آغاز کو تقریباً سوا سو سال گزر چکے ہیں۔ اس دوران میں اُردو افسانے کی تاریخ میں کئی رجحانات پیدا ہوئے اور پھر ماند پڑ گئے۔ اس ضمن میں سماجی حقیقت نگاری، رومانویت، اشتراکی حقیقت نگاری، تجریدیت، علامت پسندی اور شعور کی رو وغیرہ کے تجربات، نمایاں ہیں۔ ان تحریکوں اور بیانیہ تکنیکوں کی بدولت جہاں افسانے کے موضوعات میں تنوع آیا، وہیں فنی لحاظ سے اس میں گہرائی اور گیرائی بھی پیدا ہوئی۔ ترقی پسند تحریک

Read more

”اردو املا: مسائل و مباحث کی روایت“ ایک تعارف

ڈاکٹر ابرار خٹک کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ سے ہے۔ وہ اس وقت خوشحال خان خٹک ڈگری کالج، کوڑہ خٹک، نو شہرہ میں اُردو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ اب تک میری ان سے بس ایک ہی ملاقات رہی ہے، وہ بھی اس وقت جب وہ لائلپور تشریف لائے تھے۔ ان کے ساتھ جتنا وقت گزرا، اس میں زیادہ تر علمی موضوعات پر بحث رہی۔ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا ذریعہ محمد عابد بنے جنھوں نے ان

Read more

”سات آسمان“ : جاگیرداری کا نوحہ

اصغر وجاہت ہندی ادب کا معتبر نام ہیں جنھوں نے ساٹھ کی دہائی میں اپنے فن سے ہندوستانی قارئین کی کثیر تعداد کو متاثر کیا۔ ان کی بنیادی شناخت استاد کی ہے۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ ہندی کے طویل عرصہ استاد رہے ہیں اور یورپ کی متعدد یونیورسٹیوں میں کئی لیکچرز دیے۔ انھیں کہانی بیان کرنے کے فن پر خاص مہارت رہی۔ فکشن کے ساتھ ساتھ انھوں نے تقریباً تمام نثری اصناف میں طبع آزمائی کی اور ادبی

Read more

پنجابی کہانیاں : ایک مطالعہ

”پنجابی کہانیاں“ ڈاکٹر سمیرا اکبر کی تازہ کتاب ہے جو تجزیہ پبلیکیشنز، فیصل آباد سے جنوری 2025 ء میں شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں اٹھارہ پنجابی افسانوں کو منتخب کر کے اُنھیں اُردو روپ دیا گیا ہے۔ افسانوں کا انتخاب ڈاکٹر صاحبہ کے ذوقِ مطالعہ پر منحصر ہے اگر کوئی صاحب اس کی تحقیقی اور تدوینی وجہ تلاش کرے تو اسے یقیناً مایوسی کا سامنا ہو گا۔ مذکورہ کتاب کے تمام افسانے انسان دوستی، رواداری اور محبت کے جذبے

Read more

پنجاب کے صوفی دانشور: تعارف و تجزیہ

”پنجاب کے صوفی دانشور“ معروف دانشور قاضی جاوید کی کتاب ہے جس میں انھوں نے پنجاب کی تقریباً ایک ہزار سالہ تاریخ میں ایسے صوفیا کی تعلیمات کا انتخاب، ہمارے سامنے پیش کیا ہے جنھوں نے عوام کے دل و دماغ کو متاثر کیا۔ ان صوفیا نے پنجاب کی تہذیبی و ثقافتی روایت کی تشکیل اور عوام کی اخلاقی پاکیزگی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اسی لیے پنجاب کے صوفیا کے فکری نظام کو سمجھے بغیر پنجاب کے سماج

Read more

ناول ”کائٹ رنر“ میں علامت نگاری

خالد حسینی، افغان نژاد امریکی ناول نگار اور معالج ہیں جنھوں نے اپنے پہلے ہی ناول ”کائٹ رنر“ سے شہرت کے قراقرم کو سر کرنے میں کامیاب ہوئے اور ادبی ناقدین سے سندِ قبولیت حاصل کی۔ ان کے دیگر مشہور ناولوں میں ”اے تھاؤزنڈ سپلنڈڈ سنز“ اور ”اینڈ دی ماؤنٹینز ایکوڈ“ شامل ہیں۔ ان کے والد، ناصر حسینی، افغان وزارت خارجہ میں، اور ان کی والدہ ہائی سکول میں فارسی ادب کی معلمہ تھیں۔ 1976 میں، جب خالد کی عمر

Read more

ناول ”سندھو“ کا تہذیبی مطالعہ

ایک عرصے تک آثارِ قدیمہ کے ماہرین وادی سندھ کی تہذیب کے بارے میں لاعلم تھے۔ ان کا خیال تھا کہ برِ صغیر میں انسانی تہذیب کا آغاز آریاؤں کی آمد سے ہوا ہے جو 2500 ق م سے 1500 ق م تک ہندوستان میں وارد ہوتے رہے۔ گزشتہ صدی کی دوسری دہائی میں جب سندھ کی قدیم تہذیب کی دریافت ممکن ہوئی تو دنیا کو معلوم ہوا کہ یہاں، ایک ایسی تہذیب موجود رہی ہے جسے ترقی یافتہ تہذیبوں

Read more

ایک بے خواب دوپہر کا فلیش بیک: چند تاثرات

اردو افسانے کے ارتقا کا جائزہ لیا جائے تو ابتدا ہی سے خواتین افسانہ نگار، افسانے کے اُفق پر جلوہ افروز دکھائی دیتی ہیں۔ حجاب امتیاز علی، قرۃ العین حیدر، رشید جہاں، عصمت چغتائی اور ممتاز شیریں سے لے کر عصرِ حاضر تک ایک طویل فہرست ہے جن کے محض نام بھی درج کیے جائیں تو کئی صفحات درکار ہوں گے۔ ان خواتین کے افسانے سیاسی، سماجی اور فنی پختگی کا صریح ثبوت ہیں۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں عورت

Read more

لغت اور فرہنگ میں فرق

لغت اور فرہنگ ایک ہی شے کے دو نام نہیں بلکہ ان میں لطیف سا فرق موجود ہے جسے یونیورسٹی سطح کے طلبا بھی محسوس کرنے سے اکثر قاصر رہتے ہیں۔یہاں تک کہ انگریزی میں بھی دونوں کے لیےالگ الگ الفاظ مستعمل ہیں ۔انگریزی میں لغت کو Dictionary اور فرہنگ کو Glossary سے موسوم کیا جاتا ہے۔ذہن میں رہے کہ لغت میں زبان کے تمام الفاظ بلاتخصیص درج کر لئے جاتے ہیں ۔ اس میں ایسے الفاظ کا اندراج بھی

Read more

”درختی گھر“ کے افسانے : ایک تاثر

عکس پبلی کیشنز کے محمد فہد نے گزشتہ ماہ انیس احمد کا ناول ”نکا“ ارسال کیا تو اس کے ہمراہ عبدالوحید کے افسانوں کا مجموعہ ”درختی گھر“ بھی بطور تحفہ ارسال کیا۔ زندگی کی مصروفیات میں ایسا کھویا کہ اس کا مطالعہ تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔ عبدالوحید سے اس پہلے میں اس حد تک واقف تھا کہ وہ انجمن ترقی پسند مصنفین لاہور کے طویل عرصے صدر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ میری ان سے واقفیت نہیں۔ یہ تو

Read more

انٹر نیشنل لائلپور ہسٹری کانفرنس اور مقامی شناخت کا بیانیہ

ادب، سیاست اور تاریخ کے طالب علم کے لئے تقسیمِ ہندوستان کے پچھتر سال بعد بھی یہ سوال اہم ہے کہ ہمارا قومی بیانیہ کیا ہو؟ لہٰذا ہم اس کی تلاش میں سر گرداں ہیں۔ تقسیمِ ہندوستان کے فوراً بعد کہا گیا کہ چونکہ ہندوستان میں ہندو اکثریت میں ہیں اس لئے عین ممکن تھا کہ وہ مسلمانوں کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی حقوق غصب کر لیتے، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے الگ وطن ضروری تھا۔ اس لیے

Read more

زندگی ریل کا سفر تو نہیں

شاعرانہ تخیل اور فکری جہت، اپنے لیے اظہار کے قالب کا اہتمام خود ہی کیا کرتی ہیں۔ ذہن میں رہے کہ تخیل کی موزونیت وہ نکتہ ہے جو کسی شعری صنف میں جان ڈالتا ہے، باقی شاعر پر منحصر ہے کہ وہ علائم کی پہلو داری اور لفظیات کی لطافت سے اس صنف کو ، چاہے تو بامِ عروج پر پہنچا دے، چاہے تو عامیانہ بنا دے۔ پچھلی کئی دہائیوں سے نثری نظم نے متنازع ہو نے کے باوجود اپنے

Read more

ناول ”جنگل میں منگل“ کا تجزیاتی مطالعہ

ناول ”جنگل میں منگل“ کا تجزیاتی مطالعہ، ساختیاتی وظائفیت کے تناظر میں اکیسویں صدی کے اُردو ناول پر نظر ڈالی جائے تو کئی نام ناول کے منظر نامے پر دکھائی دیتے ہیں جن میں شمس الرحمان فاروقی، مرزا اطہر بیگ، حسن منظر، عاصم بٹ، طاہرہ اقبال، خالد فتح محمد، محمد الیاس، رحمان عباس، صدیق عالم، سید محمد اشرف اور اختر رضا سلیمی کے نام بطورِ خاص نمایاں ہیں۔ ان ناول نگاروں نے جدید انسان کے مسائل اور اکیسویں صدی میں

Read more

"قدرِ مشترک : "درُونِ ذات کی سُلگ

سمیع اللہ عرفی سے اپنا تعارف اتنا پُرانا تو نہیں لیکن اپنائیت کا احساس ایسا ہے جیسے ہم کئی جنموں سے دوست ہوں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اُن سے میری پہلی ملاقات حلقہ اربابِ ذوق، لائلپور کے ایک اجلاس میں ہوئی جس میں اُن کی ایک نظم تنقید کے لئے پیش کی گئی تھی۔ نظم، جدید استعارات و علامات کا مرقع تھی مگر نقاد روایتی تنقیدی و ادبی اوزاروں سے لیس ہو کر اس کے پیکر کے اندرون میں

Read more

جیب کترے: نیر اقبال علوی کی افسانہ نگاری

نیر اقبال علوی معاصر عہد میں ان افسانہ نگاروں کی فہرست میں شامل ہیں جنھوں نے اُردو افسانے کے معیار اور وقار کو اعتبار بخشا ہے۔ اب تک ان کے سات افسانوں کے مجموعے منظرِ عام پر آ چکے ہیں جن میں ”عالمِ سوز و ساز“ ، ”جہانِ رنگ و بو“ ، ”سلسلۂ روز و شب“ ، ”ہنگامۂ رنگ و صوت“ ، ”پاگل خانہ“ ، ”باؤلے کتے“ اور ”می رقصم“ شامل ہیں۔ ان افسانوں کے توسل سے انھوں نے قارئین

Read more

"تضادات”: چند تاثرات

ملک کے بائیں بازو کے حلقوں میں رشید مصباح سے کون واقف نہیں۔ ان کا تعلق تو لائلپور سے تھا، اور انھوں نے انقلابی سیاست کا آغاز بھی لائلپور ہی سے کیا اور پھر لاہور کے ہو کر رہ گئے۔ ان کی شخصیت کی کئی جہات ہیں، وہ سیاست دان بھی تھے، افسانہ نگار بھی تھے، ترقی پسند تجزیہ نگار بھی تھے اور اس کے علاوہ مدرس اور منتظم بھی تھے۔ نیشنل سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے لے کر پاکستان انقلابی پارٹی

Read more

فرانز کافکا اور اردو فکشن

3 جون 1924 ء کو جب فرانز کافکا، تپِ دق کی تاب نہ لاتے ہوئے، ویانا کے سینی ٹوریم میں، مادی عالم سے ماورائی عالم میں منتقل ہوا تو ادبی دنیا میں کوئی ہلچل محسوس نہ ہوئی۔ اس لیے کہ وہ اس وقت جرمن زبان کا ایک غیر معروف فکشن نگار تھا۔ جس لمحے وہ فوت ہوا اس کی کئی تحریریں غیر مطبوعہ تھیں جن کے بارے میں اس نے سخت نصیحت کی تھی کہ ان کو جلا دیا جائے

Read more

"متن ،قرات اور نتائج”:تعارفی مطالعہ

تخلیق، تنقید اور تحقیق ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ ان میں سے ایک بھی کمزور پڑ جائے تو ادب کا معیار تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔ محاسن و معائب میں فرق کرنا ،اوصاف و اقدار کا تعین کرنا اور موازنہ و ترجیح اس کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ شوماخر نے اپنی کتاب “Elements of Critical Theory”میں تنقید کے حوالے سے جس چیز پر زیادہ زور دیا ہے ،وہ غیر جانب داری(Unbiasedness)ہے۔معاصر عہد میں کئی ایسے ناقدین ہیں

Read more

”جستِ فکر“ پر طائرانہ نظر

ڈاکٹر حسن فاروقی سے اپنا تعلق اتنا پرانا تو نہیں لیکن اس کے باوجود ان کی شخصیت میں کشش ایسے محسوس ہوتی ہے جیسے ہم صدیوں سے ایک ساتھ ہوں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا بہتر جواب تو پیرا سائیکالوجی کے ماہرین ہی دے سکتے ہیں لیکن میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ قلم قبیلے کے افراد میں یہ کشش، فطرت نے ازل سے رکھی ہوئی ہے۔ جب بھی مجھے حرف و سخن سے جڑا ہوا کوئی شخص ملتا

Read more

منیر نیازی: شخص اور شاعر

منیر نیازی کا شمار عہدِ حاضر کے ان شعرا میں ہوتا ہے، جنھوں نے عصرِ حاضر کی شاعری کو نئے تخلیقی اُفق اور طرزِ اظہار کے جدید انداز سے روشناس کرایا۔ اُنھوں نے بیک وقت اُردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں تخلیقی کاوشوں کا اظہار کیا۔ شاعری کے ساتھ ساتھ انھوں نے نثر کے میدان میں بھی اپنی تخلیقی سرگرمیوں کا لوہا منوایا، جس میں افسانہ، کالم نگاری، ڈراما، اداریے، کُتب پر تبصرے، فلیپ اور ایک ادھورا ناول، اس کا

Read more

”ہجر کربناک ہوتا ہے“ :ایک تاثر

شاعری احساس اور جذبے کو مجسم کرنے کا فن ہے۔ یہ الفاظ کی ایسی جادوگری ہے کہ جذبے اور الفاظ کی ہم آہنگی سے پراسرار شعری آہنگ تخلیق کرتی چلی جاتی ہے۔ ارفع تخیل اور عمدہ فکر کے امتزاج سے تشکیل پذیر ہونے والی شاعری قاری کے قلب و روح کو سحر آگیں کیفیات سے سر شار کر دیتی ہے۔ ”ہجر کربناک ہوتا ہے“ کی شاعری منفرد اور ممتاز اسلوب کی شاعری ہے۔ ڈاکٹر میمونہ سبحانی نے مذکورہ کتاب کی

Read more

ادب اور ڈاڈازم

ڈاڈازم کی تحریک جدیدیت کا مظہر ہے جس کا آغاز پہلی جنگ عظیم کے دور میں ہوا۔ جرمنی، فرانس اور اس کے ملحقہ ممالک کے ادیب جنگی صورت حال اور حکومتوں کے سیاسی عزائم کے خلاف اپنی آواز بلند کرنا چاہتے تھے۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ پہلی عالمی جنگ کے شروع ہونے کے ساتھ ہی بہت سے ادیب اپنے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ جس کے نتیجے میں سویٹزر لینڈ میں بہت سے ادبا کا اکٹھ ہو گیا۔ سماجی

Read more

ادب اور اظہاریت پسندی

ادیب اور شاعر کے باطن میں جنم لینے والے خیالات و جذبات کو ادب کی کسی بھی صنف میں بیان کرنے کا نام اظہار ہے اور اظہار کے عمل کو اظہاریت سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جدید ادب میں اظہاریت (Expressionism) ، موضوعی صورتِ حال کو معروضی صورتِ حال کے بیان، پر زیادہ ترجیح دیتی ہے۔ اس طرزِ اظہار میں محض قلبی اور باطنی جذبات ادبی تحریر کا حصہ بنتے ہیں۔ اس میں ظاہری رنگ و روپ اور دوسری صفات

Read more

ڈاکٹر خاور نوازش کی کتاب: ”موقف کی تلاش“

بد قسمتی سے پاکستان میں تنقیدی سوچ اور منطقی انداز فکر کو سراہے جانے کا چلن رواج نہیں پا سکا بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ رویہ اس قدر جڑ پکڑ چکا ہے کہ جو بھی بات ہمارے عقائد اور مسلمات سے متصادم ہو رہی ہو، اسے یا تو یکسر مسترد کر دیا جاتا ہے یا پھر اس کے خلاف محاذ تشکیل دے لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ہماری قوم دنیا

Read more

حماس اسرائیل مقاومت کا پس منظر

تھیوڈور ہرزل، صیہونیت کا بانی خیال کیا جاتا ہے۔ صیہونیت یہودیوں کی قومی تحریک ہے جو یہودیوں کے وطن کے قیام کی خواہاں ہے۔ اس وطن کو وہ اسرائیل سے موسوم کرتے ہیں جو ان کے خیال میں کنعان، ارض قدس اور فلسطین کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ سلطان عبدالحمید کی تخت نشینی سے ایک سال پہلے 1875 ء میں سلطنت عثمانیہ جنگ کریمیا ہار کر معاشی طور پر کمزور ہو چکی تھی۔ اسی باعث

Read more

ناول ”دشت سوس“ اور حسین بن منصور حلاج ”

لاہور رائٹرز بک کلب سے 1983 ء میں اشاعت پذیر ہونے والا ناول، ”دشت سوس“ جمیلہ ہاشمی کے ان ناولوں میں شمار ہوتا ہے جنھوں نے، اردو ناول نگاری کو موضوعاتی اور اسلوبی سطح پر خاص جہت عطا کی۔ اس کے علاوہ ان کے معروف ناولوں میں ”تلاش بہاراں“ جیسا ناول بھی شامل ہے جو 1961 ء میں منظر عام پر آیا تھا، جس میں انھوں نے ہندوستان میں، عورت پر ہونے والے جبر و استحصال کو پیش کیا ہے۔

Read more

ارنستو سباتو کا ناول ”سرنگ“ :تعارفی مطالعہ

ارنستو سباتو 1911 ء کو ارجنٹینا میں ایک چھوٹے سے گاؤں ”روجاس“ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے ہی ملک سے حاصل کی اور اعلی تعلیم کے سلسلے میں پیرس منتقل ہو گئے۔ وہاں انھوں نے طبعیات کے علم میں دسترس حاصل کی، تحقیق و تدریس اور تخلیق کو زندگی کا مقصد بنایا اور یونیورسٹی میں طبعیات کی پروفیسرشپ پر فائز ہوئے۔ طبعیات کے ساتھ ساتھ سائنس کے دیگر مضامین میں بھی، ان کی معلومات حیرت انگیز تھیں۔

Read more

پہلی چپ کا شور: چند تاثرات

جس طرح عناصر فطرت کی اپنی ہی منطق اور ترتیب ہوتی ہے بالکل ایسے ہی تخلیق کی بھی اپنی منطق ہوتی ہے۔ تخلیق کے بے ساختہ عمل میں احساس کی جس نزاکت، کو ملتا اور تازگی کی ضرورت ہوتی ہے وہ ریاضت، لگن اور ان تھک محنت کے بغیر صریر خامہ میں ڈھل کر نوائے سروش نہیں بن سکتی۔ اگر عصر حاضر کے افسانہ نگاروں کے افسانوں کا ژرف نگاہی سے جائزہ لیا جائے تو عیاں ہوتا ہے کہ ان

Read more

سگرید اندسیت کا ناول ”ینی“ :تعارفی مطالعہ

ڈاکٹر عبدالعزیز ملک، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد سگرید اندسیت جسے 1928 ء میں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا، کا تعلق ناروے کی سرزمین سے ہے۔ ان کے والد ماہر آثار قدیمہ تھے، اسی لیے انھیں بچپن سے ہی ناروے کے ماضی، ثقافتی کہانیوں اور اس خطے کی تاریخ سے دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین، سگرید کی ذاتی زندگی اور والد کے پیشے کے اثرات کو باآسانی اس کی

Read more

یوسف خالد : فکر و احساس کا شاعر

الفاظ کی جادوگری کو شاعری سے موسوم کرنا بے جا نہیں ،کیوں کہ یوسف خالد جب الفاظ اور جذبے کے نامیاتی کل سےشعری آہنگ تخلیق کرتے ہیں تو قاری کے قلب و ذہن میں جمالیاتی سر شاری کی سحر آگیں کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔ان کیفیات کے بیچ میں سے ان کا منفرد اُسلوب اور طرزفکر جنم لیتا ہے جو قاری کو شعورو آگہی کا نور عطا کرتا چلا جاتاہے۔یوسف خالد کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ وہ نثری

Read more

ایڈ ورڈ سعیدکی کتاب‘‘Covering Islam ’’کی توضیحی قرأت

ایڈورڈ سعید بیسویں صدی کے نامور دانشوروں میں سے ایک تھے جو 2003 ء میں 67 سال کی عمر میں، کینسر کے عارضے میں مبتلا ہو کراس دنیا کو خیر باد کہ گئے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ عالم کی موت، ایک عالم کی موت ہوتی ہے۔ یہ قول ایڈورڈ ڈبلیو سعید کے حوالے سے صد فی صد درست ہے، وہ ہمہ جہت شخصیت تھے، اسی لیے ان کی موت دانشوری کے ایک باب کا اختتامیہ ثابت ہوئی ہے۔ ادیب

Read more

"مہوشاں”: چند تاثرات

ماریہ مہوش سے میری شناسائی اتنی پرانی نہیں بلکہ پہلا تعارف کرونا کے دوران، حلقہ ارباب ذوق کراچی کے آن لائن اجلاسوں سے ہوا۔ وہ ان اجلاسوں میں جس شوق اور جذبے سے شریک ہوتی تھیں، وہ قابل داد تھا۔ کبھی پروگرام کی نظامت کے فرائض انجام دیتیں، کبھی اپنی سحر کن آواز میں نظمیں سناتیں اور کبھی دیگر تخلیق کاروں کی تخلیقات پر ناقدانہ گفتگو کرتیں۔ بہت بعد میں معلوم ہوا کہ انھوں نے فلسفے میں ماسٹر کر رکھا

Read more

سی سنو اور ”دو ثقافتیں“

سی پی سنو، (Charles Percy Snow) انگلستان سے تعلق رکھنے والے ناول نگار اور سائنس دان ہیں۔ جن کا لیکچر ”دو ثقافتیں“ (Two Cultures) خاصا معروف ہوا اور ان کے معاصرین نے اس پر خاصی تنقید بھی کی۔ وہ کیمبرج یونیورسٹی کے شعبہ طبیعیات میں بیس برس پروفیسر کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کی شہرت بحیثیت ادیب اس وقت سامنے آئی جب انھوں نے 1950 ء میں برطانوی ادیبہ پامیلا بینس فورڈ جانسن سے شادی کر لی۔ سی پی

Read more

سی پی سنو اور ”دو ثقافتیں“

سی پی سنو، (Charles Percy Snow) انگلستان سے تعلق رکھنے والے ناول نگار اور سائنس دان ہیں۔ جن کا لیکچر ”دو ثقافتیں“ (Two Cultures) خاصا معروف ہوا اور ان کے معاصرین نے اس پر خاصی تنقید بھی کی۔ وہ کیمبرج یونیورسٹی کے شعبہ طبیعیات میں بیس برس پروفیسر کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کی شہرت بحیثیت ادیب اس وقت سامنے آئی جب انھوں نے 1950 ء میں برطانوی ادیبہ پامیلا بینس فورڈ جانسن سے شادی کر لی۔ سی پی

Read more

کنڈیرا کا ناول ”پہچان“: تنقیدی مطالعہ

منگل 11 جولائی 2023 ء کو دنیا کے عظیم ناول نگار میلان کنڈیرا، فرانس کے دارالحکومت پیرس میں انتقال فرما گئے۔ ان کا وطن چیکو سلواکیہ تھا لیکن وہ 1975ء سے فرانس میں مقیم تھے۔ 1979 میں ان سے چیکو سلواکیہ کی شہریت چھین لی گئی۔ 1991 ء میں فرانس نے انھیں شہریت سے نوازا۔ تب سے وہ فرانس میں مقیم تھے۔ ایک عظیم انسان کی وفات نے ان تمام لوگوں کو افسردہ کر دیا، جن کا تعلق قلم قبیلے

Read more

مردوں کی منڈی

کہا جاتا ہے کہ جہاں دو برتن ہوں وہ بھی ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ہمارے شہر میں برتنوں کے ٹکرانے کے باعث کانوں پڑی آواز نہیں سنائی دیتی تھی۔ تانبے کی مٹکیاں، پیتل کی گاگروں کے ساتھ جھگڑا کرتی رہتی تھیں۔ قلعی کیے ہوئے لوٹے بے قلعی گڑویوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے تھے۔ چموڑے حقے ہٹ ہٹ کر درختوں کے تنوں پر گرتے تھے اور ہر طرف چھن چھنا چھن

Read more

”باڑ کے اس پار“ : ایک تعارف

”باڑ کے اس پار“ (The Boy in The Striped Pajamas) آئر لینڈ کی سر زمین سے تعلق رکھنے والے، جان بوئین کا ناول ہے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران، جرمنی میں رہنے والے ایک نوجوان لڑکے برونو کی کہانی، بیان کرتا ہے۔ برونو کے والد ایک نازی کمانڈنٹ ہیں، فوجی حکمت عملی کے تحت برونو کا خاندان ایک حراستی کیمپ کے قریب ایک نئے گھر میں منتقل ہونے پر مجبور ہوتا ہے۔ نئے گھر میں منتقل ہونے کے بعد

Read more

قوم پرستی اور تاراس بلبا

بیلا روس، روس، یوکرین اور بحر بلقان پر مشتمل خطہ، ایک ہی طرح کی ثقافت اور معاشرت کا حامل ہے۔ روس اور یوکرین کی چپقلش کی کیا وجوہات ہیں اس سے قطع نظر، یوکرین کو دیکھیں تو مغربی اور مشرقی یوکرین ایک دوسرے سے خاصے مختلف نظر آتے ہیں۔ مذکورہ بالا خطے میں عیسائیت ایک غالب مذہب کے طور پر موجود رہی ہے یہی وجہ ہے کہ یوکرین میں حضرت عیسیٰ کے پیروکاروں کی وسیع تعداد موجود ہے لیکن ان

Read more

چڑیا گھر کی کہانی

(1) چڑیا گھر میں گہما گہمی اور ہلچل موجود تھی۔ چڑیوں کی جالیاں، کبوتروں کی کابکیں، بطخوں کے جو ہڑ، لومڑوں، گیدڑوں، بھیڑیوں، گھوڑوں، بندروں اور لنگوروں کے کمرے، شیروں، چیتوں، سوروں، ریچھوں، ہرنوں، ہرنیوں اور بارہ سینگھوں کے پنجرے گوند کی سی چپچپاہٹ سے بھرے دکھائی دے رہے تھے۔ ہلکی سی ٹھنڈی ہوا  نے چلنا، یا ذرا سا مینہ برسنا تو موروں نے محو رقص ہو جانا۔ بلبلوں نے گیت گانا شروع کر دینا۔ تو توں نے کھوہوں میں

Read more

”خواب سراب کے بھید“ :چند تاثرات

کسی نہ کسی توسل سے روزانہ کئی کتابیں موصول ہوتی ہیں۔ کچھ کتابوں کی طباعت بڑی دلکش اور دیدہ زیب ہوتی ہے لیکن وہ مواد کے اعتبار سے ایسی نہیں ہوتیں کہ انھیں زیادہ دیر زیر مطالعہ رکھا جا سکے۔ انھیں صرف دیکھا جاتا ہے اور دیکھ کر رکھ دیا جاتا ہے۔ کچھ کتابیں پڑھنے والی ہوتی ہیں، انھیں پڑھا جاتا ہے، یاد رکھا جاتا ہے، ان میں اتنی کشش ہوتی ہے کہ بار بار پڑھنے کو من کرتا ہے۔

Read more

اکبر لاہوری کا پنجابی افسانہ: آپا

آپ شاید اکبر لاہوری کو نہ جانتے ہوں۔ میں بھی نہیں جانتا تھا۔ مگر آپ تو شاید منیر لاہوری کو بھی نہیں جانتے۔ میں جانتا ہوں۔ کوئی چالیس بیالیس برس پرانی بات ہے۔ میں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ تب بی اے کے لئے لازمی اور منتخب مضامین کے علاوہ سو نمبر کا ایک اختیاری مضمون بھی چننا ہوتا تھا۔ اس کے لئے فارسی، عربی اور پنجابی کی فہرست موجود تھی۔ عربی میں مجھے دلچسپی نہیں تھی اور

Read more

اردو ناول جدیدیت کے تناظر میں: تعارفی مطالعہ

ڈاکٹر مظہر عباس شعبہ اردو، دی اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔ فکشن اور تنقید ان کے خاص میدان ہیں۔ ناول کی دلچسپی ہی تھی جس کے باعث انھوں نے ڈاکٹریٹ کے لیے ”اردو ناول پر جدیدیت کے فکری و فنی اثرات“ جیسا موضوع منتخب کیا۔ ان کی تازہ کتاب ”اردو ناول جدیدیت کے تناظر میں“ ان کے پی ایچ ڈی کے موضوع کی ترمیمی شکل ہے جسے فکشن ہاؤس لاہور نے 2023 ء

Read more

ڈاکٹر روش ندیم کی دو کتابیں

ڈاکٹر روش ندیم دور حاضر کے سماجی، ثقافتی، سیاسی اور تہذیبی منظر نامے پر عمیق نظر رکھنے والے روشن خیال دانشور ہیں۔ ان کی جنم بھومی تو ساہیوال (منٹگمری) ہے لیکن انھوں نے شہر اقتدار کے نواح، راول پنڈی کو مستقر بنا لیا ہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد کچھ عرصہ انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام میں تعلیمی، تدریسی اور تحقیقی خدمات انجام دیں۔ پھر پی پی ایس سی کے

Read more

”ادب، زندگی اور سیاست“: ایک تعارف

ڈاکٹر خاور نوازش بہاءالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان میں اس وقت ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے میں انھوں نے محنت، ذہانت اور ترقی پسند نقطہ نظر کے باعث خاص پہچان حاصل کی ہے۔ تحقیق، تنقید، تنظیم اور تدریس ان کے خاص میدان عمل ہیں۔ ”ادب، زندگی اور سیاست“ ڈاکٹر خاور نوازش کی مرتبہ کتاب ہے جو مثال پبلشرز، فیصل آباد سے 2012 ء میں شایع ہوئی۔ اس کتاب میں انھوں نے ان مضامین کا انتخاب

Read more

چیٹ جی پی ٹی اور پاکستان کا اعلی تعلیمی نظام

انسان اس بات کا ہمیشہ خواہش مند رہا ہے کہ وہ ایسی ایجادات یا خود کار مشینیں سامنے لائے جو انسانوں کے مانند سوچ سکیں اور پھر اس پر عمل بھی کر سکیں۔ اسی خواہش کے تحت اب انسان نے ایسی مشینیں ایجاد کرنا شروع کر دی ہیں جو انسان کی طرح نہ صرف سوچ سکتی ہیں بلکہ اس پر عمل بھی کر سکتی ہیں۔ یہ مشینیں مصنوعی ذہانت کی حامل ہیں جو شطرنج کھیلنے سے لے کر ریاضی کے

Read more

”نظریہ قومیت:عالمی و مقامی تناظر“ :تعارفی مطالعہ

ڈاکٹر غلام اصغر خان اس وقت دی اسلامیہ یونیورسٹی، بہاول پور میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں جنھوں نے ”علامہ اقبال نظریہ قومیت و وطنیت“ کے عنوان سے مقالہ تحریر کر کے 2018 ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اسی مقالے کے ابتدائی باب میں ضروری ترامیم و اضافے کے بعد انھوں نے اسے کتابی شکل دی تاکہ ہر خاص و عام، ان کی محنت اور تحقیقی کاوش سے مستفید ہو سکے۔ اس اہم کام

Read more

ضیا بار افراد کے خطوط بنام پروفیسر اصغر عباس (علی گڑھ) : ایک تعارف

انگریزوں کی ہندوستان آمد سے جہاں زندگی کے دیگر معاملات متاثر ہوئے وہیں رسل و رسائل نے بھی اثرات قبول کیے۔ ڈاک کا محکمہ قائم ہوا اور خطوط ارسال کرنے کا رواج عام ہوا۔ تحقیق کے مطابق جو پہلا خط دریافت ہوا ہے وہ 1822 ء کا ہے لیکن اردو ادب میں غالب کے خطوط نے جو شہرت حاصل کی وہ کسی اور کے نصیب میں نہیں آئی۔ ”عود ہندی“ اور ”اردوئے معلیٰ“ کے توسل سے اس عہد کی سیاسی

Read more

کرونائی ادب اور ”وبا تے وسیب“

کورونا کی وبا نے جہاں عالمی معیشت اور سیاست کو متاثر کیا، وہیں اس نے تخلیقی ذہنوں پر بھی اثرات مرتب کیے۔ انسانی فکرو نظر، تصورات اور مزاج وہ نہ رہے جو کرونا سے پہلے تھے۔ انسانی نفسیات اور رویوں نے وہ رخ اختیار کیا جو انسان کے گمان سے بھی بالا تر تھا۔ ان رویوں اور رجحانات کو معاصر تخلیقی ذہنوں نے شدت سے محسوس کیا۔ شاعری اور فکشن کی دنیا میں کئی ایسے فن پارے تشکیل پذیر ہوئے

Read more

ادب، معیشت اور سیاست

ادب، معیشت اور سیاست میں قریبی رشتہ موجود ہے۔ غور کریں تو سیاسی اور معاشی انقلابات حقیقت بن کر ادب کے توسط سے ہی عوامی شعور میں ابلاغ کی راہ پاتے ہیں لیکن تاریخ میں کئی بار ایسا بھی ہوا ہے کہ ادب نے سیاسی اور معاشی انقلابات کی راہ ہموار کی ہے۔ ادب انقلاب سے قبل، دوران انقلاب اور بعد از انقلاب، تینوں مرحلوں میں اپنا اثر و رسوخ دکھاتا ہے۔ اسی طرح ہمارے ناقدین میں ایک عمومی رائے

Read more

”آئینے میں جنم لیتا آدمی“ : چند تاثرات

مسعود قمر کی تخلیقی کائنات ان کی ذات کی طرح کومل، ملائم، نفیس اور منفرد ہے۔ ان کا خاصا ہے کہ وہ تجربات و احساسات کو پہلے روح کی بھٹی میں کندن بناتے ہیں اور پھر انھیں لفظوں کا روپ دے کر نظمیں تخلیق کرتے ہیں۔ ان کا اسلوب، لفظوں کا انتخاب اور خیال کی پیش کش کچھ اس طرح کی ہوتی ہے کہ وہ خیال یا احساس کو بیان کرنے سے زیادہ اس کو دکھانے پر یقین رکھتے ہیں۔

Read more

”طاقت اور سماج“ :ایک تعارف

معاصر فکری منظر نامے میں قاسم یعقوب کا نام ان لکھاریوں میں شامل ہوتا ہے جنھیں قلم و قرطاس سے رشتہ استوار کیے ابھی طویل عرصہ نہیں گزرا۔ قلیل وقت میں تخلیقی اور تنقیدی سطح پر انھوں نے کئی اہم کتب دنیائے علم و ادب کو دان کی ہیں جن میں ”اردو شاعری پر جنگوں کے اثرات“ ، ”تنقید کی شعریات“ ، ”دیکھ چکا میں موج موج“ ، ”ریت پر بہتا پانی“ اور ایک ناول ”خلط ملط“ خاص طور پر

Read more

”کائنات کے بیک یارڈ سے“ : کی نظمیں :چند تاثرات

صنوبر الطاف، معاصر ادبی منظرنامے میں زرخیز تخیل اور فکری ارفعیت کے حامل تخلیق کاروں کی صف اول میں شامل ایسی شاعرہ ہیں جنھوں نے کم وقت میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ان کی تخلیقیت کے معیار کا اندازہ معاصر ادبی رسائل میں اشاعت پذیر ہونے والی ان کی تخلیقی اور تنقیدی تحریروں کے معیار سے لگایا جا سکتا ہے۔ ان کی تحریریں ایسے خیالات اور احساسات کی حامل ہیں کہ ان میں حیات آفریں اقدار کی

Read more

رواں برس کا ادبی گرو: عبدالرزاق گرناہ

ناول نگار عبدالرزاق گرناہ کا تعلق بحر ہند میں تنزانیہ کے جزیرے زینجبار (Zanzibar) سے ہے جہاں اس نے 02 دسمبر 1948 ء کو جنم لیا۔ جب زینجبار میں 1964 ء میں انقلاب وقوع پذیر ہوا تو اس کے بعد ، وہ انگلستان نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوا کیوں کہ اب وہاں کے حالات ناساز گار تھے۔ ہجرت کے وقت گرنا نے عمر رواں کی صرف اٹھارہ بہاریں دیکھی تھیں۔ اگرچہ اس کی مادری زبان سواہلی تھی لیکن اس

Read more