بلاسفیمی اور اس سے جڑے ہوئے تصورات


بلاسفیمی یا توہین مذہب کو مذہبی قوانین کے ساتھ جوڑا جاتا ہے جس میں مذہبی کتب اور خدا، بھگوان یا دیوتا کے بارے میں عزت و احترام سے بے نیاز ہو کر سوالات اٹھانا ہوتا ہے تاکہ ان تصورات کو عقلی بنیادوں پر پرکھا جا سکے، ایسا ہر کوئی نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس راستے پر چلنا اتنا آسان ہوتا ہے۔ انسانوں کی دریافت شدہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انسانوں کی اکثریت ریوڑ کی طرح ہوتی ہے جو ایک ہی ڈائریکشن میں بلا سوچے سمجھے چلتی رہتی ہے جسے ( herd mentality) کہا جاتا ہے جس کا سادہ سا مفہوم ہوتا ہے کہ ( جس راستے پر لوگوں کی ایک غالب اکثریت چل رہی ہوتی ہے اسی راستے کو بغیر سوچے سمجھے اختیار کر کے اپنی نجی زندگی کا حصہ بنا لینا ہے۔) اس تصور کو ہجومی نفسیات بھی کہتے ہیں۔

دنیا کی غالب اکثریت اسی ہجومی نفسیات کی عکاسی کرتی ہے جس کا مظاہرہ مختلف معاشروں میں مختلف طرح سے دیکھنے کو ملتا ہے کیونکہ اکثریت دنیاوی یا مذہبی تصورات کو دیکھا دیکھی تسلیم کر لیتے ہیں اور انہیں لوجیکل گراؤنڈ پر کھوجنے کے چکروں میں نہیں پڑتے کیونکہ ہر شخص اپنی ذات کے اندر تصورات کا ایک مضبوط ٹیمپل بنا لیتا ہے جسے چھاننا بہت مشکل ہو جاتا ہے ورنہ تو ارسطو اور سقراط لاکھوں میں پائے جاتے، ریوڑ میں سے نکل کر ایک الگ راستے کا انتخاب کرنا بہت ہی جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے اور اسی لیے لوگ دائروی زندگی پر اکتفا کر لیتے ہیں۔

گزشتہ دنوں اسی ہجومی نفسیات کے کچھ ظالمانہ رویہ دیکھنے کو ملے، انڈیا میں سکھوں کے ایک جتھے نے اپنے ہی سکھ بھائی کو گرنتھ کی بے حرمتی کرنے کے الزام میں انتہائی بے دردی سے قتل کر ڈالا اور لوگوں کا ایک بڑا ہجوم تماشا دیکھتا رہ گیا کسی نے بھی آگے بڑھ کر اس ظالمانہ روش کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ دوسرا واقعہ بنگلہ دیش میں پیش آیا جہاں پر کسی شر پسند نے قرآن کو جلایا اس کے ردعمل میں لوگوں نے ہندوؤں کے تقریباً 60 گھر جلا ڈالے اور مندر کی مورتیوں کو تہس نہس کر دیا۔

پاکستان میں مشال خان کے واقعے کو لے لیجیے جس میں یونیورسٹی کے اندر ایک جتھے نے مشال پر توہین مذہب کا الزام لگا کر انتہائی سفاکانہ طریقے سے اینٹیں مار مار کر کچل دیا، اس کے علاوہ سلمان تاثیر کے ساتھ جو ہوا وہ بھی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ بہت سے ایسے ظالمانہ واقعات ہیں جو ہماری پست ذہنی کو ظاہر کرتے ہیں، مذاہب عالم انسانی تہذیب کا ابتدائی اور بنیادی حصہ ہیں بطور انسان ان مذاہب کا احترام ہم پر لازم ہے، اگر کوئی توہین مذہب کا ارتکاب کرتا ہے تو ریاستی قانون کے مطابق ریاست کی عدالتیں اس ضمن میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں نہ کہ ایک فرد واحد یا ایک جتھا قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر خود عدالت لگا لے اور اس شخص کو بے دردی سے قتل کر ڈالے۔

اس طرح کے رویے ہمارے وحشی پن کو ظاہر کرتے ہیں اور ایسا رویہ ان معاشروں میں دیکھنے کو زیادہ ملتا ہے جہاں پر لوگوں کی اکثریت زندگی کی ابتدائی ضروریات سے محروم ہوتی ہے، پینے کو صاف پانی میسر نہیں ہوتا اور بچوں کی ایک بڑی تعداد سکول سے باہر موجود ہوتی ہے، اس قسم کی طرز معاشرت میں جہالت سوا نیزے پر ہوتی ہے اور اسی جہالت کا فائدہ معاشرے کے وہ نباض اٹھاتے ہیں جو استحصالی چالوں میں بڑے ماہر ہوتے ہیں اس طرح کے چالباز ہر مکتبہ فکر میں موجود ہوتے ہیں جو نان ایشوز کو ایشو بنا کر اپنے مقاصد پورے کر لیتے ہیں، ایسا کر کے وہ لائم لائٹ میں آ جاتے ہیں اور ان کا معاشرتی اسٹیٹس عوام کی نظروں میں آ جاتا ہے اور اسی پوزیشن کی بدولت وہ عوام میں مقبول ہو کر اپنی طاقت میں اضافہ کرتے ہیں اور بیچاری عوام نعروں پر ہی بہلتی رہتی ہے، یاد رکھیں مذاہب انسان کے لیے آئے ہیں انسان مذاہب کے لئے نہیں ہوتے۔

آج ہم جس دنیا میں جی رہے ہیں وہ ماضی سے یکسر مختلف ہے ہم نئے خیالات و تصورات سے اپنے کان اور آنکھ بند نہیں رکھ سکتے، خیالات کی اس گہما گہمی میں عوام کی غالب اکثریت تو ایک ہی طرح کی سوچ کی عادی ہوتی ہے اور جو کچھ انہیں بچپن سے سکھایا گیا ہوتا ہے وہ اسی پر اکتفا کر کے اسی راستے پر چلتے رہتے ہیں مگر لوگوں کی ایک مخصوص تعداد ایسی بھی ہوتی ہے جو مذاہب کے فلسفے کو بڑی گہرائی سے دیکھتی ہے اور اپنے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کو مذہبی علماء سے پوچھتے رہتے ہیں تاکہ لوجیکل ریزنگ کا پراسس چلتا رہے مگر المیہ یہ ہے کہ اس صورت حال کا سامنا بہت ہی کم علماء کرتے ہیں۔ علماء کی اکثریت تو جواب دینے کے بجائے روایتی حربے استعمال کرتے ہوئے ایسے کٹھن سوالوں کا جواب دینے کی بجائے الٹا سوال کرنے والے کو ہی دھمکانا شروع کر دیتی ہے اور بعض تو یہ ٹوہ لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ کہیں صاحب سوال دہریہ، احمدی یا کسی مخالف فرقے کا بندہ تو نہیں ہے جو اسے بلاوجہ تنگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس طرح کی سوچ کوئی مثبت کردار ادا نہیں کرتی بلکہ ہم اپنے کئی ایسے اعلی اذہان سے محروم ہو جاتے ہیں جو ہمارے سامنے طرح طرح کے سوالات لاتے رہتے ہیں جس کی بدولت ہم اپنی معلومات میں جدت لاتے رہتے ہیں۔

ایسے لوگ ہی تو ہوتے ہیں جو ہمیں حقائق کا تیسرا کونہ دکھاتے ہیں، اس لئے ایسے لوگوں کو اہمیت دینی چاہیے یاد رکھیں تمام مذہبی اختلافات اس دنیا میں انسانی خون سے قیمتی نہیں ہوتے، تمام فلسفے انسان کے لیے ہیں اور سب سے قیمتی انسانی جان ہوتی ہے اگر انسان ہی نہیں بچے گا تو پھر یہ سارے فلسفے کس کام کے۔ گلیلیو نے جب یہ دعوی کیا تھا کہ زمین حرکت کرتی ہے تو اس وقت کی پاپائیت نے اس دعوی کو ماننے سے انکار کر دیا تھا، اس پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے چونکہ یہ اس دور کی بلاسفیمی تھی جسے مذہبی اذہان تسلیم کرنے سے انکاری تھے مگر گلیلیو کے مرنے کے کافی عرصہ بعد چرچ نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اس سے معافی مانگی

Facebook Comments HS