امیروں کی محفل میں غریبوں کا تماشا!
کچھ دنوں کے سفر کے بعد جب میں اپنے گاؤں بارہ ربیع الاول کا جشن منانے کے لیے پہنچا تو دیکھا کچھ مخالف باز ایک دوسرے کو دیکھ کر اپنی تصویروں کی نمائش کی صورت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لیے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے تھے۔ جب میں نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے مجھ سے گلہ کیا کہ آپ نے ہمیں اپنی تصویر کیوں نہیں دی؟ اور میں جو کہ خود عقیدت کی بات کر رہا ہوں تصویر دینے کی کوشش میں ناکام رہا لیکن اس وقت میں نے ان کو جواب دیا کہ اللہ تعالی کی ذات جو بھی کرتی ہے بہتر کرتی ہے۔ اس کے بعد مجھے ان سے معلوم ہوا کہ آج ایک چوہدری کے گھر میں پورے گاؤں کو مچھلی کے کھانے کی دعوت ہے اور میں بھی دوستوں کے اصرار پر کھانے میں پہنچ گیا۔
اب جب میں وہاں پر پہنچا تو دیکھا سارا گاؤں پہلے سے ہی موجود تھا اور وہاں بیٹھ کر امیروں کی زندگی سے لطف اٹھا رہے تھے اور دل ہی دل میں کھانے کا انتظار کر رے تھا اور اس محفل میں لطف اٹھاتے بھی کیوں نہ وہ امیروں کی محفل تھی اور ظاہری سی بات ہے کہ امیروں کی محفل میں امیر ہی محفل کی شان میں اضافہ کرتے ہیں۔ اور ہم تو وہاں پر ویسے بھی ایک تماشا تھے۔ میرے دوستوں نے کہا ادھر بیٹھتے ہیں ابھی ابھی کچھ مہمان ادھر سے کھانا کھا کر اٹھے ہی تھے کہ ہم وہاں جا کر بیٹھ گے اور دوسرے تماشائیوں کی طرح ہم بھی مداری کا تماشا دیکھنے لگے۔
کیونکہ اب زمانہ وہ نہیں رہا جس کی کہانیاں ہمارے اباو اجداد ہمیں سنایا کرتے تھے اس زمانے میں انسان کی پہچان اس کے اچھے خاندان یا نام سے نہیں بلکہ اس کے کپڑے گاڑی اور روپے سے ہے۔ لیکن اس وقت ہم میں سے کسی کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ اس لیے ہمیں کسی نے بیٹھنے کے لئے بھی نہ کہا اور ہم ایک خالی ٹیبل پر رونق لگا کر دوسرے گاؤں والوں کی طرح کھانے کے آنے کی امید میں وہاں بیٹھ گئے اور وہاں بیٹھے مجھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک حدیث یاد آ گئی جس میں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا :۔
” کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی کسی گورے کو کسی کالے پر پر کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے سوے تقوی کے ساتھ۔“
لیکن جس کی ولایت کی خوشی میں وہ محفل تھی اس کے اس دنیا میں آنے کا مقصد اور اس کی بتائی ہوئی تمام تعلیمات ہم بھول چکے ہیں نبی اکرم ﷺ نے اخوت اسلامیہ اور اس کے حقوق کے بارے میں ارشاد فرمایا:۔
”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اس پر خود ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اسے حقیر جانتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے قلب مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین بار یہ الفاظ فرمائے : تقویٰ کی جگہ یہ ہے۔ کسی شخص کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے“
لیکن اس محفل میں انسانیت کی بجائے رنگ اور نسل کو زیادہ ترجیح دی جا رہی تھی۔ جو شخص ادھر اچھے کپڑے اور گاڑی میں آتا اس کو اچھے طریقے سے بیٹھ کر کھانا کھلاتے اور دوسروں کو بھول کر ادھر ہی مصروف ہو جاتے اور پورے گاؤں والے اپنی رسوائی کا تماشا دیکھ کر خود ہی خوش ہو رہے تھے اور پھر اچانک ایک آدمی جو ہماری پچھلی طرف بیٹھا تھا جو کہ اپنے بیوی بچوں کے پیٹ بھرنے اور ان کے لیے محنت کرنے سے بالکل بے خبر تھا اس نے گن نکالی اور فائرنگ شروع کر دی اور تمام لوگ اٹھ کر تماشا دیکھنے لگے۔


