تو پھر اب خدا کہاں ہے مما؟
اس دنیا میں لوگوں کا آنا اور دنیا سے چلے جانا بظاہر معمول لگتا ہے۔ ہم لوگ تقریباً روزانہ لوگوں کے دنیا سے چلے جانے کی خبریں ٹیلی ویژن، اخبارات اور اب سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں۔ کچھ دیر کے لئے افسردہ بھی ہوتے ہیں مگر ایک بار میں نے کہیں پڑھا تھا کہ غم اگر ذاتی نہ ہو تو زیادہ دیرپا بھی نہیں ہوتا۔ کسی دوسرے کو تسلی دینا بھی شاید آسان ہے اور مجھے یوں لگتا ہے کہ اپنے اور دوسرے کے غم کے احساس میں یہ تفریق بھی قدرت نے شاید اس لئے رکھی کہ اگر کسی ایک پر غم کا بادل آ جائے تو دوسرا اسے حوصلہ دے سکے۔
مجھے یاد ہے ہمیشہ سے جب کسی کے دنیا سے چلے جانے کی خبر ملتی تو اگرچہ مما دکھی ہو جاتیں مگر ہمیں یہ بات ہمیشہ سمجھاتیں کہ بیٹے یہ دنیا کا دستور ہے کہ ہم سے جڑے لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں جب ان کا وقت آ جاتا ہے کیونکہ موت سے تو کسی کو انکار نہیں مگر یاد رکھنا کہ اللہ پاک کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے اور یہ ذات ہی آپ اور آپ سے بچھڑ جانے والوں کے درمیان ایک پل کا کام کرتی ہے اور یہ واحد راستہ ہوتا ہے اپنے پیاروں سے اس وقت بھی جڑے رہنے کا جب وہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے میری مما کی جدہ ہی میں مقیم ایک دوست کی والدہ صاحبہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ آنٹی فون پر بہت زیادہ رو رہی تھیں اور مما کے وہی الفاظ تھے کہ دیکھو ماں باپ ہمیشہ تو نہیں رہتے بلکہ کچھ لوگوں کے والدین تو بچپن میں اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ رب کے آگے کس کی چلتی ہے مگر یقین رکھو خدا ہمیشہ رہنے والا ہے اور ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے ہم کبھی اکیلے نہیں ہوتے۔ آں ٹی گاہے بگاہے مما کو فون کرتیں اور فون رکھنے سے پہلے یہ کہہ کر مما کا شکریہ ادا کرتیں کہ تمہارے الفاظ سے مجھے بہت سکون اور حوصلہ ملتا ہے۔
مما کے فون کے دوران ہم لوگ زیادہ تر چونکہ مما کے پاس ہی بیٹھ کر پڑھائی کر رہے ہوتے ہیں۔ مما فون رکھ کر ٹھنڈی سانس لیتیں اور ہمارے تاثرات دیکھ کر ہمیں بھی یہی بات سمجھانے لگتیں کہ سوائے خدا کے کسی کو دوام نہیں اس لئے ہمیں اس سے دوستی بھی کرنی ہوتی ہے اور اس سے بات کرنا بھی سیکھنا ہوتا ہے۔ جب ہم اس سے بات کرنا سیکھ لیتے ہیں تو پھر نہ ہم کبھی اکیلے ہوتے ہیں اور نہ ہی کوئی مسئلہ، مسئلہ رہتا ہے۔
میری تائی امی کا کچھ سال پہلے انتقال ہوا ہے اور میری کزن جو کہ ان کی بیٹی ہیں امریکہ میں مقیم ہیں۔ چند مہینے پہلے ان کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی تو انہوں نے مما کو کچھ اس طرح سے اطلاع دی۔
”نانو کو بتایا جائے کہ عیاد آ گیا ہے۔ “
میری مما یہ میسج پڑھ کر خوش ہونے کے ساتھ ساتھ آبدیدہ بھی ہو گئیں۔ میں نے پوچھا مما کیا ہوا ہے تو کہنے لگیں کہ انعم نے اپنی مما کو بہت مس کیا ہے۔ مما کچھ دیر چپ رہیں اور پھر آنسو پونچھ کر ہم لوگوں کو سمجھانے لگیں کہ ”دیکھو بیٹے، موت برحق ہے اور ہم میں سے کوئی اس کا منکر نہیں ہو سکتا۔ ہم لوگ عام طور پر اس موضوع پر بات بھی نہیں کرتے اور خاص طور پر مائیں تو بالکل نہیں کرتیں کیونکہ وہ اپنے بچوں کے چہروں پر وہ پریشانی نہیں دیکھنا چاہتیں جو اس وقت آپ لوگوں کے چہروں پر ہے۔
“ ہم لوگ واقعی ہی بہت ڈر رہے تھے کہ مما ایسی باتیں کیوں کر رہی ہیں۔ ہم سب کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا رہے تھے اور ہم ایک دوسرے سے نظر بھی نہیں ملا رہے تھے مگر مما نے ہمیں اس دنیا سے والدین کے چلے جانے کا بتا کر حسب معمول وہی بات کی کہ آپ لوگوں کو تو اللہ سے بات کرنا آتا ہے ناں؟ انوشے تک نے ہاں میں سر ہلا دیا اور میں سوچ رہی تھی کہ ہم مما کو تو کہہ دیتے کہ ہاں ہمیں اللہ سے بات کرنا آتا ہے لیکن کیا اتنی بڑی باتیں کرنا ہمیں آتا ہے۔ میں یہ سوچ کر اکثر ڈر جاتی ہوں۔ ابھی چند ہی دن پہلے میری نانی اماں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ مما اس دکھ کو برداشت نہیں کر پا رہیں۔ نانی اماں کی وفات کے چار پانچ دن بعد انہوں نے اپنی فیس بک پہ لکھا:
”مائیں نہیں مرتی
سن کر اولاد مر جاتی ہے
میں مر گئی ہوں امی
میں سچ مچ مر گئی ہوں امی
آپ کی پردیسی بیٹی مر گئی ہے کیونکہ اس پردیس نے مجھے نگل لیا ہے اور یہ غم مجھے کھا جائے گا کہ اب میں آپ کو کبھی نہیں دیکھ سکوں گی، میں آپ کی آواز کبھی نہیں سن سکوں گی۔
وسیم، مسعود، محمود!
ہم نے اپنی ماں کھوئی ہے، میں تم لوگوں کو اپنے گلے سے لگا کر رونا چاہتی ہوں، میں چاہتی تھی غم کی اس گھڑی میں ہم اکٹھے ہوتے، ہم ایک دوسرے کے آنسو پونچھ سکتے۔ ہمارا نقصان ناقابل تلافی اور ناقابل پیمائش ہے مگر میرا دکھ اس فاصلے کی طرح بڑا ہے جو اس وقت میرے اور تم لوگوں کے درمیان ہے کہ شاید قدرت نے یہ فیصلہ مجھے تم سب میں بڑا دیکھتے ہوئے کیا اور میرے غم کی عمر طویل ہے شاید میری عمر سے بھی زیادہ۔
دعا کرو مجھے صبر آ جائے۔ ”
اسے پڑھ کر کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ غم کے گرداب سے ابھی تک باہر نہیں آ سکیں۔ کئی بار پاپا ان کو بلڈنگ سے باہر لے کر جاتے ہیں کیونکہ وہ کہتی ہیں ہوا نہیں آ رہی، کھڑکیاں اور دروازے کھولیں۔ ہر بات میں ان کے پاس نانی اماں کی ایک یاد ہوتی ہے۔ ان کی سہیلیاں، میرے ماموں، میری مامیاں، میری خالہ، امی کی کزنز، سب رشتے دار اور سب جاننے والے یہاں تک کہ میرے پاپا سمجھا سمجھا کر تھک گئے ہیں مگر کوئی دلاسا اب تک ان پر کارگر نہیں ہوسکا۔
اس سب کے بعد میرے ذہن میں یہ سوال ابھرا ہے کہ مما آپ کے الفاظ تو دوسروں کے لئے دکھ کی گھڑی میں شفا بنتے تھے۔ آپ تو ہمیشہ ہمیں اللہ کی طرف دیکھنا سکھاتی تھیں۔ آپ نے ہمیں اللہ سے دوستی کا طریقہ اور مفہوم بتایا تھا۔ آپ تو کہتی تھیں کہ ساری دنیا بھی چلی جائے مگر خدا آپ کے ساتھ ہو تو آپ اکیلے نہیں ہوتے اس لئے بہت احترام کے ساتھ اب میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں۔ تو پھر اب خدا کہاں ہے مما؟


