پاکستان کا موجودہ معاشی اور سیاسی بحران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملکی معاملات پر نگاہ رکھنے والے کچھ کہنہ مشق اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ سلیکٹرز کہلائے جانے والے ملکی سیاست سے علیحدہ رہنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

البتہ یہ ممکن ہے کہ ہائبرڈ طرز حکمرانی تشکیل دینے والے وقتی طور پر پسپائی اختیار کر کے مخلوط قومی حکومت یا نئے انتخابات کا راستہ اختیار کریں لیکن اس فیصلے کی وجہ ہر ممکن حمایت فراہم کرنے کے باوجود نا اہل حکومت نہیں ہو گی بلکہ انتہائی مخدوش معاشی صورتحال اور امور خارجہ میں بدترین ناکامی ہو گی۔

قوی امکان ہے کہ معیشت کے سنبھلتے اور خارجہ امور میں بہتری آتے ہی جس میں چند سال لگ سکتے ہیں آنے والے وقت کے سلیکٹرز سابقہ روایت پر عمل کرتے ہوئے اپنے وقت کی منتخب حکومت کو کرپشن یا کسی دیگر الزام میں چلتا کر دیں، یہ عمل 1953 سے بار بار دہرایا جا رہا ہے، حتیٰ کہ 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سانحہ رونما ہونے کے باوجود چھ برس میں اپنے ہی ہاتھوں قائم کی گئی سول حکومت فارغ کر دی گئی تھی۔

اسٹیبلشمنٹ اپنی صفوں کی حد تک یقیناً بے حد پیشہ ور اور انتہائی منظم ہے لیکن ملک کے آئین سے مکمل طور پر مطابقت رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتی، بلکہ ایسی سول حکمرانی جو ان سے ملکی آئین اور قانون کی مکمل اطاعت کی توقع رکھتی ہو کو اپنے محکمے کے لیے کمزوری کا باعث سمجھتی ہے۔

سویلین اطاعت سے انحراف کی مضبوط وجہ ٹیکس سے مستثنی ’50 سے زائد کاروبار سمیت اسلحہ کی خرید و فروخت میں کسی کے آگے جوابدہ نہ ہونا ہے، مثلاً قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے معاملات میں بے ضابطگیوں پر اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے کو درخور اعتنا نہیں سمجھا جاتا، اس کے علاوہ بیشتر داخلی اور خارجہ امور پر مکمل اختیار ایک اور مضبوط وجہ ہے، اس امر سے سب واقف ہیں کہ جب کبھی کسی سول حکومت یا قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کسی بے ضابطگی پر اعتراض بلند کیا تو ”کلاسیفائیڈ“ کا صیغہ استعمال کر کے خاموش کر دیا گیا جبکہ کمیٹی سمیت سابق حکومتوں نے بجائے جوابدہی پر اصرار کرنے کے معاملات کو کلاسیفائیڈ تصور کر کے دبا دیا۔

2013 سے ملک میں ماضی سے قدرے مختلف منصوبہ ترتیب دیا گیا جس کا مقصد ایک نئے ہائبرڈ نظام کی داغ بیل ڈالنا تھا، اس وقت ن۔ لیگ کی منتخب حکومت ہر شعبے میں نمایاں کامیابی حاصل کر رہی تھی، مثلاً کراچی میں چین کی معاونت سے سی پیک معاہدے کے تحت گیارہ گیارہ سو میگاواٹ کی سستی بجلی کے دو نئے نیوکلیئر پاور اسٹیشنز کا قیام جن کا امریکی خوشنودی کی خاطر میڈیا میں ذکر سننے کو نہیں ملا، اسی منصوبے کے تحت تھر کی صحرائی زمین میں مدفون کوئلے سے بجلی کی پیداوار اور دریائے نیلم پر ہائیڈل پاور جیسے منصوبے تکمیل کو پہنچے جس کی بدولت 18 گھنٹے اندھیرے میں ڈوبے رہنے والے پاکستان کو لوڈ شیڈنگ کی اذیت سے نجات دلائی جا سکی، گھریلو صارفین سے لے کر کمرشل اور صنعتی زندگی میں ایک بار پھر روح پھونک کر معیشت کے پہیے کو رواں کیا گیا اور بہتر مواصلات کے لیے سڑکوں اور پلوں کے جال بچھائے اس محنت، کوشش اور وژن نے عالمی ریٹنگ ایجنسیز کی جانب سے پاکستان کو مستقبل قریب کا ایشیئن ٹائیگر قرار دیا جانے لگا، مجموعی قومی پیداوار نے 8۔5 فیصد کو چھو لیا، فی کس آمدنی میں اضافہ ہونے لگا اور بیروزگاری معدوم ہونے لگی، بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیز 2018 کے بعد آنے والے پانچ برسوں میں 6 سے 8 فیصد جی ڈی پی کی پیشگوئی کرنے لگیں، ن۔ لیگ کے اسی پنج سالہ دور میں آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کو سال 2016 میں خدا حافظ کہہ دیا گیا، اس کے باوجود جولائی 2017 میں منتخب وزیراعظم کو استعفی دے کر گھر جانا پڑا۔

سول حکومتوں یا ان کے وزرائے اعظم کی مسلسل برخواستگی سے جھنجھلا کر حالیہ دنوں میں جرنیلوں کے نام لے کر ذمہ دار ٹھہرانے اور انہیں سلیکٹرز پکارنے کی ابتدا ہوئی، اس عمل کے پیچھے کوئی بھی حکمت عملی رہی ہو لیکن یاد رہے کہ آٹھ برس پہلے اسلام آباد میں کنٹینر سے ہائبرڈ نظام کی ابتدا کرنے والے افسران وہ نہیں تھے جن کا نام حالیہ دنوں میں بار بار لیا جا رہا ہے۔

سیاست کے میدان میں رہتے بزرگی اختیار کرنے والے رہنما اگر یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ ایک دو سلیکٹرز کا نام لینے سے معاملات سلجھ جائیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے، ملک کی تمام سیاسی قیادت اچھی طرح جانتی ہے کہ ہائبرڈ نظام ایک یا دو مخصوص عہدوں یا افراد کا مرہون منت نہیں ہے اس کے برعکس کلی طور پر اپنے وضع کردہ نظام کے مطابق چلتا ہے، یہ نظام گزشتہ 74 برسوں میں خودکار مکینزم سے چلنے والی دیو ہیکل صورت اختیار کر چکا ہے، جبکہ ضروریات اور اس کی ضخامت میں پھیلاؤ کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ سول و ریاست سے مفاہمت کی ایک خاص حد پار کرنے والے عہدیدار کو محکمہ اپنے خودکار نظام سے علیحدہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

محکمے کی انتہائی ذمہ دار سطح سے یہ کہا جانا کہ ”ہم نارمل ملک نہیں ہیں، ہمیں نارمل بننا ہو گا“ ایک سچ، بے حد واضح اور ایماندار اعتراف ہے اور اپنے تئیں اس سوچ و بچار میں مصروف ہے کہ کسی طرح ریاست میں پائے جانے والے تضادات کو معمول پر لایا جا سکے، مثلاً تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانے والی تاریخ پر ملک کی بڑی تعداد متفق نہیں ہے نہ ہی پون صدی گزر جانے کے باوجود کسی ایک نصاب تعلیم پر کوئی اتفاق رائے قائم ہو سکا ہے۔

جب کہ دوسری جانب سیاسی قیادت نے مصلحت اور اپنی کمزوریوں کے باعث معاملات کو اس نہج تک پہنچا دیا ہے کہ من پسند نتائج کا حصول ڈرائنگ روم سے لڑی جانے والی جنگ سے ممکن نہیں رہا، کسی تصادم سے بچنے کے لیے دبے لفظوں میں لوگوں کو مزاحمت اور احتجاج کے لیے گھروں سے باہر نکلنے کی درخواست ساکھ بچانے کی حکمت عملی سے زیادہ نہیں ہے، سینیئر اور زیرک خیال کیے جانے والے رہنما اپنے ڈومیسائل اور اکلوتے بیٹے کا ذکر کرتے سنے جا چکے ہیں جب کہ مسلح افواج کے افسران کا نام لے کر ذمہ دار ٹھہرانے والے رہنماؤں کی تقاریر پر مخالفانہ رد عمل سنا گیا۔

حقیقت بہرحال یہ ہے کہ ملکی بقا کو خطرہ معیشت کی بدحالی اور ناکام خارجہ پالیسی سے ہے یہ ایسے دو محاذ ہیں جنہیں صرف ایک مقبول سول قیادت ہی فتح کر سکتی ہے اور یہ اس وقت ممکن ہے جب فوج اس مقبول اور غیرجانبدار انتخابات سے بننے والی سول حکومت کو اسی طرح اپنی مکمل حمایت مہیا کرے جس طرح ہائبرڈ حکومت کو مہیا کی گئی، بصورت دیگر ملک کی شکست و ریخت کا سلسلہ ایسی تیزی اختیار کر سکتا ہے جسے فوج اور سیاسی جماعتیں باہم مل کر بھی روکنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

واضع رہے کہ پاکستان ایک کثیر القومی ریاست ہے جہاں تباہ حال معیشت بپھرے ہوئے ناراض عوامی احتجاج کا امکان بڑھائے گی جو ملک کو اتحاد مہیا کرنے کے بجائے اس کی یکجہتی پر ضرب لگا سکتی ہے، پاکستان کو ترکی، چین یا ایران نہ سمجھا جائے، البتہ سوویت یونین سے مماثلت ضرور ہے جہاں سوویت یونین کو فوج اور ایجنسیوں کے ذریعے ترتیب دینے اور قائم رکھنے کا ناکام تجربہ زیادہ پرانا نہیں ہے، مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بن کر کامیابی کی راہ پر چل پڑنا بھی اس لیے ممکن ہو سکا کہ مغربی پاکستان سے ایک ہزار میل کی دوری بھی تھی اور حقوق کے لیے یک قومی جدوجہد بھی۔

ہائبرڈ نظام کو مکمل حمایت فراہم کرنے والے موجودہ ذمہ داران کو اس نظام سے چھٹکارے کی فوری ضرورت ہے کیونکہ یہ تجربہ کسی مثبت نتیجے کا اہل ثابت ہو پایا اور نہ ہی کامیاب ہونے کا کوئی امکان ہے، البتہ ایک ناتجربہ کار غیر سیاسی شخص کے ملک حوالے کر دینا زوال اور رسوائی کا سبب بنا، یقیناً اس تجربے کی بنیاد رکھنے والے اپنی مدت پوری کر کے سدھار چکے لیکن ایک بلا وجہ کا چیلنج اپنے بعد آنے والی موجودہ محکماتی قیادت کے حوالے کر گئے جس پر عملدرآمد کے نتائج بے حد تلخ ہیں۔

ملک مقبول اور منجھی ہوئی سیاسی رہنمائی کا طلبگار ہے، ایک قطعی غیر جانبدار انتخاب کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کو محکمے کی جانب سے کسی اندیشے کے بغیر حکومت کرنے دی گئی تو پاکستان میں تمام معاشی اور خارجی مسائل سے نمٹنے کی بہترین صلاحیت موجود ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے وقار کو بڑھانے اور ان کے پیشہ ورانہ امور میں طاقت کے اضافے کا باعث ہو گی بصورت دیگر عمارت گر جانے پر مالکان ٹکڑے چن کر اپنا اپنا گھر علیحدہ کر لیں گے جبکہ مرتبہ اور قدر و منزلت جو اس وسیع و عریض گھر میں آج حاصل ہے اور جس میں ملکی استحکام سے مزید اضافہ ہو سکتا ہے اس کے امکانات رفتہ رفتہ معدوم ہو جائیں گے۔

ایک شاندار اور صلاحیت سے بھرپور قیادت سے مستقبل کے لیے بہترین فیصلوں کی توقع ہمیشہ رکھنی چاہیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments