سندھ میں مذہب اور سیاست کے بدلتے منظر نامے : آخری حصہ

قرارداد لاہور اس وقت کے وزیر اعظم بنگال اے کے فضل حق نے پیش کی تھی جس میں واضح طور پر آزاد اور خودمختار ”ریاستوں“ کا مطالبہ کیا گیا تھا، یعنی ایک سے زائد وہ ریاستیں جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہو ”خودمختار مسلم ریاستیں“ قرار دی جائیں۔ 23 مارچ 1940 اور اگست 1947 کے درمیانی عرصے میں قائداعظم محمد علی جناح نے علیحدہ علیحدہ خود مختار مسلم ریاستوں کے بجائے ایک مسلمان ریاست پر حامی بھر کر سندھ کی

Read more

سندھ میں مذہب اور سیاست کے بدلتے منظر نامے : حصہ اول

تاریخ کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سندھ میں حکمرانوں کی تبدیلی کے ساتھ شہریوں کے عقائد اور مذہب بھی تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ سندھ میں آباد مختلف قبائل ویدک سمیت دیگر عقائد جن میں قدرت کے مظاہر سے جڑے اعتقادات جیسے سورج، پانی، آگ وغیرہ کو اپنا خدا ماننے والی آبادیوں پر مشتمل ریاست رہی ہے۔ 268 صدی قبل مسیح میں برصغیر پر موریا شہنشاہ اشوک کے دور حکمرانی کے دوران جس میں آج

Read more

سیاسی عدم استحکام، معاشی بدحالی اور غربت کا عفریت

سرحدوں کی حفاظت کے ذمہ دار سرکاری ملازم سول قیادت کے اختیارات اپنے ہاتھوں میں لے کر ریاست میں قدم قدم پر اپنا سکہ جما لیں، سول اداروں کو آزادی سے پروان چڑھنے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہیں اور سول سوسائٹی میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے سول سوسائٹی میں سہولت کاری کے لیے گماشتے تیار کرنا شروع کر دیں تو نتیجے میں کوئی بھی ملک جس سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی شکل اختیار کر سکتا ہے

Read more

گمبھیر مسائل میں گھرا پاکستان اور انتخابات 2024

نئی حکومت منتخب ہونے میں چند روز باقی رہ گئے ہیں، ملک نازک نوعیت کے متعدد چیلنجز میں گھرا کھڑا ہے، جبکہ عوام منتخب ہو کر آنے والی حکومت سے مسائل کے حل کے لیے فوری توجہ کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کی جانچ پڑتال مطابق ملک کی متوقع شرح ترقی % 9۔ 2 فیصد سے نیچے گر کر مالیاتی سال 2023۔ 2024 میں % 2 فیصد یا اس سے کم % 9۔ 1 ہو گی۔ نازک

Read more

جمہوریت اور عمومی رویے

جمہوریت کے عشاق کا اک سیل رواں ہے، ملک میں جمہوریت کے بارے میں بزرگان جمہور کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ یہ جب جب پاؤں جمانے کی کوشش کرتی ہے اسے ہاتھ آئی دوشیزہ سمجھ کر اوباش فطرت طاقتور جب چاہتے ہیں کھیت میں گھسیٹ لے جاتے ہیں اور عصمت تار تار کر کے سڑک کنارے پھینک دیتے ہیں، جمہوریت جمہوریت کے شور نے وہ رن ڈالا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ جمہوریت کے نام پر

Read more

افغانستان پاکستان تجارت، معاشی بوجھ اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہری

44 برس پہلے 1979 میں شروع ہونے والی سوویت۔ افغان جنگ کے اثرات نے پاکستان کی معیشت، انتظام اور سماج کو برباد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لگ بھگ آدھی صدی پر محیط اس جنگ کا پڑوسی ممالک پر اثر انداز ہونا یقینی تھا، لیکن، دانستہ طور پر اس جنگ میں ملوث ہونا پاکستان کے ”فیصلہ سازوں“ کی حکمت عملی کا بنیادی اور تباہ کن نتائج کا نکتۂ آغاز ثابت ہوا۔ 1965 کے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے سے

Read more

پاکستان : تزویراتی گہرائی سے معاشی کھائی تک

تزویراتی گہرائی کا تصور اگر کسی ریاست کی فوجی حکمت عملی میں مناسب حد تک محدود رہے تو یہ امر قابل فہم ہو سکتا ہے لیکن اس حکمت عملی کی خاطر سب کچھ داؤ پر لگا دیا جائے تو ریاست پر گہرے گھاؤ لگ سکتے ہیں اور زخموں سے گھائل ریاست کو اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے خود پیدا کردہ طوفان سے نبرد آزما رہنا پڑتا ہے، معاشی اور سیاسی کمزوری اس سنگین نہج تک پہنچ جاتی ہے جس

Read more

ربا (سود) سے پاک نظام کا بدترین سیاسی استعمال

بلاشبہ سود کو اسلام نے قطعی طور پر حرام بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیا ہے، یقیناً قرآنی احکامات کی موجودگی میں مذہبی اعتبار سے مختلف کوئی دوسری رائے ممکن نہیں ہو سکتی، لیکن، یہ حقیقت بھی مد نظر رکھنی ہو گی کہ آج کی جدید دنیا میں پاکستان جیسی نحیف اور کمزور معیشت کا آنکھیں بند کر کے ربا یا سود سے پاک نظام کا نفاذ صرف خطرات اور مسائل سے بھرپور ہو

Read more

معیشت اور نظم و ضبط

تاریخ کی شاخوں سے مرجھائے پتے جھڑ کر خوش رنگ شگوفے کھلنے کی نوبت نہیں آتی کہ خزاں کا تازہ حملہ آن دبوچتا ہے، نئی سازش کے تانے بانے زندگیوں میں زہر گھولتے رہتے ہیں، خزاں کی یہ رت پچھلے 75 برسوں سے یونہی قائم ہے، تقسیم سے پہلے اور قیام پاکستان کے بعد سے تشدد کے پاؤں گاڑنے کے لیے زمین ہموار کی گئی، اقتدار کا راستہ صاف کرنے کے لیے بھرے مجمعوں میں رہنما موت کی نیند سلائے

Read more

پاکستان میں عدلیہ کا گرتا معیار

عدلیہ کے اعتبار و احترام پر انگلیاں اٹھنے میں شدت آ رہی ہے، وجہ، منصف کا کمزور کردار اور کارکردگی کا گرتا ہوا معیار ہے۔ ریاست کے انتظامی معاملات میں دخل اندازی، قانونی سے زیادہ سیاسی معاملات میں دلچسپی، فیصلوں کا غیر معیاری ہونے سمیت عدالتوں میں لگے مقدمات کے ڈھیر عدلیہ کی مناسب اور تسلی بخش تصویر کشی نہیں کرتے، اس کے برعکس عدلیہ کے بھاری بھرکم مشاہروں کی وصولی کی نفی کرتے ضرور نظر آتے ہیں۔ ان مراعات

Read more

دانستہ پیدا کردہ آئینی بحران

پاکستان اپنے قیام سے سوچ و فکر میں بے ایمان ٹولوں کے شکنجے میں جکڑا رہا ہے، مسئلہ مالی بد عنوانی کا نہ پہلے کبھی تھا نہ اب ہے، مالی بدعنوانی ایک ناسور ضرور ہے لیکن یہ ناسور سوچ و فکر میں بے ایمانی کی ضمنی پیداوار ہے۔ سوچ و فکر کی بے ایمانی سے چھٹکارا کے حصول کی کوشش کے بجائے ملکی اقتدار پر ناجائز قبضہ جاری رکھنے کی خاطر مالی بد عنوانی کا ڈھنڈورا پیٹنا اسی سوچ و

Read more

پاکستان کا موجودہ معاشی اور سیاسی بحران

ملکی معاملات پر نگاہ رکھنے والے کچھ کہنہ مشق اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ سلیکٹرز کہلائے جانے والے ملکی سیاست سے علیحدہ رہنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ ہائبرڈ طرز حکمرانی تشکیل دینے والے وقتی طور پر پسپائی اختیار کر کے مخلوط قومی حکومت یا نئے انتخابات کا راستہ اختیار کریں لیکن اس فیصلے کی وجہ ہر ممکن حمایت فراہم کرنے کے باوجود نا اہل حکومت نہیں ہو گی بلکہ انتہائی مخدوش معاشی صورتحال

Read more

ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام

ڈاکٹر عبدالقدیر خان مشکل حالات سے لڑتے لڑتے آخر کار داعی اجل کو لبیک کہہ گئے، نظر بندی کے خاتمے کے لیے کی جانے والی ان کی متواتر درخواستیں اب بند ہو جائیں گی، ان کی یہ خواہش بھی کہ ملک کے اعلی ’عہدیداروں میں سے کوئی ان کی مزاج پرسی کر لے اب اختتام کو پہنچی، البتہ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے پیروکار وزیراعلی‘ سندھ کا بھیجا گیا پھولوں کا گلدستہ اور ان کی صحتیابی کے لیے لکھا گیا

Read more

تقسیم ہند، نقل مکانی، اور مضمرات

تقسیم سے قبل کے ہندوستان میں صدیوں سے آباد لوگ باوجود مولانا ابوالکلام آزاد، مہاتما گاندھی اور ان کے ہم خیال اکابرین کی بار بار پاکستان نہ جانے کی تلقین پر کان دھرے بغیر کہیں اسلامی مملکت کی چاہ میں، کہیں خوف کے زیر اثر، کہیں بہتر مستقبل کی امید میں تقسیم کے بھیانک عمل کو ترجیح دیتے ہوئے پاکستان چل پڑے، اپنی زمین کو خیرباد کہتے وقت تلقین کرنے والوں کو ہندووں کا ایجنٹ کہا، یہ نہ سوچا کہ

Read more

کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے ملنے والی عالمی رقوم کہاں ہیں؟

پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں کووڈ۔ 19 پہلی عالمی وبا ہے جس کی تباہ کاری نے جانی و مالی طور پر ملک کو ہلا دیا ہے، جبکہ برصغیر 1918 میں اسپینش فلو جسے بمبئی فلو بھی کہا جاتا ہے کا خوفناک حملہ بھگت چکا ہے ، اس عالمی وبا کے نتیجے میں انڈیا کی 5 فیصد آبادی یا لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ افراد لقمۂ اجل بنے تھے۔ چین کے صوبے ہوبے کا شہر ووہان دنیا میں سارس کووڈ 19

Read more

گلوبلائزیشن پر عمل درآمد میں سست روی اور امریکہ کا چین فوبیا

سرد جنگ کے تمام دور میں امریکہ نے جمہوریت کو کرۂ ارض کے لیے جنت بنا کر پیش کیا اور اشتراکی آمریت کو جہنم ثابت کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا، مغرب کے ہر سرمایہ دار نظام سمیت امریکہ نے اشتراکی آمریت کو عالمگیریت یا گلوبلائزیشن کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنا کر پیش کیا اور سوویت یونین کے اختتام سے دنیا کے جنت نظیر بن جانے کے امکانات کا امریکی پروپیگنڈا دن رات جاری رہا۔

Read more

عوام اور سلامتی کی نئی حدیں طے کرنے کا وقت

مثلاً ایف ڈبلیو او (FWO) کھربوں روپے مالیت کا کاروبار کرنے والی ملک کی سب سے بڑی تعمیراتی اور انجینیئرنگ کمپنی ہے جسے ملک میں موجود دیگر نجی کمپنیوں پر ہر طرح کی فوقیت حاصل ہے، بہت بڑے حجم کے ٹھیکوں کے لیے بولی لگانے والی نجی کمپنیوں کے ترقی نہ کر پانے کی وجہ ایف ڈبلیو او کا بے حد با اثر ہونا ہے جو مقابلے کے وقت انہیں با آسانی پیچھے دھکیل کر ٹھیکوں کے لیے ضروری بینک گارنٹیوں کے بغیر ٹھیکے حاصل کر لیتی ہے یا فوج کے اپنے ”عسکری کمرشل بنک“ سے یہ سہولت پلک جھپکتے حاصل کر لینا FWO کی تجارتی طور پر مضبوط ہونے کی وجہ ہے ، جب کہ نجی کمپنیوں کا بینک گارنٹی بغیر ٹھیکے لینا ممکن نہیں لہٰذا ان گارنٹیوں کے لیے وہ بینک در بینک خاک چھانتے پھرتی ہیں۔ اربوں روپے کے بیشتر ٹھیکے بنا کسی مقابلے کے FWO کی جھولی میں پہنچ جانا معمول ہے جب کہ مقابلے کے لیے تیار نجی شعبہ ایک دوسرے کی شکل دیکھتا رہ جاتا ہے۔

Read more

تصادم کی جانب بڑھتا سیاسی ڈیڈ لاک

ملک میں موجودہ سیاسی ڈیڈ لاک پر جن حلقوں کا خیال ہے کہ یہ آگے بڑھ کر تصادم کی شکل اختیار نہیں کرے گا، ان کے پاس اس بارے میں اگر کوئی دلیل ہے، تو صرف ماضی کے وہی حالات و واقعات ہیں، جن میں سیاسی قوتوں نے کئی قدم پیچھے ہٹ کر ملکی مفاد میں پسپائی اختیار کی اور افہام و تفہیم کو ترجیح دیتے ہوئے، پالیسی سازوں کی بالا دستی کو یہ سمجھتے ہوئے تسلیم کیا کہ آنے والا وقت بلآخر بالا دست قوتوں کو آئین و قانون کی پاسداری پر آمادہ کر ہی لے گا۔

اس مصلحت کوشی نے 69 برس تک انتظار کروایا، جو ہنوز جاری ہے۔ ملکی تاریخ پر نظر رکھنے والے لوگ 16 اکتوبر 1951ء کا وہ اندوہناک واقعہ یادوں میں تازہ رکھے ہوئے ہیں، جس دن پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو زندگی کے افق سے ہمیشہ کے لیے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس سمت میں ایک سلسلہ جاری ہو گیا، سیاسی قائدین کو غدار وطن ٹھہرانا، راستے سے ہٹانے کے انتظامات اور اقتدار پر مکمل قبضے کی کارروائیاں اب تک جاری ہیں۔

Read more

چند روز اور میری جاں فقط چند ہی روز

ملک کی معاشی بدحالی، بدنظمی، لاقانونیت اور افراتفری کی حالیہ صورتحال کے پس پشت کار فرما عوامل کو سمجھنے کے لیے سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کے 22 جولائی کے سوچے سمجھے اغوا کے واقعے سے آغاز کرتے ہیں، دارالحکومت اسلام آباد جسے سیف سٹی کا نام دیا گیا ہے مطیع اللہ جان کے اغوا میں ملوث افراد تک پولیس کا پہنچنا ناممکن تھا۔ اغواکاروں کی طاقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مطیع اللہ

Read more

کہنے کو مرے شہر کو بارش نے ڈبویا

معاشرے کی فطری نشو و نما یا ارتقا کی راہ میں حائل رکاوٹ زندگی کے ہر شعبے میں پسماندگی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور معاشرہ رفتہ رفتہ قابل انتظام رہنے کے بجائے قابل رحم ہو جاتا ہے۔

معاشی بدحالی، بیروزگاری، ناخواندگی اور بد عنوانی میں اضافہ اور ادارے غیر موثر ہو جاتے ہیں۔ غرض یہ کہ ایسے معاشرے جہاں ارتقا کے عمل میں پہ در پہ رکاوٹ کھڑی کی جاتی ہیں وہاں بد ترین طوائف الملوکی یا نراج کی صورت پیدا ہو جاتی ہے جس کا مظہر اس کے شہروں کی تباہ حالی کی صورت میں جھلکنے لگتا ہے۔

Read more

شاہ محمود قریشی: کیا بازی پلٹ گئی؟

مخدوم شاہ محمود قریشی کو ملکی سیاست میں قدم رکھے چار دہائیاں ہونے کو ہیں جب کہ خارجہ امور سے بھی خاصے واقف ہیں۔ تنظیم تعاون اسلامی یا سعودی عرب کی قیادت میں قائم او آئی سی کے بارے میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا حالیہ سخت بیان جس کے بعد سعودی عرب نے نہ صرف پاکستان کو دیے گئے تین ارب ڈالر قرض میں سے ایک ارب ڈالر واپس لے لیے بلکہ موخر ادائیگی پر تیل فراہم کرنے کی

Read more

کراچی سمیت صوبہ سندھ میں ٹاؤن پلاننگ کی بدترین صورتحال

حکومت فوجی ہو یا سیاسی، کراچی سمیت سندھ بھر میں لینڈ مافیا قبضوں میں سرگرم رہتی ہے، قومی، صوبائی، بلدیاتی، ہر سطح کا محکمہ ٹاؤن پلاننگ میں دلچسپی لینے کے برعکس شہری منصوبہ بندی کا ازلی دشمن نظر آتا ہے، ہر دور میں لینڈ مافیا اور سرکاری اہلکاروں نے ملی بھگت سے سارے صوبے میں ٹاؤن پلاننگ کو ناکام بنایا ہے، خصوصاً کراچی کی قدرتی آبی گزرگاہوں پر مستقل آبادیوں کی تعمیر کا مجرمانہ سلسلہ جاری و ساری ہے جب

Read more

شعور کی نگرانی اور مفروضے کو حقیقت بنانے کا عمل

ریاست پر گرفت مضبوط رکھنے لییٔے جھوٹ کا استعمال فاشسٹ حکومتوں کا اہم ترین ہتھیار رہا ہے، ہٹلر کے نازی جرمنی میں ”جھوٹ بار بار اتنا دہراؤ کہ سچ لگنے لگے“ کے خطرناک حربے کو اتنی کامیابی سے استعمال کیا گیا کہ جرمن قوم میں دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلے میں اپنے برتر ہونے کا احساس خوب راسخ ہو گیا۔ اس جھوٹ کا سہارا لے کر ہٹلر نے جرمنی کو دوسری جنگ عظیم کے جہنم میں جھونکا جو بالآخر

Read more

وسائل کی موجودگی میں افلاس کی شکار قوم

ملک میں مخصوص مفادات رکھنے والے گروہ کا قومی مفادات پر شب خون پچھلی سات دہائیوں سے جاری ہے۔ اختیارات کے کلی حصول کے لیے آئین کی معطلی، اس میں من مانے رد و بدل سے لے کر منتخب وزرائے اعظم کے قتل اور ملک بدری جیسے اقدامات پاکستان کی عوام کے ذہنوں اور دلوں پر نقش ہیں۔ اس گروہ کے چہرے بدلتے رہتے ہیں، لیکن، آئین و قانون کی پامالی کا مشن تسلسل سے جاری رہتا ہے۔ ملک کی

Read more

بیس برس سے طویل دو برس

گزرے دو برس بیس برس سے زیادہ طویل ثابت ہوئے، ہر روز امید جگاتی آفتاب کی پہلی کرن نمودار ہوتی ہے اور پھر دن خلفشار، غیر سنجیدہ اقدامات اور نا اہلی کے نئے مناظر لیے اختتام پذیر ہوتا ہے۔ احساس قوی ہونے لگتا ہے کہ ملک پر چھانٹ کر حکمران گروہ مسلط کرنے والے ہاتھ ملک و قوم کے مفاد میں دلچسپی رکھنے کے بجائے صرف اپنے مفادات کی حفاظت اور ملکی وسائل پر گرفت مضبوط کرنے میں مصروف ہیں، انہیں

Read more

زبانوں کے قفل کھل رہے ہیں

جیئیں مولانا عطا الرحمان، گزشتہ روز سینیٹ اجلاس میں آپ کی تقریر نے ملک بھر میں جوش اور ولولے کی ایک نئی تحریک پیدا کردی ہے۔ ملک میں مخصوص مفادات رکھنے والوں کا آئین کی اطاعت نامنظور کا باطل نظریہ کسی نہ کسی طور گاہے بہ گاہے انگڑائی لیتا ہی رہتا ہے، سول اقتدار پر شب خون مارتے رہنا ان کے لیے ایک معمول ہے، موجودہ شب خون دو برس سے عمران حکومت کی شکل میں عیاں ہے۔ مخصوص مفادات کو

Read more

بد انتظام، غیرسنجیدہ اور نااہل عمران حکومت

سہانے سپنے دکھا کر سال 2018 میں قائم ہونے والی حکومت اپنی نا اہلی، غیر سنجیدگی اور اہم معاملات سے نمٹنے میں پہ در پہ ناکامیوں کے باعث ایک ڈراونا خواب بن چکی ہے، ایک غیر مقبول اور ناقص حکومت جسے پالیسی سازوں کی ضد نے ملک اور عوام کے سر تھوپا، گزرے کم و بیش دو برسوں میں ملک کے عام شہری کی زندگی اجیرن بنا چکی ہے۔ کسی ٹھوس اور جامع حکمت عملی کی غیرموجودگی کا خلاء زبان

Read more

حکومت کی نااہلی پر عالمی ادارہ صحت کی مہر تصدیق

ملک اس وقت ایک ناکام اور غیر مقبول حکومت کی گرفت میں ہے جسے پالیسی سازوں نے اپنی بیساکھی کے سہارے کھڑا کر رکھا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ حکومت نہ صرف اپنی پہ در پہ ناکامیوں کے اعتراف سے گریزاں ہے بلکہ اپنی چرب زبانی سے عوام کو لگائے زخموں پر نمک پاشی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔

تیزی سے ابھرتی ملکی معیشت کو ڈبونا اس حکومت کی ناکامیوں میں سرفہرست ”کارنامہ“ ہے اور اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ روزگار کے لیے کروڑوں نئی آسامیوں کا پیٹا جانے والا ڈھول پھٹ چکا ہے، روزگار کے نئے مواقع مہیاء کرنے کے بجائے روزگار سے وابستہ شہری بھی روزگار سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ سستے انصاف کا وعدہ صرف وعدہ ثابت ہوا، صحت عامہ کی صورتحال پہلے سے زیادہ برباد ہو چکی ہے اور تعلیم کا شعبہ بری طرح نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

Read more

قومی مالیاتی کمیشن میں صوبوں کو حاصل مالی وسائل میں کمی کی کوشش

پاکستان چار یونٹس پر مشتمل ایک وفاقی ریاست ہے، یہ چار یونٹس سندھ، پنجاب، خیبر پختون خوا (کے پی کے) اور بلوچستان ہیں، جب کہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر براہ راست وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہیں۔

این ایف سی ایوارڈ کا قیام 1951 میں عمل میں لایا گیا اور پھر 1973 کے متفقہ پاکستانی آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت معاشی پروگرام کا باقاعدہ حصہ بنا دیا گیا۔ آئین کے اس آرٹیکل کے مطابق صدر مملکت پر لازم ہے کہ ہر پانچ سال گزرنے پر اگلے پانچ سال کی مدت کے لئے اگلے نئے این ایف سی کی تشکیل دے تاکہ تمام وفاقی یونٹس کی متفقہ رائے سے ایوارڈ منظور کیا جائے اور اگلے پانچ سالوں کے لئے نافذ کر دیا جائے۔

Read more

شعبہ صحت کی زبوں حالی اور بیماریوں میں گھرا پسماندہ طبقہ

پاکستان آج کرہ ارض کے دیگر ملکوں کی طرح کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے بحران کا شکار ہے، ہمارے لوگوں کی صحت اور معاشی بہبود سخت خطرے میں ہے۔ کورونا وبا نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ ہم عدم مساوات کے موجودہ معاشی نمونہ کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتے جس میں صحت پر خرچ قومی پیداوار کے 2 فیصد سے بھی کم ہے۔ آج ملک کو ایک مساویانہ نظام کی ہمیشہ سے زیادہ ضرورت ہے جس

Read more

کمزور معیشت کی بحالی موجودہ حکومت کے بس کا روگ نہیں

وائرس کی وبا میں شدت ختم ہونے کے بعد، تمام دنیا خصوصاً پاکستان کو معیشت کی بحالی میں تیزی لانے، ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے، غربت کم کرنے، اور پیداواری سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے لئے، پہلے سے کہیں زیادہ اساسی منصوبوں پر کام کرنے کی ضرورت ہو گی۔ معیشت کی ترقی کے لیے سابق حکومت تن دہی سے عمل پیرا تھی، لیکن، افسوس ملک پر مسلط کیا گیا موجودہ سیٹ اپ ترقی پر مائل معیشت اور بنیادی ڈھانچوں

Read more

کورونا کی وبا، عالمی اقتصادی بحران اور اس سے نمٹنے کی تیاریاں

ورلڈ ایکونومک فورم کی ایک تازہ رپورٹ میں سماجی ادارے Oxfam کے ایک تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا دنیا کی 8 فیصد یا نصف ارب سے زائد افراد کو غربت کی طرف دھکیل سکتی ہے جس کے لئے فوری اور ہنگامی انتظامات کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس بیماری سے پیدا ہونے والی اقتصادی بد حالی کا اثر دنیا کے غریب خطوں میں زیادہ شدت سے محسوس کیا جائے گا۔ دوسری جانب اقوام

Read more

مخدوش معیشت، وبائی حملہ اور ضروری منصوبہ بندی

گزشتہ حکومت دن رات کی انتھک محنت سے ملک کو لوڈشیڈنگ کے اندھیروں سے نکال کر روشنی سے منور اور معیشت کو ہر زاویئے سے درست سمت میں گامزن کر چکی تھی جس کا اندازہ ذیل میں دیے گئے چند سرکاری اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے : 1۔ بیروزگاری کا اوسط 2016 میں 3.17 فیصد کی سطح پر تھی۔ 2۔ معیشت میں ریڑھ کی ہڈی یعنی جی ڈی پی تقریباً 5.6 فیصد اور عالمی مالیاتی اداروں کے

Read more

آخری رسومات کی ادائیگی کے بغیر اپنے پیاروں کی تدفین

 جنازہ کے بغیر تدفین، محبت کرنے والوں سے گلے لگے بغیر بچھڑنے والے کا دور رہ کر دکھ بانٹنا، کورونا وائرس کی اس وبا نے اپنے پیاروں کو دائمی الوداع کہنے کا رواج تک تبدیل کر رکھا ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ اس وبا میں مبتلا ہو کر بچھڑنے والا شخص کسی پچھتاوے کو ساتھ لے کر فوت ہوا ہو، لیکن بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی جانے والا تنہائی کی کیفیت میں نہیں مرنا چاہتا، آخری

Read more

کورونا وائرس: بدلتی معاشرت اور معاشی بحران سے نمٹنے کی تیاری

کورونا وائرس کی وبا نے اگر سب کچھ تبدیل نہ کیا تو بھی بہت کچھ تبدیل ضرور ہوگا، معیشت سے معاشرے کے اطوار تک، ہاتھ ملانے سے لے کر فاصلہ برقرار رکھنے تک، منہ ماسک سے ڈھکے رکھنے سے لے کر بار بار ہاتھ دھونے تک حتیٰ کہ اندھے مذہبی عقائد سے لے کر تہوار منانے کے انداز تک۔ یہ سب کچھ اگر ہمیشہ کے لئے نہ بھی بدلے پھر بھی اس کے اثرات ایک طویل عرصے تک ہر معاشرہ

Read more