نعت خوانوں کی ڈسکو نعتیں اور ملتانی پری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موسیقی روح کی غذا ہوتی ہے جب آپ ذہنی دباؤ کا شکار ہوں تو آزما لیجیے آپ کو خود ہی ان ابتدائی جملوں کی گہرائی کا اندازہ ہو جائے گا اور دوران موسیقی ایسے ایسے تصورات کی شبیہ ذہن میں بننے لگے گی کہ آپ باغ باغ ہو جائیں گے، موسیقی سے محبت کرنے والے یہ گانے تو اکثر سنتے ہوں گے۔

1: میرے رشکے ہ  قمر

2: میرے محبوب قیامت ہوگی آج رسوا تیری گلیوں میں محبت ہوگی
3: وے تو لونگ میں الائچی تیرے پیچھے ہاں گواچی
4: دل نے یہ کہا ہے دل سے محبت ہو گئی ہے تم سے
4: جلیبی بائی
5: تیری میری، میری تیری پریم کہانی ہے مشکل دو لفظوں میں بیان نہ ہو پائے

اگر گانے کے کچھ بول ادھر ادھر ہو گئے ہوں تو پیشگی معذرت چاہوں گا مگر ان گانوں کی لائنوں کو پڑھنے کے بعد آپ کے ذہنوں میں بیک گراؤنڈ شبیہ ابھرنا شروع ہو چکی ہوگی اور ہر کوئی اپنے اپنے خیال کے کلائمکس تک ضرور پہنچ چکا ہو گا، اس میں کوئی برائی نہیں ہے کیونکہ انسانی ذہن لفظوں کو تصویروں کی شکل میں دیکھنے لگتا ہے مثلاً جب آپ کوئی پورن سائٹ وزٹ کرتے ہیں تو سین میں ہونے والی سرگرمی آپ کے ذہن کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہو جاتی ہے اور آپ ایک کیفیت میں چلے جاتے ہیں۔

مگر المیہ کی بات یہ ہے کہ ان انڈین گانوں کی طرز پر نعتیں بھی پڑھی جانے لگی ہیں اور نعت خواں حضرات پورے کاسٹیوم اور آلات موسیقی کے ساتھ اسٹیج پر جلوہ افروز ہوتے ہیں اور اہل ایمان کے دلوں کو گرماتے ہیں، ہم تو سنتے آئے ہیں کہ علماء کی نظر میں موسیقی حرام ہے حتی کہ نصرت فتح علی خان کی ایک قوالی (تم ایک گورکھ دھندا ہو) پر بڑا ہنگامہ ہوا تھا اور مختلف مسالک نے پمفلٹ شائع کیے تھے کہ اس قوالی کو سننا حرام ہے جو سنے گا اسے اپنے ایمان کی تجدید کرنا ہو گی مگر اب اچانک سے پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے کہ بغیر کسی روک ٹوک کے یہ سلسلہ چل نکلا ہے، میری ایک عالم سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی ان کا کہنا تھا کہ کچھ بریلوی مکتب فکر کے مفتیان نے اس عمل کو صحیح قرار دیا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے پیغام بہت دور دور تک پھیل جاتا ہے، خیر ہمیں کیا لینا دینا اگر علماء کی نظر میں یہ سب ٹھیک ہے تو ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے لیکن ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی سیکولر بندہ آپ سے کوئی سوال پوچھتا ہے تو آپ اسے گستاخ ڈکلیئر کر دیتے ہیں مگر اپنے محاسبہ کی طرف کچھ کم ہی توجہ فرماتے ہیں دوسری کچھ نعتیں اس قسم کی بھی سامنے آ چکی ہیں جس میں دوسرے فرقوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے مثلاً

(تکلیف ہوتی ہے تجھے مرچیں بھی لگتی ہیں
جب بارہویں میں لائٹوں سے گلیاں بھی سجتی ہیں
کیوں چڑتا ہے تو دیکھ کر یہ جھنڈوں کی بہاریں )

اب اس طنزیہ کلام میں کون سا فرقہ مخاطب ہے اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پڑھنے والے سب جانتے ہیں، ایک معصومانہ سوال ہے کہ اگر ایک مذہب کے نام لیوا اکٹھے نہیں ہو سکتے تو کفار کا آپ کیا بگاڑ لیں گے؟ فرقہ بندی کے نام پر دکانداریاں اور پھر تبلیغ؟ آخر میں ایک بہت ہی دل خراش واقعہ کی نشاندہی کرنا چاہوں گا جو جشن عید میلاد النبی والے دن ملتان میں پیش آیا جلوس کے اندر ایک نوجوان بیٹی کو بناؤ سنگھار کے ساتھ جنت کی حور کی شبیہ کی صورت میں لایا گیا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہزاروں لوگ اس بیٹی کی مووی اپنے اپنے موبائلوں پر بنا رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کون سا اسلام ہے؟ اس کے پیچھے منطق کچھ بھی ہو مگر وہ تھی تو ہماری بیٹی ہی، بیٹی کا اس طرح مذاق بنانا کسی مہذب معاشرے میں اس فعل کو اچھا نہیں سمجھا جا سکتا، اس عمل کو پست ذہنی کی آخری قسم کہا جا سکتا ہے۔ یہ ویڈیو اب وائرل ہو چکی ہے آپ ہر ویڈیو کے نیچے کمنٹس پڑھ کر اپنی سوچ پر ماتم کر سکتے ہیں، اس طرح کے واقعات سے آپ خود کو ایکسپوز کرتے ہیں کہ ہمارے اخلاقی معیارات کیا ہیں؟

خیر اب آپ نے بہت کچھ ماننا شروع کر دیا ہے، آپ کے اسلاف کے نزدیک تصویر یا مووی بنانا حرام تھا مگر اب تو آپ یوٹیوب چینل چلا رہے ہیں، لاؤڈ اسپیکر کو آلہ شیطان سمجھا جاتا تھا مگر اب تو آپ مائیک کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے یعنی اپنے دور کی ٹیکنالوجی سے بھرپور طریقے سے استفادہ کر رہے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ آپ کو اپنی سوچ بھی بدلنی چاہیے اور اپنے سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والے لوگوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے، سوشل میڈیا کے انقلاب سے جہاں بڑی بڑی تبدیلیاں ہوئی ہیں وہیں لوگوں میں شعور بھی بڑھنے لگا ہے چھوٹی سے چھوٹی بات بھی چند سیکنڈ میں وائرل ہو جاتی ہے۔ اس لئے آپ کے یہ چونچلے ایک وقت میں بہت سارے لوگ دیکھ لیتے ہیں خاص طور پر وہ طبقہ جنہیں ان جھمیلوں سے کوئی واسطہ نہیں تھا وہ بھی بڑی دلچسپی سے یہ سب کچھ دیکھنے لگے ہیں

اب تو آپ نے عمران خان کو بھی خوش کر دیا ہے ایک انقلابی گانے کی دھن میں کلام گا کر (روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے )

واقعی تبدیلی تو بہت بڑی آ چکی ہے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments