یوم تاسیس آزاد جموں و کشمیر اور محکوم کشمیریوں کا دکھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوں تو ہر روز مقبوضہ کشمیر سے آنے والی ظلم و ستم سے بھری خبریں دل کو اداس کر جاتی ہیں۔ مگر 24 اکتوبر کا دن ہر سال ایک ادھورے پن کا احساس پھر سے زندہ کر جاتا ہے۔ ہمارے آباء و اجداد نے 24 اکتوبر 1947 ء کو جس جوانمردی سے کشمیر کا یہ ٹکڑا آزاد کروا کر ’ریاست آزاد جموں و کشمیر کا قیام عمل میں لائے۔ وہ ایک عظیم کارنامہ ہے۔ اسی لیے ہر سال 24 اکتوبر دنیا بھر میں رہنے والے کشمیری اپنے آباء و اجداد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اور اس عزم کو بھی دہراتے ہیں کہ یہ جدوجہد آزادی جس کا آغاز 1947 ء میں ہوا تھا‘ کشمیر کی آزادی تک جاری رہے گی۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرنے والے ہر دور میں نیست و نابود ہوئے۔

ہر ذی شعور شخص اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ ہندوستان، سال ہا سال سے کشمیریوں کے بنیادی حقوق پامال کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ سے لے کر، دنیا کے ہر انسانی حقوق کے فورم پر نہ صرف اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ ہندوستان، کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کر رہا ہے بلکہ ہر فورم پر اس کا حل ”رائے شماری“ بھی بار بار دہرایا گیا۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں ’ہندوستانی حکمرانوں کے ضمیر پر ہر روز دستک دیتی ہیں۔ مگر بد قسمتی سے ہر آنے والے بے حمیت ہندوستانی حکمران نے اپنے اقتدار میں جواہر لعل نہرو کے اقوام عالم سے کیے گئے وعدوں کو پس پشت ڈال کر، کشمیریوں پر ظلم و ستم کی ایک نئی داستان چھوڑی ہے۔

آج کے دور کا انسان، خواہ وہ کس بھی خطے سے تعلق رکھتا ہو یا کسی بھی مذہب کا پیروکار ہو، بنیادی انسانی حقوق کی بات کرتا ہے۔ بلکہ آج مغرب شخصی آزادی تک پر زور دیتا ہے۔ اس دور میں مودی سرکار ’فوجی طاقت کے بل بوتے پر آئے دن بنیادی انسانی حقوق کو پس پشت ڈال کر‘ جو ظالمانہ اقدام اٹھا رہی ہے وہ ہندوستان کے خلاف ایک ریفرنڈم کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

پچھلی کہیں دہائیوں سے کشمیری عوام جہاں اپنے بنیادی انسانی حقوق کے لیے سراپا احتجاج تھی وہاں مودی سرکار نے ظلم و بربریت کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے میتوں کو بھی پامال کرنا شروع کر دیا ہے۔ پچھلے کم و بیش دو سال سے کشمیر پر قابض ہندوستانی افواج نے کورونا وائرس کی آڑ میں کشمیریوں سے اپنے پیاروں کی آخری رسومات کی ادائیگی تک غاصب کر لی ہے۔

ہندوستان روزانہ کشمیریوں کو بے نام قبروں کے حوالے کر رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہندوستان ’جنت ارضی نہیں بلکہ قبرستان پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ آئے روز نہتے کشمیریوں کو شہید کیا جاتا ہے اور پھر میتوں کو اجتماعی قبروں کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ جو عالمی قوانین برائے انسانی حقوق کے سراسر خلاف ہے۔ اور نا ہی لواحقین کو اپنے مذہب اسلام کے مطابق میت کی تدفین و تجہیز کی اجازت دی جاتی ہے۔ ظلم کی انتہا تو یہ ہے کہ غمزدہ لواحقین کے احتجاج کو ملک دشمن سرگرمی قرار دے کر۔ ورثاء کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمے بنائے جاتے ہیں۔ حال ہی میں ہندوستان نے حریت لیڈر سید علی شاہ گیلانی کی وصیت کے مطابق سرینگر میں تدفین اور کشمیریوں کی جنازے میں شرکت کی خواہش کو فوجی طاقت سے روکا۔ ہندوستان کے اس شرمناک رویے نے اس کا خوفزدہ اور مکروہ چہرہ دنیا پر عیاں کر دیا۔

شاید کشمیریوں کے دکھ کو اپنے، پرائے دونوں سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اس کشمیری ماں کا دکھ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ جو ماں اپنے جوان بیٹے کی میت پر بین نہ کر سکی ہو۔ ہم اس کشمیری باپ کا دکھ بھی نہیں سمجھ سکتے جو اپنے بیٹے کا آخری دیدار نہ کر سکا ہو۔ اس کشمیری بیٹے کا دکھ بھی نہیں سمجھا جا سکتا جو اپنے باپ کے جنازے کو کندھا نہ دے سکے۔ ہم اس کشمیری بیوی کا دکھ کیسے سمجھ پائیں۔ جو خود کو بیوہ بھی نہیں کہہ سکتی ہو۔

ہم ان کشمیری بوڑھے ماں باپ کا دکھ کیسے سمجھیں جن کے بیٹے کی قبر کا کوئی نام و نشان ہی نہیں۔ اس کشمیری خاندان کا دکھ کیسے سمجھا جا سکے جو خاندان اپنے پیارے کی اپنے ہاتھوں تدفین نہ کر سکا ہو۔ اس کشمیری کا دکھ کون سمجھے جو بھائی کا جنازہ نہ پڑھ سکا ہو۔ اس کشمیری بہن کا دکھ کیسے سمجھ سکیں۔ جو اپنے بھائی کے کفن سے لپٹ کے رو نہ سکی ہو۔ کشمیریوں سے مسکرانے کا حق تو سات لاکھ قابض ہندوستانی فوج بہت پہلے چھین چکی تھیں۔ اور اب ماتم کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ اور دنیا کیسے سمجھ پائے ماتم نہ کر سکنے کا دکھ۔ ان دکھوں کو لے کر کشمیری کہاں جائیں؟ کس در پر دستک دیں؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments