کھیل پھر شروع ہوا چاہتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کھیل پھر شروع ہوا چاہتا ہے، یہ کھیل ہر سیاسی حکومت کے ساتھ تین سال بعد کھیلا جاتا ہے، یہ ماضی کی روایت ہے، بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے، کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے کارکن لاہور میں مار دھاڑ کے بعد اسلام آباد کی طرف چل پڑے ہیں، اسی کھیل کے تحت نیم مردہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جسم میں نئی جان آ گئی ہے اور وہ بھی سڑکوں پر آ گئی ہے، پیپلز پارٹی بھی اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ انگلی کٹوا کر شہیدوں میں نام لکھوا لے ورنہ موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی کا باہر نکلنا یا نہ نکلنا ایک ہی بات ہے

ضیاءالحق کی آمریت کے بعد محلاتی سازشوں کے ذریعے منتخب حکومتوں کو گھر بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور یہ سلسلہ دو بار عوام کی منتخب کردہ وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید اور دو بار منتخب کردہ وزیراعظم نواز شریف کو گھر بھیج کر کھیلا گیا، دوسری بار نواز شریف کو گھر بھیجنے کے لئے فوج نے خود اقدام اٹھایا جس کا موقع نواز شریف نے خود فوج کو دیا

دنیا کے کسی ملک میں کبھی ایسا ہوا ہے کہ وزیراعظم اپنے ہی ملک کے آرمی چیف کے جہاز کو ملک میں اترنے کی اجازت نہ دے، آرمی چیف کو ہٹانے کے لئے نواز شریف نے مناسب طریقہ اپنایا ہوتا تو شاید عوام نواز شریف کے حق میں باہر نکل آتے مگر بھونڈے انداز میں نواز شریف نے آرمی چیف کو ہٹانے کا کام کیا اس پر فوج کا ردعمل یہی بنتا تھا جو فوج نے کیا اور مشرف کو کہا، you are no 1 sir

نواز شریف نے فوج کے ہاتھوں گرفتار ہو کر عوام کے ساتھ رہنے کے بجائے سعودی عرب کے محل کو ترجیح دی، نواز شریف کے غلط اقدام کے باعث قوم کو ایک بار پھر طویل فوجی آمریت کا عذاب سہنا پڑا، قوم بے نظیر بھٹو شہید کو دعائیں دے کہ ان کی سیاسی فہم و فراست کی وجہ سے مشرف کو 2008 ءمیں الیکشن کرانا پڑے ورنہ شاید آمریت کا دور طویل ہو جاتا کیونکہ نواز شریف تو اس وقت سعودی محل سے نکل کر لندن کی ٹھنڈی ہواؤں کے مزے لے رہے تھے جو آج کل بھی لے رہے ہیں، لیڈر ایسے ہوتے کہ جو عوام کو چھوڑ کر خود اپنی زندگی کو انجوائے کریں اور صرف حکومت کرنے کے لئے پاکستان آئیں

سوال یہ ہے کہ یہ کھیل شروع کیوں ہوتا ہے؟ ، عوامی حکومتوں کا کام عوام کی فلاح و بہبود ہوتا ہے، عوام کو خوشحال بنانا ہوتا ہے، 1988 ءسے لے کر آج 2021 ءکی عمران حکومت تک، تمام سیاسی جماعتوں کو حکومت ملی، بتا دیں کہ کسی سیاسی جماعت نے بھی عوام کا بھلا سوچا ہو یا عوام کو خوشحال بنانے کے لئے کوئی طویل مدتی منصوبہ بنایا ہو، جب سے سیاسی شعور آیا ہے، سیاسی رہنماؤں کا رونا ہی سنتا رہا ہوں کہ عوامی حکومت کو کام نہیں کرنے دیا جاتا، میں اسٹیبلشمنٹ کی حکومت میں مداخلت کا انتہائی سخت مخالف ہوں مگر کیا عوامی حکومت اور عوامی نمائندوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں

بے نظیر کی 1988 ءسے لے کر عمران حکومت تک ہر عوامی حکومت نے عوام کا ہی خون نچوڑا ہے، سیاستدانوں کی تمام باتوں سے متفق ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ بہت زیادہ مداخلت کرتی ہے جو کہ نہیں ہونی چاہیے، مگر کیا عوام کو خوشحال بنانے کے لئے کسی بھی عوامی حکومت کے کام میں اسٹیبلشمنٹ نے مداخلت کی ہے، کیا اسٹیبلشمنٹ نے عمران حکومت اور ماضی کی بے نظیر اور نواز شریف کی حکومتوں کو روکا ہے کہ عوام کی خوشحالی کا بالکل نہ سوچو

کیا عوامی نمائندوں کو اسٹیبلشمنٹ نے روکا ہے کہ تعلیمی اداروں کو ٹھیک نہ کرو، ہسپتالوں کو ٹھیک نہ کرو، پینے کا صاف پانی شہریوں کو نہ دو، سرکاری دفاتر سے کرپشن ختم نہ کرو، عوام کو سستا اور فوری انصاف نہ دو، مہنگائی کو قابو نہ کرو، دکانداروں کو ملاوٹ سے نہ روکو، ذخیرہ اندوزوں کو کچھ نہ کہو، لینڈ مافیا کو موجیں کرنے دو، عوام کے تو یہی مسائل ہیں، جو سیاستدان 74 برسوں میں ٹھیک نہ کرسکے، سیاستدان اپنی نا اہلی، نالائقی اور لوٹ مار کو چھپانے اور عوام کے سامنے مظلوم بننے کے لئے اسٹیبلشمنٹ سے جان بوجھ کر سینگ پھنسا لیتے ہیں

غیر جانبدار ہو کر تھوڑے تحمل سے سوچیں، اگر عوامی حکومتیں عوام کو خوشحال کر دیتیں، عوام کو ہر سہولت ملتی تو عوام کسی سیاستدان کے کہے بغیر ہی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے کھڑے ہو جاتے، جیسے چند برس قبل ترکی میں ہوا، یہاں مجھے کیوں نکالا کا رونا رونے والا جب جی ٹی روڈ سے چلا تھا تو بتا دیں کتنے عوام ان کے ساتھ نکلے تھے، قافلے میں وہی تھے جن کی دیہاڑیاں مر گئی تھیں، کسی کی گاڑی 20 لاکھ سے کم نہ تھی، یہ عوام تھے؟ انہوں نے ووٹ کے بجائے عوام کو عزت دی ہوتی تو عوام پیدل جی ٹی روڈ کے ذریعے اسلام آباد سے لاہور آتے اور اسٹیبلشمنٹ کا جنازہ نکال کر اسے ہمیشہ کے لئے دفن کر دیتے مگر مجھے کیوں نکالا نے عوام پر مزید قرضوں کا بوجھ ڈالنے کے علاوہ عوام کے لئے کیا کیا؟

مجھے کیوں نکالا کا رونا ہی اس لئے رویا گیا کہ عوام کے سامنے مظلوم بنا جائے کہ دیکھیں میرے ساتھ ظلم ہو گیا، بندہ پوچھے جناب پہلے تین سال کا حساب تو دیں، تین سال عوام کے ٹیکسوں سے حکومت کے مزے لوٹے، عوام کو لارے لگائے، تسلیاں دیں اور ان کے لئے کیا کچھ بھی نہیں، جو حالت ہماری پیدائش کے وقت تھی آج بھی اسی حالت میں جی رہے ہیں، پھر آپ کے لئے کون پاگل باہر نکلے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرے

اب یہی حال تاریخ کی نا اہل، نالائق اور جاہل ترین موجودہ حکومت کا ہے، سوا تین سال کسی حکومت کے لئے کم نہیں ہوتے، سوا سال میں آج عوام دو وقت کی روٹی کو ترس گئے ہیں، یہ محاورہ نہیں رہ گیا اب یہ حقیقت بن چکی ہے، کوئی خوف خدا ہے ان کو پٹرول 138.23 روپے لٹر، ڈالر 175 تک ہو گیا، سردیاں شروع ہونے سے قبل گیس مہنگی کرنے کی نوید سنا دی، اب عوام تبدیلی کے بھرپور مزے لے رہی ہے، اب اگر اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ کچھ کرتی ہے تو عوام ان کے باہر نکلیں گے؟ ، ہر گز نہیں، عوام کی اب یہ حالت ہے کہ کسی نے بھوکے سے پوچھا، دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو بھوکے نے جواب دیا، جناب چار روٹیاں

سوا تین بعد ان کی نا اہلی، جہالت اور نالائقی سر چڑھ کر بول رہی ہے، اب ان کو کچھ اور نہیں سمجھا آیا تو پھر اسٹیبلشمنٹ سے متھا لگا لیا، عوام کو کیا دلچسپی ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کون ہے، کون آنا چاہیے، کسے جانا چاہیے، عوام اب آپ پر چار حرف سرعام بھیج اور جھولیاں اٹھا اٹھا کر ”دعائیں“ دے رہے ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ آپ میں جتنی قابلیت ہے وہ سوا تین سال میں آشکار ہو چکی ہے، علم نہیں کہاں کہاں سے نتھو، خیرے اٹھا کر لگا دیے، اگر آپ کو ڈی جی آئی ایس آئی لگانے کا ”اختیار“ عملی طور پر دیدیا جاتا تو آپ نے کوئی عثمان بزدار ہی لگانا تھا، پنجاب والے عثمان بزدار سے بہت خوش ہیں اور خان صاحب کی چوائس کو بھرپور داد دے رہے ہیں

حیرت میں مجھے اسٹیبلشمنٹ پر بھی ہے کہ وہ کیوں نا اہل اور جاہل سیاستدانوں کو منہ لگاتی ہے، موجودہ حکومت کی جیسی سوا تین سال کی کارکردگی ہے پانچ سال میں ان انہوں نے کون سا پہاڑ سر کرلینا ہے، اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ وہ عوامی مسخروں کو فری ہینڈ دیں تاکہ وہ پانچ سال میں پوری طرح بے نقاب ہوجائیں اور ان کو مظلوم بننے کا موقع نہ ملے

بہر حال کھیل دوبارہ شروع ہو چکا ہے، آخری اطلاعات تک مارچ گوجرانوالہ پہنچ چکا ہے، اسلام آباد پہنچنے تک کیا ہو گا یہ سب کو علم ہے، سوا تین سال تو اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر اپنی قابلیت کی دھونس بٹھائے رکھی مگر اب تو کوئی مدد گار نہیں ہے، خان صاحب نے وہی غلطی کی جو ماضی کے سیاستدان کرتے رہے اور مظلوم بننے کی ناکام کوشش کرتے رہے، پھر اسٹیبلشمنٹ کے بوٹ صاف کر کے دوبارہ اقتدار حاصل کرتے رہے مگر موجودہ حکومت کا دوسرا کوئی چانس نظر نہیں آ رہا، نئے آنے والوں کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ مستقبل میں صرف کارکردگی چلے گی، بڑے گھر کی مہربانی نہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments