ستاروں کے گاؤں کی عورتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلطنت میں ایک ویران علاقہ تھا، تباہی اور خستہ حالی کا شکار۔ سننے میں آتا تھا وہاں انسان موجود تھے نہ سورج کی کرنیں وہاں پہنچتی تھی۔ وہاں کے باسیوں کو اس بابت یقین تھا کہ ستاروں کی پرستش کی وجہ سے ہی یہ عظیم تر لوگ ہیں مگر ان کی زبوں حالی کچھ اور بتلاتی تھی۔ بہت سے مہم جووں نے اس علاقے کو پار کرنے کی کوششیں کی مگر وہاں ایک عجیب قسم کی ہولناکی تھی۔ بو کے بوسیدہ جھونکے اٹھتے تو جاندار اپنی اپنی راہ پکڑتے مگر بھول کر اس علاقہ میں جانے کو پسند نہ کرتے۔ مشہور تھا کہ اس علاقہ کو اپنی موت نے آپ ہی اچک لیا تھا مگر لوگ تو اب بھی تھے مگر ان کو زندہ و جاوید اور درخشاں اقوام کے لوگ لوگ سمجھنے سے گریزاں تھے۔

پرانے وقتوں کا ذکر نہیں ہے کہ ایک گاؤں میں بہت سے لوگ اکٹھے رہا کرتے تھے، بالکل ہجوم کی طرح۔ بات بات پر بھڑک اٹھتے، دنگا فساد، زور زبردستی ان کا شیوہ تھا۔ یہ لوگ انہی روایتوں کے امین اور پاسدار تھے۔ گاؤں کے کچھ لوگوں نے مل کر سوچا کیوں نہ روایت کو بدلا جائے مگر ایک ایک کر کے سب ان کے درپے ہو گئے۔ ستاروں کے دشمن پکارے جانے لگے۔ اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ آدھے سے زیادہ گاؤں کے روایتوں سے بے زار تو تھے مگر بولنے کو صریحاً گناہ سمجھتے تھے۔

بے زاری میں ہی راحت پاتے تھے۔ گناہ کی سزا بھی تھی جس کو جرم کا نام دے رکھا تھا۔ ہر وقت گناہ پکڑنے والے زرق برق لباس پہنے گاؤں کی ٹوٹی گلیوں میں مٹر گشت کرتے اور پھٹی دیواروں کی کیواڑوں سے گھروں میں تانکا جھانکی کرتے رہتے اور یوں ہی رات اور دن گزرتے رہتے۔ گاؤں کے مکین خوش بھی تھے کہ یہی ان کی قسمت ہے جو یقیناً صدیوں پہلے پتھروں پر لکھی جا چکی تھی۔ وہ راتوں کو جب گھر کی ڈیوڑی میں چارپائیاں بچھا کر آسمان کو دیکھا کرتے تو دور جلتے ستاروں کو قسمت کے ان پتھروں سے تعبیر دیتے جن پر وہ سب سہنا لکھا تھا جن سے ان لوگوں کے بڑے بڑے سردار فائدے اٹھاتے۔ آدھا گاؤں تکلیف اٹھاتا تھا مگر وہ ایسا گاؤں تھا کہ وہاں تکلیف کو سکون کا لقب دے رکھا تھا۔

وہاں کی عورتیں بھی زبوں حالی اور بد حالی میں کسی سے کم نہ تھیں۔ ان کو اس بات پر بڑا ہی مان تھا کہ ان کی بہت شان و شوکت ہے۔ مگر حقیقت یہاں بھی الٹ ہی تھی۔ وہ بے رحمی اور گراوٹ کو مان سمجھتی تھیں ان کو بس بتایا گیا تھا کہ پستی میں ہی بلندی اور ذلت میں ہی فرحت ہے۔ عورتیں سارا سارا دن اپنے شوہروں کا بے چینی سے انتظار کیا کرتی تھیں کہ کب ان کے سر کے خدا کام سے گھر آئیں اور اپنے دن کی بوچھاڑ ان کے گالوں پر تھپڑوں کی صورت کریں۔

وہاں ستاروں کے بعد مردوں کو ہی خدا سمجھا جاتا تھا۔ وہاں کسی نے صدیوں پہلے یہ بات مشہور کر رکھی تھی کہ تھپڑ اور مکے کھانے والی عورتوں کو آسمان پر لٹکتے ستارے رات گئے تسلیمات پیش کرتے ہیں۔ بس تب سے اب تک کا یہی حال تھا کہ مرد کے ہاتھوں کے تھپڑ مکے اور پیروں کے ٹھوکریں کھانا بڑے اجر کی بات سمجھی جاتی۔ اگلے کہتے ہوئے گزرے تھے کہ جس بھی عورت کے بدن پر خون کے دھبے اور مار کے نشاں جتنے زیادہ ہوں گے، سیاروں کی چوٹیوں پر ان کا سونا اور چاندی کا مال بڑھتا جائے گا۔ گاؤں میں جو مرد گھر کی عورت کو جتنا مارتا، اس کی اگلے روز اتنی کی توصیف ہوا کرتی۔

ایک دفعہ گاؤں میں بڑا میلہ تھا۔ سب عورتوں کو ایک بڑی نگہبان عورت جو سرداروں کی نوکری کرتی تھی نے سب عورتوں کو سالانہ وعظ دینے کے لئے ایک بڑے سے گھر میں جمع کیا۔ بڑی عورت نے خطبہ شروع کیا تو سب چپ سادھ کر عزت سے سر جھکائے سننے لگیں۔ سر جھکانے کو وہاں عزت اور سر اٹھانے کو باعث سزا جرم کہا جاتا تھا۔ سر کی بلندی بے ادبی اور قدموں میں گرنا بڑے مرتبے کی باتیں ہوا کرتی۔ اس روز بھی ایسے سر جھکائے میلے میں وعظ چلتا رہا۔

بہنو، بیٹیو! کیسا برا حال ہو گیا ہے ہمارے عظیم الشان گاؤں کا۔ یہاں سکوں کے حامی ابھر آئے ہیں۔ ستارے ان کو غرق کریں گے۔ یہ کہتی ہیں کہ تھپڑ کھانے والی سے اچھا ہے کہ تھپڑ مارنے والی ہو۔ ایک بیٹی یا بیوی کی کیا مجال کہ خود کو تکلیف دیے بنا رہ جائے؟ کیا ہماری شاندار روایات یہ سکھاتی ہیں؟ ستارے ایسی قوم پر آگ کیوں نہ برسائیں؟

ساری محفل جھوم کر بولی، ہرگز نہیں۔ ستارے ان پر ٹوٹیں گے۔ ان کو کیا معلوم کہ جو سونے اور چاندی دوسرے سیاروں پر ہمارا راستہ تکتے ہیں وہ کتنے بیش قیمت ہیں۔ بہنو، مر جاؤ مگر مار کھانے کی اہمیت سے کبھی منکر نہیں ہونا۔ ہمارے مردوں اور سرداروں نے اگر ہمیں ٹھوکریں اور مکے مارنے چھوڑ دیے تو یہ آپس میں ایک دوجے کو ذبح کر کے کھا جائیں گے۔ کیا تم یہ چاہتی ہو کہ ہمارے پرکھوں کے رواج ختم ہو جائیں؟ جاؤ اپنی اذیت کا بندوبست کرو تاکہ تم کو اطمینان نصیب ہو۔ تمہیں ستارے سلام کہیں۔

اس میلے کے بعد عورتوں کو اندازہ ہو چلا تھا کہ ان کی قربانی سرداروں اور مردوں کے لئے کتنی اہم تھی۔ وہ ان ہرگز آنچ نہ آنے دیتی۔ سب عورتوں نے تہیہ کر لیا تھا کہ اگر عزت پانی ہے تو نیل اور بڑھانے ہوں گے ورنہ وہ بے گھر ہی نہیں بھوکی مر جائیں گی۔ گاؤں سے بے دخل نہ کر دی جائیں۔ ان کو قبول کرنے والا کوئی بھی نہ ہو گا۔ اس لئے گاؤں کے بڑھئی اور لوہار کی دکانوں پر خوب رش بڑھ گیا۔ بازار میں گہما گہمی ہو گئی۔ نت نئے لباس اور اوزار خریدے گئے، تاجروں کو جو سرداروں کے راہی تھے خوب فائدے ہوئے۔ کچھ کے صندوق بھرے تو کسی کی جیبیں۔

بڑھئی لوہار کی دکان ساتھ ساتھ تھی۔ بڑھئی نے مانگ بڑھ جانے پر لوہار سے اس کا حال پوچھا تو اس کی خوشی دیدنی تھی۔ لگتا ہے میلے نے کام کر دکھایا ہے، لوہار نے بڑھئی سے مبارکباد لیتے اور دیتے ہوئے کہا۔

اس روز کے بعد سے عورتیں اپنے بستروں کے ساتھ بڑھئی اور لوہار سے خریدے ہوئے اوزار اور آلے رکھ کے سوتی کہ کہیں مار کھانے میں ان کو دیر نہ ہو جائے کہ ان کے شوہر جب طیش میں آئیں تو مارنے کے لئے چیزیں باآسانی مل سکیں اور ان کے اجر میں اضافہ ہو۔

گاؤں کی ٹوٹی گلیاں اور سرداروں کی پکی سڑکوں کے بیچ کا جو راستہ تھا، وہاں مشہور تھا کہ رات کو جنات کا پہرہ ہوتا ہے۔ کچھ تو اس بات سے سرے سے منحرف تھے کہ جن نہیں وہاں ان عورتوں کی بد روحیں گشت کرتی ہیں جو مار کھانے سے منکر ہوئی اور تکلیف سہنے کی بجائے سکوں سے جی کر مری۔ بڑی نگہبان اور سرداروں کے تعینات کردہ چھوٹے نگہبان بھی دوسری داستان کی خوب آؤ بھگت کیا کرتے۔ یہ سلسلہ صدیوں سے جاری تھا۔ ایک دن گاؤں میں بڑی تیز آندھی آئی، کچے گھروں کی نحیف چھتیں اڑ گئیں، آندھی جو طوفان لائی وہ پھٹی دیواروں اور ٹوٹی گلیوں کو بہا لے گئی۔

سرداروں نے عام اعلان کیا کہ ستاروں کا یہی حکم تھا کہ تمہاری عورتیں نابلد تھیں، وہ ایسی ناہنجار تھیں کہ ستاروں کو طیش آ گیا۔ بس کیا تھا، عورتیں جیسے اندر ہی گھٹ سی گئیں۔ وہ سب کر چکی تھیں مگر ستارے ان سے پھر بھی ناخوش کیسے ہوسکتے تھے؟ کسی کے منہ پر تیزاب کے جلے ماس کے دھبے تھے تو کسی کی ناک کٹی ہوئی تھی، کوئی بازو سے محروم گلی میں سرکتی پھرتی تو کوئی غم سہتے سہتے دیوانی ہو چکی تھی۔ کسی کے کپڑے پھٹے رہتے تو کوئی ناچ ناچ کر پیروں میں چھالے کر لیتی۔ تقریباً، سب عورتیں ہی وہ سب کر چکی تھیں مگر ستارے پھر بھی نالاں تھے؟

وہاں کی روایت تھی کہ جب کرنے کو کچھ نہ ہو تو خوش ہونے کے لئے کمزوروں پر تھپڑوں، جھڑکیوں، اور ٹھوکریں مارنے کے مقابلے ہوتے۔ جو اس مقابلہ میں حصہ نہ لیتے ان پر سب ہنسا کرتے تھے۔ بڑے طوفان کے بعد یہی ہوا، بڑا مقابلہ۔ رات بھی خوب چیخ و پکار، مار دھاڑ، نوچنا سینچنا ہوا۔ خوب ہڈیاں ٹوٹی، کسی عورت کی آنکھ گئی تو کسی کا دامن جلا۔ لشکروں نے تو مل کر لڑکیوں کو گھروں سے اٹھایا اور خوب جگ رتا جمایا۔ ساری رات گاؤں میں چیخ چاخ ہوتی رہی، کہیں سے کوئی جلتی ہوئی عورت تالاب کی تلاش میں بھاگتی نظر آتی تو کوئی زمیں پر ٹوٹی ہڈیوں سے رینگتی ہوئی ملتی۔

فضا میں جلے گوشت کی بو پھیلی تو امید پیدا ہونے لگی کہ ستارے اب خوش ہو ہی جائیں گے۔ اس رات اتنے بال کٹے کہ ہوا میں بس بال ہی اڑتے محسوس ہوتے جو گاؤں کے دریا میں تیرتے نظر آئے۔ جب سورج طلوع ہوا تو جلائی گئی عورتوں کی راکھ ہوا میں کٹے بالوں کے ساتھ برف بن کر گرنے لگی۔ لوگوں نے برف دیکھی تو سکھی ہو گئے کہ ستارے ان پر اب راضی ہوں گے۔

اس رات کے بعد سے گاؤں دوسرے علاقوں کے انسانوں کے لئے وحشت اور گندگی کی مثال بن کر رہ گیا۔ انسان تو درکنار جانور بھی وہاں سے گزرنے سے گریزاں رہتے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments