راجہ گدھ: ناول اور ناول نگار کے مابین تصادم کی روداد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ کو پاکستان میں ابھرنے والے ان صوفی نما فن کاروں کی جماعت کی مجموعی مساعی کی روشنی میں دیکھنا بہتر ہو گا جنہیں اقتدار کی سر پرستی حاصل رہی۔ یہ مختلف النوع افراد کا ایک ایسا گروہ تھا جو فنون لطیفہ کے کم و بیش ہر اظہار میں ایک خاص طرح کی پہچان پر مصر تھا۔ اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے اس گروہ کے فن کار خود اپنی سطح پر متحرک ہوئے اور دوسروں سے بھی تقاضا کیا کہ ان کی بھی کاوشیں اس باب میں بطور معاون کے شمار ہوں۔ ناول ”راجہ گدھ“ اسی پس منظر کا زائیدہ ہے۔

یہ سچ ہے کہ ناول اپنے خالق کے منصوبے کی مطابق ہی تکمیل پاتا ہے۔ تاہم جب نظریاتی جز ناول کی بافت پر جبر معلوم ہونے لگے تو کہنا چاہیے کہ یہ ایک عیب ہے۔ ناول کو اس کے بہاؤ کے مطابق آزادانہ نمو کے لیے چھوڑ دینے کے بجائے ناول نگار کا بے جا مداخلت کرنا ہمیشہ عیب میں شمار ہوتا رہا ہے۔ بانو قدسیہ اپنے اس ناول میں اس قدر عمدگی سے موجود ہیں کہ ناول جب بھی ان کی قائم کردہ سرحدوں سے آگے نکل جانے کی منزل میں ہوتا ہے وہ مداخلت کرتی ہیں اور ناول کو اپنے متخیلہ ماحول کی طرف کھینچ لاتی ہیں۔ مصنفہ جس آدرش (Ideal) قسم کے ماحول کی متلاشی ہیں اسے صرف خواب میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ناول کی ابتدا پروفیسر سہیل کے لیکچر سے ہوتی ہے۔ سماجیات کے پروفیسر سہیل کا طریق تدریس قدرے مختلف ہے۔ وہ طلبا کو بوسیدہ ہو چکے نوٹس کی مدد سے درس دینے کے بجائے کسی خاص موضوع پر باہمی بحث و مباحثے سے نمو پانے والے سوالوں کی روشنی میں تدریسی عمل کو انجام دیتا ہے۔ راجہ گدھ میں ایک ایسا ہی مسئلہ زیر غور ہے کہ آخر فرد اور سماج کے مابین تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ یہ دونوں کن صورتوں میں ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں؟ ان میں کن صورتوں میں مفاہمت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے؟

عام روش کے مطابق مذکورہ نکات کی روشنی میں ناول کا منظر نامہ ترتیب پاتا لیکن مصنفہ دوسری راہ پر نکل پڑتی ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ عہد موجودہ کا سب سے اہم مسئلہ فرد پر سماج کی گرفت ہے۔ حساس فرد یا باشعور انسان کے لیے یہ گرفت خودکشی تک جاتی ہے۔ پروفیسر سہیل کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کوئی انسان خودکشی کیوں کرتا ہے؟ مباحثے میں تمام طلبا سر گرمی سے شامل ہوتے ہیں اور متفق ہوتے ہیں کہ خودکشی کی وجہ دیوانگی ہے۔ پروفیسر اپنے طلبا کو سننے کے بعد کہتا ہے :

” ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاگل پن دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک مثبت ایک منفی۔ ویری گڈ۔ اب اس مہینے آپ سب کی یہ Assignment ہوگی کہ آپ مجھے ایک نہ ایک ایسی وجہ بتائیں جس سے فرد میں پاگل پن پیدا ہوتا ہے۔ یہ وجہ جبلی نہیں ہونی چاہیے یا Environmental نہیں ہونی چاہیے۔ کوئی بالکل انوکھی وجہ۔ چاہے وہ بالکل احمقانہ کیوں نہ ہو۔ کوئی صوفی نظریہ یا کوئی آفاقی نظریہ لیکن بالکل نئی وجہ ہونی چاہیے۔“۔

طلبا اپنے اپنے طور پر دیوانگی کے اسباب تلاش کرتے ہیں۔ پروفیسر سہیل اس موضوع پر Assignment لکھنے کو دیتا ہے۔ ہدایت کے طور پر کہتا ہے کہ دیوانگی کے اسباب قطعی طور پر کتابی نہیں ہونے چاہیے تاہم بیشتر طلبا اسی نوعیت کے جواب دیتے ہیں۔ ایک طالب علم قیوم دیوانگی کے اسباب بیان کرنے کے بجائے خود اس تجربے سے آشنا ہونا چاہتا ہے۔ اس کے مطابق جدت یا انوکھا پن اسی طرح ممکن ہے۔ اس طرح قیوم ناول کا مرکزی کردار بنتا ہے۔

پروفیسر سہیل اور آفتاب مرد کرداروں میں قیوم کے بعد اہم مقام رکھتے ہیں۔ ابتدا میں آفتاب کی حیثیت نہیں کے برابر ہے۔ اس کے لندن جانے کے بعد سیمی شاہ کے تعلق سے اس کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں۔ نسوانی کرداروں میں سیمی شاہ، عابدہ، امتل اور روشن اہم ہیں۔ نسوانی کرداروں میں سیمی شاہ زیادہ اہم ہے۔ بانو قدسیہ نے بالائی طبقے کی اس نازنین کے کردار کی تعمیر میں وہ قرینہ ملحوظ رکھا ہے جس سے ناول کو ایک خاص سمت میں لایا جا سکے۔ سیمی شاہ کا تعارف ملاحظہ ہو:

”وہ گلبرگی معاشرے کی پیداوار تھی۔ اس وقت اس نے موری بند جینز کے اوپر وائل کا سفید کرتا پہن رکھا تھا۔ گلے میں حمائل مالا نما لاکٹ ناف کو چھو رہا ہے۔ کندھے پر لٹکنے والے کینوس کے تھیلے میں غالباً نقدی، لب اسٹک، ٹشو پیپر تھے۔ ایک ایسی ڈائری تھی، جس میں کئی فون نمبر اور برتھ ڈے کے دن درج تھے ایک دو ایسے قیمتی پن بھی شاید موجود ہوں گے جن میں سیاہی نہ ہونے کی وجہ سے وہ بال پوائنٹ مانگ کر لکھا کرتی تھی۔ اکتوبر کے سفید دن کی روشنی میں اس کے بال آگ ہی پکڑنے والے تھے“۔

آگے اور واضح انداز میں رقم طراز ہیں :

”اس کی ساری عمر کانونٹ اسکولوں میں گزری تھی۔ اپنے خالی اوقات میں وہ انگریزی موسیقی سنتی، ٹائم اور نیوز ویک پڑھتی، ٹی وی پر امریکی سیریز دیکھتی اس کے وارڈ روب میں گنتی کے شلوار قمیض تھے، وہ شیمپو ہیئر سپرے، ٹشو پیپر، کولون اور سینٹ سپرے کے بل بوتے سنگار کرتی تھی۔ اس نے کبھی لوٹے بالٹی سے غسل نہیں کیا تھا“۔

مذکورہ دونوں اقتباس سے عیاں ہے کہ سیمی شاہ کس طرح کی لڑکی ہے۔ جس معاشرے میں اس نے تربیت پائی وہ مادیت پسند ہے۔ ایسے سماج میں تمام معاملے مادے کی بنیاد پر انجام پذیر ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ عجیب سا محسوس ہوتا ہے جب مصنفہ اسی ماحول کی پروردہ سیمی شاہ کو آفتاب کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے مخالف سمت میں رواں نظر آتی ہیں۔ سیمی شاہ مادیت پسند معاشرے کی پیداوار ہے تو اس کے بالمقابل آفتاب بھی کچھ کم نہیں۔ اس کا گھرانا قالین کی تجارت کے لیے شہرت رکھتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان تعلق کا استوار ہونا وہ بھی ایک انجانی قوت کے زیر اثر جس میں جادو جیسا اثر ہے، عجب سا رنگ پیدا کرتا ہے۔ مادیت پسند منطق پر زندگی بسر کرنے والوں کے درمیان انجام پانے والے ربط کی نیرنگی ملاحظہ کریں :

”اس سے پہلے سیمی شاہ اور آفتاب کنکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہتے تھے۔ ایڈ میشن فیس داخل کرواتے وقت برآمدے میں آتے جاتے۔ لیکن اس تیسرے پیریڈ میں ان دونوں کی نگاہوں میں پہلے استعجاب ابھرا۔ پھر پہچان پیدا ہوئی اور ایک ہی سیشن میں سب کچھ اعتراف میں بدل گیا۔ کلاس کے بعد وہ دونوں اٹھے اور ایک انجانی قوت کے تحت ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ باہر پہنچ کر سیمی شاہ کچھ کہے بغیر آفتاب کی موٹر سائیکل پر بیٹھ گئی۔ آفتاب نے سوال نہ کیا کہ اسے کہاں جانا ہے اور وہ دونوں کسی فلمی منظر کی طرح آہستہ آہستہ سڑک پر فیڈ آؤٹ کر گئے“۔

ناول نگار کے بیان میں تضاد ہے۔ ایک طرف سیمی شاہ اور آفتاب بنا کچھ کہے ایک دوسرے کے باطن سے آشنا ہو جاتے ہیں۔ مصنفہ سیمی شاہ جیسی لڑکیوں کے پس منظر کو بیان کرتے وقت اپنے پہلے والے بیان پرoverlap کرتی نظر آتی ہیں۔ قارئین کشمکش میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ کس بیان کو قابل اعتنا سمجھیں۔ ناول نگار کی ہمدردی یا نا پسندیدگی کس کردار سے وابستہ ہے۔ بانو قدسیہ ایک جگہ سیمی شاہ کی قیام گاہ کے حوالے سے رقم طراز ہیں :

”یہ ہوسٹل بھی چمگادڑوں کی آماجگاہ تھی۔ اس ہوسٹل سے لے کر فاطمہ جناح تک آزاد عورتوں اور لڑکیوں کا ٹریننگ کیمپ تھا۔ گھروں سے بیزار، روزگار کی تلاش میں پریشان، ڈاکٹر بننے اور مستقبل سنوارنے کی آرزو میں بے قرار، عاشقوں سے رنجیدہ، شوہروں کی تلاش پر مصر، گھر رہتی تھیں۔

ڈاکٹری سیکھنے والیاں چوک کے اس پار رہتی ہیں۔ ٹائپ کی کلاسوں میں حاضر باش رہنے والیوں سے کئی بار میرا ٹکراؤ ہوا۔ وائی ڈبلیو سی اے میں پلازہ سنیما کے شو کے ساتھ ساتھ یہاں بھی کلاس ٹوٹا کرتی تھی۔ سب خوش لگتی تھیں، سب کی سب خوش فہمیوں میں مبتلا تھیں۔

یہ تمام عورتیں لڑکیاں کسی نہ کسی طرح مردوں کے نارمل نیوکلس سے کٹی ہوئی تھیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے بیشتر عورتوں کو مرد کا قرب زیادہ ملتا ہو، لیکن معاشرے کے رسمی طریقے کے مطابق وہ Career گرلز تھیں۔ ایسی مینڈکیاں جن کو ہلکا ہلکا زکام ہو چکا تھا۔ وہ علانیہ سگریٹ پیتی تھیں۔ یہ سب تو چھپکلی کی کٹی ہوئی دم کی طرح پھڑک رہی تھیں۔ تڑپ رہی تھیں اور اپنے اصلی رسمی نیوکلس کی تلاش میں تھیں۔

سیمی بھی انہیں چہروں میں سے ایک تھی۔ اس کے چہرے پر بھی ہلکی سی گرد رہتی تھی میک اپ کی۔ ازلی سحر کی۔ عدم میلان طبیعت کی۔ فریب آرزو کی۔ ”

ناول نگار نے سیمی شاہ اور اس جیسی نازنینوں کی تصویر کشی کرتے وقت شاید ہی کوئی ایسی صفت باقی رکھی ہو جس سے انہوں نے ان لڑکیوں کو متصف نہیں کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان تمام صفات کا نیچر منفی ہے۔ بانو قدسیہ ان لڑکیوں کے حوالے سے بدگمان ہیں۔ مصنفہ آخر کس خطا کی بنیاد پر ماڈرن خیالات یا پیشے سے منسلک ہونے کی آرزومند خواتین کو ایک ہی ڈنڈے سے ہانکتی نظر آتی ہیں۔ کسی ایک کی خطا پر تمام لوگوں کو مورد الزام ٹھہرانا کہاں کا اصول ہے؟ کیا یہ انصاف ہو گا کہ کسی ایک پیشے یا فکری رجحان سے وابستہ فرد کے رویے کی بنیاد پر اس کے تمام ہم پیشہ یا ہم خیال لوگوں کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کر لی جائے۔

تخلیق کار کو اول تا آخر تخلیق کار بنے رہنا چاہیے۔ حتمی فیصلہ صادر کرنا ثقہ لوگوں کا کاروبار ہے۔ جب نظریاتی کمٹمنٹ گراں بار محسوس ہونے لگے تو بلا شبہ اسے عیب کہنا چاہیے۔ بظاہر لگتا ہے کہ ناول میں من چاہی بات کہنے کی گنجائش کم ہوتی ہے لیکن دنیا بھر کے ادب میں ایسے حوالے موجود ہیں جس میں تخلیق کاروں نے حد بندی کے باوجود اپنی بات بڑے سلیقے سے کہی ہے۔ اس باب میں میرؔ صاحب ہم سب کے لیے مشعل راہ ہیں :

شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہیے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

زبیر عالم (جے این یو - دہلی) کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments