وجہ بے گانگی نہیں معلوم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برلن سے زاہد کے کئی فون آچکے تھے۔ قادیانی ہونے کے بعد سے وہ وہیں رہ رہا تھا اور میں نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ برلن جا کر اس سے ملوں گا، کئی دفعہ پروگرام بنایا تھا مگر جا نہیں سکا تھا۔ برلن میں ہی انگو برت نارڈ رہتا تھا۔ اس نے بھی کئی دفعہ کارڈ لکھے تھے کہ میں اس سے آ کر ملوں۔ زاہد اور انگو دونوں مجھے لندن میں ملے تھے۔ انگو سے بڑی سرسری ملاقات ہوئی تھی۔ لندن میں اس کا چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا اور اسے سات دن تک میرے ہسپتال میں رہنا پڑا تھا۔

جرمنوں کو میں نے ہمیشہ عزت کی نظر سے دیکھا ہے اور اس سے بھی میری دوستی ہو گئی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کا بوجھ اٹھایا ہوا یہ ادھیڑ عمر آدمی ریٹائرمنٹ کے بعد لندن گھومنے آیا ہوا تھا۔ جنگ کے زمانے میں ہٹلر کی حکومت نے انگو کو یہودی سمجھ کر گرفتار کر لیا تھا کیوں کہ انگو کے خاندان میں عیسائی ہونے کے باوجود ختنے کی رسم پوری کی جاتی تھی اور یہ یہودی ہونے کا بڑا ثبوت تھا۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ یہودیوں کو اس نے کبھی بھی پسند نہیں کیا تھا مگر ان سے اسے نفرت بھی نہیں تھی۔

اس کے یہودی دوست بھی تھے جن سے اس نے محبت بھی کی تھی۔ بڑی مشکلوں سے نازیوں نے اسے چھوڑا تھا مگر اتحادیوں کی حکومت میں شروع کے دو سال اسے جیلوں میں گزارنا پڑ گئے تھے کیونکہ اسے نازیوں کا حامی اور بعد میں کمیونسٹ سمجھا جاتا رہا تھا۔ بڑا مشکل زمانہ تھا، اس نے مجھے بتایا تھا کہ چھوٹنے کے بعد نوکری بھی نہیں ملی تھی۔ ”جنگ کے بعد جہاں ملک لٹا تھا وہاں ہم سب لوگ بھی لٹ گئے تھے“ مگر وقت اسے نہیں مار سکا تھا۔

وہ چلتا رہا تھا اور چل رہا تھا۔ تمام تکالیف کے باوجود الجھنوں اور مسائل کے ساتھ۔ سات دنوں میں اس نے مجھے بہت کچھ بتایا تھا۔ سرسری ملاقات میں ہماری دوستی مستقل ہو گئی تھی۔ ہسپتال میں قیام کے دوران میں نے اس سے خوب باتیں کی تھیں، جرمنی کے بارے میں میرے عجیب قسم کے رومانوی تصور تھے۔ میں سوال کرتا تھا وہ جواب دیتا تھا۔ جرمن زندگی کے ہر پہلو کی تصویر سامنے آجاتی تھی۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے شکست کے باوجود اور اتحادی قوتوں کے قبضے کے باوجود جرمنوں نے نہ صرف یہ کہ زندہ رہنا سیکھا تھا بلکہ عزت سے زندہ رہ رہے تھے۔

انگو کی کہانیاں دردناک تھیں۔ جدوجہد سے بھری ہوئی۔ ٹوٹے ہوئے خاندانوں کی جو دیوار برلن کے دونوں جانب تھیں۔ خوفزدہ ماؤں کی، جن کے بچے جنگ کی نذر ہو گئے تھے۔ ان بہنوں اور بیویوں کی جن کے بھائی اور شوہر کبھی بھی واپس نہیں آ سکے۔ اور ان معصوم بچوں کی جو مرے نہیں تھے جن کے جسم ٹوٹ گئے تھے اور ذہن بکھر گئے تھے۔ وہ ایک حساس جرمن تھا۔

زاہد مجھے ہائیڈ پارک میں اسپیکر کارنر پر ملا تھا۔ ہائیڈ پارک کے اس کارنر پر ہر شخص کو آزادی ہے کہ وہ جو چاہے بولے اور جس قسم کا پرچار کرنا چاہے کرے۔ میں لندن میں نیا نیا تھا اور دوستوں رشتے داروں کی بتائی ہوئی جگہوں کو ڈھونڈتا ہوا لندن کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہائیڈ پارک میں اس دن زاہد میرے برابر کھڑا ہوا تھا۔ ایک نظر میں ہم دونوں ایک دوسرے سے بے تکلف ہو گئے تھے۔ اس کی شخصیت میں ایک طرح کی کشش تھی۔ ایک جذبہ سا تھا اس کے چہرے پر ۔ پھر وہ بھی پاکستانی تھا اور میں بھی پاکستانی۔ وہ بھی کراچی کا تھا اور میں نے بھی کراچی میں آنکھ کھولی تھی۔

وہ پیپلز پارٹی کا سرگرم کارکن رہا تھا اور میں پیپلز پارٹی کے ہمدردوں میں ضرور تھا۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے پر یکایک اعتماد کر لیا تھا۔ اس روز ہم لوگ خوب گھومے تھے۔ میرے پاس کافی پیسے تھے۔ میری نوکری شروع ہونے میں دو ہفتے باقی تھے اور میرے پاس گھومنے کے لیے خاصا وقت تھا۔ زاہد نے لندن میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہوئی تھی۔ ملکہ برطانیہ کی حکومت نے اس کا وظیفہ باندھا ہوا تھا اور وہ انتظار میں تھا کہ کب اسے قانونی طور پر پناہ ملے گی۔ وہ دلچسپ آدمی تھا مگر ایسا لگتا تھا جیسے ڈرا ہوا ہے، کچھ الجھا ہوا ہے۔ ایک ایسا زخمی جس کا زخم مسلسل رس رہا ہے اور جسے اچھا ہونے کی امید بھی نہیں ہوتی ہے۔

ہم دونوں اس دن دنیا جہان کی باتیں کرتے رہے تھے۔ اپنے ملک پاکستان کی باتیں، کراچی کی باتیں۔ اسے کراچی چھوڑے ہوئے چار سال ہوچکے تھے اور میں نیا نیا آیا تھا۔ وہ کرید کرید کر پوچھتا رہا تھا۔ سڑکوں محلوں گلیوں کے قصے، یونیورسٹی، کالج اور اسکولوں کی باتیں، فوج، سیاست، ضیاء الحق، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے مسئلے اور کراچی کے قصے، پاکستان کا غم۔

وہ کو رائی ڈن میں رہ رہا تھا، ایک چھوٹے سے ہیڈ سیٹر میں جس کا کرایہ سرکار دے رہی تھی۔ اسے نوکری کی اجازت نہیں تھی۔ مگر وہ کبھی کبھار پاکستانیوں کے دکانوں میں کام کر لیا کرتا تھا، جس سے تھوڑی سی آمدنی ہوجاتی تھی۔

ایک دن اس نے مجھے بتایا تھا کہ وہ قادیانی ہو گیا ہے اور اب جرمنی جا رہا ہے۔ مجھے جیسے سکتہ سا ہو گیا تھا۔ اس بات پر نہیں کہ وہ جرمنی جا رہا ہے، اس بات پر کہ وہ قادیانی ہو گیا ہے۔ ”یہ کیسے ہو سکتا ہے یار۔ یہ لوگ تو احمدی ہیں۔ بالکل۔ یہ تم کیسے کر سکتے ہو۔“

ہم لوگ اس وقت پیکاڈلی سرکس پر سیلون ٹی ہاؤس میں بیٹھے ہوئے تھے اور سیلون کی چائے پی رہے تھے۔ سیلون ٹی ہاؤس بھی خوب جگہ تھی۔ صبح سے شام تک کئی دن ہم لوگوں نے وہاں بتائے تھے، کھانا کھاتے ہوئے، چائے پیتے ہوئے اور گپ مارتے ہوئے۔ اس دن بھی ہم لوگ وہیں ملے تھے اور باتوں کا سلسلہ شروع ہی ہوا تھا کہ اس نے یہ خبر دے دی۔

”مگر کیوں یار؟ کیوں؟ یہ گناہ ہے۔ مسلمان نہ ہونا اور بات ہے مگر احمدی ہو جانا تو بہت ہی الگ بات ہے۔

”ہاں یار بات تو ہے، مگر مجبوری ہے۔ مجھے احمدی ہونا پڑے گا۔ ضیاء الحق کے بہت سے احسانات ہیں۔ ایک یہ احسان بھی یاد رکھنے کے قابل ہو گا۔“

”مگر یار ضیاء الحق یہاں کہاں سے آ گیا؟ اس نے کون سا تشدد تمہارے پر کیا ہے۔ اس نے کون سے جیل میں تمہیں ڈالا ہے۔ اس نے تو نہیں کہا کہ احمدی ہو جاؤ۔ یہ تو تم عجیب بات کر رہے ہو۔“

”ہاں بات تو عجیب ہے، مگر ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ میری سیاسی پناہ کی درخواست پر کچھ ہو نہیں رہا ہے اور میں ایک طرح سے قیدی ہو گیا ہوں۔ نہ کام کر سکتا ہوں، نہ کسی اور ملک جاسکتا ہوں، نہ زیادہ کما سکتا ہوں کہ گھر والوں کی کچھ مدد کر سکوں۔ زندگی ایک بوجھ، ایک لعنت، ایک مستقل درد بن کر رہ گئی ہے۔“

”مگر اس بات کا احمدی ہونے سے کیا تعلق ہے۔“

”بہت گہرا تعلق ہے۔ میں انگلینڈ کے احمدی مرکز اسلام آباد میں جا کر احمدی مذہب کو اپنانے کی حامی بھر چکا ہوں۔ مسلمان تو میں اس دن سے ہی نہیں رہا تھا جس دن بھٹو صاحب کو پھانسی پڑی تھی۔ میرے گھر والے، ماں باپ بھی روئے تھے مگر دعا خدا سے ہی مانگی تھی انہوں نے، مگر میرا رشتہ ٹوٹ گیا تھا۔ میرے لیے خدا اور مذہب ختم ہو گیا تھا۔ میرے گھر والے مسلمان رہ گئے تھے اور میں صرف زاہد تھا جس کا نہ کوئی دین تھا نہ دھرم۔ اور اب اتنے دنوں کے بعد احمدی بن جاؤں گا، تو کون سا غلام محمد کے لیے بنوں گا۔ بات غلط ہے اور غلط ہی سہی۔ احمدیوں کو جرمنی میں سیاسی پناہ مل رہی ہے۔ مجھے بھی مل جائے گی۔ کیا فرق پڑتا ہے۔“

یہ زاہد کی زندگی کا بالکل نیا رخ تھا۔ میں پریشان سا ہو گیا تھا۔ میری رگ اسلامیت پھڑک اٹھی تھی۔ میں کوئی بہت اچھا مسلمان تو نہیں تھا بلکہ عملی طور پر مذہب سے میرا کوئی خاص واسطہ نہیں تھا۔ مجھے خدا، رسول، اس کی کتاب اسلام کے ارکان پر اتنا ہی یقین تھا جتنا ایک پریکٹیکل آدمی کو ہونا چاہیے۔ ساتھ ساتھ میں شراب بھی پی لیتا تھا اور پاکستان میں جمعہ کی نماز اور انگلستان میں عید بقر عید کی نماز پڑھ لیتا تھا۔ مگر زاہد کے احمدی ہو جانے کا صدمہ سا ہوا تھا مجھے۔ وہ بھی صرف سیاسی پناہ کے لیے۔ بہت چھوٹی بات کی تھی اس نے۔

”یار میں تم کو بڑا آدمی سمجھتا تھا۔ تم نے تو بہت چھوٹی بات کی ہے۔ مجھے مایوس کیا ہے تم نے۔ یہ کیسے کر سکتے ہو تم۔ ٹھیک ہے مذہبی نہ رہو مگر احمدی۔ یہ تو بہت ہی غلط بات ہے۔“

وہ مسکرایا تھا۔ ”نہیں۔ اتنی غلط بات بھی نہیں ہے اور کیونکہ تم اس جگہ پر نہیں ہو جہاں میں ہوں لہٰذا یہ بات تم کو غلط لگ رہی ہے۔ میں تھک گیا ہوں۔ بہت ڈر گیا ہوں، اب مجھے فیصلہ کرنا تھا اور میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔“ یہ کہہ کر وہ تھوڑی دیر کے لیے رکا تھا، جیسے کسی تذبذب کا شکار ہو۔ کچھ کہنا چاہتا ہو مگر کہہ نہیں پا رہا ہو۔ پھر یکایک اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی لہرائی تھی اور وہ بولا تھا۔

”یار، وہ اچھے دن تھے۔ لالو کھیت کی اس گلی میں جہاں میرا مکان ہے، سارے لوگ نورانی کی پارٹی کے تھے۔ دو چار جماعتی تھے اور دو چار بھٹو کے دیوانے۔ میرا باپ بھی ان میں سے تھا۔ میری ماں بھی تین رنگوں کا دوپٹہ اور تین رنگوں کی چوڑیاں پہنتی تھی۔ میں چھوٹا تھا، نیا نیا یونیورسٹی میں داخل ہوا تھا اور باپ کی دیکھا دیکھی بھٹو کا جنونی تھا۔ وہ خوب دن تھے، نہ جانے کہاں کہاں سے چندہ کر کر کے ہم لوگ جھنڈے بناتے تھے اور اسے لہراتے تھے۔

میرے باپ کی پان کی دکان تھی، لذیذ پان ہاؤس۔ اس دکان کے سامنے ہی لکڑی کی بنچوں پر سب پارٹیوں کے لوگ آ کر بیٹھتے تھے۔ جگنو کی دکان سے چائے پیتے تھے۔ لذیذ پان کھاتے تھے اور سیاسی بحث کرتے تھے۔ ہم لوگ یونیورسٹی میں جمعیت سے مقابلہ کرتے تھے۔ وہ ہمیں کافر کہتے تھے اور ہم انہیں جماعتی کہتے تھے۔ مودودی کے غلام۔ پھر ساتھ بیٹھ کر چائے بھی پی لیتے تھے۔ مگر یار، یہ سب کچھ بکھر گیا۔ ایسا ٹوٹا کہ اب شاید کبھی بھی نہیں جڑ سکے گا۔

”فوجیوں نے بھٹو صاحب کو گرفتار کر لیا۔ ہم لوگوں نے بھی سکون کی سانس لی تھی۔ میرا باپ تو بہت غصے میں تھا، مگر میں نے سوچا چلو، 90 دن میں الیکشن ہوجائیں گے پھر سب کچھ دوبارہ سے صحیح ہو جائے گا۔ مگر یہ سوچ، یہ خیال صرف خیال ہی رہ گیا۔ الیکشن تو خیر کیا ہوتے، گرفتاریاں ہوئیں اور میرے باپ کو بھی فوجیوں نے پکڑ لیا۔ تھوڑے دنوں کے بعد وہ چھوٹ تو گئے تھے مگر جب گھر واپس آئے تھے تو ایسا لگا جیسے میرا پچاس سال کا باپ دو سو سال کا ہو گیا ہے، شکل سے بھی، دماغ سے بھی۔

انہوں نے وہ دکان جس پر میرا چھوٹا بھائی بیٹھنے لگا تھا دوبارہ سنبھال تو لی مگر خود کبھی بھی نہیں سنبھل سکے۔ یار جس وقت ممتاز بھٹو نے کراچی میں آگ لگائی تھی اور سندھی زبان کا بل نہیں، نفرت کا بل اور ہمارے بھٹو صاحب سے غداری کا بل پاس کرایا تھا اس دن چند لوگوں نے لذیذ پان ہاؤس سے پیپلز پارٹی کا جھنڈا اتار کر جلا دیا تھا۔ اس دن بھی میرا باپ شیر کی طرح دھاڑا تھا۔ کسی کی ہمت نہیں ہوئی تھی کہ بھٹو صاحب کی تصویر دکان سے کھینچ پھینکتا مگر جب وہ فوجیوں کے پاس سے آیا تھا تو ختم ہو چکا تھا۔

مایوس، تھکا ہوا اور خاموش۔ میرے دل میں شدید نفرت ہو گئی تھی اس دن سے، ان تمام لوگوں سے جنہوں نے ضیا الحق کی حمایت کی تھی۔ پھر تو جانے کیا کیا شروع ہو گیا تھا۔ اور میں اپنے باپ اور اپنی ماں کی مرضی کے خلاف پیپلز پارٹی میں گھستا ہی چلا گیا تھا۔ اب تو کوئی اور لوگ تھے، نہ ممتاز بھٹو، نہ حفیظ پیرزادہ، نہ کوثر نیازی۔ جنہیں بھٹو صاحب نے بنایا تھا وہ کچھ اور ہو چکے تھے۔ میں کبھی لانڈھی میں ہوتا تھا تو کبھی لطیف آباد، حیدرآباد میں، تو کبھی لاڑکانے میں، تو کبھی لاہور میں۔ نہ روٹی کی فکر، نہ کپڑے لتے، نہ کھانا پینا۔ لیڈر عدالت میں مقدمہ بھگتا رہا تھا، لیڈر کے دوست فوجیوں سے ملے ہوئے تھے۔ بیچارے ورکر پیسے جمع کرتے تھے اور گرفتاریاں پیش کرتے تھے۔ کبھی صحافیوں کے ساتھ تو کبھی مزدوروں کے ساتھ۔

”پھر میں بھی گرفتار ہو گیا تھا۔ انہوں نے سوچا تھا کہ شاید مجھے بھی وہ لوگ سیدھا کر دیں گے، مگر مجھے سیدھا نہیں کرسکے تھے۔ چھ مہینے کے بعد میری ضمانت ہو سکی تھی۔ وہ بھی کچھ یونیورسٹی کے دوستوں اور غریب مگر دل والے وکیلوں کی مدد سے۔ مجھے پیپلز پارٹی کے کسی بڑے آدمی کی مدد نہیں ملی تھی۔ ہم لوگ مر رہے تھے۔ بھٹو صاحب جانے والے تھے اور یہ لوگ سازشیں کر رہے تھے۔ ان کی زمینیں برقرار تھیں، ان کی جاگیریں برقرار تھیں، ان کی مراعات وہی تھیں۔

مجھے پھر انڈر گراؤنڈ ہونا پڑ گیا تھا۔ پھر میں کسی عدالت میں حاضر نہیں ہوا تھا۔ انڈر گراؤنڈ کی دنیا بھی عجیب ہوتی ہے۔ یہ ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے۔ داڑھی مونچھیں بڑھا کر شکلیں بدل کر آپ گھوم رہے ہوتے ہیں، آپ کے شناسا آپ کے سامنے سے گزرتے ہیں، دل یہ چاہتا ہے کہ تڑپ کر آواز دیں مگر آپ کر نہیں سکتے، یہ ایک الگ طرح کی قید ہے۔ یہ بھی ایک اسکول ہے، درسگاہ ہے جہاں عجیب عجیب تجربہ ہوتا ہے۔ میں کبھی جامشورو کے ہاسٹل میں یا کبھی گاڑی کھاتے میں کسی دوست کے گھر پر رہتا تھا۔ پھر یہ خبر بھی ہوتی تھی کہ فلاں جاننے والوں نے پناہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ زندگی روز ایک سبق دیتی ہے، روز ایک نئی کہانی بنتی ہے۔ نیا ڈرامہ دکھاتی ہے، اور پرانے دوستوں کے اصلی چہرے سامنے لے آتی ہے۔

”لانڈھی اور لیاری میں تو کئی بار چھپا مگر چانڈیو، بگھیو اور جتوئیوں نے کبھی بھی نہیں چھپایا نہ مجھے اور نہ ہی میرے جیسے اوروں کو جن کے نام میں سومرو، لاشاری اور بھٹو بھی لگا ہوا تھا۔“

یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا تھا اس کا چہرہ اب اداس نہیں تھا۔ تمتا رہا تھا جیسے اندر سے اسے غصہ آ رہا ہو۔ میں نے کہا تھا ”یار اور چائے پینا چاہیے۔“

”ہاں ضرور۔“ یہ کہہ کر اس نے پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگا لیا تھا پھر ذرا دیر رک کر بولا تھا۔ ”یار اس دن میں کراچی میں ادریس چاندنا کے ایک گودام میں چھپا ہوا تھا۔ تم چاندنا کو نہیں جانتے ہو۔ یہ کراچی کا تاجر تھا۔ ان کا ڈیکوریشن کا کام تھا اور کراچی جیسے امن والے شہر میں جہاں راتوں کو تقریبات ہوتی تھیں، ادریس چاندنا ٹھیک ٹھاک کماتا تھا۔ وہ بھٹو کا عاشق تھا، دیوانہ بالکل دیوانہ۔ اس دن دو خبریں ملی تھیں۔ پہلی خبر یہ تھی بھٹو صاحب کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

اس وقت میں چائے پی رہا تھا کہ کسی نے اخبار لا کر مجھے دیا تھا۔ مجھے ایسا لگا تھا جیسے میری دنیا اجڑ گئی ہے اور میرے اندر ایک خدا تھا اس پر سے میرا اعتبار اٹھ گیا ہے۔ نہ میں چائے پی سکا نہ ناشتہ کر سکا تھا نہ بیٹھ سکا تھا نہ بھاگ سکا تھا، اس گودام میں بیٹھا اپنے باپ کے بارے میں سوچ رہا تھا جس نے مجھ سے کہہ دیا تھا کہ بیٹا کھیل ختم ہو گیا ہے، یہ لوگ اسے مار دیں گے۔ تم اس کیفیت کا اندازہ نہیں کر سکتے ہو۔

تم نے کبھی بھی ایسے آدمی کو نہیں چاہا ہو گا جس کو صرف دور سے دیکھا ہو، جس سے امید ہو، یہ احساس کہ یہ آدمی سب کچھ کرے گا، روٹی بھی کپڑا بھی مکان بھی، ایسے لوگوں پر لوگ اپنی جان اس لیے نہیں لٹاتے ہیں کہ یہ لوگ خوبصورت ہوتے ہیں یا ان کے پاس بڑی گاڑی یا بڑا مکان ہوتا ہے، ان کے پاس تو صرف ایک خیال ہوتا ہے جس میں امید ہوتی ہے، جہاں دور تک کچھ نظر آتا ہے۔ اس روز بھٹو نہیں مرا تھا، ایک خیال مر گیا تھا، ایک امید ختم ہو گئی تھی اور آگے صرف اور صرف اندھیرا تھا۔ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔

”دوسری خبر چاندنا صاحب کے بارے میں تھی جن پر بھٹو کی موت کی خبر سن کر دل کا دورہ پڑ گیا تھا اور وہ مر گئے تھے۔ کاش میں بھی مر جاتا مگر موت اتنی آسان نہیں ہے۔ مجھے تو موت بھی مشکل سے ہی آئے گی۔ اس کے بعد مجھے کراچی سے بھاگنا پڑ گیا تھا۔ کراچی سے ہی نہیں پاکستان سے نکلنا پڑ گیا تھا۔ کچھ دوستوں نے جوڑا تھا، کچھ کہیں سے ملا تھا اور کچھ چاندنا جیسے لوگوں کی مہربانی تھی۔ میں کسی نہ کسی طرح تہران کے راستے لندن پہنچ گیا تھا۔

”یہاں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہوئی ہے۔ پارٹی کے بہت سے لوگ ہیں۔ سال گزر گئے، سیاسی پناہ کا الاؤنس ملتا ہے، نوکری نہیں ملتی، پارٹی کے لوگوں کے بڑے محل ہیں، اپارٹمنٹ ہیں اور کتنے میرے جیسے لوگ ہیں جو مجھ سے لے کر سکھر تک اور ہری پور ہزارہ کے جیلوں سے کراچی جیل تک قید بھگتا رہے ہیں اور ملک بدر جام صادق کے بڑے سے اپارٹمنٹ میں زندگی جوان ہے، جلاوطن کھر جیسے کے گھروں میں روشنی ہی روشنی ہے اور ان جیل بھگتانے والے جوانوں کے گھروں پر نہ دیا ہے نہ روشنی، نہ روٹی نہ کھانا۔

میری بہنیں بڑی ہو گئیں ہیں۔ میرا باپ معذور ہو گیا ہے۔ میرا بھائی نہ جانے کس طرح زندگی کی ناؤ چلا رہا ہے اور آج بھٹو کی پھانسی کے پانچ سال کے بعد بھی میں کچھ نہیں کر سکتا ہوں نہ ان کے لیے نہ اپنے لیے۔“ زاہد روہانسا سا ہو گیا تھا۔ اس کے غصہ ور چہرے پر ایک عجیب سی معصوم سی آ گئی تھی۔ وہ مجھے غور سے دیکھ رہا تھا، دیکھتا رہا پھر بولا تھا ”پاکستان جا کر ضیاء الحق کا قیدی بن جاؤں یا احمدی بن کر جرمنی کا پاسپورٹ لے لوں۔ نہیں مجھے کچھ اور مت سکھانا۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے اور احمدی بن چکا ہوں۔ اور احمدی ہی رہوں گا۔“

میں اس سے کچھ بھی نہیں کہہ سکا تھا۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ اس کے کاغذ بن گئے ہیں۔ اسلام آباد میں انگلینڈ کے سفارتخانے سے سرٹیفکیٹ مل گیا ہے کہ پاکستان میں مذہبی بنیادوں پر میری جان خطرے میں پڑ سکتی ہے اور اب میں جرمنی چلا جاؤں گا، پھر مجھے آزادی مل جائے گی۔”

پھر ہم بیچ میں ایک دفعہ اور ملے تھے، لسٹر اسکوائر میں ہم نے ساتھ ہی ایک فلم دیکھی تھی۔ اس دن کے بعد اس کا فون برلن سے آیا تھا۔ وہ وہاں خوش تھا، اسے سیاسی پناہ مل گئی تھی اور بہت سے محبت کرنے والے احمدی خاندان مل گئے تھے۔

پھر ایک دن اس نے فون کر کے بتایا تھا کہ اس نے کچھ پیسے پاکستان بھیجے ہیں اور اس کی ایک بہن کی شادی بھی ہو گئی ہے۔ اس نے گھر والوں کو نہیں بتایا تھا کہ وہ احمدی ہو گیا ہے۔ اس نے کہا تھا یار کیا فائدہ ہے، یہ نہ وہ سمجھیں گے اور نہ میں سمجھانا چاہتا ہوں۔ زندگی ہے، گزر جائے گی، شاید ان لوگوں سے اب کبھی ملاقات ہی نہ ہو۔ ”

پھر ایک دن اس نے فون کر کے بتایا تھا کہ اس نے ایک احمدی لڑکی حمیدہ سے شادی بھی کرلی ہے اور ایک ہفتے کے لیے لندن آ رہا ہے۔

میں ان دونوں کو چائنا ٹاؤن میں ایک ریسٹورنٹ میں لے گیا تھا۔ حمیدہ ایک سلجھی ہوئی، پڑھی لکھی مگر مذہبی لڑکی تھی۔ اس کی باتوں سے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کو قرآن بہت توجہ سے پڑھایا گیا ہے۔ اسے مسلمانوں کے مسائل کا خوب اندازہ ہے اور مولانا مودودی کے بہت سارے صفحات اسے ازبر ہیں۔ میں باتیں کر رہا تھا اور سوچ رہا تھا زاہد کا تو کوئی مذہب نہیں ہے مگر شاید آہستہ آہستہ یہ لڑکی اسے تھوڑا سا مذہبی ضرور بنا دے گی اور بچے تو یقیناً احمدی ہوں گے۔

مجھے شدت سے احمدیوں پر غصہ آیا تھا۔ مجھے ایسا لگا تھا جیسے انہوں نے زاہد کو چرا لیا ہے۔ میرے دل میں پہلی دفعہ ضیا الحق سے نفرت کی شدید لہر اٹھی تھی، ویسی ہی جیسے زاہد کے دل میں تھی۔ حمیدہ اچھی لڑکی تھی۔ میرے دلی غصے کے باوجود میرے من میں اس کے خلاف کوئی غصہ نہیں تھا۔ میں نے اس کے اور زاہد کے تعلقات میں کوئی بناؤٹی پن نہیں پایا تھا۔

اس ہفتے ہم لوگ تین دفعہ ملے تھے، پھر وہ جرمنی واپس چلے گئے تھے۔

اس دن میں ہسپتال میں ہی تھا کہ مجھے پیچ آیا تھا کہ میرے لیے جرمنی سے فون ہے۔ میں نے فوراً آپریٹر کو ملایا، میں سمجھ گیا تھا کہ یہ زاہد کا ہو گا، مگر اس نے آج تک مجھے ہسپتال فون نہیں کیا تھا، خدا کرے خیر ہو۔

میری آواز سن کر زور سے چیخا تھا، ”یار ضیاء مر گیا، میں بہت خوش ہوں۔“
میری سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ میں کیا کہوں۔ کب، کیسے، کیوں کر کس نے مارا یا خود ہی مرا ہے؟

”ارے، تم نے خبر نہیں سنی؟ شاید کسی بہت ہی اچھے پاکستانی نے اس کے جہاز میں بم رکھ دیا تھا۔ اب مزا آئے گا۔ میں کراچی جاؤں گا، لالو کھیت میں جہاں میری ماں ہے، میرے باپ ہیں۔ جئے بھٹو دمادم مست قلندر۔“ نہ جانے وہ کیا کیا بولتا رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ اب پاکستان میں شاید کچھ ہو جائے گا، شاید الیکشن ہو، شاید بے نظیر جیتے گی اور شاید لوگوں کو کچھ سکون ملے گا۔ میں کبھی بھی پیپلز پارٹی میں نہیں رہا، نہ میں بے نظیر کا دیوانہ تھا مگر انگلستان کے اخبار ٹیلی ویژن جو کچھ بتاتے تھے اور پاکستانی جرنیلوں کی عیاشی کی داستانیں دکھاتے تھے اس کے بعد لگتا تھا اب بے نظیر بھٹو کو آنا ہی چاہیے۔ ہم سب لوگوں نے تھوڑی تھوڑی امیدوں کے تار سے ایک خواب کا محل بنالیا تھا۔ کسی کے مرنے پر خوشی تو نہیں ہونی چاہیے مگر نہ جانے کیوں اس دن میں بھی خوش ہوا تھا۔

زاہد اپنی اور پاکستان کی خبریں دیتا رہا تھا۔ پھر ایک دن بے نظیر کی حکومت بھی بنی تھی۔ اس نے فون پر تقریباً چالیس منٹ تک مجھ سے بات کی۔ وہ بہت خوش تھا اور پاکستان جانے کے خواب دیکھ رہا تھا۔

پھر وہ پاکستان سے واپسی پر لندن سے ہوتا ہوا گیا تھا۔ کوشش کے باوجود اس سے ملاقات نہیں ہو سکی تھی۔ فون پر بات ہوئی تھی۔ وہ کراچی میں دو ماہ رہا تھا۔ سارے دوستوں سے رشتہ داروں سے ملا تھا۔ مگر اس کی باتوں میں گرم جوشی نہیں تھی۔ مجھے ایسا لگا تھا جیسے وہ اداس ہے۔ اس نے بتایا تھا کہ بے نظیر کی حکومت نہیں چل سکے گی۔ مجھے ایسا لگا تھا جیسے وہ حکومت سے ناراض سا ہے۔

پھر وہ حکومت بھی چلی گئی تھی اور میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب برلن جا کر اس سے ضرور ملوں گا۔ میں نے زاہد کو بھی خبر کردی تھی۔ اور انگو سے فون پر بات کر کے ملنے کا پروگرام بنالیا تھا۔

وہ برلن ائرپورٹ پر حمیدہ اور اپنے بیٹے ذوالفقار کے ساتھ مجھے لینے آیا تھا۔ ذوالفقار دو سال کا خوبصورت بچہ تھا۔ اس نے بڑے غرور سے مجھ سے کہا تھا ذوالفقار علی بھٹو کی طرح بہادر ہو گا یہ دیکھنا بڑا ہو کر۔ ہم دونوں ہی ہنس دیے تھے۔

وہ ہفتہ خوب گزرا تھا۔ زاہد برلن میں بہت اچھا کام کر رہا تھا۔ اس کی دکان تھی جہاں وہ اور اس کی بیوی کام کرتے تھے، اس کا خوبصورت سا مکان تھا اور اچھی سی گاڑی۔ ہم نے خوب باتیں کی تھیں اور اس مکان میں، میں نے بوڑھے انگو کو پاکستانی کھانوں کی دعوت پر بلایا تھا۔ انگو کو پاکستان، سیاست اور ہندوستان اور ایشیا کے دوسرے ملکوں کے بارے میں خوب پتہ تھا۔ اس نے زاہد سے ملنے کے فوراً بعد ہی کہہ دیا تھا کہ یہ آدمی اس کا دیوانہ ہے اور اس کا دیوانہ ہی رہے گا، اس نے دیوار پر لگی ہوئی بھٹو کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔

زاہد تھوڑا سا مذہبی ہو گیا تھا مگر اس نے دیگر احمدیوں کی طرح بھٹو سے اپنی نفرت کا اظہار نہیں کیا تھا۔ احمدیوں کا خیال تھا کہ بھٹو پر ضیاء کا عذاب خدا کی ناراضگی تھی کیونکہ بھٹو نے احمدیوں کے خلاف قانون بنائے تھے۔ باتوں باتوں میں بڑی رات ہو گئی تھی اور انگو ہمیں اپنے گھر آنے کی دعوت دے کر چلا گیا تھا۔ اس کے جانے کے بعد ہم لوگ وہی سیاسی باتیں کرتے رہے تھے۔ زاہد پاکستان سے بہت مایوس آیا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ ”اس قدر لوٹ مار ہے کہ کوئی حساب نہیں۔ ضیاء الحق کے جرنیلوں کی طرح پیپلز پارٹی کے لوگ بھی لوٹ رہے ہیں۔ لندن میں رہنے والے وہ عیاش جنہوں نے جلاوطنی میں بھی عیاشی کی وہ اب بھی وزیر ہیں، سفیر ہیں اور میرے ساتھ جیل جانے والے امداد سومرو، رضا جونیجو، اسلم ابڑو کراچی کے رفیق، حمید، نسیم اسی طرح سے رل رہے ہیں، سب پریشان ہیں، پریشان۔“ اس نے غصے میں آ کر اپنا پرس نکالا تھا جس کے اوپر ہی بھٹو کی تصویر لگی ہوئی تھی اور وہ بولا تھا ”یار اس کے لیے میں اور میرے جیسے بہت سارے لوگ جان دے دیں گے جان اپنا سب کچھ قربان کر دیں گے، مگر آج کی پیپلز پارٹی اور اس کی حکومت کے لیے پیشاب بھی نہیں ہے میرے پاس۔“ اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا تھا۔

میں نے کہا تھا وہ تو ٹھیک ہے مگر پیشاب والی بات ذرا درست نہیں ہے۔

”بالکل درست ہے“ اس نے ذور سے کہا تھا پھر تھوڑی دیر رک کر اس نے تفصیل سے بتایا تھا کہ کس طرح سے بے نظیر کی حکومت نے وقت کا فائدہ نہیں اٹھایا۔ لوگ آصف زرداری کا نام لیتے ہیں مگر سمجھتے نہیں ہیں ارے آصف تھوڑی بھٹو کا بیٹا ہے، آصف تھوڑی ہمارا لیڈر تھا۔ آصف نے کون سے ہنٹر کھائے ہیں، آصف کون سی جیل گیا ہے، آصف کا کون سا بھائی مرا ہے، آصف کا باپ پھانسی پر نہیں چڑھا ہے۔ بے نظیر کا باپ پھانسی پر چڑھا ہے، اور جن لوگوں نے ضیاء الحق کی مدد کی تھی وہ سب بے نظیر کے دوست ہیں۔

وٹو سے لے کر کوثر نیازی تک، جن سے روٹی کا وعدہ تھا، وہ بھوکے ہیں مائیں، بہنیں، غریب ہاری کراچی کا مزدور پنجاب کا کسان ننگا ہے۔ اور پیپلز پارٹی کے لیڈر سرکار میں تھے، عوام سے دور، ان کی تو حکومت جانی تھی۔ وہ پھر آئے گی، مگر وہ ایسے ہی آئے گی جیسے ضیاء الحق تھے، جیسے نواز شریف آیا ہے۔ پھر وہ مسکرایا تھا، یہ پیشاب سے بھی بڑی گالی ہے ہم دونوں زور سے ہنس دیے تھے۔

دوسرے دن ہم لوگ انگو کے گھر گئے تھے۔ بوڑھے انگو نے جرمن کھانوں کے ساتھ جرمن پنیر کھلایا تھا اور جرمن وائن پلائی تھی۔ وہ ایک یادگار شام تھی جو میں کبھی بھی نہیں بھول سکتا۔ زاہد جوان تھا اپنے جوانی کی سیاست کے دکھڑوں کے ساتھ، انگو بوڑھا تھا دوسری جنگ عظیم کے دکھوں کے ساتھ، حمیدہ تھی جو جرمنی میں پلی تھی اور اب زاہد کی بیوی تھی، انگو کی بیوی جنگ میں بم کا نشانہ بن گئی تھی پھر اس نے شادی نہیں کی تھی، اکیلا اور آزاد رہا تھا۔

باتوں باتوں میں میں نے اپنی عادت کے مطابق انگو سے سوال کیا تھا کہ اگر دوبارہ تم کو پیدا ہونے کا موقع ملے تو تم کہاں پیدا ہونا چاہو گے۔ کس قوم میں کس ملک میں۔

زاہد نے کہا تھا ”یہودی مت ہونا چاہیے کچھ بھی ہو جاؤ۔“ اور زور سے ہنسا تھا۔ حمیدہ دھیرے سے مسکرائی۔ میں نے دیکھا انگو کا چہرہ یکایک سرخ سا ہو گیا ہے۔ وہ ایک دم کھڑا ہو گیا تھا۔ مجھے اس کی شکل یاد ہے۔ اس نے بڑی شدت سے اپنا ہاتھ ہتھیلی پر بار بار مارا تھا اور کہا تھا ”اگر خدا نے سو بار مجھے پیدا کیا اور سو بار مجھ سے پوچھا تو میں یہی کہوں گا کہ مجھے اگر پیدا ہونا ہے تو جرمن ہونا ہے، جرمن ہونا ہے، جرمن ہونا ہے۔“

میں نے دیکھا کہ زاہد کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ میں نے دھیرے سے سر جھکا لیا تھا۔ مجھے اپنا انٹرویو یاد آ گیا تو جو پچھلے ہفتے میں نے امریکن امیگریشن کے لیے دیا تھا۔ انٹرویو سے پہلے فارم بھرتے وقت شہریت کے خانے میں اپنے ملک کا نام لکھتے ہوئے نہ جانے کیوں میرے ہاتھ کانپ گئے تھے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments