فیس بک ہیکلرز۔۔۔ بے تحاشہ ایف آئی آرز عدالتوں پہ بوجھ


انٹرنیٹ پہ ایسے گروپس بن چکے ہیں جو لوگوں سے رقم لے کر ان کے یوٹیوب چینل پہ ایک ہزار سبسکرائبرز اور چار ہزار گھنٹے واچ ٹائم کی ضرورت پوری کر دیتے ہیں لیکن اب ایسے کچھ گروپس کا ایک بہت منفی استعمال بھی سامنے آ رہا ہے۔ فیس بک کو دنیا میں ایک ارب سے زیادہ لوگ استعمال کرتے ہیں۔ فیس بک ہر شخص پہ نگران نہیں بٹھا سکتی۔ اس نے ایک خود کار الگورتھم بنا دیا ہے۔ فیس بک پہ کسی کی پوسٹ کی شکایت کی جائے تو وہ الگورتھم ہی اس پہ فوراً اپنا ردعمل دے دیتا ہے۔ مثلاً آپ ایک ایسی تصویر پوسٹ کریں جس میں کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھ رہا ہے۔ نماز پڑھنے والا نیک کام کر رہا ہے لیکن کوئی حاسد یا شیطان فطرت شخص فیس بک کو رپورٹ کر دے تو فیس بک کا خودکار نظام اس تصویر یا پوسٹ کو فیس بک یوزرز کے سامنے جانے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر چہ فیس بک کی سیکورٹی اتنی مضبوط ہے کہ کوئی آپ کی آئی ڈی کو کنٹرول میں نہیں لے سکتا جب تک آپ خود کسی کو اپنا پاس ورڈ نہ دیں۔ تاہم سائبر ورلڈ کی دنیا میں ہیکلرز کہلائے جانے والے گروپس کو آپ کا کوئی حاسد رقم دے دے تو وہ اتنی زیادہ تعداد میں فیس بک کو آپ کے بلاگز اور پوسٹس رپورٹ کرتے ہیں کہ وہ پوسٹس یا بلاگز آپ کے تمام دوستوں کے سامنے جا نہیں پاتے۔ کچھ عرصہ قبل فیس بک نے اپنے الگورتھم میں ایک تبدیلی کی تھی۔ وہ یہ کہ اگر آپ کی فرینڈ لسٹ میں دوستوں کی تعداد چار ہزار بھی ہے اور آپ نے کوئی بلاگ یا پوسٹ اپلوڈ کی تو وہ آپ کے چار سو یا اس سے کچھ زیادہ دوستوں کے سامنے جاتی ہے۔ اب اگر ہیکلرز بھی آپ کے خلاف استعمال ہو گئے تو آپ کا بلاگ بمشکل چند دوستوں کے سامنے آتا ہے۔ خیر، دیکھنے میں آتا ہے کہ کئی چٹے ان پڑھ بھی انتہائی باضمیر اور با ایمان ہوتے ہیں اور کچھ بہت پڑھے لکھے بھی اپنا ضمیر چند ٹکوں کے عوض فروخت کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ کسی سائیکو پیتھ کے حسد کی تسکین کے لیے دو ہزار روپے میں پورے گروپ کی توانائی فروخت کر دیتے ہیں او ر فی رکن صرف پچاس روپے حصے میں آ رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کمپیوٹرز سکلز سیکھ لیں تو فری لانسر کے طور پہ ماہانہ دو لاکھ روپے بھی آرام سے کما سکتے ہیں۔ پاکستان میں ہی کچھ سینئر اور کامیاب فری لانسرز ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور بزنس کمپنیوں کی ویب سائٹس کی دیکھ بھال سے دس لاکھ روپے ماہانہ بھی کما رہے ہیں۔ جی ہاں، پاکستان میں ہی فری لانسرز ٹی شرٹس کے ڈیزائن بنا کے انٹرنیٹ پہ گارمنٹس کمپنیوں کو فی ڈیزائن اڑھائی سو ڈالر یا اس سے بھی زیادہ میں بیچ رہے ہیں۔ آپ پاکستان میں بیٹھے بیٹھے زوم، سکائپ یا کسی بھی ویڈیو کالنگ اپلیکیشن کے ذریعے یورپ میں بیٹھے طالب علم کو کسی بھی سبجیکٹ کی ٹیوشن پڑھا کے فی گھنٹہ کے حساب سے اپنے جاز کیش اکاؤنٹ کے ذریعے فیس لے سکتے ہیں۔

دو دن سے ایک خیال میرے ذہن میں چل رہا تھا کہ بہت ہی معمولی جرائم پہ ایف آئی آر درج کرنے کی پالیسی سے جہاں عدالتوں پہ مقدمات کی سماعت کا بوجھ بڑھ رہا ہے وہاں پولیس کا وقت اور انرجی بھی بڑے جرائم کو کنٹرول کرنے کی بجائے چھوٹے چھوٹے معاملات میں خرچ ہو رہی ہے۔ پھر ان ایف آئی آرز پہ آگے جا کے جو پروسیڈنگ ہوتی ہے، اس پہ حکومت کے بھاری فنڈز خرچ ہو جاتے ہیں۔ اکبر شیخ اکبر کا مشورہ ہے کہ حکومت اگر اس حوالے سے اپنی پالیسی میں تبدیلی لائے اور نیا قانون یہ متعارف کرائے کہ بہت چھوٹے جرائم پہ ایف آئی آر کی بجائے جرمانہ لاگو ہو گا چاہے وہ زیادہ مالیت کا ہو تو عدالت او ر پولیس دونوں پہ بوجھ کم ہو جائے گا۔ یہ بھی مشاہدہ میں آتا ہے کہ جب چھوٹے پولیس افسران کو اوپر سے بڑے پیمانے پہ گرفتاریوں کا آرڈر آتا ہے تو جہاں مطلوبہ افراد کو گرفتار کرنا ہوتا ہے وہاں کچھ بے گناہ اور عمر رسیدہ لوگ بھی گرفتار ہو جاتے ہیں۔ مثلاً لاہور پولیس کو اوپر سے آرڈرز آئے کہ گداگروں کو گرفتار کر کے ایف آئی آر کاٹ دو۔ ایک بوڑھی خاتون جو دو ہزار روپے کرایہ خرچ کر کے لاہور اپنی بیٹی کو ملنے آئی، وہ بس سے لاہور میں اتری اور پولیس کی گاڑی جہاں لاری اڈہ پہ گداگروں کو گرفتار کر رہی تھی، اس بوڑھی خاتون کے بوسیدہ کپڑے دیکھ کے ساتھ لے گئی اور جاتے ہی ایف آئی آر کاٹ دی۔ تفتیش میں پتہ چلا وہ بھکارن نہیں، مسافر ہے۔ اب اسے چھوڑ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایف آئی آر کاٹ چکے تھے۔ پولیس سے بھی گزارش ہے، اس طرح کی گرفتاریوں کی مہم میں ایف آئی آر کاٹنے سے پہلے تھوڑا باز پرس کر لیا کریں۔ جہاں اصل مجرم پکڑے ہوتے ہیں وہاں کچھ بے گناہ بھی آ جاتے ہیں، انھیں چھوڑ دیا کریں تاکہ وہ آپ کو دعائیں دیں۔

بہاول پور یونین آف جرنلسٹس کے اجلاس میں کچھ دوستوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ کچھ پرائیویٹ ٹی وی چینلز اور اخبارات نے اب اپنے بیورو نمائندگان کے کارڈز کی لاکھوں روپے میں بولی دینا شروع کر دی ہے۔ کسی بھی ضلع میں ٹی وی چینل کا بیورو چیف مقرر کرنے پہ بیس لاکھ روپے او ر اخبار کا بیوروچیف مقرر کرنے کے لیے دس لاکھ روپے تک بھی لیے جا رہے ہیں۔ دوسرا اب ملک میں پریس کلبز کے جو انتخابات ہو رہے ہیں، ان میں پیسے کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے۔ جرنلسٹس یونینز کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے۔

 

Facebook Comments HS