عادت ہی انسان کو بناتی ہے
جب آپ صبح سویرے اُٹھتے ہیں تو سب سے پہلا کام کون سا کرتے ہیں؟ کیا آپ اٹھتے ساتھ ہی نہانے چلے جاتے ہیں یا بستر پر لیٹ کر فیس بک یا پھر وٹس ایپ چیک کرتے ہیں؟ پھر نہانے کے بعد برش وغیرہ کرتے ہیں۔ پھر تیار ہوتے وقت کون سے جوتے کا تسمہ پہلے باندھتے ہیں؟ گھر سے نکلتے وقت اپنی بیوی بچوں کو کیا کہہ کر آفس کے لیے روانہ ہوتے ہیں، آفس جاتے ہوئے کون سا رستہ اختیار کرتے ہیں؟ پھر آفس جا کر سب سے پہلے ای میلز چیک کرتے ہیں یا پھر پہلے باس سے جا کر ملاقات کرتے ہیں؟ آفس میں سارے کام نمٹا کر گھر آتے ساتھ ہی پہلا کام کون سا کرتے ہیں؟ گھر آ کر کھانا شانا کھا کر واک کے لیے جاتے ہیں یا پھر کھانا کھانے کے بعد موبائل لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور رات گئے تک سوشل میڈیا استعمال کرتے رہتے ہیں؟
یہ روزمرہ کی ساری روٹینز ہماری عادات کہلاتی ہیں۔
ہمیں ایسا لگتا یے کہ یہ روزمرہ کی ساری مشق کرتے وقت ہم باقاعدہ ان چیزوں کا پہلے فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ کام کرنا ہے یا نہیں، پھر کرتے ہیں۔ لیکن ولیم جیمز کے مطابق یہ ہماری عادات ہوتی ہیں اور ہماری یہی عادات ہماری صحت، سوشل لائف اور خوشحالی کی ضامن ہوتی ہیں۔ اسی حوالے سے ڈیوک یونیورسٹی نے ایک پیپر پبلش کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ہماری روزمرہ زندگی کے 40 فیصد کام ہماری عادات پر منحصر ہوتے ہیں۔ جبکہ چارلس ڈوہگ نے ” پاور آف ہیبٹ ” کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں بڑی نفاست کے ساتھ عادات سے جڑے تمام سوالات کے جوابات بخوبی دیے گئے ہیں کہ آیا عادت کیسے بنتی ہے؟ یہ کس طرح کام کرتی ہے؟ کیا ہم اپنی عادات کے ذمہ دار ہوتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔
عادت کیسے بنتی ہے؟ جب کوئی شخص کسی کام کو سر انجام دیتا ہے تو بدلے میں اس کے دماغ میں ایک ڈوپامین نامی ایک کیمیکل خارج ہوتا ہے، جس سے انسان خوشگوار محسوس کرتا ہے۔ پھر انسان خوشگوار محسوس کرنے کے لئے بار بار اس کو دہراتا ہے تاکہ وہی فیلنگز دوبارہ اسے حاصل ہو، حتی کہ پھر یہ کام انسان کی عادت بن جاتا ہے۔ کیوں کہ دماغ اُس خاص کیمیکل کو خارج کرانے لیے آپ کو فورس کرتا ہے تاکہ آپ کو خوشگوار محسوس ہو۔ لیکن دماغ اُس کو خارج کرانے کے لیے یہ نہیں دیکھتا کہ یہ کام درست یے یا نہیں۔ یہی سے ہی بری اور اچھی عادتوں کی کشمکش بھی جنم لیتی ہے۔ ایک دفعہ وہ کیمیکل آپ نے کوئی خاص کام کر کے خارج کروا دیا تو دماغ کوشش کرتا یے کہ وہی کام مزید ہو تاکہ پھر سے وہ کیمیکل خارج ہو کر راحت والی فیلنگز محسوس ہو۔ یہ اب انسان پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کون سا کام کر کے یہ کیمیکل خارج کرواتا یے۔
پھر آتا ہے دوسرا سوال کہ یہ عادت کام کس طرح کرتی یے؟ عادت کے کام کرنے کا طریقہ ایک لوپ کی شکل میں چلتا یے۔ جب انسان کو کوئی کام کرنے تجسس ہوتا ہے اور وہ اُسے پایہ تکمیل تک پہنچاتا یے تو اسے انعام کے طور پر کچھ نہ کچھ ضرور ملتا ہے چاہے وہ تعریف کی صورت میں ہو ،پیسے کی صورت میں ہو یا پھر کوئی چیز ملنے کی صورت میں ہو۔ جب اسے ان میں سے کوئی ایک بھی چیز ملتی ہے تو دماغ میں ڈوپامین کیمیکل خارج ہو جاتا ہے، جو انسان کو خوشگواری کا احساس دلاتا ہے۔ پھر انسان اُس کام کو دہرانے لگتا ہے۔
پھر ایک ایسا سوال جو قاری ذہن میں ضرور آیا ہوگا کہ کیا ہم نئی عادات بنا سکتے ہیں؟ تو اس کا جواب ہے ،جی ہاں۔ ہم نئی عادات بنا بھی سکتے ہیں اور پہلے سے موجود بری عادات کو اچھی عادات سے ری پلیس بھی کر سکتے ہیں۔ کیوں کہ آپ پہلے ہی عادت کے کام کرنے کا طریقہ پڑھ چکے ہیں۔ جب آپ عادت کے مطابق وہ کام کرنے لگے تو اس کی جگہ وہ کام کرنا شروع کر دیں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے پہل آپ کو کسی چیز کی کمی محسوس ہوگی، کیوں کہ دماغ اُس مقدار کی ڈوپامین ریلیز نہیں کر سکتا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اُس کی مقدار اس قابل ہو جاتی ہے کہ آپ کو پھر وہ کام کرنے میں خوشگواری کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اس طرح سے آپ برے عادات کو اچھے عادات میں بدل سکتے ہیں۔ لیکن یہ یاد رکھیے کہ نئی عادت بنانے میں آپ کو 18 سے 254 دن بھی لگ سکتے ہیں، کیوں کہ یہ انسان کی اپنی طبیعت پر منحصر ہوتا یے۔ اگر اوسطا بات کی جائے تو کم از کم 66 دن لگ سکتے ہیں، ایک نئی عادت بنانے میں یا پھر پرانی عادت کو ختم کرکے اُس کی جگی نئی عادت لانے میں۔
پھر آتا ہے کہ کیا ہم اپنی عادات کے ذمہ دار ہوتے ہیں؟ جی ہاں۔ ہم جو بھی عادت اپناتے ہیں اُس کی پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ یا پھر ہمارا فیصلہ (چاہے چھوٹا سا ہی کیوں نہ) ضرور ہوتا ہے۔ آپ کا بچپن میں لیا گیا ایک چھوٹا سا فیصلہ بھی، ہو سکتا کہ آپ کی آج کی سب سے بڑی عادت کا ذمہ دار ہو۔ کیوں کہ باقی چیزوں کی طرح عادت بھی ارتقائی عمل سے گزار کر خود کو بہتر سے بہتر بناتی چلی جاتی ہے اور خود کو ایسی فارم میں لے کر جاتی ہے کہ دماغ زیادہ سے زیادہ ڈوپامین ریلیز کر کے زیادہ خوشگواری کا احساس پیدا کرے۔
اگر کوئی انسان خود کو صحیح معنوں میں بہتر بنانا چاہتا ہے یا پھر بڑا انسان بننا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اسے اچھی عادتیں اپنانی ہونگیں۔ آپ بے شک تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، جتنی بھی بڑے انسان ہیں، اُن کی عادتیں اچھی تھیں۔ حتی کہ چھوٹی چھوٹی عادتیں بھی انسان کے کامیاب ہونے کی ضامن ہوتی ہیں۔ کیوں کہ عادت ہی انسان کو بناتی ہے۔


