مکافات عمل (شاہ رخ خان کے لئے)

عزیزم شاہ رخ خان (بھارتی فلمز کے کنگ خان) اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ!
عمر کے حساب سے میں آپ سے 21 (اکیس) سال بڑا ہوں اس لئے ”عزیزم“ کہنے کا حق رکھتا ہوں۔
اس سے پہلے میں آپ سے مخاطب ہوں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ 24 سالہ تعلیم یافتہ، تنومند نوجوان اریان خان کی مشکلات میں آسانیاں فرمائے تاکہ والدین خصوصاً والدہ کو راحت و سکون ملے۔
جیسا کہ خود آریان نے ”اب ایک اچھا انسان بننے اور غلط راستہ پہ نہ چلنے کا وعدہ کیا ہے۔“
دعا ہے کہ وہ اپنے اقرار پر ثابت قدم رہے اور والدین کو مزید ندامت سے محفوظ رکھے۔
عزیزم میں نے اپنے خطاب میں تین باتیں کی ہیں جو اسلام کی تعلیمات ہیں۔
1۔ ”اسلام علیکم“ یعنی آپ پر ہم نے سلامتی بھیجی جو اللہ کا انعام ہے۔
2۔ ”و رحمتہ اللہ“ یعنی آپ پر اللہ کی رحمت نازل ہو۔
3۔ ”و برکاتہ“ یعنی آپ پر اس (اللہ) کی برکت نازل ہو۔
واضح رہے کہ میں دین کا داعی نہیں ہوں، صرف ایک عام مسلمان ہوں۔
آپ نے کسی ایک پروگرام میں کہا ”آپ مسلمان ہیں، بیوی ہندو اور بچے ہندوستانی۔“
”بچے ہندوستانی“ سے آپ کی کیا مراد ہے؟ وضاحت کیجئے گا!
ہندوستان: ہندو مت (جس کے کئی فرقے ہیں: برہمن، کھتری، شودر، دلت، جین وغیرہ وغیرہ)
ہندو حضرات: رام رام یا نمستے کہتے ہیں۔
سکھ حضرات: ست سری اکال کہتے ہیں۔
عیسائی حضرات: Good Morning کہتے ہیں۔ (ان کے دو فرقے کیتھولک اور پروٹنسٹ ہیں)
ہم مسلمان: اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ کہتے ہیں۔
آپ انتخاب کیجئے کہ ان تمام کلمات میں سب سے بہترین کلمہ کون سا ہے؟
آپ نے کچھ سال پہلے کہا تھا کہ:
”میں اپنے بیٹے اریان کو ہر وہ کام کرنے سے نہیں روکوں گا جو میں نہ کر سکا۔“
آپ نے عملاً ایسا کیا بھی۔ کیا میں یہ جاننے کی جسارت کر سکتا ہوں کہ کیا آپ کے مرحوم والدین (اللہ انہیں جنت میں اعلی درجات عطا فرمائے) نے بھی آپ کے لئے بھی ایسا ہی سوچا تھا، اسی انداز میں آپ کی تربیت کی تھی؟ مجھے یقین ہے کہ ہرگز ایسا نہیں ہوا ہو گا! میں بھی ملیزئی پٹھان ہوں اور پشاور میں میرا بچپن بھی گزرا ہے، پشتون گھرانے میں اس قسم کی تربیت ممکن نہیں جو آپ نے اریان کے بارے میں اخذ کی۔
اللہ تعالی نے اپنے فضل وکرم سے دنیاوی دولت، عزت، شہرت سے نوازا، یہ اس کا کرم رہا ہے، میرا ماننا ہے کہ آپ نے اپنی لگن و محنت سے جو کمایا وہ ”رزق حلال ہے۔“ آپ کی روزی اتنی ہی حلال ہے جتنی کہ بینک کے کسی کارندہ کی ”روزی حلال“ ہے۔ سود ادارہ لیتا ہے، بینک کارندہ نہیں، کارندہ تو صرف اپنی 8 گھنٹے کی محنت سے ڈیوٹی انجام دے کر ”اجرت“ پاتا ہے، جو ”اکل حلال“ ہے۔ اس لئے آپ کی کمائی بھی ”اکل حلال ہے۔“
میں نے آپ سے مخاطب ہونے کا موضوع ”مکافات عمل!“ چنا ہے جس کا مفہوم و معنی سے یقیناً آپ بخوبی واقف ہوں گے، یعنی:کرنی کا پھل، سزا، کیے کا بدلہ۔ دوسرے آپ نے اپنی رہائش گاہ کا نام منت رکھا یعنی: عہد، جاننا، نیت۔ ہر دو جگہ آپ نے غلط اقدام اٹھائے :
اول:آپ نے کہا ”میں اپنے بیٹے اریان کو ہر وہ کام کرنے سے نہیں روکوں گا جو میں نہ کر سکا“ ، آپ نے عملاً ایسا کیا بھی:ایان کے سیگرٹ اور نشہ کا عادی بننے میں آپ کی ڈھیل رہی، عموماً پیسے کی فراوانی سے غلط دوستوں کی صحبت ملتی ہے تو پھر نوجوانی میں صنف مخالف کی طرف بہک جانا فطری امر ہے، اور جب کوئی روک ٹوک نہ ہو تو قدم بہک ہی جاتے ہیں۔ آپ نے کبھی اس بات کا نوٹس لیا؟ نہیں لیا! بالغ بچوں پر نظر رکھنا والدین کا اولین فرض ہوتا ہے، آپ نے کوتاہی کی، اس کے ذمہ دار آپ خود ہیں۔ ہر اولاد اپنے ماں باپ کی نظر میں بچہ ہی ہوتی ہے، مگر جوان اولاد کو والدین کے علاوہ کوئی بھی بچہ کہنا پسند نہیں کرتا۔ مثلاً میرا بیٹا 44 سال کا اور 4 بچوں کا باپ ہے، لیکن وہ ہمارے (ماں باپ) لئے تو بچہ ہی رہے گا مگر دنیا والوں کیے لئے وہ ایک باشعور فرد ہے، یہی بات اریان پر لاگو ہوتی ہے۔
دوئم:آپ گوری خان کے ہمراہ حج/عمرہ پر لے کر گئے، آپ دونوں احرام میں ہیں، یقیناً طواف کعبہ کے بعد مسجد نبوی میں بھی حاضری دی ہو گی۔ کیا گوری خان حج / عمرہ کی ادائیگی سے پہلے وہ (گوری خان) مسلمان ہو گئی تھیں؟ اگر ایسا ہے تو سبحان اللہ بہت اچھی بات ہے۔ اگر ایسا نہیں یعنی وہ مسلمان نہیں تو آپ کتنے بڑے گناہ کے مرتکب ہوئے، یہ کبھی آپ نے سوچا؟ کسی عالم نے آگاہ کیا۔
سوئم:منت کتنا خوبصورت نام ہے، یعنی عہد، نیت، جاننا۔ مقدس جگہ، پوتر استھان جس میں گوری خان نے پوجا پاٹ کے لئے مندر بنایا، اسے آپ نے پراگندہ میکدہ و قحبہ خانہ جیسی خباثت کی آلودگی سے بھر دیا۔ دنیا والوں کی نظر میں تو آپ کی خوب واہ واہ ہوئی ہوگی لیکن اپنے خدا اور ”گوری“ کے بھگوان کی کتنی بے حرمتی کی آپ نے؟ کبھی سوچا!
چہارم:آپ کہتے ہیں میں کسی مذہب کو نہیں مانتا! چلئے آپ کی بات مان لیتے ہیں! تو حج/عمرہ کا پھر یہ تماشا کیسا؟ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں یا دنیا کو؟ ہمارے نام نہاد دانشور ”جاوید اختر“ صاحب بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ کسی خدا یارسول کو نہیں مانتے۔ جاوید صاحب ہم آپ کو اس وقت سے جانتے ہیں جب آپ اپنی مما کے لاڈلے ’جادو‘ ہوتے تھے، ہم نے ان کی کتاب“ صفیہ کے خطوط ”پڑھی، کمال کی آپ بیتی تھی۔ آپ کی والدہ محترمہ صفیہ جان نثار اختر (اللہ تعالی جنت میں درجات بلند کرے) والد محترم جان نثار اختر مرحوم نشہ میں دھت رہنے والے، انہیں نشہ کی حالت کے سوا کچھ سوجھا ہی نہیں کہ وہ آپ کو بتاتے کہ خدا بھی ہے اور اس کا رسولۖ بھی، تم اور تمام جاندار فانی ہیں، رہنے والی وہی ذات ہے جو خدا ہے۔
پنجم: سہانا ایک بار کسی مصروف علاقہ میں کچھ ناپسندیدہ افراد میں پھنس گئیں، گھبرا کر آپ کو فون کیا، آپ شوٹنگ چھوڑ کر اسے لینے پہنچے، ظاہر ہے وہ بیٹی تھی، لیکن آپ نے غور کیا ایسا کیوں ہوا؟
نہیں! ہم بتاتے ہیں! ”اس کا نیم برہنہ لباس!“ ہم نے اکثر آپ کو بھی اس کے نیم برہنہ لباس ساتھ جاتے ہوئے دیکھا ہے۔ بے پناہ دولت، اولاد کو لوٹنے دیں مگر نیم برہنہ/ برہنگی بالخصوص صنف نازک کو تو قطعی مناسب نہیں۔ اور بھی فلمی سیلیبریٹیز کی بیٹیاں ہیں، مثلا:امیت جی (بیٹی شویتا، نواسی نندا تو فلمی دنیا کا حصہ نہیں، گھریلو خاتون ہیں)، شتروگھن سہنا، سیف علی خان وغیرہ کی بیٹیاں لیکن اس حد تک نیم برہنہ لباس میں آزادی نہیں جس طرح آپ اور گوری خان نے اپنی بیٹی کو آزادی دے رکھی ہے، تو انجام تو یہی ہونا ہے کہ پست ذہنیت کے اوباش نوجوانوں کے قدم ایسی نیم برہنگی حالت دیکھ کر ترغیب پائیں، دوش ان کا کہاں، دوش تو اس نیم برہنہ ترغیب کا ہے، نیم برہنہ اعلی ظرف اشرافیہ کا ہے، جہاں آزاد خیال والدین اولاد کی تربیت سے زیادہ اہم ان دو رنگی پارٹیوں میں شرکت کو ترجیح دیتے ہیں۔ سوچئے بار بار سوچئے!
یہی وہ کارن ہیں جو جگ میں آپ کی رسوائی ہوئی، اگر آپ:
1۔ خدا (اللہ) سے بیگانگی۔
2۔ اپنے خدا (اللہ) ، بیوی کے بھگوان کی بے حرمتی۔
3۔ اسلام سے دھوکہ دہی۔
4۔ اولاد کی تربیت سے غفلت۔
5۔ اولاد کو بے مہار چھوڑنا۔
6۔ دولت کی ریل پیل سے اولاد پر کنٹرول نہ کرنا
اب بھی وقت ہے :
1۔ صدق دل سے توبہ استغفار کریں۔
2۔ صدق دل سے خود بھی مسلمان ہوں، اہلیہ و بچوں کو بھی مسلمان کریں۔
3۔ اسلامی تعلیمات سے خود بھی روشناس ہوں اور بچوں کے لئے بھی مناسب انتظام کریں۔
4۔ لہو و لعب کی محافل ترک کریں۔
5 خود بھی صراط مستقیم پر چلیں اور اہلیہ و بچوں کو بھی اس پر چلنے کی تلقین کریں۔
6۔ کفریہ کلمات ادا کرنے سے دل میں خوف خدا کا رکھیں۔
7۔ اپنی شامیں رنگین کرنے کی بجائے خلق خدا کی سہولیات کے کاموں میں خود کو وقف کریں۔
اللہ غفور رحیم ہے، کرم کرنے والا ہے، دیکھئے اللہ تعالی کس طرح اپنی رحمت کے دروازے آپ پر و آپ کے اہل و عیال پر کس طرح کھولتا ہے۔ اللہ سب کے لئے سراپا رحمت ہے، ایک دفع رجوع ہو کر دیکھئے۔ رحمتیں ہی رحمتیں ملے گی، برکتیں ہی برکتیں ملے گی۔ اللہ تعالی آپ کی مشکلات و پریشانیاں دور کرے، آمین یارب العالمین!

