سوڈان میں پھر مارشل لا: پاکستانی تاریخ سے گہری مماثلت


برطانوی راج میں استعماریت کی جڑیں مضبوط رکھنے کے لیے افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء کا موجودہ جغرافیہ کی حد بندی اور نئی ریاستوں کی تشکیل کی گئی۔ غربت، پسماندگی، اقتصادی بدحالی اور بنیادی انسانی حقوق سے محرومی کے شکار افریقی ریاستیں سامراجیت کے باعث روگی بنیں۔ یہی کہانی انگریز راج سے 1956ء میں آزاد ہونے والے ملک سوڈان کی ہے۔ سوڈان قدرتی وسائل کا ذخیرہ رکھنے کی بناء پر پہلے نوآبادیاتی راج کے زیر تسلط رہا اور پھر آزادی کے بعد یہاں کی مقتدرہ فوج قرار پائی۔ بالکل ویسے ہی جیسے دیگر نوآزاد ریاستوں میں فوج کو طاقت کا مرکزہ بنایا گیا۔
سوڈان 1899ء سے لیکر 1955ء تک سوڈان برطانوی استعماریت کی عمل داری میں رہا اوربرصغیر کی طرز پر یہاں بھی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی نافذ کی گئی، برصغیر میں ہندو مسلم کی بنیاد پر سماج کا خمیر تیار کیا گیا تو سوڈان میں مسلم عیسائیت کو تقسیم کی بنیاد بنایا گیا۔ سوڈان برطانوی کنٹرول سے تو نکل گیا لیکن داخلی طور پر ایک غیر مستحکم ملک کی بنیادیں رکھ دی گئیں، جب فوج طاقت کا مرکزہ ٹھہری تو یہاں آج 8 ویں بار مارشل لاء نافذ کر دیا گیا ہے۔ دو روز قبل سوڈان کی فوج نے عبوری حکومت ک وزیر اعظم حمدوک کو حراست میں لے لیا اور ملک کا کنٹرول سنبھال لیا۔
سوڈان کے لیے یہ فوجی آمریت نئی نہیں، اس سے قبل تین دہائیوں تک جنرل عمر البشیر اقتدار پر قابض رہے اور جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کی طرح مسند نشین رہنے کے لیے عمر البشیر نے صدر کا عہدہ سنبھالا۔ 2019ء میں عمر البشیر کی حکومت کا خود فوج نے بذریعہ مارشل لاء خاتمہ کر دیا۔
عمر البشیر کو معزول کرنے کے بعد فوج اور جمہوریت نواز جماعتوں کے درمیان اقتدار کی تقسیم کے معاہدے کے تحت عبوری حکومت تشکیل دی گئی تھی یہ حکومت خود کو فورسز فار فریڈم اینڈ چانس کہتی تھی۔ جمہوری حکومت کے منتخب ہونے تک عبوری حکومت چلانے کیلئے ایک خود مختار کونسل تشکیل دی گئی لیکن فوج اور سویلین قیادت کے درمیان کشیدگی برقرار رہی جو بالآخر دوبارہ مارشل لاء کی نظر ہوگئی۔
ہمیں سوڈان کے داخلی حالات کو سمجھنے کیلئے اس کا سیاسی جغرافیائی تجزیہ کرنا ہوگا۔ مشرق وسطی میں امریکی سرپرستی اور گریٹر مڈل ایسٹ پلان کے تںاظر میں جب جمہوریت نواز تحریکوں کی لہر تیونس سے شروع ہوئی تو امریکہ نواز انقلاب کا ابتدائی آغاز سوڈان میں ہوا جو سوڈان کی 2011ء میں تقسیم پر ختم ہوگیا۔ افریقہ کے سب سے بڑے ملک سوڈان کو تقسیم کرا دیا گیا یہ تقسیم بھی مذہب کے نام پر ہوئی۔ عیسائی اکثریت والے جنوبی سوڈان نے مسلم شمالی علاقوں یا سوڈان کے باقی حصوں سے آزادی حاصل کر لی۔
عالمی نقشہ دیکھیں تو اوپری سوڈان کے بارڈر کے ساتھ لیبیا اور مصر کی سرحدیں ہیں عرب جمہوری انقلابات کی امریکی نواز لہر نے دونوں ملکوں میں حکومتی تختہ اُلٹا دیا اور یہاں پر آج بھی انارکی قائم ہے اور اب سوڈان میں وہی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے۔ سوڈان کے مشرقی حصہ کی طرف سعودی عرب ہے۔
سوڈان میں انگریز راج کے بعد مستحکم فعال سیاسی سسٹم نافذ نہیں ہوسکا چنانچہ 2021ء تک سوڈان میں 8 فوجی بغاوتیں ہوچکی ہیں، پاکستان کی طرح سوڈان میں بھی پہلی فوجی بغاوت 1958 میں ہوئی تھی، جب جنرل ابراہیم عبود کی قیادت میں فوج نے صرف ایک سال قبل منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔
 جعفر نمیری، جنہوں نے 1969 میں ایک اور فوجی بغاوت کی قیادت کی، نے 1983 میں سوڈان میں اسلامی قانونی نظام کو نافذ کیا اور اسی عہد میں جنرل ضیاء الحق نے پاکستان میں بھی امریکی نواز اسلامائزیشن کی آمرانہ بنیادیں رکھی۔
عمر البشیر نے 1990 کی دہائی سے لے کر 2019 تک سوڈان پر حکومت کی۔ وہ 1998 میں سوڈان میں ایک نیا آئین لے کر آئے پھر انہوں نے انتخابات کرائے اور انہیں آرام سے جیت لیا آخری صدارتی انتخاب البشیر نے 2015 میں جیتا تھا۔ پانچ سال کی مدت کیلئے صدر منتخب ہوئے، بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری، اقتصادی بدحالی اور سیاسی افراتفری بڑھنے لگی چنانچہ اپریل 2019ء میں فوج نے ہی جرنیلی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا۔
فوج کی جانب سے سابق صدر عمر البشیر کا تختہ الٹنے کے ایک دن بعد، جنرل عبدالفتاح البرہان نے 12 اپریل 2019 کو سوڈان کی حکمران عبوری فوجی کونسل کے چیئرمین کے طور پر حلف اٹھایا جبکہ حمدوک نے وزیر اعظم کا عہدہ سویلین اتحاد اور فوج کے درمیان تین سالہ پاور شیئرنگ معاہدے کے حصے کے طور پر سنبھالا۔ فوج نے عبوری حکومت کی مدت سے ایک سال قبل سوڈان پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ اصل منصوبے کے مطابق، عبوری حکومت کو انتخابات کا انعقاد کرنا تھا اور سوڈان میں جمہوری طور پر منتخب سویلین حکومت کی راہ ہموار کرنا تھی۔ لیکن تازہ ترین اقدام سوڈان میں جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ ہے اور سوڈان میں مارشل لاء کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔

سوڈان کا غیر مستحکم سیاسی نظام اور پاکستان کے غیر مستحکم سیاسی نظام میں بہت زیادہ مماثلت ہے اور مابعد نوآبادیاتی ریاستوں میں طاقت کے حصول کی کشیدگی کی یہ جنگ ہمیشہ برقرار رہی ہے، سوڈان میں استعماریت کی جڑوں کا کاٹے بغیر، وہاں بھی ترقی ممکن نہیں ہے۔ مقتدرہ جب طاقت کی تکون میں بااثر رہنے کیلئے جہد مسلسل کرتی ہے تو پھر سیاسی سسٹم غیر مستحکم ہونا ریاست کا مقدر ٹھہرتا ہے۔ یہی کچھ سوڈان اور پاکستان کی کہانی ہے۔

Facebook Comments HS