صحافیوں کا گریہ


گزشتہ کچھ دنوں سے طبعیت ناساز ہے۔ قارئین سے التماس ہے کہ دعاؤں میں ناچیز کو بھی ضرور یاد رکھیں۔ ویسے لاہور یا بڑے شہروں میں جہاں دیگر سہولیات ہیں وہاں شعبہ طب کی بھی یہ اچھی بات ہے کہ بغیر ٹیسٹ کے ڈاکٹر دوائی نہیں دیتے۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ مرض کی تشخیص ہوجاتی ہے اور پھر جو ادویات دی جاتی ہیں وہ اسی مرض کے لئے ہی ہوتی ہیں۔

چھوٹے شہروں با الخصوص جنوبی پنجاب میں تو بس ہر مریض کے لئے رٹی رٹائی ادویات دی جاتی ہیں۔ اب چاہے اسے بخار ہے یا جگر میں گرمی ہے یا گردوں کا مسئلہ ہے۔ جگر کا ذکر آیا تو راقم کو بھی جگر کی سوزش جیسی بیماری کا سامنا ہے۔

بہت ہی مخلص دوست ڈاکٹر تصدق صاحب کو تفصیلاً ذکر کیا تو انہوں نے فوراً ہی لیور فنکشنگ ٹیسٹ، شوگر ٹیسٹ تجویز کیا۔ برادرم تصدق صاحب کی تجویز پر لبیک کہتے ہوئے لیبارٹری پہنچا تو اس ٹیسٹ کی قیمت سن کر اوسان خطا ہو گئے۔

یہاں یہ آگاہ کرتا چلوں کہ سرکاری لیب سے دو سال پہلے اسی نوعیت کا ٹیسٹ کروایا تھا تو اس ٹیسٹ کے نتائج کو دو ڈاکٹر صاحبان نے تو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ تبھی اس دفعہ میں نے سرکاری ہسپتال کے صبر آزما انتظار کے بجائے نجی لیبارٹری کا رخ کیا۔ مہینے کے اخری دن ہونے کہ وجہ سے بھی یہ ٹیسٹ جیب پر بہت بھاری پڑا۔

بہرحال جو نتائج آئے اس کے بعد ایک اور ٹیسٹ تجویز کیا گیا۔ یہ ٹیسٹ تھا ہیپاٹائٹس بی اور سی کے جراثیم کی تشخیص کا۔ اب اسی نجی لیب سے دریافت کیا تو پتہ چلا اول الذکر ٹیسٹ تو 4 ہزار روپے کے ہیں۔ جو کہ کوئی پندرہ فیصد کی آف کے بعد بھی 3 ہزار سے زائد کا پڑ رہا تھا۔

اس موقع پر میرے لئے بڑے بھائی اور روم میٹ ملک نوید رحمت کا فرشتہ بنے اور اپنے ہم نام دوست نوید احمد کے پاس ٹیسٹوں کے لئے بھیجا۔ یہاں یہ قابل ذکر بات ہے کہ جو ٹیسٹ ایک بڑی نجی لیب والے 4 ہزار میں کر کے دہے رہے تھے وہ میں نے 800 میں کروائے۔ بہرحال جتنا میری ماہانہ اجرت ہے یا میرے جیسے دیگر صحافی دوستوں کی ماہانہ اجرت ہے اس میں یہ ٹیسٹ اوقات سے باہر ہوتے ہیں۔ اوپر سے ڈاکٹر کی فیس اور ادویات بھی، ادویات کی قیمتوں کو ویسے بھی آگ لگی ہوئی ہے۔

صحافیوں کی اجرت کی ہی بات کروں تو کئی ٹی وی چینلز میں کیمرہ مین اور نئے بھرتی ہونے والی رپورٹروں کی تنخواہیں پندرہ سے 18 ہزار ہیں۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ 2011 میں میری الیکٹرانک میڈیا کی پہلی تنخواہ 20 ہزار مقرر ہوئی تھی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کئی کالمز میں ذکر کرچکا کہ اس وقت 80 فیصد صحافی ایسے ہیں جن کی تنخواہ 40 ہزار سے کم ہے۔ 15 فیصد ایسے ہیں جن کی تنخواہ 70 ہزار سے کم ہے۔ باقی 5 فیصد ہیں جن کی تنخواہ 70 ہزار سے لے کر لاکھوں روپے تک ہے۔

یہ تفریقی نظام تو دراصل ہمارے ہاں بننے والی لابیز مافیا کی پیداوار ہے۔ آپ کسی تگڑی لابی یا اینکر یا ڈائریکٹر نیوز کی ٹیم کا حصہ ہو تو وہ آپ کو چار گنا کے اضافے پر بھی لے جائے گا۔ بے شک آپ کا تجربہ اور قابلیت اسی ادارے میں بیس ہزار کی اجرت پر کام کرنے والے سے بھی کم ہو۔

اسی طرح سے میڈیا میں سالانہ انکریمنٹ کا تو کوئی چکر ہی نہیں ہے، مجھے صرف الیکٹرانک میڈیا میں کام کرتے 11 سال ہو گئے ہیں اور میری تنخواہ اس وقت 42 ہزار ہے اور میرے دیگر ساتھی کلاس فیلوز جنہوں نے کوئی اور شعبہ جات چنے وہ ماشاءاللہ لاکھ کے قریب پہنچ چکے۔ اس خلیج کو پر کرنے کے لئے نہ ہی مالکان تیار ہیں نہ ہی حکومت کی جانب سے کچھ کیا جاتا ہے۔ پیمرا تو میرے نزدیک بس نام کی ہی اتھارٹی ہے جس کے بس میں کچھ بھی نہیں ہے۔

یہاں سب سے بڑا گلہ شکوہ، ملامت، تنقید جو بنتی ہے۔ وہ ہماری صحافتی تنظیموں پر بنتی ہے۔ یہ ظالم لوگ ہمارے نام، ہمارے ووٹ پر منتخب ہو کر ہمیں ایسے ہی ٹھوکر مارتے ہیں جیسے سیاستدان منتخب ہونے کے بعد اپنے حلقے کی عوام کے ساتھ کرتے ہیں۔ سیاستدان بھی چلو کچھ نہ کچھ کروا ہی دیتے اگلے الیکشن کا سوچ کر، مگر ہماری تنظیموں والے تو یہ تک بھی نہیں کرتے ہیں۔ ماسوائے ”ایمرا“ اور آصف بٹ کے، یہ فقرہ اور یہ داد میں صحافیوں پر لکھی جانے والی ہر تحریر میں دیتا ہوں۔

ایسا نہیں ہے کہ میں نے اسی اخبار میں تحریر چھپوانی ہوتی ہے تو ایسا کرتا ہوں۔ بلکہ میرے تو روزنامہ ایمرا کے ساتھ ہزار شکوے ہیں۔ بالخصوص مدیر صاحب سے جو ناموں کے ساتھ لکھے جانے والے کالم یا ایسی تحاریر جس میں میڈیا مالکان پر زیادہ تنقید ہوتی ہے، اس کو چھاپتے ہی نہیں۔ ہاں البتہ جنوبی پنجاب میں آزاد صحافت کی شمع کو جلائے میرے چاچو سینئر صحافی اے بی مجاہد روزنامہ جلوس میں ایک زیر زبر کی بھی تبدیلی کے بغیر کڑی سے کڑی تنقید والی تحریر شائع کردی جاتی ہے۔ ایسا ہی ہم سب کے مدیران کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ بے شک آزادی صحافت اور ہم صحافیوں کے لئے ان کی خدمات لائق تحسین ہیں۔

بہرحال میری صحافتی تنظیموں، حکومت اور تمام میڈیا مالکان سے گزارش ہے کہ خدارا ہمیں ہیلتھ انشورنس کی سہولت دیں۔ اللہ کی قسم ہے ہمارے شناختی کارڈوں پر قومیت میں پاکستانی ہی درج ہے۔ ہم بھی بلوں اور خریداری کی مد میں ٹیکس دیتے ہیں۔

چلو اللہ کے نیکو، تم ہماری تنخواہ نہیں بڑھا سکتے، سالانہ انکریمنٹ نہیں لگا سکتے تو لائف اور ہیلتھ انشورنس کی سہولت دے دو۔ اگر خدا نخواستہ بیماری ہوتی ہے تو ادویات اور ٹیسٹوں کا اضافہ بوجھ تو نہ پڑے، کیونکہ بیماری کی صورت میں بمع تنخواہ چھٹیاں بھی آپ لوگ دینے کو تیار نہیں ہیں۔ ایک ایک بندے سے گدھوں کی طرح 4، چار بندوں کا کام لے کر بھی آپ لوگ پتہ نہیں اللہ کو کون سا منہ دکھائیں گے۔

ایسے میں ورکر نے کم اجرت اور زیادہ خرچوں کی ٹینشن میں کھوکھلا ہو کر بیمار ہی پڑنا ہوتا ہے۔ اتنا تو سکون لئے قبر میں جائیں کہ پیچھے اہلخانہ کو لائف انشورنس (وہ بھی ذلیل کر کر کے دی جاتی ہے) کی مد میں کچھ رقم تو مل جائے گی۔

 

Facebook Comments HS