شاکر شجاع آبادی نزع کے عالم میں ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حال میں ہی موٹروے ایم فائیو کے انٹرچینج پر بنی ایک موٹر سائیکل پر دو سواروں کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے۔ اس میں میں پچھلی سیٹ پر بیٹھے دو صدارتی ایوارڈ حاصل کرنے والے ٹوٹے پھوٹے شخص کو لوگ شاکر شجاع آبادی کے نام سے جانتے ہیں۔ جسے سرائیکی زبان کا شیکسپیئر بھی کہا جاتا ہے۔ جسے ہم کئی نغموں اور شعروں میں سنتے تو ہیں مگر جانتے نہیں۔ ۔
غربت ، محرومی اور تنگدستی کو گھر کے آنگن سے نکال کر سرائیکی لٹریچر اور لائبریریوں کی زینت بنانے والے اس ان پڑھ مگر عظیم شاعر کا نام میں نے پہلی بار کالج لائف میں کسی استاد محترم سے سنا۔ اس ٹیچر نے اس کے دو چار درد بھرے نیم سرائیکی زبان میں شعر بھی سنائے۔ جو میرے دل کو بہت بھائے۔ ادب سے دلچسپی رکھنے کے باوجود اس سے پہلے میں نے یہ نام پہلے نہیں سنا تھا۔ یوں اس شاعر کو بھی پڑھنے کا اشتیاق پیدا ہو گیا۔ اس شوق کی تکمیل کے لیے اپنے قصبہ قلعہ دیدار سنگھ میں موجود ایک چھوٹی سی دکان نما لائبریری پر چلا گیا۔ جہاں ایک یا دو روپیہ فی دن کے حساب سے کرایا پر کتابیں ملتی تھیں۔ میں وہاں سے اکثر ساحر ،ساغر،محسن، جون اور مستنصر تارڑ صاحب کی کتابیں لیتا اور پھر ہوم ورک کی طرز پر کاپی پنسل ساتھ رکھ لیتا۔ دوسرے دن کا کرایا شروع ہونے سے پہلے اس کتاب سے من پسند تحریریں اور شعر اپنی کاپی پر نوٹ کرلیتا۔ یوں میں نے چار ڈائریاں مختلف نایاب ادب پاروں سے بھر لیں۔ جن سے فرصت کے اوقات میں تسلی سے لطف اندوز ہوا کرتا۔
اسی دکان سے میں نے شاکر شجاع آبادی کی کوئی بھی تصنیف مانگی تو کاونٹر پر کھڑے صاحب نے ایسے کسی نام سےعدم واقفیت کا اظہار کر دیا۔ یوں میرا تجسس ادھورا رہ گیا مگر کچھ ہی ہفتے بعد سکول واپسی سے بس میں ایک کتابیں بیچنے والے سے ٹکر ہو گئی۔ جو بس میں میرے آگے کھڑا ہو کر میاں محمد بخش صاحب کی شاعری سنانے لگا۔ واٹس ایپ ،فیس بک نہ ہونے کی وجہ سے میرے سمیت پوری بس نے اس کے بولوں سے لطف اندوز ہونا شروع کر دیا۔ اس دوران مجھے اس کے ہاتھ میں ایک کتابچے پر شاکر شجاع آبادی لکھا نظر آیا۔ وہ نام پڑھ کر میرا تجسس پھر سے ذندہ ہو گیا اور یوں میں نے مشکل فیصلہ کرتے ہوئے اس سے وہ کتابچہ شاید پانچ روپے کے عوض خرید لیا۔ گھر آ کر اسے کھول کر پڑھنا شروع کیا تو شدید مایوسی ہوئی۔ وہ کتابچہ خالصتاً ٹھیٹھ سرائیکی شاعری پر مشتمل تھا ۔ پورے کتابچے میں مجھے چند الفاظ کے سوا کچھ سمجھ نہ آیا ۔ کیونکہ سرائیکی زبان سے میرا دور تک کوئی واسطہ نہ تھا۔ اس لیے دوبارہ لمبے عرصے تک شاکر شجاع آبادی کو پڑھنے کا شوق ذندہ نہ ہو سکا۔
پھر فدوی نے موٹروے پولیس کو اپنا اوڑنا بچھونا بنا لیا تو ٹریننگ سنٹر میں آمد کے بعد پتہ چلا کہ مجھ اکیلے کے ناتواں کندھوں پر گوجرانوالہ ضلع کی نمائندگی کا بوجھ آن پڑا ہے۔ ہم زبان نہ ملنے کی وجہ سے متبادل کے طور پر مجبوراً قریب ترین ضلعوں جھنگ، بھکر،بہاولپور اور ڈی جی خان کے جوانوں کے ساتھ اپنا ڈاکخانہ ملانا پڑا اور پھر ذیادہ وقت بھی انہی کے ساتھ گزرا۔ جس سے سرائیکی کلچر اور زبان سے کافی واقفیت حاصل ہونے لگی اوراس میٹھی زبان کی ٹوٹی پھوٹی سمجھ بھی آنے لگی تو پھر اللہ دتہ لونے والا اور منصور ملنگی جیسے سرائیکی سنگرز کو بھی سننا شروع کر دیا۔ جہاں گاہے بگاہے شاکر کے غربت و تنگدستی کے نمائندہ دوہڑے بھی سننے کو مل جاتے۔ جن میں کبھی وہ آسمانی رب سے گلہ کرتا تو کبھی زمینی خداوں کا رونا روتا پایا جاتا۔
وقت گذرتا گیا اور پھر یو ٹیوب کا زمانہ آ گیا۔ ایک دن انٹرنیٹ پر سرفنگ کرتے ہوئے شاکر شجاع آبادی کا مشاعرہ سامنے آ گیا۔ کلک کیا تو تصویریں حرکت میں آ گئیں۔ اس دن میں نے پہلی بار شاکر کو دیکھا۔ اور دیکھ کر صدمے کی سی کیفیت سے دوچار ہو گیا۔ میرے ذہن میں شاکر کی پرسنالٹی کا خاکہ دور حاضر کے جدید شاعروں وصی شاہ،نوشی گیلانی اور فرحت عباس شاہ جیسا تھا۔ مطلب خوش لباس اور خوش خوراک۔ گاڑیوں اور بنگلوں میں رہنے والا کوئی کردار۔
مگر مجھے سکرین پر سرائیکی وسیب کے عظیم شاعر شاکر شجاع آبادی کا نام استعمال کرتے ہوئے ایک فالج زدہ شخص نظر آیا۔ جس کی گردن اور ہاتھ ٹیڑھے تھے۔ لباس نہایت پرانا تھا ۔ سفید داڑھی تراش خراش سے عاری تھی ۔ سر کے بالوں نے بھی شاید مہینوں سے کسی زلف تراش کے لمس کو محسوس نہیں کیا تھا ۔ فاقے اور غربت اس شخص کے انگ انگ سے چھلک رہی تھی ۔ شعروں کے نام پر اس کے گلے سے عجیب و غریب آوازیں نکل رہیں تھیں۔ ان آوازوں کو اس کا ایک ترجمان اپنی صاف زبان میں شعروں میں تبدیل کر رہا تھا۔ مجھے لگا کسی دشمن یا حاسد نے یہ ویڈیو بنا کر شاکر کی شخصیت کا مذاق اڑانے کی بے ڈھنگی کوشش کی ہے۔ ورنہ جنوبی پنجاب کی غیر منصفانہ معاشی تقسیم اور پسماندگی کو زبان دینے والا ہزاروں سرائیکی دوہڑوں اور گیتوں کا خالق شخص اتنا لاچار کیسے ہو سکتا ہے۔ جس نے سرائیکی زبان کو پہچان دی، سرائیکستان اس شخص سے اس قدر انجان کیسے ہو سکتا ہے۔ اس خیال کے زیر اثر میں نے باقاعدہ شاکر شجاع آبادی کے نام کی سرچ ماری تو ہر ویڈیو میں وہی معذور شخص صاحب سٹیج بنا نظر آیا۔ اس تلاش کے دوران مجھے سہیل وڑائچ” ایک دن جیو کے ساتھ” بھی ایک جھونپڑی نما گھر میں اس لٹے پھٹےشخص کی قدم بوسی کرتا نظر آیا۔ جس نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ ٹیڑھی میڑھی ہڈیوں کے مالک اس شخص کو ہی شاکر شاکر شجاع آبادی کہتے ہیں۔ وہی شاکر جو مظلومیت اور پسے ہوئے طبقات کی آواز ہے۔ وہی شاکر جس کا نام ہم گیتوں اور شعروں میں تو سنتے ہیں مگر کبھی اس کے بارے میں جاننے کی کوشش نہیں کی۔ جس کی آواز اب جنوبی پنجاب سے نکل کر پورے پاکستان میں پھیل چکی ہے۔ جس کے کلام کے بغیر سرائیکی میں پی ایچ ڈی مکمل نہیں ہو سکتی۔
کچھ عرصہ بعد ٹریننگ کالج شیخوپورہ پوسٹنگ کے دوران نئے ینگ آفیسرز کا کلاس میں تعارف کروا رہا تھا کہ ایک بچے رضوان نے میٹھی سی زبان میں اپنا رہائشی ضلع ملتان جبکہ قصبہ شجاع آباد بتایا۔ بس پھر کیا تھا سب کو چھوڑ کر میں اس کی طرف متوجہ ہو گیا اور اس سے شاکر کے متعلق پوچھنے لگا۔ کلاس میں من نہ بھر سکا تو اسے شام کیفے ٹیریا بلوا لیا۔ اور پھر نئے سرے سے شاکر نامہ کھول دیا۔ رضوان نے شاکر سے متعلق تلخ زمینی حقائق پر مبنی میرے علم میں کافی اضافہ کیا۔ جس میں اس کے پلاٹ پر قبضہ،ارباب اختیار کے مدد کے جھوٹے وعدے اور غربت کے باعث علاج نہ کروا پانا شامل تھا۔ میرے اندر شاکر شجاع آبادی سے متعلق اتنا تجسس دیکھ کر رضوان نے شاکر سے ملوانے کی آفر کر دی۔ میں نے بھی حامی تو بھر لی مگر کچھ بہت زیادہ فاصلہ اور پھر غم روزگار کی مصروفیات نے میری ہمت پسپاں کر دی۔ کچھ عرصے بعد میرے ذہن سے شاکر پھر نکل گیا۔ 2019 میں جب میری پوسٹنگ بلوچستان ہوئی تو بذریعہ ٹرین لاہور سے کراچی کا سفر طے کرتا۔ ایک بار لاہور سے ٹکٹ نہ مل سکی تو فیصل آباد سے ملت ٹرین کو پکڑ لیا۔ کھڑکی کے سامنے بیٹھ کر باہر کے نظارے کر رہا تھا کہ ایک اسٹیشن پر ٹرین رک گئی۔ اسٹیشن کا جب نام پڑھا تو ایک بار میرا سانس اوپر کا اوپر رہ گیا۔ لکھا تھا” شجاع آباد”مجھے ایسے لگا کہ شاکر شجاع آبادی نے خود مجھ سے ملنے کی تمنا کی ہے اور بلا رہا ہے۔ جب تک میں کوئی رد عمل دیتا ٹرین دوبارہ روانہ ہونے کی سیٹی بجا چکی تھی۔ میں اور تو کچھ نہ کر سکا۔ آہستہ چلتی ٹرین کے دروازے پر بھاگنے کے انداز میں پہنچا ۔ دروازہ پکڑےایک پاوں شجاع آباد کی مٹی پر رکھا اور پھر واپس ٹرین کے دروازے کے اندر گھس گیا۔ ایسا کیوں کیا مجھے خود سمجھ نہ آئی۔ بلوچستان پہنچنے کیلیے اگلے دو دن کی مسافت نے میرے اندر مچلنے والے ارمانوں کو مار دیا۔ واپسی پر پھر کراچی سے ملت کی ٹکٹ کروائی۔ اس ارادے پر کہ شاکر صاحب کو سلام کر کے جاؤں گا۔ جب ملتان پہنچا تو رضوان کی یاد آئی کہ اس کو ساتھ لیتا ہوں کال کی تو اس نے بتایا کہ میں تو دوبارہ شیخوپورہ ٹریننگ کر رہا ہوں۔ اس پر پھر میرا ارادہ ڈانواڈول ہو گیا اور اگلی بار پر پروگرام رکھ لیا۔ مگر شاید شاکر شجاع آبادی صاحب کو میرا دوسری بار دعوت کو ٹھکرانا ناگوار گذرا۔ جس پر انہوں نے مجھ سے کبھی نہ ملنے کا عہد کر لیا۔ نتیجتاً اگلے ہی ہفتے میرا تبادلہ واپس شیخوپورہ ہو گیا اور یوں میری اگلی بار پھر کبھی نہ آ سکی۔
شاکر آج دوسرا ساغر صدیقی بن چکا یے۔ قصہ گو کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے عہد میں پاکستان کے سب سے بڑے سرائیکی وزیر نے شاکر کے پاس ایک وفد بھیجا کہ اسے میرے پاس لے کر آئیں میں کچھ وظیفہ اور مدد عطا کر دیتا یوں۔ اس درویش نے جواب دیا کہ میں خیرات مانگنے کسی کے در پر نہیں جاؤں گا۔ اگر وہ میری عزت افزائی کرنا چاہتے ہیں تو خود میرے پاس آئیں۔
ایسے ہی ایک بار گورے ملتان کی ایک نامی گرامی سرائیکی یونیورسٹی کی انتظامیہ کے ہمراہ سرائیکی زبان اور وسیب پر ریسرچ کرتے ہوئے شاکر کی دہلیز پر آ پہنچے۔ انہوں نے اس کی زندگی ہر پانچ منٹ کا کلپ بنایا اور اس کے عوض جاتے ہوئے معاوضے کا وعدہ بھی کیا۔ گوروں نے تو اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ اور یونیورسٹی انتظامیہ کو گرانٹ کی شکل میں کروڑوں روپے دیے۔ مگر کہنے والے کہتے ہیں اس رقم سے بھی شاکر کو کچھ نہ ملا۔
شاکر آج نزع کے عالم میں ہے۔ اس کا مرض لا علاج نہیں۔ مگر غربت کے باعث وہ اپنا علاج خود نہیں کروا پا رہا۔ تنگدستی کی وجہ سے اس کا بہت سارا کلام شائع بھی نہیں ہو سکا۔ اس کے گیتوں کو گانے بجانے والے اور ٹک ٹاکرز راتوں رات فرش سے عرش پر پہنچ گئے۔ مگر کاپی رائٹس جیسے قانون کی خلاف ورزی کی باعث اسے اس کا جائز حصہ بھی نہیں دیا جا رہا ۔ اسے حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہے۔ وہ آج علاج کی خاطر ملتان کی سڑکوں اور ہسپتالوں میں خوار ہو رہا ہے۔ اس کی تازہ ترین وڈیو دیکھ کر کسی پتھر دل انسان کا بھی افسردہ ہونا یقینی ہے۔ مگر کوئی اس کا چارہ گر نہیں بن رہا۔ شاید اس کی پذیرائی کے لیے اس کی موت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اور یوں پھر ہمارے مردہ پرست معاشرے میں حسب روایت اس کے مرنے کے بعد لوگ اس کے فن کو جانیں اور پہچانیں۔ تنہائی میں گھٹ گھٹ کر مرنے والے کی قبر پر پھر محفلیں، عرس ڈھول باجے شہنایاں بجیں۔ پھٹے پرانے اور پیوند زدہ کپڑوں کے ساتھ ذندگی گزارنے والے کی قبر پر چاندی کی چادریں چڑھائی جائیں۔ بیماری اور بھوک سے سسک سسک کر مرنے والے شاکر کی قبر پر دیسی گھی کی نیازیں بانٹی جائیں۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments