جائیدادوں کی خرید و فروخت میں فراڈ کو کیسے روکا جائے؟

"منیجر صاحب! بابا جی بہت ضعیف ہیں۔ رقم کی وصولی کے لیے کیش کائنٹر کے پاس کھڑے نہیں ہو سکتے، آپ اپنا عملہ بھیج کر ان سے دستخط کروا لیں اور یہ بیس لاکھ روپے کا چیک کیش کر دیں” نمبردار صاحب نے بنک منیجر کو کہا۔ بنک میں نمبردار صاحب کا اکاؤنٹ تھا اور ان کا بنک میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ بنک منیجر نے اسے معمول کی کارروائی سمجھتے ہوئے کیشیر کو بھیجا جس نے بنک کے اندر کونے میں صوفے پہ بیٹھے بابا جی سے کچھ دستخط لیے اور بیس لاکھ روپے کی رقم نمبردار کے حوالے کر دی جس نے بابا جی کو اپنی گاڑی میں بٹھا کے بہاولپور ڈسٹرکٹ کورٹس کی کچہری میں وکیل صاحب کے چیمبر میں لا کے بٹھایا اور کہا کہ وہ گاڑی سے رقم لا کے انھیں دیتا ہے لیکن وہ دوبارہ واپس نہ آیا۔ ہوا یہ تھا کہ نمبردار نے بابا جی سے ان کی وراثتی زرعی زمین کا سودا کیا اور کہا عدالت میں جج کے سامنے بیان دے دیں کہ میں نے نمبردار کو زمین فروخت کر کے رقم وصول کر لی ہے وہاں سے بنک جا کے آپ کو رقم نکلوا کے دے دیتا ہوں۔ انتہائی سادہ لوح بابا جی کا زیادہ وقت ہی مسجد میں گزرتا تھا پھر ان کے اپنے علاقہ کا نمبردار تھا انھوں نے اعتبار کیا اور عدالت میں بیان دے دیا۔ اب عدالت میں فراڈ کا مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔ بابا جی کہتے ہیں کہ اگر نمبردار قرآن پاک یا اپنے بچوں کے سر پہ ہاتھ رکھ کے کہہ دے کہ میں نے بابا جی کو رقم ادا کر دی تھی تو وہ زمین بھی نمبردار کے حوالے کر دیں گے اور اس کے خلاف فراڈ کا مقدمہ بھی واپس لے لیں گے۔ نمبردار ایسا کرنے کو تیار نہیں لیکن اس نے زمین کا قبضہ لینے کے لیے تگڑے وکیل عدالت میں پیش کر دیے ہیں۔
26اکتوبر2021 کو سعودیہ پلٹ ایک صاحب نے بہاول پور پریس کلب میں پر یس کانفرنس کی کہ بہاول پور شہر کے فلاں نئے ٹاؤن میں ان کی فیملی نے ٹاؤن بلڈر کو ایک مکان کی خریداری کے بدلہ میں اٹھاون لاکھ روپے کی رقم دی جس نے کہا کہ اگر آپ لوگ چاہیں تو اب آپ کے مکان میں کرایہ دار بٹھا کے ہر ماہ کا کرایہ سعودیہ عرب میں آپ کے بنک اکاؤنٹ میں بھجوا دیا کروں گا۔ ساتھ کہا کہ رجسٹری انتقال کے پراسیس میں تھوڑا وقت لگ جاتا ہے جیسے کاغذات مکمل ہوں گے آپ کے سعودیہ والے ایڈریس پہ پہنچ جائیں گے۔ پریس کانفرنس کرنے والے صاحب نے بتایا کہ تین سال ہو چکے ہیں نہ تو ہمارے پاس رجسٹری انتقال کے کاغذات پہنچے نہ مکان کا کوئی کرایہ اور نہ ہی ٹاؤن بلڈر ہمیں مکان کا قبضہ دلوا رہا ہے اور نہ ہی مکان میں بیٹھا کرایہ دار اسے خالی کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بھی کہا کہ اورسیز کارپوریشن کے دفتر اور دیگر کئی جگہوں پہ درخواستیں دیں۔ ٹاؤن بلڈر کی طرف سے مہیا کیے جانے والے اسٹامپ معاہدہ اور ہماری طرف سے ادا ہونے والے بنک چیک کی کاپیاں بھی فراہم کیں لیکن کہیں پہ بھی شنوائی نہیں ہو رہی۔
احباب! زرعی زمینوں، شہری جائیدادوں، مکانوں، رہائشی پلاٹوں اور صنعتی و کاروباری یونٹس وغیرہ کی خرید و فروخت میں محکمہ مال، رجسٹری برانچ، میونسپل کارپوریشن، ڈپٹی کمشنر آفس، اسسٹنٹ کمشنر آفس، رجسٹرار آفس اور تحصیلدار آفس وغیرہ کا کردار ہوتا ہے۔ یہاں اکبر شیخ اکبر حکومت کو کچھ تجاویز دیتا ہے اگر ان پہ عمل کر لیا جائے تو جائیدادوں کی خرید وفروخت میں فراڈ فوراً رک جائے گا۔ عدالتوں میں ا س حوالے سے مقدمہ بازی کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔ عدالتوں پہ مقدمات کا بوجھ کم ہو جائے گا اور لاکھوں سادہ لوح افراد اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کے لٹ جانے سے بھی بچ جائیں گے۔ ان تجاویز کا نفاذ یوٹیلٹی بلز کی مد میں حکومت کے اربوں روپے کے اخراجات بھی بچا لے گا اور سرکاری اداروں میں ہونے والی مالی کرپشن بھی بڑے پیمانے پہ خودکار نظام کے تحت کنٹرول ہو جائے گے۔
سب سے پہلے تو یہ کریں کہ یہ جو جائیداد کی خرید وفروخت میں رجسٹرار یا تحصیلدار یا متعلقہ افسر کے سامنے جائیداد فروخت کرنے والے کو خریدنے والے کی طرف سے نقد رقم ادا کرنے، یا کراس بنک چیک دینے یا پے آرڈر دینے کا جو طریقہ کار ہے اسے مستقل طور پہ ختم کردیں۔ نیا قانون یہ بنا دیں کہ جائیداد کی خرید و فروخت میں رقم براہ راست فروخت کنندہ کے پاس یا ڈائریکٹ اس کے بنک اکاؤنٹ میں نہیں جائے گی۔ بعض جگہوں پہ رقم وصول کرنے والا خریدنے والے کو جائیداد کا قبضہ نہیں دیتا۔ بعض جگہوں پہ چیک کیش نہیں ہوتے اوربعض جگہوں پہ دیگر مسائل۔ نیا قانون یہ ہو کہ شہری یا زرعی جائیداد ہو اس کی خرید و فروخت کا بیع نامہ معاہدہ میں جتنی رقم کا ذکر ہو گا وہ رقم پہلے حکومت کے بنک اکاؤنٹ میں جمع ہو جائے گی۔ محکمہ مال یا رجسٹرار کو اپنے آفس میں موجود کمپیوٹر پہ بنک کی طرف سے اس سرکاری اکاؤنٹ کی تفصیل براہ راست جاننے کی رسائی ہو۔ رجسٹرار جب اپنے کمپیوٹرز کے ذریعے چیک کر لے گا کہ فلاں ابن فلاں کا فلاں ابن فلاں سے جائیداد کی خریداری کا جو رجسٹری انتقال وغیرہ کا بیع نامہ معاہدہ ہوا اور تمام پراسیس کمپیوٹرائزڈ لینڈ ریکارڈ آفس میں مکمل ہوا جس کے تحت یہ رقم حکومت کے اکاؤنٹ میں آئی تو پھر رجسٹرار آفس سے ایک سرکاری اہلکار روانہ کیا جائے گا جو واپس آکے تحریر ی رپورٹ جمع کرائے گا کہ اس نے موقع پہ جا کے خود تصدیق کی کہ خریداد کو جائیداد کا قبضہ مل چکا ہے تو اس کے بعد رجسٹرار آفس کی طرف سے بنک کو لیٹر جائے گا کہ اب آپ یہ رقم جائیداد فروخت کرنے والے فلان ابن فلاں کے بنک اکاؤنٹ میں منتقل کردیں۔ رجسٹرار یا محکمہ مال کا متعلقہ افسر تصدیق اور رقم کی جائیداد فروخت کنندہ کے اکاؤنٹ میں منتقلی کا یہ سارا عمل سات دن کے اندر اندر مکمل کرنے کا پابند ہو۔
چونکہ جائیدادوں کی خرید وفروخت کے معاملات میں سرکاری محکموں کے دفاتر کے اندر مالی کرپشن بھی ہوتی ہے تو حکومت یہ کرے کہ چالیس چالیس کمروں پہ مشتمل میونسپل کارپوریشن کا دفتر، ڈپٹی کمشنر کا دفتر، محکمہ مال کا دفتر اور دیگر پرانے دفاتر گرا دے۔ پرانی بلڈنگز جب زمین بوس ہو جائیں تو اسی جگہ پہ ایک بڑا ہال تعمیر کیا جائے۔ اگر وہ بڑا ہال میونسپل کارپوریشن کا ہے تو تمام عملہ کے کمپیوٹر کاؤنٹرز اندر رکھ دیے جائیں۔ کون کیا کر رہا ہے سب کو نظر آ رہاہو۔ ہال کے کونے میں بڑے افسروں اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے لیے شیشے کے کیبن بنا دیے جائیں اور پورے ہال میں بیک وقت آواز اور منظر ریکارڈ کرنے والے سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوں۔ 92 اور دیگر سرکاری نمبروں کی سیریل والے تمام فونز پہ ہونے والی گفتگو کو سرکاری طور پہ باقاعدہ ریکارڈ کرنے کا قانون بنا دیا جائے۔ اس سے ایک تو مالی کرپشن رک جائے گی دوسرا موجودہ سرکاری دفاتر میں جو ہر کمرہ میں علیحدہ علیحدہ ائیر کنڈیشنر، بجلی کے پنکھے اور بلب استعمال کرنے کی مد میں حکومت کو اربوں روپے یوٹیلٹی بلز کی مد میں ادا کرنے پڑتے ہیں اس ضمن میں بہت بڑی بچت ہو جائے گے۔ رہا مسئلہ یہ کہ بااثر سیاستدان افسروں کو اور بڑے افسر چھوٹے افسروں کو فون کر کے دباؤ ڈال کر غیر قانونی کام کروا لیتے ہیں تو دفاتر اور افسران کے گھروں پہ لگے سرکاری فون کی قانونی ریکارڈنگ اس منفی عمل کا توڑ کر دے گی۔
Facebook Comments HS

