یخ بستہ دہلیز پر دستک

”یخ بستہ دہلیز“ شاعر و محقق، ڈرامہ نگار اور افسانہ نگار ڈاکٹر سید زبیر شاہ کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے۔ ان کے پہلے افسانوی مجموعے ”خوف کے کتبے“ کا مطالعہ کر چکا ہوں موضوعات کے لحاظ سے یہ اس کی دوسری کڑی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو یہ کریڈیٹ دینا پڑے گا کہ انھوں نے موضوعات اپنے ارد گرد سے چنے اور معاشرے کی بیماریاں نہ صرف ایک ماہر نباض کی طرح تشخیص کیں بلکہ ان کو اپنی کہانیوں میں دلکشی کے ساتھ سمویا۔ عام طور پر ادیب عصری، ہنگامی اور جدید موضوعات سے کنی کترا جاتے ہیں۔ شاید وہ فن کے روایتی سانچوں سے بغاوت نہیں کر پاتے یا ان کو برتنے میں دشواری پیش آتی ہے لیکن ڈاکٹر زبیر شاہ روایتی سانچوں کے اسیر نہیں ہیں بلکہ انھوں نے اپنے فنکارانہ کمالات سے ان موضوعات میں چاشنی بھر کر ابدیت اور آفاقیت کی راہ دکھائی۔
”یخ بستہ دہلیز“ میں کل 15 طبع زاد افسانے ہیں۔ اس کی ابتدا ”فصیل شب کے پار“ سے ہوتی ہے جس میں پشتون قبائل کے رسم و رواج، قتل و غارت اور انتقامی جذبے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس افسانے کا انداز بیانیہ ہے۔ اس میں ’بزرگ‘ اچھائی اور صلح جوئی کی علامت ہے مگر وہ فرسودہ نظام کے آگے بے بس دکھائی دیتا ہے۔ اس کہانی میں علامتی طور پر نیکی اور بدی کی کشمکش جاری ہے لیکن ”ہر خرابی میں آبادی ہے“ اور ”ہر تکلیف میں راحت ہے“ جیسے مقولوں کے غلط استعمال کی وجہ سے نیکی کا پلڑا کمزور ہوجاتا ہے۔
یہی دو جملے عبدالحلیم شررؔ کے ناول فردوس بریں کے کردار شیخ علی وجودی کے مکالمے ”ہر ظاہر کا ایک باطن ہوتا ہے“ سے زیادہ جاندار اور گہری معنویت کے حامل ہیں۔ پشتون قبائل کی ایک فرسودہ رسم ”سورہ“ اور اس کے بھیانک نتائج کو بیان کیا ہے۔ زبیر شاہ چونکہ خود پشتون قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے مشاہدات و احساسات کے ساتھ پشتونوں کی نفسیات کو باریک بینی سے سمجھتے ہیں۔ افسانے ”قربانی جو رائیگاں گئی“ میں انھوں نے دکھایا ہے کہ پشتون انتقامی جذبے میں اپنے اور دوسروں کے گھر اجاڑنے سے دریغ نہیں کرتے اور کسی حد تک بھی گر سکتے ہیں یہاں تک کہ ’جمال شاہ‘ جیسے لوگ اپنی اسی بہن کا گھر بھی تباہ کر دیتے ہیں جو اس کی جان بچانے کے لیے دشمن کے گھر بیاہی جاتی ہے۔
سسپنس اس افسانے میں اپنے عروج پر ہے۔ ڈاکٹرصاحب کی بصیرت دیکھیے کہ ان کو موضوعات کے لیے تخیل کے گھوڑے نہیں دوڑانے پڑتے بلکہ ان کی عصری آگہی اور سماجی شعور ہی افسانوں کی صورت میں ڈھل جاتا ہے۔ انھوں نے نہ صرف پشتونوں کے رسوم و خصائل بلکہ اٹک کے اس پار سرپنچوں کی نا انصافیاں، جھوٹی انا پرستی پر مبنی فیصلے اور پھر اپنی انا کا بھرم رکھنے کے لیے اسی آگ سے اپنے گھر کو جلا کر راکھ کرنا جیسے واقعات بھی ان کی قلم کی گرفت سے باہر نہیں۔
”وقت کے میلے ہاتھ“ فلیش بیک اور شعور کی رو میں لکھا گیا افسانہ ہے جس میں پنچایت کے مظالم اور اس کے نتیجے میں مکافات عمل کو بیان کیا ہے۔ مکافات عمل کی ایک عمدہ مثال ان کا افسانہ ”پہلی قسط“ ہے جس میں میاں بیوی کی چپقلش، بھولی بسری محبت، یاد ماضی اور مادی ہوس کی تمام کڑیوں کو ملا کر ایک ایسا موڑ دیا ہے جس میں زبیدہ اپنے خاوند نجیب کی مادی لالچ کو پورا کرنے کے لیے محبت کی بھولی بسری راستوں پر چل نکلتی ہے جہاں جنسی بے راہ روی کا شکار ہوجاتی ہے اور نجیب اس رقم کو جنسی خواہش پوری کرنے کے لیے ”پہلی قسط“ کے طور پر 20 سالہ لڑکی کو ادا کر کے رخصت کر دیتا ہے۔
”یخ بستہ دہلیز“ بھی جنسی نا آسودگی پر مبنی افسانہ ہے۔ جس میں جنسی بے راہ روی کی سب سے بڑی وجہ خاوند کی مسلسل گھر سے دوری ہے جس کی وجہ سے عاشی کے پیٹ میں بچہ پلنے لگا۔ جب محلے والوں کو اس انہونی کا علم ہوا تو ناجائز اولاد کے حوالے سے اہل علاقہ، جوان عورتوں، بوڑھیوں اور اہل خانہ کی کھسر پسر، چھبتی نگاہوں اور ماتھے پر ابھری شکنوں کی بہترین تصویر کشی کرتے ہیں :
”شادی شدہ اور بوڑھی عورتیں، بچے اور بچیوں کو صحن سے بھگا کر روز اس مسئلے کو حل کرنے بیٹھ جاتیں۔“
ایک طرف اس افسانے میں جنسی ناآسودگی ہے اور دوسری طرف ان پڑھ اور تعلیم یافتہ ذہنوں کا ٹکراؤ بھی ہے۔ عام طور پر ایسی صورتحال میں غیرت کے نام پر قتل یا طلاقیں ہو جاتی ہیں لیکن عاشی کا خاوند عزیز علی زچہ اور بچہ دونوں کو بچا لینے کے بعد ایک جاندار جملہ کہتا ہے :
”تمھارا یہ بچہ جب بھی ہنسے گا تو تمھاری آنکھوں میں آنسو آئیں گے۔“
سماجی مسائل کے بیان میں جنس کو موضوع بنا نے کے باوجود زبیر شاہ ان کے جزئیات میں نہیں جاتے بلکہ ایک لطیف سا اشارہ دیتے ہوئے پلاٹ کی ڈیمانڈ پوری کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
ڈاکٹر زبیر شاہ کے ہاں صرف جنسی ناآسودگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خطرناک یا افسوس ناک صورتحال ہی سامنے نہیں آتی بلکہ ان کے ہاں ایسی محبت کی داستان بھی ملتی ہے جس میں ”احساس کی کرچیاں“ ہر طرف بکھر جاتی ہیں مگر کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی۔ انھوں نے ٹائیگر جیسے بے ضرر اور لوگوں کی نظر میں پاگل انسان کے جذبات و احساسات میں قاری کو شامل کر کے محبت کو نئے زاویہ نگاہ سے دیکھا ہے۔
”ہائبرنیشن“ ایک علامتی افسانہ ہے۔ اس کا ماحول خوفناک اور اذیت ناک ہے اس کے تینوں کردار بچہ، باپ اور دادا دراصل تین مختلف نسلوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس افسانے میں معاشرے کی مجموعی بے حسی اور لاپروائی کو موضوع بنایا گیا ہے یہ تینوں بے حس کردار پریم چند کے افسانہ ”کفن“ کے گھیسو اور مادھو کے پیروکار نظر آتے ہیں۔ ’خاکی لباس اور بوٹ‘ واضح علامتیں ہیں جو ملک میں پے درپے عسکری قیادت کی سیاست میں مداخلت کی نشاندہی کراتی ہیں۔
سید زبیر شاہ کے ہاں کنکریٹ کے بنگلے نئی تہذیب اور مشینی رویوں کی علامت ہے۔ ان کے افسانے ”کہانی ابھی باقی ہے“ میں نئی اور پرانی تہذیب اور غربت و امارت کی کشمکش ہے۔ اس افسانے کا انداز بیانیہ اور اس میں مضمون کی سی چاشنی پائی جاتی ہے جہاں قلمکار بذات خود قاری کی ڈائریکشن کا تعین اور اسے افسانہ آخر تک پڑھنے پر آمادہ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس افسانے میں کہانی کی بنت اور جامع تعریف بھی مل جاتی ہے۔ اس میں بے بس، بے شعور اور پسے ہوئے طبقے کے مسائل اور مجبوریوں کو موضوع بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی کم ہمتی اور سستی و کاہلی کو موضوع بنایا ہے۔ ان میں راجو جیسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو حالات کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں مگر بے حس لوگ ان کا ساتھ نہیں دیتے۔ امیر شہر کی طرف سے صرف مالی مفادات کی خاطر کچی بستی کی جگہ ہاؤسنگ سوسائٹی کا بننا ایک طرف تو نئے اور پرانے کا تصادم ہے لیکن دوسری طرف یہ ایک مکمل ترقی پسند سوچ کا حامل افسانہ ہے۔
”مرگ آرزو“ میں جنس کو نفسیات کے پردے میں لپیٹ کر زندگی کے تلخ حقائق بیان کیے ہیں۔ افسانے کا کردار ”وہ“ اوائل جوانی میں فطری تقاضوں کے مطابق لنگڑی رابعہ کی خامی کو خوبی جان کر اس پر فدا ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ شادی کی صورت میں نکلتا ہے۔ چونکہ جسم کے خد و خال ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے یوں اس کی محبت پچھتاوے میں بدل جاتی ہے۔ کردار بذات خود ایک شاعر ہے اس لیے محبت اور نفرت کے درمیان نفسیاتی کشمکش سے گزرتا ہے۔
ان کی شاعری کا ارتقا رک جاتا ہے۔ موبائل میں موجود تصاویر سے دل بہلانا ان کی بے چینی کی نشانی ہے۔ اس افسانے میں مردوں اور خصوصاً شاعروں کی سیمابی فطرت کی طرف یہ واضح اشارہ ہے۔ ذہنی خلفشار پوری کہانی میں عروج پر ہے کیونکہ وہ رابعہ سے نفرت کر کے اس کو اپنی نظروں میں نہیں گرانا چاہتا، رابعہ کے فربہ جسم کا احساس جرم اور میکے بھیج دینے کے احساس زیاں کو بھی محسوس کرتا ہے لیکن انھیں تسکین طبع کی خاطر حسن بھی درکار ہے۔ قاری کو ایک لمحے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کا اختتام شاید روایتی ہو اور رابعہ یا شاعر خود ان سے لپٹ جائے مگر افسانہ نگار کی جدت پسند طبیعت نے یہ گوارا نہیں کیا بلکہ کمال خوبصورتی سے اسے ٹریجڈی بنایا ہے۔ اس فسانے میں ایک بھرپور کہانی پائی جاتی ہے۔
”سرد صحرا کی پیاس“ ڈھلتی عمر کی جنسی ضرورتوں کے لیے استعارہ ہے۔ اس افسانے کا کردار نرگس احساس کمتری اور چڑچڑے پن کا شکار ہے۔ محبت میں ناکامی اور اب مسلسل تنہائی کے بھوت نے اسے انتقامی جذبے سے دوچار کیا ہے۔ نرگس میں نفسیاتی الجھن سادیت پائی جاتی ہے وہ دوسروں کو اذیت دے کر سکون محسوس کرتی ہے لیکن جونہی پرانی محبت دہلیز پر دستک دیتی ہے تو اس کے چہرے پر وحشت کی جگہ سکون لے لیتا ہے۔ افسانہ نگار نے نفسیاتی الجھن کو اجاگر کر کے مرد اور عورت کا ساتھ ایک دوسرے کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر زبیر شاہ افسانے کے مروجہ راستوں سے اکثر انحراف کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ صحیح معنوں میں نیا افسانہ لکھ رہے ہیں۔ ان کے افسانے ”برفاف زمانے“ میں تکنیک کا نیا انداز ملاحظہ کیجیے جہاں مضمون کی طرح دلائل سے افسانے کی کڑیاں منٹو کے افسانے ”نیا قانون“ کے کردار منگو کوچوان کے ساتھ عادتوں اور نسل کی بنیاد پر جوڑتے ہیں۔ اس میں طنز کی کاٹ بھی ہے اور احساس زیاں بھی کیونکہ درپردہ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ منگو کوچوان کی دوسری یا تیسری نسل بھی تعلیم سے بے بہرہ ہے۔
اس افسانے کا کینوس پاکستانی سیاست کے موجودہ عشرے پر محیط ہے۔ اس میں اصغر اور اظہر دو مرکزی تراشے گئے ہیں مگر ناموں میں یکسانیت اور صوتی کنفیوژن کی وجہ سے قاری کے ذہن میں نقش نہیں ہو پاتے۔ اس میں سیاست کا مکروہ چہرہ بھی دکھایا گیا ہے جس میں سیاستدان صرف جھوٹے وعدوں کے ذریعے عوام اور مزدوروں کو سنہرے خوابوں سے ورغلاتے ہیں۔ حکمران اور حزب اختلاف سبھی صرف سیاست برائے سیاست کرتے ہیں اور ان کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کو ’منگو کوچوان‘ کی طرح لاپتہ کرا دیتے ہیں۔
افسانہ ”جو تاریک راہوں میں مارے گئے“ کے عنوان سے یوں لگتا ہے جیسے کسی مذاکرے کا جذباتی موضوع ہو لیکن یہ مکمل طور پر ایک علامتی اور نیا افسانہ ہے۔ جس میں ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات، گوروں کی بے جا مداخلت، ہماری غفلت اور تماشا دیکھنے کی عادت کو بطور خاص موضوع بنایا گیا ہے۔ خاکی وردی، گھاس خور جانور، گدھ، اور گدھے کو بطور علامت استعمال کیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش کا بن جانا، سیاسی و جغرافیائی کشمکش، دشمن کا پاکستان کو برباد کرنے کی کوشش، اپنوں کا بک جانا اور ملک کو دیمک کی طرح چاٹنا اس افسانے میں اجاگر کیا گیا ہے۔
سید زبیر شاہ نے اپنا اور معاشرے کا ذہنی تناؤ و انتشار اور خوف و ہراس اپنی کہانیوں میں منتقل کیا ہے۔ ”ہجوم مرگ میں زندگی“ کا محل وقوع دراصل سانحہ اے پی ایس پشاور سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کہا نی کو انھوں نے خوبصورت علامتوں کا لباس پہنا کر صفحہ قرطاس پر بکھیرا ہے مگر یہ سانحہ اتنا خوفناک اور دردناک تھا کہ یہ لوگوں کے دل و دماغ میں رستے خون کی طرح تازہ ہے اور معمولی سا اشارہ بھی ذہن اس کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ لکھتے ہیں :
”تصویر میں وہ نہیں بلکہ اس کا ہم نام اور ہم شکل بھائی دکھائی دیتا ہے جو علم کی روشنی لینے گیا تھا مگر
کسی تاریک ذہن سے اٹھنے والے غبار میں اپنے ساتھیوں سمیت کھو گیا۔ ”
دادا کی مسکراتی تصویر پرامن ماضی کی علامت ہے جبکہ دانیال کی پریشانی منتشر حال کی دلیل ہے۔ سورج کو پھندا مستقبل کے معماروں کو بے رحمی سے قتل کرنے کا استعارہ ہے۔
”ماں۔ اس ہجوم مرگ میں زندگی دشوار ہے، جہاں تاریکیاں زندگی کو وقت سے پہلے نگل لیں
وہاں سورج کو روشن رہنے کا کوئی حق نہیں۔ ”
انتہا پسندی پر ایک اور افسانہ ”کفارہ“ لکھا گیا ہے جس میں انھوں نے ایک ایسے کردار کو پیش کیا ہے جس کو حالات نے نفسیاتی و ذہنی سطح پر مفلوج کر دیا ہے۔ یہ افسانہ مقامیت اور فراریت پر مبنی ہے۔ افسانے کا کردار داغ دار ماضی سے جان چھڑانا چاہتا ہے مگر ان کا ضمیر اسے کچوکے لگاتا رہتا ہے۔ کئی دوسرے افسانوں کی طرح یہاں بھی شعور کی رو، نفسیاتی الجھن اور فلیش بیک تکنیک کا خوبصورت امتزاج ملتا ہے کہانی کی بنت چست ہے۔
اس کہانی کا کردار سرحدوں پر دہشت گردی کی لہر میں با امر مجبوری دہشت گردوں کی مدد کرنے کی وجہ سے ذہنی اذیت سے گزر رہا ہے۔ مسلسل دھماکوں، خراب حالات اور ٹارگٹ کلنگ نے اسے نفسیاتی مرض میں مبتلا کر دیا ہے اسے ہرطرف بو اور خون محسوس ہوتا ہے۔ دراصل اس کردار کے ذریعے افسانہ نگار پورے پاکستان اور خصوصاً خیبر پختون خوا کے لوگوں کی ظاہری و باطنی عکاسی کر رہے ہیں۔ کردار کو اپنی بزدلی اور ضمیر فروشی پر سخت پچھتاوا ہو رہا ہے۔
اس لیے اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کے لیے اپنی جان کی قربانی دی۔ اس سے ملتے جلتے موضوع پر ”محبت خط تنسیخ کی زد میں“ لکھا گیا ہے۔ اگرچہ عنوان سے لگتا ہے کہ ایک رومانوی افسانہ ہو گا مگر فراریت سے مزین عصری و ہنگامی موضوعات پر مبنی ایک بھر پور افسانہ ہے۔ اس افسانے میں کئی پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ مذہب اور سیاست کے غلط استعمال سے بے زاری ملتی ہے۔ افسانہ نگار امریکہ کے جنگی جنون اور مساوات کی آڑ میں وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش، پسماندہ ممالک میں انتہا پسندی اور انسان دشمن سرگرمیوں پر کڑھ رہا ہے۔ مخدوش حالات اور دہشت گردی کی وجہ سے نفسیاتی الجھنوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے لوگوں کی بے حسی میں اضافے اور اپنی ذات کے خول میں چھپے ہونے کی بھر پور عکاسی کی ہے۔
”ہنگاموں سے بچنے کے لیے یہ کھڑکی اور کیکر دونوں اس کے مضبوط سہارے ہیں۔“
ایک ادیب کے فن و فکر پر اندرونی خیالات سے کہیں زیادہ معاشرے کے بیرونی حالات کا اثر ہوتا ہے۔ تواتر کے ساتھ دھماکوں نے انسان کو بے حس بنا دیا ہے اور دھماکے کی پروا نہ ہونے کی نفسیاتی اور لاشعوری وجہ یہ ہے کہ وہ تھک چکے ہیں اور دھماکوں کے عادی ہوچکے ہیں۔ نئی نسل بارود کے ساتھ بڑی ہو رہی ہے۔
زبیر شاہ لفظیات کا قرینہ جانتے ہیں اس لیے ان کے افسانے میں ہمیں انوکھے اور نئے الفاظ و تراکیب کا متناسب استعمال ملتا ہے۔ جیسے :رشک قمر، صدمہ جانکاہ، خاندانی جڑت، کٹھور پن، فتور عقل، تیرہ سر، لطیف سحر، تعمق، گوتم، باد مخالف، آرام رساں ساعتوں، لذت کام و دہن، سورج کو پھندا، ہجوم مرگ میں زندگی، برفاف زمانے وغیرہ۔ یوسف عزیز زاہد لکھتے ہیں :
”سید زبیر شاہ نے ایک سچے فن کار کی طرح اظہار صداقت کو ترجیح دیتے ہوئے موضوع
کی مناسبت سے لفظیات کا چناؤ کیا ہے۔ ”
سید زبیر شاہ نے اپنی کہانیوں میں فن و فکر دونوں کی جولانیاں دکھائی ہے۔ ان ہاں نئے افسانے کی تمام تر لوازمات اور تکنیکس موجود ہیں۔ ان کے ہاں اگرچہ کرداروں کی ظاہری تراش خراش کا خلا موجود ہے لیکن وہ ان کے ظاہر سے زیادہ باطن کو کریدتے ہیں اور ان کے رویوں اور جبلتوں کے تحت تانے بانے بنتے ہیں۔ خالد سہیل ملک کہتے ہیں :
”زبیر شاہ نے افسانہ کو واقعی ایک سنجیدہ سرگرمی کے طور پر نبھایا ہے۔ وہ اپنے موضوع کے خمیر کو خوب گوندھتا ہے اور
بنت کے چاک پر دھرتا ہے اس کے بعد جو کہانی کی پراڈکٹ سامنے آتی ہے تو لازماً بے داغ اور ہموار ہوتی ہے۔ ”
سید زبیر شاہ سماجی، معاشرتی، عصری، ہنگامی اور سیاسی حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اپنی کہانیوں میں بلا جھجک بیان کرتے ہیں۔ ان کے ہاں پشتون قبائل کے فرسودہ روایات، خاندانی دشمنیاں، سورہ جیسی قبیح رسم، پشتونوں کا انتقامی جذبہ، جنسی نا آسودگی، سانحہ مشرقی پاکستان، سانحہ پشاور، ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات، دہشت گردی اور اس کے نتیجے میں پھیلنے والا خوف و ہراس، نفسیاتی الجھنیں، پنچایت کی نا انصافیاں، انا کی جنگ، امیر شہر کا ظلم و ستم، غریب شہر کی آہ و فغاں، نسلوں کا تفاوت، اپنی تہذیب و ثقافت سے دوری، مشینی رویوں کا بڑھتا ہوا رجحان، محبت کی لطافتیں، فراریت، ارضیت، مقامیت، سیاسی و سماجی ابتری اور موجودہ حالات کا نوحہ، جیسے موضوعات ملتے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ ماضی قریب کے حالات و واقعات سے افسانے کا کہانی پن متاثر نہیں کرتے بلکہ موثر پیرایہ اظہار سے دلچسپ اور دلکش بنا دیتے ہیں۔ وہ نئے افسانے کے بارے میں خود کہتے ہیں :
”۔ آج کے افسانے میں ایک نئی طرح کی حسیت در آئی ہے جسے نئے افسانوں میں آج کا افسانہ نگار
بخوبی برت رہا ہے۔ ان افسانوں میں اظہار و بیان کے بڑے دلکش رنگ موجود ہیں۔ ”
زبیر شاہ کے افسانوں کا نمایاں وصف ارضیت، مقامیت اور نئی حسیت ہے انھیں اس کا شعوری احساس ہے۔ وہ بڑی چابکدستی سے کہانی کو مختلف موڑ دے کر پایہ انجام تک پہنچاتے ہیں کہیں بھی ان کی گرفت کمزور نہیں پڑتی، کرداروں کے نفس اور کہانی کے نفس مضمون سے وہ سائے کی طرح چمٹے رہتے ہیں اور یہی ایک اچھے فنکار کی پہچان ہوتی ہے۔

