عتیق احمد صدیقی کی کالم نگاری پر ایک نظر

ابلاغ عامہ میں کالم کی کوئی متعین یا طے شدہ تعریف نہیں ہے بلکہ کالم کو کالم نگار کا ذاتی مشاہدہ اور تجزیہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کا کوئی مخصوص فنی سانچہ بھی نہیں ہے البتہ کالموں کے موضوعات سے اُس کو شخصی کالم، سیاسی کالم، فُکاہیہ کالم، سماجی کالم، اسپورٹس کالم، اقتصادی کالم وغیرہ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ زیر بحث ”تقویم“ عتیق احمد صدیقی کے کالموں کا وہ مجموعہ ہے جس کا زمانی و مکانی تعلق اکیسویں

Read more

کیسے کیسے لوگ تھے

میرے ابا کے چچا زاد تھے۔ اُن کا اپنا نام ”مثل خان“ تھا لیکن ہم سارے کزنز اُن کو علاقائی لہجے میں ”غوٹ یعنی غٹ ابا یعنی بڑے ابا“ کہتے تھے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ تین بھائیوں میں وہ پہلے نمبر پر تھے۔ جسامت کے لحاظ سے انھیں ”نرے ابا“ کہنا چاہیے تھا۔ درمیانہ قد، ہلکی سفید داڑھی اور آنکھوں پر نظر کا چشمہ جس کا ہینڈل دھاگے سے بندھا ہوتا تھا۔ مستقلاً سفید دستار سر

Read more

مرے قلم میں تیری خوشبوئیں مہکتی ہیں

خیبر پختون خوا کا ایک اہم ادبی مرکز شہر فراز کوہاٹ بھی ہے۔ کوہاٹ میں اردو، پشتو اور ہندکو زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان تینوں زبانوں میں سخن سرائی ہو رہی ہے۔ یہاں کے سخن وروں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی۔ ان ادیبوں میں میر عبد الصمد، جسٹس ایم آر کیانی، آغا برق کوہاٹی، رحیم گل، احمد فراز، ایوب صابر، احمد پراچہ، عزیز اختر وارثی، شجاعت علی راہی، سعد اللہ خان لالاؔ، سید عطوف

Read more

وہ چاہے نظم کا ٹکڑا ہو کہ نثر پارہ ہو

ہزارہ کے ساتھ علمی و ادبی شناسائی اور وابستگی زمانہ طالب علمی سے ہے اور اس کی وجہ یہاں کے خوب صورت لب و لہجے کے شاعر اور ایک مخلص انسان سلطان سکون صاحب ہیں جن پر ایم اے سطح کا تحقیقی و تنقیدی مقالہ ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری کی نگرانی میں لکھنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس دوران ان کے ساتھ کئی ملاقاتیں ہوئیں، میں اسی مقالے کے لیے مواد جمع کرنے سلطان سکون اور ان کے اہل و

Read more

عارف خٹک کا دوسرا ناول: یہ پالا ہے

”یہ پالا ہے“ عارف خٹک کے دوسرے ناول کا نام ہے۔ ان کا پہلا ناول چند سال پہلے ”چھٹکی“ کے نام سے چھپا۔ وہ ایک ایسے طالب علم کی داستان زیست ہے جو کرک کے ایک نہایت پسماندہ گاؤں سے اٹھ کر تعلیم کی غرض سے روس چلا جاتا ہے اور وہاں سے اس کی محبت کی داستان شروع ہوجاتی ہے جو خوشیوں، سرمستیوں، غموں، مایوسیوں، سماجی و نفسیاتی مراحل اور نشیب و فراز سے ہو کر بہت فلسفیانہ، متصوفانہ

Read more

دوستی لٹریچر فیسٹول پشاور

جس معاشرے میں سوال اٹھتے ہیں اور ان سوالوں کے جوابات ملتے ہیں وہ معاشرہ کبھی گھٹن زدہ نہیں ہوتا بلکہ وہاں فرد انفرادی و اجتماعی سطح پر بہت سے سماجی، ذہنی اور نفسیاتی مسائل سے بچ جاتا ہے، اس کے برعکس جہاں سوال جنم لیتے ہیں اور جواب نہیں ملتے وہاں گھٹن بڑھتا ہے، یہی گھٹن ذہنی تعفن کی صورت اختیار کر لیتا ہے جس سے انتہا پسندی، عدم برداشت، فرقہ واریت، لسانیت، علاقائی قومیت سمیت دوسرے مسائل سر

Read more

سدا آباد ہی رکھنا زبیرؔ اس دل کی محفل کو

آج کل سوشل میڈیا کے اس طبقے میں ”پڑوسن“ کے چرچے ہیں جو ”طارق ہاشمی“ صاحب کو جانتے ہیں اور کیوں نہ ہوں جب وہ ”جوتوں“ کی فرمائش سے ابتدا کرے اور بات ”پانچ قیراط“ ہیرے کی انگوٹھی تک جا پہنچے اور بیچارے ہاشمی صاحب کی تنخواہ سولہ سو ایک سو اسی روپے ہو۔ یہ ڈاکٹر طارق ہاشمی کا کمال ہے کہ انھوں نے گمبھیر سیاسی صورت حال میں ایک ایسا کردار تخلیق کیا کہ جس سے منہ کی کڑواہٹ

Read more

رجحان ساز شعری مجموعے ”شہر میں گاؤں کے پرندے“ کی تقریب رونمائی کی کتھا

خیبر پختونخوا کی اردو شاعری پر بالعموم دو شعری مزاج کے اثرات نظر آتے ہیں۔ ایک رومانوی طرز احساس اور دوسرا ترقی پسند نظریۂ شعر۔ یہاں پر ایسے شعرا بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ جو صرف مشاعرے میں داد ہی کو شاعری کی معراج سمجھتے ہیں۔ مشاعرے کی شاعری جب کتاب پر آتی ہے۔ تو وہ اپنی تاثیر کھو بیٹھتی ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خیبر پختونخوا کی شاعری کا مزاج جدیدیت سے ناآشنا رہا ہے۔

Read more

کبھی یادیں، کبھی باتیں، کبھی پچھلی ملاقاتیں

شعبہ اردو جامعہ پشاور کی محبت نے عجیب گل کھلائے ہیں کہ بیٹھے بٹھائے اچھے خاصے جوانوں کو ناسٹیلجک بنا ڈالا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو اختر انصاری بنے ہیں جنہوں نے ”یاد ماضی عذاب ہے یا رب“ کہہ کر حافظہ مزید پختہ کر دیا ہے۔ یوں بھی ادب کے طالبعلم ماضی پرست ہوتے ہیں کیونکہ مشرقی تہذیب کو محفوظ کرنے والے ادبا و شعرا کو پڑھ پڑھ کر ایسا ہونا فطری امر ہے۔ ان کو احساسات کی دنیا

Read more

یخ بستہ دہلیز پر دستک

”یخ بستہ دہلیز“ شاعر و محقق، ڈرامہ نگار اور افسانہ نگار ڈاکٹر سید زبیر شاہ کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے۔ ان کے پہلے افسانوی مجموعے ”خوف کے کتبے“ کا مطالعہ کر چکا ہوں موضوعات کے لحاظ سے یہ اس کی دوسری کڑی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو یہ کریڈیٹ دینا پڑے گا کہ انھوں نے موضوعات اپنے ارد گرد سے چنے اور معاشرے کی بیماریاں نہ صرف ایک ماہر نباض کی طرح تشخیص کیں بلکہ ان کو اپنی کہانیوں میں دلکشی

Read more

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں

پروفیسر محمد اقبال صاحب کی مثال اس تناور و پھول دار اور پھلدار شجر کی سی ہے جو باد سموم کی تھپیڑوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور اس کی خوشبو چارسو پھیل کر ماحول کو معطر کر دیتی ہو۔ وہ علمی و ادبی دنیا میں بہت ہی قدآور شخصیت کے مالک ہیں۔ پروفیسر محمد اقبال صاحب سے میری شناسائی 20 سالوں پر محیط ہے۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب وہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ

Read more

حمزہ حسن شیخ کے افسانوی مجموعے ”کاغذ“ کا تنقیدی جائزہ

حمزہ حسن شیخ سے بطور لکھاری میری شناسائی پرانی ہے یہ اس وقت کی بات ہے جب ہمارا شمار بچوں میں ہوتا تھا اور ہم بچوں کے صفحات کے لیے چھوٹی موٹی سبق آموز کہانیاں لکھا کرتے تھے۔ اس دور میں روزنامہ پاکستان، روزنامہ اوصاف، روزنامہ مشرق، روزنامہ ایکسپریس اور روزنامہ اساس میں بچوں کے صفحات کا خاص اہتمام ہوتا تھا اور ان پر ننھے لکھاریوں کا اتنا رش ہوتا تھا کہ تحریر کی اشاعت کے لیے کئی ہفتوں تک انتظار کرنا پڑتا۔

Read more

خوف کے کتبے

میرے کالم کا عنوان نوجوان شاعر و ادیب ڈاکٹر سید زبیر شاہ کے افسانوی مجموعے کا نام ہے، جو گزشتہ دنوں میرے زیر مطالعہ رہی۔ خوبصورت تجریدی سر ورق کے ساتھ یہ کتاب مثال پبلشرز پریس مارکیٹ فیصل آباد کے زیر اہتمام 2011 میں چھا پی گئی ہے۔ اس میں کل سولہ افسانے ہیں اور کتاب 104 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ ڈاکٹر زبیر شاہ کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب ایڈورڈز کالج پشاور میں پڑھاتے ہیں اور قرطبہ

Read more

قدرتی نظارے بکھرے ہیں چار سو

ظفر خٹک اور ہمارے دوستوں میں المعروف لالا جو کئی محاذوں پر سرگرم عمل ہیں۔ ان کے تعلقات اور معاملات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ پانچ موبائلز کی چارج بھی انھیں کم پڑ جاتی ہے۔ کھانے پینے اور سونے کا وقت بھی اکثر و بیشتر انہی مصروفیات کی نذر ہوجاتا ہے ۔ فرنٹیر پبلشرز ایسوسی ایشن، ماسٹر خان گل فاؤنڈیشن اور انجمن تاجران پشاور سٹی وہ اس مثلث کے مرکز ہیں اور تینوں کی نمائندگی کا صحیح معنوں میں

Read more

پشتو ڈراموں کے نام پر کیا چل رہا ہے؟

وہ کافی دیر سے میری توجہ کا مرکز تھا۔ اس کی حرکتیں ایسی تھیں کہ چاہتے ہوئے بھی میں اسے نظر انداز نہیں کر پا رہا تھا۔ اس کے ساتھ میں نے رش کی وجہ سے آدھ گھنٹہ تک سفر کیا۔ اس دوران وہ مسلسل بڑبڑاتا رہا اور اس کی بڑبڑاہٹ پشتو فلموں اور ڈراموں کے گانوں اور مکالموں پر مشتمل تھی۔ کبھی ترنگ میں آ کر انڈین گانے کے ادھورے بول بھی گنگنا لیتا۔ پشتو میں دو ڈائیلاگ وہ

Read more

سات نسلوں کا تعارف ہے یہ لہجہ شاہدؔ

رویے اور لہجے اہمیت رکھتے ہیں ، ان رویوں اور لہجوں سے جنم لینے والے تاثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہے اور ان خصلتوں کا اظہار رویوں کی صورت میں ہوتا ہے۔ کسی کے اچھے اور برے کا امتیاز اور پرکھنے کا معیار ان کے اظہار اور دوران اظہار رویوں پر ہوتا ہے۔ عموماً ہم دوسروں کے رویوں کے شاکی ہوتے ہیں مگر کبھی اپنی ذات کا احاطہ نہیں کرتے اور اپنے من میں ڈوب

Read more

رفتار ہی انتشار ہے

ڈاکٹر وزیر آغا نے اپنے ایک انشائیے میں چار لفظوں پر مشتمل ایک نہایت ہی مختصر مگر خوبصورت جملہ جڑ دیا ہے۔ ”رفتار ہی انتشار ہے“ بظاہر یہ چھوٹا سا جملہ ڈاکٹر صاحب نے طنزیہ و مزاحیہ پیرائے میں کہا ہے۔ مگر کمال کیا ہے۔ اس پر جتنا سوچا جائے ذہن کی پرتیں کھلتی جاتی ہیں۔ اس میں انسانی معاشرے کا ابتدا سے موجودہ ارتقا تک کا بیان موجود ہے۔

وزیر آغا صاحب کے ان چار الفاظ نے سہل ممتنع کہنے والے شعرا کو پیچھے چھوڑ دیا، جو شعر کے دو مصرعوں میں زندگی اور موت کا مکمل فلسفہ بیان کر دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جملہ انہوں نے مادہ ”الو“ سے ادا کروایا ہے جس کو ہمارے ہاں ”بے حد بے وقوف“ سمجھا جاتا ہے۔

Read more