ایٹمی پاکستان کا مایہ ناز معمار
پائنا کی تقریب میں ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے واضح اشارہ دَے دیا تھا کہ ہمالیہ جیسی مشکلات کے باوجود پاکستان ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکا ہے اور اِس ناممکن کام کی تکمیل میں تمام ریاستی اداروں اور سیاسی حکومتوں نے تعاون کیا۔ سرِعام اِس کھلے بیانِ حقیقت کے باوجود ہم یہ تلخ حقیقت نظرانداز نہیں کر سکتے کہ جب نوازشریف کے دورِ حکومت کے دوران مئی 1998 میں بھارت نے پانچ ایٹمی دھماکے کیے، تو پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادتوں میں مشاورت ہوئی کہ ہمارا رِیسپونس کیا ہونا چاہیے۔ اُس مشاورت میں ڈاکٹر عبدالقدیر خاں شامل نہیں کیے گئے جن کی بےمثال ذہنی صلاحیتوں اور نادر سائنسی تجربات کے بغیر پاکستان ایٹمی طاقت بن ہی نہیں سکتا تھا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جس صبح چاغی پہاڑوں میں پاکستان نے چھ ایٹمی دھماکے کیے، اُس سے ایک شام پہلے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں قدِآدم پوسٹر لگے ہوئے تھے جن میں ڈاکٹر ثمرمبارک مند کے سر ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کا سہرا باندھا گیا تھا۔ اِس سے بھی زیادہ تعجب انگیز یہ بات تھی کہ چاغی میں ایٹمی دھماکوں کے وقت جو تقریب منعقد ہوئی، اُس میں بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خاں سینکڑوں سرکاری ملازمین کے ساتھ سی۔130 میں ایک سامع کے طور پر لائے گئے تھے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خاں یہ تمام اعصاب شکن وارداتیں کمال تحمل سے برداشت کر گئے، مگر جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں اُن پر ایک قیامت ٹوٹ پڑی۔ کرنل قذافی کے صاحبزادے نے یہ شوشہ چھوڑا کہ پاکستان نے ہمیں ایٹم بم دیے ہیں۔ اِس پر عالمی طاقتیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا تیاپانچہ کرنے کے لیے فعال ہو گئیں۔ تب ڈاکٹر صاحب پر دباؤ ڈال کر اُنہیں ناکردہ جرائم کا اعتراف کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اسلام آباد میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں پورے ملک سے صحافی مدعو کیے گئے تھے۔اُن کی موجودگی میں ڈاکٹر صاحب نے اپنا معافی نامہ پڑھا جو حکومت کے فراہم کردہ معافی نامے سے مختلف تھا۔ اُنہوں نے ملکی مفاد میں تمام الزامات اپنے سر لے لیے تھے۔ اِس واردات کے مناظر سے ہمارے کلیجے منہ کو آ رہے تھے۔ قوم کے ہیرو کو جس نے عوام کا خواب حقیقت میں ڈھال دیا تھا اور پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا دیا تھا، اُسے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا تھا۔ وہ اَپنے عزیز وطن کی خاطر اُس مشکل مقام سے بھی آگے گزر گئے، لیکن حکمرانوں کی ایذا رَسانی کا سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ اب عالمی دنیا کی نظر میں وہ اَیک مجرم تھے جو ایٹمی پھیلاؤ کا باعث بنے تھے۔ اُن کی حفاظت بلاشبہ حکومت کی ذمےداری تھی، مگر اِس ‘ذمےداری’ کے نام پر حکمرانوں نے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ جو سلوک روا رَکھا، وہ ہماری تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ وہ اَٹھارہ سال آزادی کی نعمت سے محروم رہے۔ اُن کے اہلِ خانہ بڑی بڑی اذیتوں سے گزرتے اور ڈاکٹر صاحب مالی مشکلات سے دوچار ہوتے رہے۔ حکمرانوں کی دلآزار تحریروں کے مقابلے میں ڈاکٹر صاحب کے دفاع میں اور اُن کی شخصیت کے اعلیٰ اوصاف کے بیان میں اہلِ دانش نے اچھی کتابیں لکھیں اور نوجوانوں کو جب کبھی موقع ملا، وہ اَپنے قومی ہیرو کی راہ میں آنکھیں بچھائے دیتے تھے۔
جگر پاش پاش کر دینے والا واقعہ 10؍اکتوبر 2021کو اُس وقت پیش آیا جب ڈاکٹر صاحب اِس دنیا کی عقوبتوں سے نجات پا کر اَپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے تھے۔ حکومت کی طرف سے اعلان ہوا کہ نمازِ جنازہ فیصل مسجد میں پڑھائی جائے گی اور اُن کی تدفین ریاستی اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔ سہ پہر کو لاکھوں لوگ نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے جمع ہو گئے جبکہ چھاجوں بارش ہو رہی تھی۔ اِس قدر اَژدہام کے باوجود ہال کے لاؤڈاسپیکر بند رکھے گئے جس کے باعث نمازِ جنازہ بڑی افراتفری میں ادا ہوئی۔ سب سے ناقابلِ تصور یہ واقعہ پیش آیا کہ وزیرِاعظم، فوج کے سپہ سالار اَور قائدِ حزبِ اختلاف غائب تھے، البتہ وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اَور جناب لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعتِ اسلامی کا وفد شامل ہوا۔ ڈاکٹر صاحب کی بیماری کے دوران حکومت نے خبرگیری کا رسمی طریقہ بھی اختیار نہیں کیا۔ اِن رویوں اور ان مناظر سے زخم گہرے ہوتے گئے جو بھارت کے ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالکلام کی وفات کے حوالے سے ٹی وی چینلز پر دکھائے جا رہے تھے۔ ڈاکٹر عبدالکلام کی میت جب دیدارِ عام کے لیے لائی گئی، تو بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی اپنی پوری کابینہ کے ساتھ ہاتھ جوڑے میت کے چرنوں میں کھڑے رہے۔ میت پر بہت دیر تک گل پاشی ہوتی رہی۔
حکمرانوں کے اِن دل شکن رویوں کے مقابلے میں عوام نے اپنے ہیرو سے غیرمعمولی محبت کا اظہار کیا۔ اُن کی غائبانہ نمازِ جنازہ قریےقریے پڑھی گئی۔ تاریخ کے اِس نابغہ روزگار کردار کی یادوں کی خوشبو صدیوں تک پھیلتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں جنت میں بہت بلند مقام عطا کرے اور اُن کے پس ماندگان کو صبرِ جمیل سے سرفراز فرمائے! ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا سب سے اعلیٰ وصف یہ تھا کہ وہ لوگوں کی عزتِ نفس کا خاص خیال رکھتے اور اُن کے دکھ کم کرنے میں کوشاں رہتے تھے۔ نظربندی کے زمانے میں وہ تواتر کے ساتھ روزنامہ جنگ میں کالم لکھتے اور اَہلِ وطن کی فکری راہنمائی کرتے رہے۔ اُن کے بیشتر کالم اسلامی تعلیمات اور اِسلامی تاریخ کے عظیم واقعات پر مبنی ہوتے۔ اُن کی تحریروں سے امید کے چراغ روشن رہتے۔ اُن کے مزاج میں بڑی شائستگی اور تہذیبی رچاؤ تھا۔ سائنس دان ہونے کے باوجود وُہ اُردو شعرواَدب کا نہایت عمدہ ذوق رکھتے تھے۔ اُنہوں نے اپنی تمام تر صعوبتوں کی مکمل روداد اَیک شعر میں قلم بند کر رکھی تھی ؎
گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات قدیرؔ
ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے
میرا اُن سے تعلق اُردو ڈائجسٹ کے حوالے سے قائم ہوا جو باہمی اعتماد کا ایک روشن چہرہ بن گیا۔ وہ سالہاسال سے مجھے ہر جمعے کی صبح سلامتی کا پیغام بھیجتے اور قرآن و حدیث کے الفاظ میں نصیحت بھی فرماتے۔ اِن تمام خوبیوں کے باوجود وُہ ایک انسان تھے جس سے غلطیاں بھی سرزد ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی ذات میں خیر کا عنصر بہت غالب تھا اور اِسلامی جمعیت طلبہ کے کارکن کی حیثیت سے جو تربیت حاصل کی تھی، وہ اُن کے مزاج کا مستقل حصّہ بن گئی تھی۔
Facebook Comments HS

