شیخ رشید کو وزارت داخلہ سے الگ کیا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ تصادم میں مزید چار پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ، وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اطلاعات کے مطابق سینکڑوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ جی ٹی روڈ پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوںکا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے قبل لاہور میں جمعہ کو ہونے والے تصادم میں تین پولیس افسر جان سے گئے تھے۔ وفاقی حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لئے پنجاب میں دو ماہ کے لئے رینجرز طلب کرنے کی اجازت دے دی ہے جنہیں پولیسنگ کے اختیارات بھی تفویض ہوں گے۔
حیرت انگیز طور سے سرکاری طور پر ہجوم کے ساتھ تصادم میں صرف پولیس کے جانی نقصان کی اطلاعات بہم پہنچائی گئی ہیں۔ مظاہرین کو پہنچنے والے نقصان کی معلومات دینے سے گریز کیاجارہا ہے۔ البتہ تحریک لبیک پاکستان کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے چالیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ لاہور کے تصادم میں بھی ٹی ایل پی نے درجن بھر کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔ البتہ لاہور سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی ابتدائی کوشش کے بعد وزیر داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان کی قیادت سے مذاکرات کئے تھے۔ انہوں نے کوٹ لکھپت جیل میں قید اس گروہ کے سربراہ سعد رضوی کے ساتھ بھی ملاقات کی تھی اور اتوار کو قوم کو یہ ’خوش خبری‘ دی تھی کہ ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور سوموار کو وزارت داخلہ میں مزید بات چیت کے بعد تفصیلات طے کرلی جائیں گی۔
اس موقع پر شیخ رشید نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے تحریک لبیک کے سارے گناہ معاف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ، اسے سیاسی پارٹی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ پنجاب میں تیسری بڑی سیاسی قوت ہے۔ شیخ رشید کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ وہ خود اور وزیر اعظم عمران خان حرمت رسولؑ کے سپاہی ہیں۔ اس لئے لبیک تحریک والوں سے ان کا کیا جھگڑا ہوسکتا ہے۔ یہ تاثر تک دیا گیا کہ شاید ٹی ایل پی پر عائد پابندی بھی ختم کردی جائے کیوں کہ حکومت نے اسے کالعدم ضرور قرار دیاہے لیکن اس پر مکمل پابندی عائد کرنے اور تحلیل کرنے کے لئے عدالت سے رجوع نہیں کیا گیا ۔ وزیر داخلہ نے تحریک لبیک کے تمام زیر حراست کارکنوں کو رہا کرنے، شیڈول 4 میں نام رکھنے کے معاملہ پر غور کرنے کے علاوہ یہ اعلا ن بھی کیا تھا کہ سعد رضوی کو رہا کرنے کے لئے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوجائے۔ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کامعاملہ قومی اسمبلی میں لے کر جانے کے وعدے کااعادہ کیا گیا۔
شیخ رشید نے یہ اعلانات کرتے ہوئے اطلاع دی تھی کہ وزیر اعظم کی سعودی عرب سے واپسی کے بعد کابینہ کے اجلاس میں حتمی فیصلے کئے جائیں گے۔ آج کابینہ کے اجلاس کے بعد البتہ وزیر داخلہ اور وزیر اطلاعات کا لب و لہجہ تبدیل ہوچکا تھا۔ شیخ رشید نے پنجاب میں دو ماہ کے لئے رینجرز تعینات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بھلائی اسی میں ہے کہ تحریک لبیک کے کارکن اپنی مسجدوں کو واپس چلے جائیں ورنہ ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ریاست کو کمزور نہ سمجھا جائے۔ ٹی ایل پی نے 2015 میں اپنے قیام سے لے کر اب تک انتشار اور دباؤ کی سیاست کی ہے۔ اب ان ہتھکنڈوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس گروہ سے عسکریت پسند گروہ کے طور پر نمٹا جائے گا۔ شیخ رشید اور فواد چوہدری دونوں کا مؤقف ہے کہ بظاہر یہ تحریک حرمت رسولؑ کے لئے احتجاج کررہی ہے لیکن اس کا اصل ایجنڈا کچھ اور ہے۔ دونوں وفاقی وزرا نے یہ الزام عائد کرنے کے باوجود اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ٹی ایل پی کے کون سے نئے ایجنڈے کا اب انکشاف ہؤا ہے جس کی بنا پر اتوار کو جو گروہ سیاسی طور سے ’عوامی نمائیندہ‘ تھا اب اس قدر ناپسندیدہ ہوچکاہے کہ ریاست اس کے خلاف پوری طاقت استعمال کرنے کا اعلان کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔
لبیک تحریک کے مؤقف سے اتفاق یااختلاف سے قطع نظر یہ واضح ہے کہ اس گروہ نے اپنے پبلک بیانات میں کسی بڑی غلط بیانی سے کام نہیں لیا۔ وہ پہلے دن سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر فرانس سے احتجاج کرنے اور اسلا م آباد میں اس کے سفیر کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ حکومت نے پہلے اپریل 2020 میں یہ مطالبہ مانتے ہوئے اس معاملہ پر قومی اسمبلی کو اعتماد میں لے کر تین ماہ کے اندر اقدام کرنے کا وعدہ کیا۔ اس کے بعد اس سال فروری میں اس معاہدہ کی تجدید کی گئی اور ایک بار پھر یقین دلایا گیا کہ ٹی ایل پی کے ساتھ جو معاہدے کئے گئے ہیں، ان پر عمل کیا جائے گا تاہم بعد میں اس کے سربراہ سعد رضوی کو گرفتار کرنے کے علاوہ تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دیا گیا۔ سعد رضوی پر کوئی باقاعدہ الزام عائد کرکے سزا دلوانے کی بجائے، انہیں مختلف حیلوں سے اندیشہ نقص امن کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ سے ہوتا ہؤا اب پھر لاہور ہائی کورٹ کے زیر غور ہے۔ تاہم عید میلادالنبی پر ہونے والے اجتماع کو لانگ مارچ میں تبدیل کرتے ہوئے تحریک لبیک نے دو بنیادی مطالبات کے لئے فیض آباد پہنچ کر دھرنا دینے کا اعلان کیا۔ پنجاب پولیس اس لانگ مارچ کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوئی اور پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ دیکھنے کے لئے دوبئی گئے ہوئے شیخ رشید گزشتہ جمعہ کو لاہور پہنچے اور ٹی ایل پی کی قیادت سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔
یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے کہ اگر حکومت پہلے دن سے جانتی ہے کہ وہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ نہیں کرسکتی تو اس نے ایک گروہ کے ساتھ اس بارے میں معاہدہ کیوں کیا تھا ۔ اس حوالے سے اپنی غلطی تسلیم کرنے اور ٹی ایل پی پر یہ واضح کرنے کی بجائے کہ کسی سفیر کی ملک بدری کے معاملہ پر بات نہیں ہوسکتی ، محض دو روز پہلے اس معاملہ کو ’حل ‘ کرنے کا اعلان سامنے آیا۔ لیکن اب ٹی ایل پی کی قیادت حکومت پر دروغ گوئی، دھوکے بازی اور وعدہ خلافی کا الزام عائد کررہی ہے۔ ٹی ایل پی کے قائدین نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ اگر حکومت وعدے کے مطابق یہ معاملہ قومی اسمبلی میں لے جاتی اور اسمبلی سفیر کی ملک بدری کے خلاف رائے کا اظہار کرتی تو ٹی ایل پی اسمبلی کا یہ فیصلہ ماننے پر راضی تھی۔ البتہ اب حکومت اپنی سابقہ پوزیشن کی وضاحت کرنے کی بجائے ٹی ایل پی پر قانون شکنی، انتہاپسندی اور فساد برپا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ یہ گروہ کسی خفیہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔
درحقیقت حکو مت کو تحریک لبیک پر الزام لگانے سے پہلے اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے۔ یا تو اپنی سابقہ غلطیوں کو تسلیم کرنا چاہئے تھا یا یہ بتانا چاہئے تھا کہ وہ کون سی سیاسی مجبوریاں ہیں جن کی وجہ سے صورت حال ’تمام معاملات طے ہوچکے ہیں‘ سے اچانک ’کسی بھی گروہ کو قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی‘ تک پہنچ گئی۔ وہ کون سی سیاسی مجبوریاں ہیں جن کی وجہ سے وزیر داخلہ آمادہ بہ فساد ایک گروہ کو اتوار کے دن سیاسی طاقت قرار دیتے ہوئے ان کے سارے ’گناہ‘ معاف کرنے کا اعلان کررہے تھے اور اب انہیں کسی خفیہ ایجنڈے پر گامزن بتا رہے ہیں؟ اس موقع پر جب صحافیوں نے سوال کیا کہ لاہور میں جاں بحق ہونے والے پولیس والوں کو انصاف کیسے ملے گا؟ تو وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’ریاست کا کام ڈنڈا چلانا نہیں ۔ باتیں دو ہیں: جھگڑا فساد بڑھائیں یا اس کو کنٹرول کریں۔سیاستدان کا کام یہ ہے کہ درمیانی راستہ نکالے۔ ہم ان کے مطالبات کو سنجیدہ لے رہے ہیں۔ بدھ کے روز وہ اپنے اپنے گھر کو جائیں گے ‘۔ دو روز پہلے تک مفاہمت کا اعلان کرنے والے وزیر داخلہ اب اسی گروہ کے خلاف ’اعلان جنگ‘ کررہے ہیں تو ضرور اس کا کوئی پس منظر ہوگا۔ حکومت پر فرض ہے کہ اس سے عوام کو آگاہ کیا جائے تاکہ ایک طرف حکومت کی پوزیشن واضح ہو تو دوسری طرف ناجائز مطالبات کے لئے خوں ریزی اور توڑ پھوڑ پر اترے ہوئے گروہ کی حقیقت بھی عیاں ہوجائے۔
یہ خبریں سامنے آرہی ہیں کہ حکومت کو بدتر معاشی حالات اور گرانی کی وجہ سے شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ اسے اندیشہ ہے کہ اگر اس معاملہ کو اسمبلی میں پیش کیا گیا تو وہاں اپوزیشن درست سرکاری مؤقف کی حمایت کرنے کی بجائے ٹی ایل پی کی حمایت میں تقریریں کرکے حالات قابو سے باہر کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس لئے کابینہ نے اسی مرحلے پر اس احتجاج کو دبانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان قیاس آرائیوں اور دیگر سوالات کا جواب دے۔ تحریک لبیک کے احتجاج اور لانگ مارچ کو اپوزیشن کی طرف سے مسترد نہیں کیا گیا بلکہ بالواسطہ طور سے اس کی حمایت کرنے کا تاثر دیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں پر امن مظاہرہ کرنے کو ٹی ایل پی کا جمہوری حق قرار دیا اور حکومت پر تشدد کا راستہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔
یہ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ جو گروہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے لئے سیاسی مشکلات پیدا کرنے اور انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدواروں کی کامیابی کے لئے استعمال کیا گیا تھا ، اب وہی گروہ اسی پارٹی کی حکومت کے خلاف احتجاج کررہا ہے اور اسے جھوٹا اور فریبی قرار دے رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کو حالات کے اس رخ سے سبق سیکھ کر بعض بنیادی اصولوں پر وسیع تر سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ اس کے لئے سب سے پہلے انہیں غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کرنے اور جھوٹے سچے وعدے پر کرنے پر شیخ رشید سے وزارت داخلہ کا قلمدان واپس لینا چاہئے۔ یا شیخ رشید خود اپنی ناقص حکمت عملی کا اعتراف کرکے یہ عہدہ چھوڑیں۔ سوال ہے کہ اپنی اتھارٹی کے لئے فوج کے سامنے ’ڈٹ‘ جانے والے وزیر اعظم کیا اپنی غلطیوں کا ادراک کرکے ان کی اصلاح کا حوصلہ بھی کرسکتے ہیں؟ البتہ خوشامد پرستوں میں گھرے ایک انا پرست وزیر اعظم سے کسی جرات مندانہ فیصلے کی امید نہیں کی جاسکتی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2024 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments