پالتے ہو تو سنبھالنا بھی سیکھو
گزشتہ دنوں واشنگٹن ٹائمز میں ایک تحریر پڑھنے کو ملی جس میں پاکستانی اور ایرانی ریاست کا پراکسیز بنانے اور ان کو سنبھالنے کےحوالے سے تجزیہ کیا گیاتھا۔ تحریر کے تمام مندرجات کا احاطہ صرف ایک جملے "دے آر ناٹ گڈ ایٹ ہینڈلنگ پراکسیز” میں ہوگیا۔ ویسےایرانی ریاست کو یہ داد تو دینی ہوگی کہ انہوں نے یمن، شام ،عراق میں نہ صرف پراکسیز بنائیں بلکہ ان پراکسیز کو ہینڈل بھی اچھے طریقے سے کرتی آرہی ہے۔دوسری جانب پاکستانی ریاست کی طرف یہ معاملہ الٹ ہے۔
ہماری ریاست نے مختلف مواقع پر مختلف مقاصد کے لئے مختلف تنظیمیں بنائیں ،مقاصد حاصل کرنے کے بعد ان تنظیموں کو نہ صرف ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا بلکہ کئی مواقع پر بین الاقوامی دباؤ پر سختی بھی برتی گئی۔جس کا نقصان یہ ہوا کہ یہ پراکسیز وہ سانپ ثابت ہوئیں جو کہ دودھ پلانے والے کو ہی ڈستی ہیں۔ ظلم تو یہ ہے کہ ہر دفعہ ہی قومی مفاد کے نام پر مچائی جانے والی ہڑبونگ کا نقصان عام آدمی کو اپنی جان و مال دے کر پورا کرنا پڑتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ میں مضبوط جڑوں کو کاٹنے کے لئے کراچی میں ایم کیو ایم کو کھڑا کیا گیا تاکہ سندھ بھر میں اردو اکثریتی آبادی کے ووٹ کی صورت میں پیپلز پارٹی کا اثر کم کیا جائے۔ جس کا سب سے زیادہ نقصان اسی کراچی کی عوام اور پولیس نے اٹھایا. ہزاروں شہریوں کی جانیں گئیں ،سینکڑوں پولیس اہلکاران اور افسران کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی۔ حتی کہ کراچی میں ابھی بھی سٹریٹ کرائم کا جن قابو میں نہیں لایا جاسکا ہے۔ کراچی میں کی گئی غلطی کودرست کرنے کے لئے ایک سیاسی جماعت کی حکومت نے نوے کی دہائی میں آپریشن کرکے بدنامی اپنے سر لی، اسی طرح سے 2013 میں بھی کیا گیا۔ ایم کیو ایم کے معاملہ سے نمٹنے کے بعد پھر جس جماعت کی حکومت کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلائی گئی۔ اسی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے نئے سرے سے گیم شروع کی گئی۔ قومی مفاد کے نام پر ہر دفعہ کھیلے جانے والے کھیل کے کھلاڑیوں کے بھی کیا ہی کہنے ہیں۔
پالو ،استعمال کرو اور چھوڑو کے کھیل میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے نمٹنے کے لئے جہاں عمران خان کی کھلے عام حمایت کی گئی، وہاں عدالتوں کے کردار پر بھی سوالیہ نشان نمودار ہوئے۔ 2015 میں پاکستان کے سب سے پر امن بریلوی طبقہ فکر جو کہ ن لیگ کا مضبوط ووٹ بینک توڑنے کے لئے ایک مذہبی جماعت کو شہ دی گئی جس کے دھرنے میں اس وقت کی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا گیا۔ اس احتجاج کے پیچھے کون تھا اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والوں کے بار ے میں ایک عام پاکستانی بھی میرے سے زیادہ جانتا ہے۔
اس جماعت کو 2018 میں ن لیگ کا ووٹ بینک توڑنے کے بعد اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ یعنی کہ پرا نا وطیرہ استعمال کرو اور پھینکو والا ،اس دفعہ بھی وہی ہوا ،اسی جماعت جس کے کارکنوں کو ایک سیاسی جماعت کو کمزور کرنے کے لئے 1 ،ایک ہزار روپے تقسیم کئے گئے۔ اپنی مرضی کی حکومت آنے کے بعد نہ صرف اس جماعت کو کالعدم قرار دیا گیا۔ بلکہ اس کے اسلام آباد کو فتح کرنے کی چھٹی کوشش کے موقع پر دہشت گرد تنظیم کے طور پر کچلنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ یہاں بھی بھگتنا کس کو پڑرہا ہے پولیس اور عوام کو ،ملک کی مرکزی شاہراہ جی ٹی روڈ گزشتہ 7 روز سے بند ہے ، جی ٹی روڈ پر موجود ملک کے درجنوں شہر مفلوج ہیں۔ ٹیلی فون سروس ،سکولز بند ، ذرائع آمدورفت اور نقل و حرکت جام ہونے کی وجہ سے معمولات زندگی تہس نہس ہوکررہ گئے ہیں۔
حالات یہ ہیں کہ خندقیں کھود دی گئیں ہیں ،پل کے پل کنٹینرز سے بھر دئیے گئے ہیں۔ ایک وزیر صاحب کچلنے کی باتیں کررہے ،دوسرے وزیرصاحب اسی کالعدم دہشت گرد تنظیم کے سربراہ کو لاہور کی جیل سے لے جاکر اسلام آباد کی وزارت داخلہ میں آمنے سامنے بٹھا کر مذاکرات کئے جارہے ہیں۔ اس دفعہ ایک بار پھر ریاست کنفیوذڈ ہے اور قوم کو قومی مفاد کے نام پر ایک بار پھر قربانیاں دینی پڑرہی ہیں۔ کیا ہی بہتر ہو کہ یا تو یہ کھیل بند کیا جائے یا پھر پال کر سنبھالنا بھی سیکھ لیا جائے۔


