پاکستانی اور سمندر پار پاکستانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2 اکتوبر 2021ء کو ایک ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں گورنراسٹیٹ بینک رضا باقر فرما رہے ہیں کہ جب ڈالر اوپر جاتا ہے تو سمندر پار پاکستانیوں کو فائدہ ہوتا ہے اور جو لوگ پاکستان میں رہتے ہیں انہیں نقصان ہوتا ہے۔ واہ صاحب واہ! لگتا ہے آپ ثوابِ دارین کے لیے ایسی باتیں کرتے ہیں اور ثواب بھی وہ جو آپ کے بڑوں سے ملتے ہیں۔

اے سمندر پار پاکستانیو! سب کے سب کھڑے ہو جاؤ اور اپنے دوستوں کو بھی بلا لو۔ ہاں بھئی دست بستہ ایستادہ رہنا۔ سانس بھی آہستہ آہستہ لینا اور احتراماً سر جھکائے رکھنا۔ ہمارے وزیرِ اعظم صاحب ہمیشہ دور کی کوڑی لاتے ہیں۔

اے وطنِ عزیز میں بسنے والے پاکستانیو! تم نیم دائروں میں ایک دوسرے کے پیچھے چلتے رہنا۔ تمہاری بنیادی ضروریات کے کوزے تو خالی ہی رہتے ہیں۔ ہر دور کے حکمران اور سیاست باز جیسے چاہتے ہیں تمہیں برت لیتے ہیں۔ لیکن تم تابع فرماں بنے ہمہ وقت تیار ہی رہتے ہو۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ دائروں میں راستے نہیں ملتے۔ اے سٹیٹ بینک کے گورنر! کیا تم کو معلوم ہے کہ سمندر پار پاکستانی تو اپنی کمائی سے مٹھی بھر ہی پیسے بھیجتے ہیں۔ وہ بھی اتنے لوگ جن کے والدین زندہ ہیں یا جن کے اندر ماں باپ کے جانے کے بعد بھی بہن بھائیوں کی محبت زندہ ہوتی ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ ان Overseas Pakistanis  کا اپنا کنبہ بھی تو ہوتا ہے۔ یوں بھی موجودہ وزرا ہمیں بتا بتا کر تھک گئے ہیں کہ پوری دنیا میں مہنگائی ہوئی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بیرون ممالک والے پاکستانی بھی اب شاذو نادر ہی پاکستان میں پیسے بھیجتے ہوں گے۔

ذاتی طور پر مجھے سمندر پار پاکستانیوں سے کوئی شکوہ یا گلہ نہیں۔عموماً ہم سب کے کوئی دور یا نزدیک کے رشتہ دار کہیں نہ کہیں پردیس میں بستے ہیں۔ کچھ افسوس ہے تو اس بات کا کہ ہم پاکستانی جن کا جینا مرنا اپنے ہی ملک پاکستان میں ہے۔ وہ تمام حضرات جو سرکاری یا نیم سرکاری اداروں میں کام کرتے ہوئے خلوص، ایمانداری اور وطن کی محبت سے سرشار ہیں۔ اپنی زندگی کے سرد وگرم کو انہوں نے اسی زمین پر رہ کے جھیلا ہے۔ بہت سے لوگ تو ایسے بھی ہیں جو دُور دیس کی چمکتی زمینوں کو حسرت بھری نگاہوں سے تکتے ہیں، اپنے وطن کی خدمت اور قوم کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ لیے بس کچھ نہ کچھ کیے ہی جاتے ہیں۔ بہت سے ایسے سینئر صحافی بھی ہیں جو قوم کو اپنی تحاریر کے ذریعے اعلیٰ ترین تجاویز بتاتے ہیں کاش ارباب اختیار ان پر غور کریں۔ وطنِ عزیز کی محبت سے ان کی سوچ اور مقصد مہکتا رہتا ہے۔ وہ ہمہ وقت اپنی زندگیوں کے تفویض کردہ فرائض اور روزی روٹی کمانے کے بارے میں سوچتے ہیں۔

بہت سے فرض شناس پاکستانی شہریوں نے امانت و دیانت سے اپنے ملک کی خدمت کی۔ سچائی کے کٹھن پتھریلے راستوں پر آبلہ پائی کی۔ وزیرِ اعظم صاحب! کبھی اِن کی بات بھی تو کیجئے۔ آپ ہمیشہ سمندر پار پاکستانیوں کی بات کرتے ہیں کہ آپ کو ان کے چہروں پر اپنے ووٹ دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کے خواص کے طبقے میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جن کی جیبوں میں امریکن گرین کارڈ یا دیگر ملکوں کے پاسپورٹ ہوتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں وہ ایسے لوگ ہیں جو مال و متاع تو اس ملک سے کماتے ہیں لیکن ہر وقت سمندر پار جانے کے لیے پَر تولتے رہتے ہیں۔ نجانے کیوں مجھے ہمیشہ ایسے لوگ ذہنی بیمار لگتے ہیں۔ پاکستان میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو باہر کے ملکوں کی بہترین نوکریاں چھوڑ کر واپس آئے۔

میں ایک ایسے فرض شناس اور نامور ڈاکٹر نواز انجم صاحب کی فیملی کو جانتی ہوں جو امریکہ سے اپنے والدین، بچوں اور ملک کی خدمت کی خاطر پاکستان آئے۔ ان کی محبت اور حُب الوطنی کے جذبے کی سرشاری نے انہیں پھر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے ریڈیالوجی شعبے کا صدر بنا دیا۔ ڈاکٹر نواز انجم صاحب کئی دہائیوں پہلے امریکہ کی نیو یارک سٹیٹ میں بہترین کمائی کر رہے تھے۔ 15 ہزار ڈالر کی تنخواہ لے رہے تھے ۔ مرسیڈیزچلا رہے تھے۔ پہاڑی کے اوپر ایک خوابوں کے گھر میں رہائش پذیر تھے۔ پاکستان آکر انہیں 2400 کی نوکری ملی۔ امریکہ میں وہ آٹھ سال کے اندر پروفیسر بن جاتے لیکن یہاں وہ 14سال میں پروفیسر بنے۔ ان کے مخالفین نے ان پر مقدمات بھی چلائے مگر وہ استقامت سے اپنے مقصد کے حصول کے لیے ڈٹے رہے آج دنیا بھر میں ان کے شاگردپھیلے ہوئے ہیں۔

جب مقصد سے لگن سچی ہو اور وطن سے محبت اٹوٹ ہو تو یہی وطن عزت اور دولت دونوں دینے لگتا ہے۔ ہم اپنی تمام تر خدمات اس وطن کی سالمیت کی خاطر انجام دیتے ہیں۔ تاہم اپنے تمام تر جمہوری اور جائز حقوق کی مانگ لیے کب سے منتظر ہیں۔ لیکن سول حکومتیں اپنی تمام مشینری کی چولوں کو ڈھیل دیے جاتی ہیں۔ رشوت کا ریٹ اور دائرہ کار بھی وسیع ہو گیا ہے۔ جس نعرے کو لے کر وزیر اعظم آئے تھے وہی کرپشن ناسور بن کر معاشرے کے بیشتر شعبوں میں پھوٹ رہی ہے۔ کہاں لے جائیں؟ اگر حکم دیں تو شوکت خانم لے جائیں۔ پُرانی سیاست کی بساط تو  2018 میں الٹ چکی۔ نئی قیادت نے ماضی کی الائشوں سے ابھی تک سیاست کو پاک نہیں کیا۔ ہم پاکستانی ہیں۔ اپنے وطن پر جان چھڑکتے ہیں۔ خدارا! ہماری حالتِ زار کا مذاق نہ بنایا جائے۔ حکمرانوں کے غیر مخلص اور سخن ساز نعرے اب تو سیاست کے ساتھ ساتھ ہمارے وجود کو بھی کھوکھلا کر رہے ہیں۔

کسی بھی سیاسی جماعت کے منشور میں دین کو بنیاد بنانا ایک قابلِ فہم بات ہے۔ لیکن دین کی آڑ لے کر سیاسی مقاصد حاصل کرنا۔۔۔۔۔۔ یقینا دین کی تضحیک ہے۔ سیاست کی اساس اگر دین اور دنیا دونوں پہ ہو تویہ وطن کی خوش نصیبی ہے۔ اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا بلاشبہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ موجودہ حکومت اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آنے والے پاکستانیوں کو چھوڑ کے دُور کے ڈھول سہانے والی مثال کے پیچھے چل پڑتی ہے۔ سمندر پار پاکستانی تو بہت پہلے ہی اس ملک کو چھوڑ کر خوب صورت ملکوں میں جا بسے اور اعلیٰ زندگی گزارنے لگے۔ جو پاکستانی تمام تر مشکلات کے باوجود اسی ملک میں رہے ان کا حق اس ملک پر سب سے زیادہ ہے۔ لیکن اس وقت مہنگائی کی وجہ سے ان کی زندگیاں اجیرن ہوتی جا رہی ہیں۔ بہت سے لوگ مواقع ملنے کے باوجود یہاں سے نہیں گئے اور اب وہ گھبرانے بھی لگے ہیں اور پچھتانے بھی لگے ہیں۔ اس پیارے پاکستان میں بسنے والے اس سے محبت کرنے والے سب لوگ محب وطن ہی نہیں بلکہ جنونی ہیں۔ جان لیجیئے کہ جنون ہی خون کو گرماتا ہے اور جوشِ جہاد کا باعث بنتا ہے۔ اس دیس میں بسنے والوں کے لیے محترم افتخار عارف صاحب کا شعر یاد آتا ہے۔

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments